Category: selected poetry

جناب فرحت عباس شاہ کی سدا بہار نظموں کا انگریزی ترجمہ منزہ سحر

 ایڈیٹر  فروری 28, 2024  0 Comments on جناب فرحت عباس شاہ کی سدا بہار نظموں کا انگریزی ترجمہ منزہ سحر

00 جناب فرحت عباس شاہ کی سدا بہار نظموں کا انگریزی ترجمہ حاضر ہے۔ منزہ سحر An Abridged Verse My love is just forgotten and sunk, And I feel like an abandoned drunk, Covering my body with schemmatte of shattered dreams, Barefoot, armless and provisionless themes, I’m in the crowd of hunting paths, I’m in search for my love’s laughs, Banging my head on the walls of all bearings, Begging to the towns for my hearings, Surrounded by ruthlessness of streets, Hardly able to breathe in sheets, Entangled I am with someone’s glance, Bedazzled with the flinting romance, Of someone’s…

مکمل تفصیل جناب فرحت عباس شاہ کی سدا بہار نظموں کا انگریزی ترجمہ منزہ سحر

جسے کھاگئی مری خامشی وہی قہقہہ نہیں مِل رہا

 ایڈیٹر  فروری 5, 2024  0 Comments on جسے کھاگئی مری خامشی وہی قہقہہ نہیں مِل رہا

00 جسے کھاگئی مری خامشی وہی قہقہہ نہیں مِل رہا کبھی گفتگو تھی کمال کی مگر اب سِرا نہیں مل رہا کبھی پھوٹتی تھی شگفتگی رگِ جان و دل پہ چٹک چٹک وہ ہوا چلی ہے کہ پیڑ پر کہیں کچھ ہرا نہیں مِل رہا مری زندگی کے وہ باب سب جہاں درج تھے مرے خواب سب جہاں خواہشیں تھیں ورق ورق وہ کتابچہ نہیں مِل رہا میں الاؤ ہوں کسی راہ کا جسے پھونک کر سبھی چل دیے جسے بانٹتا تھا میں روشنی وہی قافلہ نہیں مل رہا نہیں کھُل سکے کسی آنکھ پر ترے خال و حد کے…

مکمل تفصیل جسے کھاگئی مری خامشی وہی قہقہہ نہیں مِل رہا

وہ اتنے کرب سے چِلا رہا تھا گلشن میں

 ایڈیٹر  جنوری 27, 2024  0 Comments on وہ اتنے کرب سے چِلا رہا تھا گلشن میں

+10 چِیخ وہ اتنے کرب سے چِلا رہا تھا گلشن میں پیڑ سوکھ گۓ پھولوں کے رنگ اُڑنے لگے ہواۓ غم نے یوں گھیرا ہے ساری بستی کو جوان اک نہ رہا اور پیر مرنے لگے کسی کے عشقِ لاحاصل کا اثر ایسا ہوا کہ اپنے غیر سبھی عشق عشق کرنے لگے جو شہسوار کبھی ہارنے نہ والے تھے سہم سہم سے گۓ دب دبے سے ڈرنے لگے وہ جن سے سُر تھے بجے رات سارے گلشن میں ستار تار کے عاری ہوۓ بکھرنے لگے کسی کے غم کا اثر اس قدر ہوا غالب پرندے رات کے پِچھلے پہر میں…

مکمل تفصیل وہ اتنے کرب سے چِلا رہا تھا گلشن میں

سلوٹ زدہ بستر میں جاگتے شخص کی کہانی

 ایڈیٹر  جنوری 26, 2024  0 Comments on سلوٹ زدہ بستر میں جاگتے شخص کی کہانی

00 سلوٹ زدہ بستر میں جاگتے شخص کی کہانی وہ اکثر خواب تکتا ہے وہ تکتا ہے کہ اک چہرہ پری پیکر بس اک مہکے ہوئے جھونکے کی صورت میں کبھی کمرے میں آتا ہے وہ کمرہ جس میں اک سلوٹ زدہ بستر ہے کچھ بوسیدہ کاغذ ہیں کتابیں ہیں ،بہت اخبار ہیں اور فائلوں پر گرد کی تہہ ہے کتابوں، کاغذوں کے درمیاں سلوٹ زدہ بستر میں وہ اک شخص رہتا ہے کہ جس کی زندگی مہکے ہوئے جھونکے میں لپٹی ہے کہ جس کی کروٹیں سلوٹ زدہ بستر کا حصہ ہیں وہ جھونکا حسن کا پیکر دبے پاؤں…

مکمل تفصیل سلوٹ زدہ بستر میں جاگتے شخص کی کہانی

ہونے لگے ہیں میرے سبھی یار لاپتہ

 ایڈیٹر  جنوری 15, 2024  0 Comments on ہونے لگے ہیں میرے سبھی یار لاپتہ

+10 غزل جو رقص میں تھے کل سرِ بازار لاپتہ ہونے لگے ہیں میرے سبھی یار لاپتہ ہوتے ہیں روز ہی یہاں دو چار لاپتہ کیا ہو جو رضی تم بھی ہو اس بار لاپتہ ؟ کردار کا سراغ لگانے کے واسطے کرنا پڑیں گے صاحبِ کردار لاپتہ پہلے شجر چمن کے سبھی گم کئے گئے اب کر دیا ہے سایہء دیوار لاپتہ پہلے ہر اک مکان گرایا گیا یہاں پھر کر دیئے گئے سبھی معمار لاپتہ خوشبو بغیر پھول تھے وہ بھی نہیں رہے اک راستہ کہ وہ بھی تھا دشوار لاپتہ مسند پہ جا کے دیکھا تو خرقہ…

مکمل تفصیل ہونے لگے ہیں میرے سبھی یار لاپتہ

میں سجانے لگا ہوں یہاں آج اک بزم تیرے لیے

 ایڈیٹر  جنوری 3, 2024  0 Comments on میں سجانے لگا ہوں یہاں آج اک بزم تیرے لیے

00 میں سجانے لگا ہوں یہاں آج اک بزم تیرے لیے بزم تیرے لیے جس میں کوئی نہیں‌ میں اکیلا ہوں بس اور مرے ساتھ خوشبو میں مہکی ہوئی ان کہی بات ہے ایک مدت سے ٹھہری ہوئی رات ہے ایک وعدہ کہیں پر ادھورا بھی ہے ایک منظر کہ نظروں میں پورا بھی ہے ایک ساعت کہ جیون پہ بھاری بھی ہے ایک نشہ کہ اب تک جو طاری بھی ہے چند مصرعے جو تیرے لیے ہیں فقط جانے کب سے تھے نوک قلم پر سجے حرف لفظوں میں ڈھل کر ترا روپ ہیں لفظ چھاؤں ہیں اور لفظ…

مکمل تفصیل میں سجانے لگا ہوں یہاں آج اک بزم تیرے لیے

کاہن! تو نکال ایسی کوئی فال مبارک

 ایڈیٹر  جنوری 1, 2024  0 Comments on کاہن! تو نکال ایسی کوئی فال مبارک

00 کاہن! تو نکال ایسی کوئی فال مبارک وہ مجھ سے کہیں آکے نیا سال مبارک غیروں کو نئے سال پہ دل بھیجنے والے بھولے سے کبھی ہم کو بھی لکھ ڈال مبارک خوش آئے اسے عشق نیا میری دعا ہے دیتا ہوں ابھی کرکے اسے کال مبارک میں وقت مناسب سا کوئی ڈھونڈ رہا ہوں کرنی ہے کسی شخص کو ارسال مبارک پت جھڑ میں یہاں تو نے بہت رنج سہے ہیں اے پیڑ تجھے تیری نئی شال مبارک ٹھہرا ہے وہ اشفاق مرے دل کے چمن میں پنچھی کو نیا پیڑ نئی ڈال مبارک شاعر:اشفاق شاہین

مکمل تفصیل کاہن! تو نکال ایسی کوئی فال مبارک

نئی صبح کے ماتھے پر لکھا ہے 2024

 ایڈیٹر  جنوری 1, 2024  0 Comments on نئی صبح کے ماتھے پر لکھا ہے 2024

00 نیا سال مبارک ہو نئی صبح کے ماتھے پر لکھا ہے ابھی روشن چراغِ آرزو ہے کوئی لمحہ امر کر لیں کسی لمحے کی قسمت میں وہ ساری خوشبوئیں ، وہ رنگ ، وہ رعنائیاں لکھ دیں جو اک منظر سے پھوٹی ہیں جہاں پیڑوں کے جھرمٹ میں ہوائیں رقص کرتی ہیں جہاں پیڑوں کی شاخوں پر پرندوں کی حسیں ڈاریں اترتی ہیں تو جنگل جاگ اٹھتا ہے نیا دن ہے نیا ماحول ہے ماحول کے اپنے تقاضے ہیں یہ بہتے وقت کا دریا ہے کب رکنے پہ آتا ہے کوئی لمحہ امر کر لیں چلو آؤ کسی لمحے…

مکمل تفصیل نئی صبح کے ماتھے پر لکھا ہے 2024

نئے موسم کی سب رنگینیاں ،رعنائیاں،2024

 ایڈیٹر  جنوری 1, 2024  0 Comments on نئے موسم کی سب رنگینیاں ،رعنائیاں،2024

00 نئی صبحیں ، نئی شامیں، نئے موسم کی سب رنگینیاں ،رعنائیاں، تیرا مقدر ہوں کبھی بادِ صبا اٹھکیلیاں کرتی ہوئی گزرے، کبھی کِھلتی ہوئی کلیاں تجھے جھک کر سلامی دیں ہواؤں کے بدن پر تیری خوشبو کا لبادہ ہو ہر اک موسم کی قسمت میں ترے عارض کا غازہ ہو تجھے بھولے سے بھی گزری ہوئی باتیں نہ یاد آیئں تجھے کوئی اگر آواز دے کے روکنا چاہے تو تیری بےنیازی! ہر صدا کو بے صدا کر دے ترے صحنِِ تمنا میں فقط ایک لمحِہ موجود ہو تازہ ہوائیں ہوں ! ہواؤں میں گلوں کی باس ہو اور تیری…

مکمل تفصیل نئے موسم کی سب رنگینیاں ،رعنائیاں،2024

احباب کی نذر سالِ رواں کی اختتامی غزل

 ایڈیٹر  دسمبر 31, 2023  0 Comments on احباب کی نذر سالِ رواں کی اختتامی غزل

+10 احباب کی نذر سالِ رواں کی اختتامی غزل تیری وہ التفات کا جب سے اثر گیا لگتا ہے اب تو جاں کا ہی جانا ٹھہر گیا آباد جس شجر پہ تھے طیور ِ خوش نوا کاٹا وہ ظالموں نے تو کنبہ بکھر گیا اتری جو صبحِ نور فصیلِ زمین پر تصویرِ کائنات کا چہرہ نکھر گیا کرتے مرا طواف ہیں فلکی نژاد بھی جب میں کبھی زمینِ فلک پر اتر گیا اے تلخئ حیات کہاں جاۓ گا بھلا آخر مرا تھا ہجر مرے ساتھ گھر گیا ان کی ہی دسترس میں ہے ساری مری حیات اچھا ہے ، خواہشوں…

مکمل تفصیل احباب کی نذر سالِ رواں کی اختتامی غزل

مقصد نہیں جو میل ملاقات سے جناب

 ایڈیٹر  دسمبر 30, 2023  0 Comments on مقصد نہیں جو میل ملاقات سے جناب

+10 غزل مقصد نہیں جو میل ملاقات سے جناب کیوں کھیلتے ہو پھر مرے جذبات سے جناب کیا ایسا کہہ گیا ہوں روانی میں مَیں حضور ناراض ہو گئے مری کس بات سے جناب مجھ کو بھی ایک شخص نے کرنا تھا رائیگاں بچتا کہاں تلک میں مکافات سے جناب کس کس کو اپنا آپ نفی کر کے خوش کروں کس کس کو مسئلہ ہے مری ذات سے جناب لایا ہے گھُوم گھام کے دشتِ وفا میں عشق پہلو بچا رہے تھے روایات سے جناب کچھ روز ہم بھی گھر کو میسّر ہوئے ہیں کیا دفتر بھرا ہوا ہے شکایات…

مکمل تفصیل مقصد نہیں جو میل ملاقات سے جناب