فرحت عباس شاہ جسے معمولی شاعر سمجھا گیا
تحریر : محسن خالد محسن

ماہنامہ بیاض مئی 2024


بیسویں صدی کے اواخر میں ایک نام تیزی سے اردو غزل میں سامنے آیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اردو مشاعروں میں اپنی جگہ بنائی اور ایسی بنائی کہ پھر کوئی مشاعرہ اس شاعر کے بغیر ادھورا تصور کیا جاتا تھا۔ یہ شاعر ایک معمولی شاعر سے زیادہ غیرمعمولی شاعر گردانا گیا جس کی شاعری میں شاعرانہ اسرار رموز کے جملہ عناصر شعریت کا گہرا ادراک قارئین و ناقدین نے برابر محسوس کیا۔ اس شاعر کا پہلا شعری مجموعہ ”شام کے بعد“ منظرعام پر آنے سے یوں محسوس ہوا جیسے شاعری گہری نیند سے بیدار ہو گئی ہے اور اس کی انگڑائیوں میں محبت ر رومانس کی تراوتوں کی پھوار خشک و تر کو جل تھل کر ڈالے گی۔
اس شاعر نے اپنے زمانہ شباب سے ہنوز اتنا لکھا ہے کہ اگر اس سرمائے کو جمع کر لیا جائے تو ایک ادارہ کی اشاعتی کتب کی مجموعی صورت اختیار کر جائے۔ پچاس شعری مجموعے اردو شاعری کے اور چار شعری مجموعے پنجابی شاعری کے، نیز چار تصانیف تنقیدی جہات پر لکھنے سمیت متفرق موضوعات زیست پر سیکڑوں مضامین اس شاعر کے قلم سے حلقہ ادب کو میسر نصیب ہوئے۔ یہ عجیب و غریب شخصیت فرحت عباس شاہ کی ہے جس نے اردو شاعری کو نئے امکانات سے روشناس کیا اور اردو غزل کی صنف کو محبت و رومانس کے تصور سے نکال کر سماجی شعور کے لاینحل مباحث کا ترجمان بنا ڈالا۔
اس شاعر کو ہم عصروں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ان کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے اور منصوبہ بند طریقے سے ان کی شخصیت اور شاعری کو شعوری اذیت کے تختۂ دار پر مسلسل اوندھا رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن جادو وہ جو سر چڑھ کے بولتا ہے کے مصداق اس شاعر کا جملہ کلام نظم و نثر اپنی اہمیت منوا کر رہا۔ فرحت عباس شاہ 1964 میں جھنگ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جھنگ میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے شہر لاہور چلے آئے۔
یہاں سے ایم اے فلسفہ پنجاب یونی ورسٹی سے کیا، بعد ازاں انگریزی ادبیات میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ معاشیات کے میدان میں تصدیقی سرٹیفیکیٹ حاصل کیے۔ ملازمت کا سلسلہ مختلف انتظامی اور نجی تنظیموں سے جز وقتی وابستگی کی صورت ایک مدت تلک جاری رہا۔ پولیس کے محکمہ میں رہے، برف کے بلاک توڑنے کا واقعہ ان کی مرنجاں مرنج شخصیت کی پہلوانی تخصیص کا پتہ دیتی ہے۔ فرحت عباس شاہ کی تعلیم و تربیت اور عملی زندگی کے حوادث اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ یہ معمولی انسان اپنے اندر ایک غیر معمولی شخصیت کو چھپائے ہوئے تھا جس کا اظہار ان کی بسیار نویسی کی صورت بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز میں سامنے آیا۔
فرحت عباس شاہ نے اردو غزل کی صنف کو نئے موضوعات سے روشناس کروایا۔ انھوں نے چار طویل نظمیں (سرابی، روگ، اکیسویں صدی کی پہلی نظم، محبت کی آخری ادھوری نظم) لکھ کر اردو نظم کو ادبیات عالم کے معیار پر لا کھڑا کیا۔ پاکستانی معاشرت میں ایک قباحت بہت عام ہے اور وہ یہ کہ کسی شخص کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے میں ہمیشہ کیڑے نکالنا اور نک سک سے عاری سمجھتے ہوئے فنکار کے فن کو نظر انداز کرنا۔ یہ ایک ایسا زہر ناک رویہ ہے جس نے پاکستان کے سیکڑوں شعرا کو گمنام و نامراد کیا ہے۔
یہ شاعر اپنے اندر کے حساس شخص کو مارنے کی تگ و دو میں اپنوں کی بے وفائی اور بے مروتی کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لیے نابود ہو گئے۔ پاکستان میں چند سال سے اردو زبان و ادب کے تخلیق کاروں، نقادوں، تجزیہ کاروں اور اساتذہ کے ہاں ایک روئیے نے جنم لیا ہے اور وہ یہ کہ کسی شاعر، نقاد، محقق اور تخلیق کار کے اچھے اور معیاری کام کو سامنے نہ لانا اور اس کی کسی صورت تحسین نہ کرنا ہے۔ ہم عصر شاعر نے اچھی غزل یا نظم کہ دی تو جل بھن جائیں گے اور اوزان و بحور کی موشگافیوں میں شعر کی حسیت کو الجھا دیں گے۔
کسی نقاد کے ہاں کوئی نیا خیال سوجھا جس پر موصوف نے اپنا نظریہ پیش کیا اور اسے مضمون کی صورت سامنے لانے کی کوشش کی، اب اس بے چارے کی خیر نہیں، اس کے بال نوچے جائیں گے اور اس کے مجموعی کام کو رد کرنے کی ہر مذموم کوشش کی جائے گی۔ یہی حال جامعات میں اساتذہ کا ہے، کسی صاحب نے اچھا آرٹیکل لکھا یا کوئی عمدہ مضمون شائع کروا لیا تو اس کی خیر نہیں، اس تحریر پر متعصب حلقوں میں ایسی رد و قد ہوگی اور اعتراض در اعتراض وارد ہوں گے کہ یہ ہتک آمیز تنقید و تنقیس سے اس قدر مایوس و نا امید ہوں گے کہ کچھ نیا کہنے اور سامنے لانے کی مدت دراز تک کوشش نہیں کریں۔
مزید ستم یہ کہ کوئی نو آموز سکالر کسی گمنام شخصیت کے کام پر مقالہ لکھنے کی کوشش کرتا ہے تو ادب کے جانشین اسے ڈانٹ پلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو بکواس شاعر تھا، اس پر کام کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اردو زبان و ادب کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے میں پاکستان کے بڑے شہروں لاہور، کراچی، اسلام آباد، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان وغیرہ میں بیسویں صدی کے وسط اور اکیسویں صدی کے اوائل میں درجنوں انجمنیں اور گروپس سر گرم تھے جنھوں نے جی بھر کر ایک دوسرے کو سرقہ باز، چور، منشی، ٹی سی باز، تلوے چاٹ، کتا، کتا، ذلیل ذلیل اور بے کار بے کار کہا اور ایک دوسرے کے جملہ تخلیقی، تنقیدی، تجزیاتی، تحقیقی اور تاثراتی کام کا رد کیا۔
ان گروپس کے بانیان کے بارے میں اہل ادب جانتے ہیں، نام لوں گا تو رسوائی میری بھی ہوگی کہ میں بھی اسی کوچہ ملامت کے منہدم کھنڈروں میں گوشہ نشین ہوں۔ فرحت عباس شاہ کی شاعری اپنے عہد کے مجموعی تنزل کا سراپا احتجاج شاعری ہے۔ جس میں المیہ اور حزنیہ عناصر کی فراوانی رومانس کی نسبت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ فرحت عباس شاہ کے ہاں مذکورہ ادب کی متعصب اور مکدر و منغض تنزل آمیز صورت احوال کا عکس فرواں نظر آتا ہے۔ یہ واحد شاعر ہے جس نے کسی بڑے نمائشی اور ڈراما باز شاعر و استاد نما بونے کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔
اس فقیر اور درویش منش شاعر کو ہر سطح پر مطعون کیا گیا اور اس کی کردارکشی سمیت اس کے جملہ تخلیقی کام کا رد کیا گیا، اس کے باوجود اس شاعر نے خود کو منوایا اور زوروں سے منوا کر دم لیا۔ فرحت عباس شاہ کا اردو اور پنجابی کلام اگرچہ پچپن شعری مجموعوں میں پھیلا ہوا ہے تاہم اس کلام میں موضوعات کی تکرار نہیں ہے بلکہ ہر شعری مجموعے میں ایک نئے تجربے کی واردات کا احوال ہے۔ فرحت عباس شاہ کے مجموعی کلام کو کلیات (اداسی ٹھہر جاتی ہے، یہ عجیب میری محبتیں، اداس اداس، آدھے غم اور آدھی خوشیاں، میرا شام سلونا شاہ پیا) میں یکجا کیا گیا ہے۔
فرحت عباس شاہ کی شاعرانہ حیثیت مسلم ہے جسے اب کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ فرحت عباس شاہ نے تنقید کے میدان میں ”اردو کی ادراکی تنقید“ لکھ کر ایسی ہلچل پیدا کی ہے کہ نقادان ادب کے ہاں اس تصنیف پر مبہم اور پر پیچ سی رائے کا اظہار سامنے آیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے فرحت عباس شاہ جیسے بے مثل شاعر کو ان صاحبان نے بہت ہلکا سمجھ کر نظر انداز کر رکھا تھا اور اب ان کی تنقیدی کتاب منظر عام پر آنے سے یہ پریشان ہو گئے ہیں کہ اس بندے کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے کے علاوہ اور کون سا حیلہ اور حربہ تراشا جائے کہ یہ شاعر تو پورا ہے اور نقاد بھی کسی طور معمولی نہیں ہے پھر اس کی فلسفیانہ فکر کو اوج تفکر میسر ہے۔
بھیا! سیدھی سی بات ہے، ایک شاعر ایک وقت میں مفکر، فلاسفر، ادیب، نثار، محقق، مدون، مولف، نقاد، مترجم، کراٹے باز، شعلہ ساز، سماجی کارکن، رحم دل، شفیق و ملنسار اور باغی الذہن و عادات بھی تو ہو سکتا ہے۔ کسی شخص کی ذات اور شخصیت کو اپنے متعین کیے ہوئے کھوکھلے معیار پر آنکنے کی بجائے کھلے دل سے اس کے جملہ اوصاف حمیدہ کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ فرحت عباس شاہ اکیسویں صدی کا بہترین شاعر اور کہنہ مشق نقاد ہے جس نے اردو زبان و ادب کو اپنی فکری جودت سے ایک ایسا شعری و نثری خزینہ عطا کیا ہے جس کی اہمیت اور افادیت ہمیشہ مستحکم رہے گی۔ بطور تبرک فرحت عباس شاہ کے بطور نمونہ چند اشعار ملاحظہ کیجیے اور لطف لیجیے :
؎ تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد /کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
؎ کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے /تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے
؎ سانس لیتا ہوں تو روتا ہے کوئی سینے میں /دل دھڑکتا ہے تو ماتم کی صدا آتی ہے
؎ انا کی جنگ میں ہم جیت تو گئے لیکن/پھر اس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے