میرِ کاروانِ نعت نگارانِ عصر جناب ڈاکٹر ریاض مجید صاحب کا دیوانِ اشفاق پر تحریر کیا گیا خوبصورت اظہارِ خیال۔
مستزاد میں نعتیہ دیوانِ اشفاق احمد غوری


مستزاد میں اشفاق احمد غوری کا ’نعتیہ دیوان ‘نعت آشنا پبلی کیشنز، ملتان اپنی روائتی خوبصورتی کے ساتھ شائع کر رہا ہے۔اشفاق احمد غوری نے اِس مجموعۂ نعت کو شعری تاریخ میں اوّلین دیوانِ مستزاد کے طور پر پیش کیاہے یوں تین نسبتوں سے یہ کتاب اُردو کے معاصر نعتیہ منظر نامے میں ایک اہم حوالے کے درجہ کی حامل ہو رہی ہے۔ ایک حوالہ نعت کا۔۔۔ دوسرا مستزاد کا۔۔۔ اور تیسرا دیوان کا۔ نعتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صنف اور دیوان کی صورت میں کلام کی جمع آوری سے ہمارے قارئین بخوبی واقف ہیں۔ مناسب ہو گا اگر مستزاد کے بارے میں کچھ ابتدائی باتوں کا اعادہ ہو جائے۔
اردو کی شعری روایت سے دلچسپی رکھنے والے عام قاری بھی جانتے ہیں کہ یہ اصنافِ شاعری میں ایک جداگانہ صنف کی حیثیت رکھتی ہے لیکن بعض فنّی اور ہیئتی حوالوں سے اس صنف پر کچھ مزید باتیں بھی ہو سکتی ہیں۔
مستزاد کا لغوی معنی ’زیادہ کیا گیا‘(افزون شدہ) ہے اس کی سادہ سی تعریف یہ ہے کہ ’’ایسی صنفِ شاعری جس میں رباعی یا غزل یا قطعہ کے ہر مصرعے کے آخر میں ایک ہم وزن ٹکڑا اضافہ کر دیں جو معنی کے لحاظ سے اس مصرع سے مربوط ہو لیکن وزنِ اصلی سے خارج ہو۔ کمال خجندی کی حسبِ ذیل مستزاد دیکھئے:
اے ریختہ سودائے تو خونِ دلِ ما را ہیچ گنا ہے
بنواز دمے خستۂ شمشیرِ جفا را بارے بہ نگاہے
بادِ سحر از روضۂ رضواں خبر آورد امروز بہ گلزار
اے سروِ رواں ہست مگر پیکِ صبا را در کوئے تورا ہے
زنجیر سرِ زلف ِ ترا باہمہ خوبی سنبل نتواں گفت
ہر گز نکند ہیچ کسے مشکِ ختا را نسبت بہ گیاہے
کمال خجندی کی غزل کے یہ شعر فرہنگ اصطلاحات علوم ادبی (دکتر ساجد اللہ تفہیمی مطبوعہ مرکز تحقیقات فارسی ایران پاکستان ،اسلام آباد مطبوعہ ۱۹۹۶ء،ص۔۔) سے لئے گئے ہیں۔ [شعروں میں (ی )کے املا کو برّصغیر کے مانوس سبکِ املا کے مطابق (ے )کر دیا گیا ہے]
ان اشعار میں ہر مصرع دو حصوں میں منقسم ہے پہلا ’خون ِدلِ مارا‘ پر ختم ہوتا ہے اور دوسرا’ گناہے‘ پر اسی طرح شمشیرِ جفارا/نگاہے:خبر آوردہ/ بہ گلزارصبارا/ راہے:خوبی/ گفت:ختا را/ گیاہے۔۔۔کمپوزنگ میں ان الفاظ کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔
مَیں اہلِ علم سے اس’بصر خراشی‘(بطرز سمع خراشی)پر معذرت خواہ ہوں کہ ان تفصیلات میں جانا پڑا دراصل اس وضاحت سے جن باتوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے اور مستزاد کے حوالے سے جو سوال اٹھتے ہیں وہ یہ ہیں کہ :
۱۔ کیا مصرعوں کے اندر اندرونی قوافی(Internal Ryhming)ضروری ہیں۔۔۔۔۔۔ اس کا جواب نفی میں ہے تاہم مصرعوں کی خوش آہنگی کے لیے ایسا ہو سکتا جس کا التزام کئی شاعروں نے اپنے مستزادوں میں کہیں کہیں کیا ہے اور بعض نے اس التزام کو ہر جگہ روا رکھّا ہے۔
۲۔کیا دونوں ٹکڑوں(اصل ٹکڑا اور زائد ٹکڑا )کے بیچ میں بسرام یعنی ہلکا سا ٹھہراؤ یاوقفہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ الگ الگ دونوں مصرعے ’ثابت الاوزان‘ ہوں تو بہتر ہے لیکن اس صنف کی بعض مثالوں میں یہ التزام روا نہیں رکھا جاتا۔یہ کوئی ’شکست ناروا‘قسم کی چیز ہے اس سے مفہوم میں تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کلام کی خوش آہنگی ضرور متاثر ہوتی ہے۔اس بارے میں مستزاد کے مطلعے حصے مستزاد نگار کے میلانِ آہنگ اور مزاجِ موسیقی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔مستزاد میں ردیف کا کردار بڑا اہم ہے۔
ردیف سے مراد وہ کلمہ یا کلمات ہیں جو قافیے کے بعد مکرّر واقع ہوتے ہیں۔ ردیف کم از کم ایک مستقل کلمے پر مشتمل ہوتی ہے۔ ردیف ایرانیوں کی ایجاد ہے شعرائے عرب ردیف کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔ ردیف کے لئے ضروری نہیں کہ ہر جگہ اس کی تکرار ایک ہی معنی میں ہو۔ شاعر اگر چاہے تو ردیف کے کلمے کو ایک شعر یا مصرع میں دوسرے معنی میں بھی استعمال کر سکتا ہے۔ قافیہ کی طرح ردیف بھی شاعرکی آزادی کو محدود کرتی ہے۔ قطعہ، غزل اور قصیدہ میں بالخصوص ردیف آزادی اظہار میں خلل انداز ہوتی ہے۔ شاعر وہی مضمون باندھ سکتا ہے جو ردیف کی پابندی کا متحمل ہو سکے خصوصاً نعتیہ شاعری میں ردیف کو نعت رُو رکھنا زیادہ مناسب ہے اس میں شاعر کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ اگر قافیہ اور ردیف بے جوڑ ہوں تو سنگلاخ زمین وجود میں آجاتی ہے جس میں شاعر کچھ کہنے کے بجائے بمشکل ردیف قافیہ ہی نبھا سکتا ہے۔ بعض اوقات ردیف بجائے خود اتنی مشکل ہوتی ہے کہ قوافی خواہ کتنے ہی سہل کیوں نہ ہوں۔ اس زمین میں کام کا شعر نکالنا مشکل ہو جاتاہے۔ مستزادمیں ردیف کا استعمال زیادہ پہلودار ہوتا ہے یہ ایک تفصیلی بحث ہے جس کا یہ محل نہیں۔
جیسا کہ اس امر کی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ مستزاد کا مطلب اضافہ ہے اور اصطلاح میں یہ روایتی فارسی شاعری کی ایک شکل ہے اور اپنی عام شکل میں یہ وہ نظم ہے جس میں ہر مصرعے کے بعد ایک اضافی حصہ شامل کیا جاتا ہے، یہ اضافی حصہ اس بحر کے کم وبیش ایک رکنِ تقطیع کے برابر وزن کا ہوتا ہے یعنی اضافہ شدہ مصرعے کا وزن اُس بحر سے لیا جاتا ہے جس میں وہ مستزاد لکھی جا رہی ہے۔ یہ اکثر اُس بحر کے پہلے یا آخری حصے کے برابر ہوتا ہے،بعض شاعر اس کا التزام نہیں رکھتے۔ایک اور بات جو مستزاد نگاری میں قابلِ توجہ ہے وہ یہ ہے کہ مستزاد اور اضافی حصہ ہم صوت یا ہم قافیہ ہو یا نہ ہو۔مستزاد کی روایت میں دونوں طرف کی مثالیں مل جاتی ہے۔اصل مصرعہ اور اضافہ شدہ مصرعے میں قافیہ کا التزام شاعری کو خوش آہنگ اور زیادہ معتبر بنا دیتا ہے۔
مستزاد کی کئی قسمیں ہیں مصرع بہ مصرع مستزاد، شعر بہ شعر مستزاد یعنی ہر مصرع کے بعد ایک اضافی ٹکڑا یا ہر شعر کے بعد ایک اضافی ٹکڑا میمنت میر صادقی(ذوالقدر)نے واژہ نامہ ہنر شاعری ((A Dictionary of Poetry and Poetics مطبوعہ کتاب مینار، تہران ۱۹۹۴ء)میں دی گئی یہ مثالیں دیکھئے:
آن کیست کہ تقریر کند حال گدا را در خدمت شاھی
وز غلغل بلبل چہ خبر بادِصبا را جزنالہ و آھی
صد حلقۂ عنبرین بند اندر بند
دلدار ز بہرِ فتنہ، بردوش افکند
مانند کمند
ھرگز نفسی بہ پیشِ ما ننشستی
کاندر پیت از خانہ غلامی نرسید:
برخیز و بیا کہ خواجہ آوازت داد
مستزاد کی ایک قسم مستزاد ترجیحی بھی ہے اس میں اضافی پاری شعر ترجیح کی تکرار کی صورت میں آتا ہے ہر مصرع یا شعر کے بعد۔۔ایک ہی طرح کا۔۔ سید اشرف الدین گیلانی معرو، نسیم شمال (۲۸۷ا۔۔۱۳۵۲) کا نمونہ دیکھئے:
دوش می گفت این سخن، دیوانہ اے بی بازخواست درد ایران بی دواست
عاقلی گفتا کہ از دیوانہ بشنو، حرف راست درد ایران بی دواست
ملک الشعراء، محمد تقی بہار(۱۲۶۶۔۱۳۳۰) نے مسمط کی صورت میں کچھ مستزاد کہے ہیں انہیں مسمط مستزاد کا نام دیا جا سکتا ہے یہ نمونہ دیکھئے:
ای مردم ایران، ھمگی تند زبانید خوش نطق و بیانید
ھنگام سخن گفتن، برندہ سنائید بگستہ عنائید
ذوالقدر نے مستزاد موقوف کا بھی ذکر کیا ہے۔۔لغت نامہ دہخدا میں مستزاد کے حوالے سے کچھ اور معلومات بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
(۲)
اردو مستزاد کی تاریخ میں اشفاق احمد غوری کے مستزادات کے دو منفرد پہلو ہیں ایک ان کی دیوانی نعتیہ صورت کہ یہ مستزاد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت میں ہیں اور الفبائی ترتیب اور التزام کے ساتھ مرتب کئے گئے ہیں۔ اردو شاعری میں مستزاد کم کم لکھے گئے ہیں ہمارے کلاسیکی شعر ی نمونوں میں انہیں ا س التزام سے دیوانوں کا حصہ نہیں بنایا گیا جس طرح غوری صاحب نے انہیں ترتیب دیا ہے دوسرے یہ کہ یہ مستزاد نعت کے مضامین و موضوعات پر تخلیق کئے گئے ہیں یوں یہ دیوان اردو نعت کے اثاثے میں ایک منفرد اور خوش آئند اضافہ ہے ان عشروں میں جہاں نعت کا ہیئتی دائرہ پھیل رہا ہے اوریہ صنف کئی نئی ہئیتوں سے آشناہو رہی ہے مثلاً ہائیکو، تزوینی، نثم(نثری نظم) ماہیا وغیرہ خصوصاً پاکستان کی علاقائی زبانوں کی اصناف شاعری میں نعت لکھی جا رہی ہے اس طرح مستزاد میں بھی ایک بھرپور نعتیہ دیوان سامنے آ رہا ہے۔
اس دیوان کی ایک اور خوبی اس میں شامل نعتوں میں ردیفوں کا استعمال ہے جو ہمارے شعری روایت سے بالکل ہٹ کر ہے اشفاق احمد غوری نے ردیفوں کو مصرعوں کی بنت میں معمول سے زیادہ جگہ دی ہے ہماری نعت میں یک لفظی، دو لفظی ، تین لفظی، چار لفظی اور پانچ لفظی ردیفوں کا استعمال ملتا ہے اس سے طویل ردیفوں کا استعمال کم کم نظر آتا ہے۔ اشفاق احمد غوری نے طویل ردیفوں کو نعت کا حصہ بنا کر ایک تو اس نعت کے مضمون کو نعت کے موضوع کابہ تکرار حصہ بنا دیا ہے دوسرے اس سے خوش آہنگی اور اندرونی قوافی کی فضا پیدا کر دی ہے سات آٹھ اشعار کی نعت میں طویل ردیف سے زیرِ تخلیق نعت کے صوتی ڈھانچے میں ایک تکرار اور تسبیح سے قاری کے ذہن پر ایک خوشگواراثر مرتب ہوتا ہے۔ اشفاق احمد غوری کے ہاں ایسا دو چار ،چھ نعتوں میں نہیں اکثر نعتوں میں ہے اس طرح پورے دیوان کی صوتی فضا میں ایک علاحدہ خوبیِ آہنگ نمایاں ہو گئی ہے۔
مثلاً اس دیوان کی یہ نعتیں دیکھئے:
منزل ہے اگر خُلد تو رستہ ہے مدینہ، جنت کا ہے زینہ
منزل کا پتا دے گا یہی سبز صدف آ، طیبہ کی طرف آ
طیبہ کی ہوا وجدان میں آ ملتان میں آ
سانسوں میں مہک پہچان میں آ ملتان میں آ
کچھ پُھولوں کا سا رُوپ بدل بہرُوپ بدل
دل کے سُونے گُلدان میں آ ملتان میں آ
مری آنکھ کو کبھی دے شرف کبھی کر مژہ پہ خرام آ، اے رسولِ عرش مقام آ
ترے انتظار میں دست بستہ کھڑا ہُوا ہے غلام آ، اے رسولِ عرش مقام آ
مرے خام خامہ نے نعت میں جو حرُوفِ عجز سجائے ہیں، وہی حرف میں نے کمائے ہیں
کبھی دیکھ میری کمائیاں کبھی سُن مرے وہ کلام آ، اے رسولِ عرش مقام آ
صبحِ صادق تھی جلوہ فِگن بارہ تھی ربیعِ اول کی، جب آپ آئے
ظُلمت کو مِلا حُکمِ رُخصت پُرنُور عرب کا دشت ہُوا، بر وقت ہُوا
سئیات کی گٹھڑی کاندھے پر حَسَنات کی پُونجی کچھ بھی نہیں، دامن تھا تہی
عُقبیٰ کا سفر مُشکل تھا مگر مدحت کا حوالہ رخت ہُوا، بر وقت ہُوا
السلام اے سیّدِ عالی نسب، جانِ طلب
السلام اے سروَر و شاہِ عرب، جانِ طلب
السلام اے خاورِ ہفت آسماں، اے ضوفشاں
السلام اے ماحئی ظُلماتِ شب، جانِ طلب
السلام اے شافعِ روزِ جزا، اے مُصطفیٰ
السلام اے باعثِ الطافِ ربّ، جانِ طلب
لُبھا رہی ہے دو جہاں کو جن کی آب و تاب، وہ رشکِ ماہتاب
ضیا کی بھیک مانگتا ہے جِن سے آفتاب، وہ رشکِ ماہتاب
ملائکہ گواہ ہیں حُضُوریاں تھیں با ادب، ہماری سب
کھڑے رہے مواجہہ پہ کر کے اِک سلام چُپ، تمام چُپ
چوکھٹ پہ زباں گنگ تھی اور کیف تھا طاری، الفاظ تھے بھاری
اشکوں نے کہی آپ کی سرکار میں ہر بات، اے سیدِ سادات
سکُوں تھا دن کو نہ رات چیناں سدا کے ترسے ہوئے تھے نیناں
ملا اشارہ درِ نبی پر گئے فٹافٹ ، بغیر آہٹ
اُن کے قدموں میں گُزرا ہُوا ایک پل، کر رہا ہے سپھل
دُور ان سے جو گُزرے صدی ہے عبث، دو گُنی ہے عبث
دِلوں کی بے قراریوں کا ایک ہے علاج، ثنا کو دیں رواج
تمام ہو گا نعت ہی سے دل کا اِختلاج، یہ کر کے دیکھ علاج
اِک رات ہوئی سیّدِ ابرار کی معراج، مُختار کی معراج
محبوب کو حاصل ہوئی دیدار کی معراج، انوار کی معراج
عُود و عبیِر و عَنبر سوچ، نعت کی خاطر بہتر سوچ
چُن کر لفظ مُعطر سوچ، نعت کی خاطر بہتر سوچ
آپ سب سے حسِیں آپ سب سے صبیح، اے نویدِ مسیح
آپ کے ذِکر سے ہم ہوئے ہیں فریح، اے نویدِ مسیح
اے فاتحِ غزوات کریں آپ ہی اِمداد، فریاد ہے فریاد
نبیوں کی زمیں کر دی ہے بارُود نے برباد، فریاد ہے فریاد
اقصیٰ کی زمیں آپ کی آمد کی ہے خواہاں، اے سرورِ شاہاں
معراج کی شب آپ کی آمد ہے اِسے یاد، فریاد ہے فریاد
اَقصیٰ سے ہٹا دیجئے صیہونی اجارہ، فرما کے اشارہ
اللہ کے تذکار سے ہو جائے یہ آباد، فریاد ہے فریاد
اُمیدِ کرم رکھتا ہے مجبُور فلسطین، محصُور فلسطین
فرما دیں اسے پنجۂ شیطان سے آزاد، فریاد ہے فریاد
اشفاق کو دے سروَرِ کونین کی مدحت، تمدیح کی نُدرت
اے قادر و اکبر تری رحمت نہیں محدُود، اے مالک و معبُود
ذکرِ شاہِ دو عالم، کر کے سُو بسُو کاغذ، مُشک و عُود خُو کاغذ
سلسبیل و کوثر کا، بن گئے سبُو کاغذ، مُشک و عُود خُو کاغذ
مدحتِ محمد کی، کر کے جُستجُو کاغذ، مُشک و عُود خُو کاغذ
ان کا نام لے لے کر ، ہوں گے سُرخُرو کاغذ، مُشک و عُود خُو کاغذ
سرکارِ مدینہ کی فقط ایک نظر ڈُھونڈ، بس ایک نظر ڈُھونڈ
جانا ہے مدینے میں تو پھر اذنِ سفر ڈُھونڈ، مت زادِ سفر ڈُھونڈ
یہ خاکِ مدینہ ہے یہ چمکائے گی قسمت، بن جائے گی قسمت
اس خاک میں مل جائیں گے پیوستہ قمر، ڈُھونڈ، چودہ کے قمر ڈُھونڈ
در در نہ بھٹک کاسۂ اُمید اُٹھا کر، بس اتنا کیا کر
بے پایاں کرم کے لیے سرکار کا در ڈُھونڈ، مُختار کا در ڈُھونڈ
دل میں ہے اگر مدحِ محُمد کی تمنا، بے حد کی تمنا
قُرآن کی آیات میں لفظوں کے گُہر ڈُھونڈ، اک راہِ ظفر ڈُھونڈ
جہان میں تھا ظلمتوں کا مُستقر، مرے نبی سے پیشتر
دہر میں جہل کا تھا راج سر بسر، مرے نبی سے پیشتر
اُتھا کے اپنے گناہ سر پر، تُمہارے در پر
جھُکا کے پلکیں کھڑے ہیں اَحقر، تُمہارے در پر
یہ صوتی وصف اشفاق احمد غوری کی نعت کا فطری وصف نہیں ایک التزام اور اہتمام کا پیدا کردہ ہے ایک عمدہ کرافٹ(Craft)جو اُن کی دوسری نعتیہ کتابوں میں نمایاں نہیں غوری کے ان مستزادیہ نعتوں کی ڈرافٹنگ ان کی دوسری نعتوں سے مختلف ہے اس التزام سے اشفاق احمد غوری نے مستزد ایسی شعری صنف کی تخلیق میں دو طرح کا فائدہ اٹھایا ہے ایک تو جیسا کہ پہلے بھی نشان دہی کی گئی ہے۔ نعت کے نفسِ مضمون اور موضوع کو تکرار اعادہ کا رنگ دے دیا ہے دوسرے اس صنف کی مستزادی ضرورت میں ردیف کی سہولت کاری سے فائدہ اٹھایا ہے اگر کوئی اچھا لحن کار ایسی نعتوں کو پڑھے گا تو ردیف کی تکرار و تسبیح سے اس کی تاثیر میں اضافہ ہو گا۔
اشفاق احمد غوری کے ’’نعتیہ دیوانِ مستزاد میں ردیفوں کا استعمال‘‘ ایک جداگانہ موضوع ہے جس پر تفصیل سے گفتگو ہو سکتی ہے موجودہ مضمون اس کی طوالت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
بحیثیتِ مجموعی اشفاق احمد غوری کی یہ کتاب صرف اُن کے اثاثۂ نعت میں ہی نہیں اردو شاعری کے معاصر منظر نامہ میں ایک منفرد اضافہ ہے محنت و مہارت کا، صناعی اور کرافٹ کا خوبصورت نمونہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مجموعہ کو نعتیہ حلقوں میں مقبول اور اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے