زرشام جٹ

پاکستان چٹھی گیا ہوا تھا ایک دن دوپہر میں ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کیلئے چلا گیا
چپلی کباب کا آرڈر دیا تو خود ہوٹل کے باہر لگے ٹیبل پر آ گیا اور کرسی پر بیٹھ کر کھانے کا انتظار کرنے لگا
کھانا آ گیا تو کھانا کھاتے ہوئے اچانک میری نظر تھوڑی دور کھڑے ایک (تقریباً )60 سالہ بزرگ پر پڑی جو مجھے کھاتے ہوئے دیکھ رہے تھے
میں نے انہیں اشارہ کیا کہ بابا جی آ جائیں اور ساتھ میں کھانا کھائیں لیکن انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے ہی کہہ دیا کہ نہیں نہیں تم کھاؤ
لیکن مجھے اب چین نہیں آ رہا تھا میں نے تین چار دفعہ کہا تو انہوں نے سر ہلا کر ہلکی سی مسکراہٹ دیتے ہوئے اشارہ دیا کہ نہیں نہیں تم کھاؤ
میں اٹھا اور انکے پاس گیا ان کا ہاتھ پکڑا اور زبردستی میز پر لے آیا اور اپنی کرسی پر بٹھا کر پہلا نوالہ توڑا اور چپلی کباب لگا کر انہیں دیا کہ یہ لیں بسم اللہ پڑھیں
انہوں نے وہ نوالہ لے کر منہ میں رکھا اور کھانے لگ گئے میں ادھر ادھر دیکھا تاکہ کوئی خالی کرسی مجھے مل جائے اور لے آؤں لیکن نہیں ملی وہاں ہوٹل پر کام کرنے والے ویٹر کو دیکھا کہ اسے کہتا ہوں لیکن وہ مصروف تھا
میں وہیں پاؤں پر ہی بیٹھ گیا کیونکہ کھانے کی ٹیبل کی ہائٹ نائی کی دکان پر استعمال ہونے والے پٹھے جتنی ہی تھی کھانا کھانے لگا تو بابا جی یہ کہتے ہوئے اٹھ گئے کہ
"” بس پتر تم کھاؤ میرے دانت نہیں ہیں اور یہ نان میں نہیں کھا سکتا "”
میں جلدی سے اٹھا اور بابا جی کو دوبارہ کرسی پر بٹھاتے ہوئے کہا
بابا جی آپ بیٹھیں میں چاول منگواتا ہوں
ہوٹل والے کو کہا تو اس نے کہا ہمارے پاس چاول نہیں ہوتے
میں نے بابا جی کو کہا آپ یہیں بیٹھے رہیں میں دوسرے ہوٹل سے لے کر آتا ہوں
خیر انہیں قریب والے ہوٹل سے چاول لا کر دیے اور وہ کھانے لگ گئے پہلا نوالہ کھایا تو انکی آنکھوں میں آنسو آ گئے
میں سمجھ گیا کہ بابا جی وہاں کھڑے مجھے نہیں بلکہ کھانے کو دیکھ رہے تھے میرا دل دکھی ہو گیا یہ سوچ کر کیونکہ مجھے یقین تھا انہوں نے آج صبح سے کچھ نہیں کھایا اور ابھی عصر کا ٹائم ہے
میں نے بابا جی کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر شفقت سے دبایا اور کہا
بابا جی پہلے چاول کھائیں پھر رو لینا آپ ، میں نہیں روکوں گا
انہوں نے آنسو جذب کیے اور مکمل توجہ سے کھانے لگ گئے کھانے سے فارغ ہو کر میں بل دیا اور بابا جی کو کہا آ جائیں اور انکا ہاتھ پکڑ کر ہوٹل سے باہر روڈ پر نکل آیا
بابا جی اپنی میلی سی چادر اٹھائے آنکھوں میں آنسو لیےمجھے دعائیں دیتے جا رہے تھے
(تب مجھے یاد آیا اک دفعہ میرے ابو نے کہا تھا پتر دعا وہ لو جس میں اثر ہوتا ہے اور وہ دعا بھی پیسوں سے آتی ہےمیں نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ کون سی دعا ہوتی ہے تو انہوں نے کہا تھا کہ بڑے ہو کر جب دنیا میں نکلو گے اور تمہیں جب کوئی دعا دیا کرے گا تو تمہیں اس وقت پتہ چلے گا کہ اثر والی دعا کیا ہوتی ہے اب جب بابا جی کی آنکھوں میں آنسو تھے اور جھولی اٹھا کر مجھے دعائیں دے رہے تھے تو مجھے یاد اپنے ابو والے وہ الفاظ یاد آ گئے کہ تمہیں خود ہی پتہ چل جائے گا کہ اثر والی دعا کیا ہوتی ہے اور کیسے ملتی ہے)
خیر میں نے بابا جی کو کہا آپ مت روئیں اللہ تعالیٰ آپکو لمبی صحت والی زندگی دے (آمین) یہ بتائیں کہ کہاں رہتے ہیں۔۔؟
بابا جی نے جواب دیا میں اسد کالونی (گوجرانوالہ) رہتا ہوں میں نے پوچھا گھر میں کون کون ہیں ۔؟
بابا جی نے کہا
دو بیٹے اور دو بہوئیں
میں نے پوچھا کہ مجھے لگتا ہے آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تو کیا گھر میں کھانے کیلئے کچھ نہیں ہے اور بیٹے کام وغیرہ نہیں کرتے۔۔؟
بابا جی نے جواب دیا کہ
پتر دونوں بیٹے کاروبار کرتے ہیں اور خوب اچھا کماتے ہیں
تو میں نے پوچھا بابا جی تو پھر کیا لڑائی وغیرہ ہوئی ہے بہوؤں یا کسی بیٹے کے ساتھ جو آپ نے کھانا نہیں کھایا۔۔؟
بابا جی نے جواب دیا
پتر میں صبح سے نہیں جمعرات والے دن سے کچھ نہیں کھایا کیونکہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں اور بوڑھا اتنا ہوں کہ کوئی کام بھی نہیں کر سکتا
مجھے بہت دکھ ہوا یہ سن کر کیونکہ اس دن اتوار تھا اور بابا جی نے چار دن سے کچھ نہیں کھایا تھا
میں نے کہا بابا جی گھر والے کھانا نہیں دیتے۔۔؟
اور جو جواب ملا وہ تو سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی
بابا جی نے کہا
پتر وہ مجھے کھانا کیا دیں گے وہ تو چین سے جینے بھی نہیں دیتے
دو منزلہ گھر ہے اور اس کی چھت پر ایک کمرہ ہے میں اسی کمرے میں رہتا ہوں ایک بیٹا نیچے اور ایک فرسٹ فلور پر رہتا ہے ایک سال پہلے ان دونوں بھائیوں نے مجھے بہت مارا اور زبردستی رجسٹری پر انگوٹھے لگوا کر گھر اپنے نام کر لیا پھر اور مجھے ایک چارپائی بستر اور میرے کپڑے دے کر چھت والے کمرہ دے دیا اور کہا کہ یہیں رہا کرو جب بھی باہر جاؤ واپس آ کر سیدھا اوپر آ جایا کرو تب سے میں گرمی ہو یا سردی بارش ہو یا طوفان میں اسی کمرے میں رہتا ہوں
گھر نام لگوانے سے پہلے انہوں نے مجھے اپنے ساتھ ہی رکھا ہوا تھا اور روٹی وغیرہ دے دیتے تھے انکی بیویاں بدتمیزی بھی بہت کرتی تھیں اور جب رات کو بیٹے آتے تھے انہیں جھوٹی باتیں بتا کر مجھے بیٹوں سے بھی باتیں کرواتی تھیں
پھر ایک دن انہوں نے کہا کہ گھر ہمارے نام کرو میں نے انکار کر دیا
( کیونکہ مجھے میری بیوی مرنے سے پہلے کہہ کر گئی تھی کہ تم بہت سیدھے سے بندے ہو اور تمہارے بیٹے اور بہوئیں بہت مکار ہیں یہ کہیں تمہیں کھانا وغیرہ دینا یا کپڑے دھونا وغیرہ سب چھوڑ ہی نہ دیں اس لیے انکے نام کبھی بھی رجسٹری مت کروانا مرنے کے بعد خود ہی انہیں مل جائے گا )
انہوں نے میرا انکار سنا تو مجھے مارنے لگ گئے لاتوں سے ٹھڈے بھی مارے اور کافی مارنے کے بعد زبردستی میرا انگوٹھا لگوا لیا اور پھر بڑے بیٹے نے مجھے ٹھوکر مار کر پرے پھینکا اور اپنی بیوی سے کہا اسکے کپڑے جوتے حقہ اور بستر چھت والے کمرے میں رکھ دو اور پھر مجھ سے کہا
ابا اب مرنے تک تم نے اوپر ہی رہنا ہے باہر جاؤ اور جب واپس آؤ تو سیدھا اوپر چلے جایا کرنا اور ساتھ ہی اپنی اور بھائی کی بیوی کی طرف دیکھ کر کہا
تم دونوں کو اس بابے کے کپڑے دھونے یا کھانا دینے کی کوئی ضرورت نہیں کپڑے خود ہی دھو لیا کرے گا اور کھانا تو یہ کہیں سے بھی کھا لیا کرے گا اسکے بہت دوست ہیں
اور پھر بابا جی نے آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا کہ میرا کوئی بھی دوست زندہ نہیں ہے کہ جس سے یہ سب باتیں شئیر کروں یا کچھ مدد مانگوں یعنی کہ کھانا
یہ سب سن کر مجھے بہت دکھ ہوا میں نے کہا بابا جی تو اتنی دیر سے کھانا کیسے اور کہاں سے کھا رہے ہیں
بابا جی نے کہا
پتر وہ ہمارے بادشاہ (وزیراعظم عمران خان) کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اس نے یہاں وہ فلانی جگہ پر لنگر کھانا کھولا ہے تو دو ٹائم وہیں سے کھانا کھاتا تھا دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد میں ان سے رات کا کھانا شاپر میں ڈلوا کر لے آتا تھا
لیکن پتہ نہیں کیا ہوا ہے جمعرات والے دن سے وہ لنگر خانہ بھی بند ہو گیا ہے لنگر خانے جا کر ان سے پوچھا تو کہنے لگے
بابا جی نوی حکومت آ گئی اے عمران خان دی حکومت ختم ہو گئی اے تے نوی حکومت نے لنگر خانے پکے پکے بند کر دیے ہیں وہ کہتے ہیں ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں اب
میری آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اور وہ لوگ ذہن میں آ گئے جو فیسبک پر لنگر خانوں کا مذاق اڑاتے تھے
میں نے کہا چلیں اللہ تعالیٰ کرم گا آپ یہ بتائیں کہ بیٹے بالکل بات نہیں کرتے یا کچھ خرچہ وغیرہ یا کبھی کبھار کوئی سو دو سو روپیہ بھی نہیں دیتے۔۔؟
بابا جی نے کہا
انہوں نے مجھے خاک دینا ہے کبھی عید پر بھی ایک روپیہ نہیں دیا نہ کوئی کپڑا جوتا بلکہ الٹا میں کبھی کبھار جب گھر جاتا ہوں اور سیڑھیوں سے چڑھ کر چھت پر جاتا ہوں تو بہوئیں گالیاں دیتی ہیں ساتھ بددعائیں دیتی ہیں کہ پتہ نہیں یہ بابا کب مرے گا اور کب ہمارے گھر کی جان چھوڑے گا میں نے ابھی فرش دھویا ہے اور اس کے گندے جوتے سے سارا فرش گندہ ہو گیا ہے پھر رات کو شوہروں کو بتاتی ہیں اور وہ غصے میں اوپر آ کر کبھی تھپڑوں سے اور کبھی لاتوں سے دو چار مار کر گالیاں دیتے ہیں مہینے میں دو سے تین دفعہ میری بہوئیں مجھے مار ضرور پڑواتی ہیں اور پھر پاس اک دوسرے کو کہہ رہی ہوتی ہیں
نیں ویکھیا ای بابے نوں چنگا پھینٹا لوایا میں
میں نے دل میں سوچا کہ اللہ اکبر کیسے کیسے مرد ہیں اور کیسی کیسی عورتیں ہیں استغر اللہ
میں نے بابا جی کو کہا چلو مجھے زرا اپنا گھر دکھاؤ باقی کام مجھ پر چھوڑ دیں وہ آپکو گھر بھی رکھیں گے کھانا بھی دیں گے اور خرچہ بھی
لیکن بابا جی جیسے سہم گئے اور ڈرتے ڈرتے کہنے لگے
ناں پتر ناں توں تے اونہاں نال گل کر کے یا پولیس سے چھتر پڑوا کر چلے جانا لیکن میری زندگی یہ حرام کر دیں گے بس تھوڑی سی زندگی رہ گئی ہے اسی انتظار میں ہوں کہ جلد از جلد موت آ جائے اور اوپر اپنی بیوی سے جا کر ملوں اسے بتاؤں کہ دیکھ لو تمہارے لاڈلوں نے تمہارے مجازی خدا کے ساتھ کیا کیا ہے جنکی سکول فیسیں دینے کیلئے اوور ٹائم کام کرتا تھا اور انکے کہنے پر انہیں سائیکل پر بٹھا کر واپڈا ٹاؤن پارک میں لے جایا کرتا تھا تاکہ انکی کوئی خواہش بھی ادھوری نہ رہے
میں نے تو پھر الحمد للہ جو بھی دیا وہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن آپ مجھے یہ بتائیں کہ یہاں میں اب کیا لکھوں۔۔؟
کیا کسی بھی زبان میں ایسے الفاظ ہیں جو بابا جی کی آنکھوں میں نظر آنے والے درد، ظلم، بھوک، اپنے ان دونوں بچوں کے بچپن اور اپنی بیوی کی یادیں اور موت کے انتظار کو بیان کر سکیں۔۔۔؟
کوئی ایسا جملہ جو یہاں لکھوں اور تم سب سمیت دنیا والوں کو ان جیسے ہزاروں غریبوں کی یہ تکالیف بیان کروں اور تمہیں وہ تکلیف محسوس بھی ہو۔۔؟
کوئی ایسا طریقہ مجھے بتائیں کہ جس کے ذریعے میں آپ لوگوں کو اپنے آس پاس، گلی، محلے، رشتے داروں میں موجود سفید پوش لوگوں کی مدد کرنے پر مجبور کر سکوں۔۔۔۔؟
یہ صرف اتنے بڑے پاکستان کے اک شہر کے چھوٹے سے علاقے میں موجود اک انسان کی زندگی کی درد بھری داستان ہے ایسی ہزاروں داستانیں آپ کے اردگرد موجود ہیں اپنے رشتے داروں میں دیکھیں وہاں بھی ہوں گی
تم نیک نہیں ہو، تم نماز قرآن نہیں پڑھتے ہو، تم گناہ کرتے ہو تمہارے پاس اپنی بخشش کیلئے کچھ بھی نہیں ہے تو یار جو کرنا ہے کرو ایک دن اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے ہی دے گا تمہیں نمازی بنا ہی دے گا لیکن تم اوپر والے کوکوئی بہانہ تو دو کہ وہ خوش ہو جائے اور فرشتوں کو کہے
وہ اس بندے کودیکھو ساری زندگی میری نافرمانیاں کرتا رہا ہے کبھی میرے سامنے سربسجود نہیں ہوا ہے کبھی قرآن نہیں پڑھا ہے لیکن یہ جو میری غریب مخلوق کیلئے انہیں مہینے کا راشن دے رہا ہے ، بچوں کے عید والےکپڑوں کیلئے اس فلاں غریب باپ کو پیسے دے رہا ہے بس اسکی یہ ادا مجھے بہت پسند ہے تم ایسا کرو اس کے گناہوں والے رجسٹرز لے کر آؤ اور سب گناہ مٹا دو میں بھی اسے ہدایت دے رہا ہوں اب یہ نماز روزہ سمیت سب فرض ادا کرے گا اور اس کا نام بھی انہی لوگوں کے ساتھ لکھ لو جنکو میں نے بنا حساب کتاب کے جنت میں داخل کر دینا ہے ۔۔!
کاش کہ آج تم عہد کرو کہ کم از کم ایک غریب گھر کا رمضان اور عید کیلئے سب کچھ میں کروں گا (انشاء اللہ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے