( رپورٹ  محسن نقی)


مورخہ 08_03_2024 کو محبان بھوپال فورم کی چیئرپرسن محترمہ شگفتہ فرحت نے پاکستان ہیریٹیج فاؤنڈیشن (امریکہ), و بیدل لائبریری ، شرف آباد کراچی ، کے تعاون سے، ریڈیو کے لیجنڈ پروڈیوسر ، جناب یاور مہدی (مرحوم), کی یاد میں ایک تقریب ” یادیں ملاقاتیں و گوشئہ یاور مہدی” کا اہتمام کیا ، جس کی صدارت جناب انوار حیدر ، سابق چیف سیکریٹری سندھ ، کراچی ، نے کی ، مہمان خصوصی معروف سیاسی و سماجی شخصیت محترمہ کشور زہرہ تھیں اور مہمان اعزازی جناب کاظم پاشا ، سابق پروڈیوسر پی ٹی وی تھے ، اور اس تقریب کی نظامت کے فرائض معروف سینیئر ماہر تعلیم ، سماجی و ادبی شخصیت جناب ندیم ہاشمی نےبخوبی ادا کیئے ، تقریب کے آغاز میں معروف سماجی شخصیت جناب ڈاکٹر شبیر آرائیں نے تلاوت اور معروف سینیئر شاعر حمد و نعت جناب طاہر سلطانی نے نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ، ان کے بعد تقریب کے ناظم جناب اویس ادیب انصاری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور تمام مہمانوں اور یاور مہدی مرحوم سے قربت رکھنے والے دوست احباب کا تقریب میں شرکت کرنے پر بہت بہت شکریہ ادا کیا ، اس کے بعد انہوں نے یاور مہدی مرحوم کے ساتھ اپنی یادوں کو تازہ کیا ، انہوں نے یاور مہدی مرحوم کی شخصیت اور ان کی فنی خدمات پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ، انہوں نے فرمایا کہ کسی انسان کی زندگی کا کامل سرمایہ اس کا مال و متاع نہیں ہوتا بلکہ وہ عمل ہوتا ہے جو وہ اپنے ساتھ اس دنیا سے لے کر جاتا ہے


یاور مہدی بھائی کو جو محبتیں دنیا میں ملی ہیں وہ شاید اچھے اچھوں کو بھی دنیا میں مشکل سے میسر آتی ہیں ، جو باتیں ان کی زندگی میں لوگوں نے بیان کر دی ہیں ، وہ شاید ہی کسی کی زندگی میں بیان کی گئیں ہوں ، اس موقع پر میں محترم پروفیسر حسن عسکری فاطمی اور محترمہ نسرین پرویز کا زکر نہ کروں تو نا انصافی ہوگی ، کیونکہ یاور مہدی بھائی کی زندگی میں ان دونوں شخصیات کو یہ خیال آیا کہ یاور مہدی بھائی کی خدمات کے اعتراف میں ایک جشن منایا جائے ، مجھے اعتراف کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ان دونوں شخصیات کے علاوہ چند دیگر احباب بھی جشن کے حوالے سے یاور مہدی بھائی کو رضا مند کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے رہے


مگر وہ کسی طرح حامی نہ بھرتے تھے ، ان کا خیال تھا کہ اس طرح کا جشن خود نمائی کا باعث ہو گا وہ اکثر محترم پروفیسر حسن عسکری فاطمی کے اسرار پر جھنجھلا جاتے اور کہتے تھے ، میں سب سے زیادہ جس چیز کو نا پسند کرتا ہوں ، وہ خود نمائی ہے ، اور آپ بار بار مجھے آمادہ کرتے ہیں ، اس جواب پر محترم پروفیسر حسن عسکری فاطمی نے ایک گھنٹے کی تقریر کی اور کہا ” کیا آپ اپنی خدمات کے تعارف میں فرشتوں کی طرح بے نیاز ہیں ؟ میرے خیال میں انسان کو انسان رہنا چاہیئے ” اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں ایک دن ان کو گھر چھوڑنے جا رہا تھا ، وہ اتنے نرم پڑ چکے تھے کہ ان کو منانے میں کچھ زیادہ دیر نہ لگی ، پھر احباب کے تعاون سے ایک ایسی کمیٹی قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا جس کے تحت ہر سال یا دو سال کسی بھی اہم ادبی ، سماجی و ثقافتی شخصیت کا جشنِ اعتراف خدمت کے طور پر اس کی زندگی ہی میں منعقد کیا جاسکے اس سلسلے میں (مرحوم) سلیم جعفری نے پاکستان میں اپنی موجودگی میں میری راہ ہموار کرنے کے لیئے مفید مشورے دیئے ( خدا ان کو جوار رحمت میں جگہ دے آمین), میں اس سلسلے میں ان کا احسان مند ہوں ، جناب اویس ادیب انصاری بھائی نے یاور مہدی بھائی کے ساتھ ہونے والے کئی دلچسپ واقعات حاضرین کو سنائے ، جنہیں حاضرین نے بہت پسند کیا ، ان واقعات میں کئ مراحل ایسے بھی آئے جب حاضرین بے اختیار ہنسنے پر مجبور ہوئے تو کہیں کہیں ان کی آنکھیں نم بھی نظر آئیں


جناب اویس ادیب انصاری نے مزید فرمایا کہ یاور مہدی مرحوم جیسی شخصیت اب کہیں دور دور تک نظر نہیں آتی ، آرٹس کونسل کو آگے لے جانے میں یاور مہدی بھائی کا بہت بڑا ہاتھ تھا ، میں نے یاور مہدی بھائی کی شخصیت اور ان کی فنی خدمات پر چھ سو چوہتر صفحات پر کتاب مرتب کی ہے جس کی مجھے بہت خوشی ہے ، یہ یاور مہدی بھائی سے میری بے پناہ محبتوں کا اظہار کہ سکتے ہیں ، ان کی یادیں ہر لمحہ میرے ساتھ رہتی ہیں ، میں انہیں زندگی کے آخری سانس تک نہیں بھول سکتا ، یہ کہتے ہوئے وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے ، نظامت کار جناب ندیم ہاشمی نے انہیں سہارا دیتے ہوئے نشست پر بٹھایا ، اور تقریب کے آغاز میں ہی اپنی نظامت سے حاضرین پر ایک سحر طاری کر دیا


جناب ندیم ہاشمی کی نظامت میں من کے سو رنگ نظر آتے ہیں ، ان کی خوبصورت آواز و انداز کو سن کر حاضرین کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کی ازلی تنہائی بن کر آسمانوں کے گنبدوں میں گونجنے لگے ، ان کی آواز اور لہجے کا ایک ایک سر حاضرین کے اندر مہکتے پھولوں کی خوشبو کی طرح پیوست حواس پر طاری ہوتا ہے ، خوبصورت الفاظ میں گندھی ہوئی نظامت جیسے سروں میں روشنی پھوٹنے لگتی ہے ، اس تقریب میں ان کی نظامت کا حسن بے نقاب ہوتا رہا ، انہوں نے تقریب کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ یاور مہدی بھائی تیرہ جنوری انیس سو اڑتیس میں پرتاب گڑھ ، ضلع جون پور میں پیدا ہوئے ، اور انیس جنوری دو ہزار بائیس کو اپنے مداحوں سے بچھڑ گئے ، سرخ و سفید رنگت ، دراز قد ، شائستہ لب و لہجے کے حامل یاور مہدی بھائی بہترین پروڈیوسر تھے ، ان کے کمرے میں کالجوں اور یونیورسٹی کے نمایاں طلباء ، اساتذہ ، اور دیگر صاحبان بیٹھے ہوتے تھے


جو یاور مہدی بھائی کی علمی و ادبی قابلیت سے فیض اٹھاتے تھے ، انیس سو سڑسٹھ میں کراچی ٹیلیوژن کا افتتاح ہوا تو ٹی وی کو بھی ریڈیو اسٹیشن بالخصوص بزم سیکشن سے ٹیلنٹ ملنے لگا ، یوں ریڈیو اور ٹیلیوژن کے باہمی تعاون سے ٹیلیویژن کو مطلوب افراد کی تلاش میں مشکلات کا شکار نہیں ہونے دیا ، یاور مہدی بھائی کو قدرت نے انسان شناسی ، پی آر شپ ، تنظیمی صلاحیتوں ، دیانت اور اخلاق کی ایسی خوبیوں سے مزین کیا کہ کئی ملازمتوں سے گذرتے اور مواقع صرف نظر کرتے ہوئے جب انہیں اپنی پسند کے شعبے براڈکاسٹنگ میں کام کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے انتہائی حساس پروگراموں سمیت اتنے بڑے اور اتنے سارے کام کیئے کہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے ، ریڈیو میں کئی غیر اہم یا روکھے پھیکے سمجھے جانے والے پروگراموں کو انہوں نے ہاتھ میں لیا تو وہ اہم اور مقبولیت کے حامل پروگرام کہلانے لگے ، پندرہ روز میں ایک دفعہ نشر ہونے والا پروگرام ” یونیورسٹی میگزین” ان کے پاس آیا تو ” بزم طلباء” کے عنوان سے روزانہ نشر ہونے والا مقبول پروگرام بن گیا ، سماجی سرگرمیوں سے متعلق ہفتہ بھر میں ایک بار نشر ہونے والا ” ریڈیو نیوز ریل” یومیہ نشر ہونے والا ” شہر نامہ” کہلایا اور مقبول عام ہوا ، ” صبح دم دروازہ کھلا” ، اور ” شب کو ہے گنجینہ گوہر کھلا” جیسے کئی پروگرام دلچسپ ہی نہیں ، شائستہ و پر لطف انداز بیاں کے فروغ اور شعوری سطح بلند کرنے کا ذریعہ بھی تھے ، ایک پوری عالمی سروس سمیت اتنا کچھ یاور مہدی بھائی کے کریڈٹ میں ہے جس کے صرف عنوانات بیان کرنے کے لیئے خاصہ وقت درکار ہے


اس کے بعد انہوں نے دیگر مقررین کو اظہارِ خیال کی دعوت دی ، معروف سینیئر شاعر حمد و نعت جناب طاہر سلطانی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میری جتنی رہنمائی بحیثیت شیعہ یاور مہدی بھائی نے کی اتنی کسی سنی شخصیت نے بھی نہیں کی ہے ، وہ مجھے ہمیشہ فرشتہ صفت انسان کہتے رہے ، ہر ایک کی مدد کرت تھے ، میرے اعزاز میں بھی یونین کلب میں پروگرام کیا تھا ، وہ میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ، یاور مہدی بھائی کے ساتھ گزرا ہوا ہر لمحہ ایک حقیقت ہے ، خواب نہیں ، میں بہت جلد ان کے نام سے ایک ایوارڈ جاری کروں گا ، ان کے بعد بیدل لائیبریری کے نگراں جناب محمد زبیر نے خطاب کرتے ہوئے بیدل لائبریری کا تعارف پیش کیا اور فرمایا کہ بیدل لائیبریری شرف آباد کراچی تین سو کتابوں سے ایک کمرے سے شروع ہوئی آج یہاں ڈیڑھ لاکھ کتب موجود ہیں ، اس موقع پر بیدل لائبریری کی جانب سے صدر محفل جناب انوار حیدر ،سابق چیف سیکریٹری سندھ ، کو یادگاری شیلڈ ، اور جناب ندیم ہاشمی کو لوح قرآنی ، پیش کی گئی ، اس کے بعد معروف سینیئر صحافی جناب قیصر مسعود جعفری نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ” آنکھ اوجھل ، پہاڑ اوجھل” یہ ایک مثل ہے ، اور مقصد یہ ہے کہ جو بھی نظروں کے سامنے سے آؤٹ ہوا ، اس کو ہماری قوم بالکل بھول جاتی ہے ، اور یکسر فراموش بھی کر دیتی ہے ، بس یہی کچھ ہمارے ” یاور مہدی بھائی” کے ساتھ بھی ہو رہا ہے اگر اویس ادیب انصاری بھائی اور انکی اہلیہ محترمہ شگفتہ فرحت نہ ہوں تو یہ قوم یاور مہدی بھائی کو بھول جائے ، یہ ان دونوں کا بڑا پن اور اخلاقی مظاہرہ ہے کہ آج شرف آباد کی مشہور بیدل لائبریری کے ” گوشئہ یاور مہدی بھائی” میں ” کچھ یادیں کچھ باتیں” کے عنوان سے محفل سجائی گئی ہے


” محبان بھوپال فورم ” نے یاور مہدی بھائی کو زندہ رکھا ہوا ہے ورنہ حکومتی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ یاور مہدی بھائی کے نام کی کوئی سڑک، کوئ عمارت یا کوئی اور یادگار نہیں ہے جن کی یہ زمہ داری ہے ان کو یاور مہدی بھائی جیسی عظیم شخصیت کا کوئی خیال نہیں ، سرکاری سطح پر بھی انہیں اب تک کسی اعزاز کے قابل نہیں سمجھا جبکہ ایسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں ، آخر میں انہوں نے محبان بھوپال فورم ، پاکستان ہیریٹیج فاؤنڈیشن امریکہ ، اور بیدل لائبریری کے منتظمین کا یاور مہدی بھائی کی یاد میں شاندار اور یادگار تقریب منعقد کرنے پر بہت بہت شکریہ ادا کیا ، ان کے بعد معروف سماجی شخصیت جناب مظفر الحسن جن کے والد بیدل لائبریری کے قائم کرنے والوں میں سے تھے ، انہوں نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ بیدل لائبریری میں یاور مہدی بھائی پیدل چل کر کتابیں لے کر آتے اور یہاں چار سے سات بجے تک بیٹھتے تھے ، یاور مہدی بھائی بہت اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے ، ان کے بعد امریکہ سے آئے ہوئے ، ماضی کے بہترین براڈکاسٹر ، بے شُمار ٹرافیاں جیتنے کا اعزاز حاصل کرنے والے بہترین مقرر ، جو آج کل امریکہ کی یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں ، جو یاور مہدی بھائی کے ساتھ ریڈیو پاکستان کراچی کے پروگرام بزم طلباء کرتے تھے ، جناب پروفیسر احسن رفیق نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یاور مہدی بھائی نے بزم طلباء سے اہم ہیرے تراشے تھے


ان کی شخصیت ہمیشہ طالب علموں کو راستہ دکھاتی رہے گی ، وہ ہمارے ذہنوں کی تعمیر کرتے تھے ، ان کے بعد معروف اداکارہ ، صداکارہ ، نثر نگار ، محترمہ یاسمین کاوش ، نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے لیئے یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ مجھے یاور مہدی بھائی کے لیئے بولنے کا موقع مل رہا ہے ، یاور مہدی بھائی نئے لوگوں کو بہت بہت سے مواقع دیتے تھے ، اور بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے ، آج جو مجھ میں اعتماد ہے وہ یاور مہدی بھائی کی تربیت کا حصہ ہے ، یہ ان کی مقناطیسی شخصیت کا اثر تھا کہ وہ کسی شاعر ، نقاد ، مبصر ، مفکر ، موسیقار یا ادیب کو جس وقت یاد کریں ، بلا عزر اور انکار حاضر ہو جاتا تھا ، یاور مہدی بھائی ریڈیو کے ہی نہیں بلکہ ادب، اخلاق ، تہذیب و تمدن اور متانت کا ایسا مکتب تھے ، جن سے چند لمحات نہیں بلکہ ہمیشہ درس اور سبق لیا جائے گا ، ان کے بعد معروف سیاسی و سماجی شخصیت محترمہ کشور زہرہ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ میں ادیب ہوں ، نہ شاعرہ، مگر یاور مہدی بھائی سے محبت بہت ہے ، ان جیسا کوئی دُوسرا مشکل سے ملے گا ، ان کی محبت اور وضع داری ایسی تھی کہ چھوٹا تو چھوٹا ، بڑے کو بھی انھیں ” یاور مہدی” کہنے کو دل نہیں چاہتا تھا ، ایسے افراد کنبے اور برادری میں ملتے ہیں ، جو خاندان کو سمیٹتے رہتے ہیں لیکن پورے شہر کو سمیٹنا صرف یاور مہدی بھائی کے بس کی بات تھی ، ان کے بعد جناب آصف انصاری ، سابق پی ٹی وی پروڈیوسر ، نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یاور مہدی بھائی کی صلاحیتوں کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، افتخار عارف (شاعر), کو بھی انہوں نے متعارف کرایا تھا ، اس موقع پر انہوں نے جناب اویس ادیب انصاری کی مرتب کی گئی کتاب جو یاور مہدی بھائی کی شخصیت اور ان کی فنی خدمات پر ہے ، اس میں سے ایک تحریر پڑھ کر سنائی جسے حاضرین نے بہت پسند کیا ، ان کے بعد معروف نیوز کاسٹر ، براڈکاسٹر ، اینکر ، محترمہ فرحانہ اویس نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یاور مہدی بھائی شرافت کا پیکر تھے


میری ان سے ملاقاتیں کم رہیں مگر جب بھی ملے، دل خوش ہوا ، ہمارے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے ، کیونکہ ہم سب کے گرد دل دکھانے والے بہت ہوتے ہیں اور زخموں پر مرہم رکھنے والے بہت ہی کم ، یاور مہدی بھائی کی شرافت سرشت طبعیت ، دل آویز و دلنشیں شخصیت ، سحر آفریں گفتگو اور روایت پسند خو بو اس عہد زبوں اطوار میں ایسی خوبیاں نہیں جنھیں آسانی سے نظر انداز کیا جا سکے بلکہ یہ تو وہ اوصاف و کمالات ہیں ، جنھیں فی زمانہ کسی ایک ذات میں مجتمع دیکھ کر استعجاب انگیز مسرت کا احساس رگ و پے میں دوڑنے لگتا ہے ، یاور مہدی بھائی عجیب جوہر شناس شخص تھے ، جنہوں نے اپنے وجود کی تعمیر کے بجائے باصلاحیت نوجوانوں کی شخصیتوں کی تعمیر کی، ان کے بعد میزبان محبان بھوپال فورم کی چیئرپرسن محترمہ شگفتہ فرحت نے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے پاکستان ہیریٹیج فاؤنڈیشن امریکہ ، منتظمین بیدل لائبریری ، کا تقریب میں بھرپور تعاون کرنے پر بہت بہت شکریہ ادا کیا ، ساتھ ساتھ انہوں نے تمام مہمانوں اور حاضرین کا تقریب میں بھرپور شرکت کرنے پر بہت بہت شکریہ ادا کیا ، مزید فرمایا کہ یاور مہدی بھائی کے لیئے ” یادیں ملاقاتیں اور گوشئہ یاور مہدی بھائی” کی تقریب منعقد کرتے ہوئے بہت خوشی ہوئی ہے آرٹس کونسل میں انہوں نے ہمیں وقت کی اہمیت سکھائی ، پروگرام کرنا سکھایا ، جن طالب علموں کی شخصیت کو انہوں نے نکھارا آج وہ سب ہیروں کی مانند چمک رہے ہیں ، اور جن شخصیات نے میری صلاحیتوں کو ابھارنے اور نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا ان میں یاور مہدی بھائی سر فہرست ہیں ، ریڈیو پاکستان کے پروگرام ” بزمِ طلباء” کا جو انداز اور معیار یاور مہدی بھائی کے دور میں تھا وہ آج تک کوئی دوسرا پروڈیوسر قائم نہ رکھ سکا ، یاور مہدی بھائی نایاب تھے ، نایاب ہیں ، اور نایاب رہیں گے


اس کوہ نور کی مانند جو تمام دنیا کے لیئے چمک دمک میں ثانی نہیں رکھتا ، ان کے بعد جناب کاظم پاشا ، سابق پی ٹی وی پروڈیوسر ، نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخصیت کے حوالے سے آج یہ پروگرام ہو رہا ہے میں اس کو باغبان کہوں گا ، وہ ایک کسان تھا ، ہر سال ایک نئی فصل لگاتا تھا ، یاور مہدی بھائی ایک درس گاہ تھے ، ان کا سمجھانا ، بتانا ، بہت مکمل ہوتا تھا ، ان کی محبتیں ان کا پیار سب کے لیئے یکساں تھا ، وہ ریڈیو کے علاوہ بھی لوگوں کی تربیت کرتے تھے ، بولنے کا موقع دیتے تھے ، آرٹس کونسل کو پوچھنے والا کوئی نہیں تھا ، یاور مہدی بھائی نے آرٹس کونسل کو جلا بخشی ، میں بھی دو سال تک گورننگ باڈی کا صدر رہا ، خوش بخت شجاعت صاحبہ بھی اس کی صدر رہی ہیں ، ان کے بعد صدر محفل جناب انوار حیدر ، سابق چیف سیکریٹری سندھ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یاور مہدی بھائی ایسی شخصیت تھے جنہیں کسی نے یاور مہدی صاحب نہ کہا ، ہمیشہ یاور مہدی بھائی کہا، ان کی خوبصورت شخصیت کے تذکرے ہمیشہ تڑپاتے رہیں گے ، نوجوان نسل کو آگے بڑھانے میں بہت مدد کیا کرتے تھے ،انہوں نے دو ہزار گز پر لیڈیز پارک بنانے کے لیئے پلاٹ دلوایا تھا ، یاور مہدی بھائی ہمیشہ خاکسار رہے ، انہوں نے کبھی اپنے آپ کو آفیسر نہیں سمجھا ، یاور مہدی بھائی نے زندگی میں جتنا کام کیا ہے اِتنا کام بہت کم لوگ کرتے ہیں اس موقع پر انہوں نے بیدِل لائبریری میں ” گوشئہ یاور مہدی بھائی” کا افتتاح فیتہ کاٹ کرکیا ، اس موقع پر جناب طاہر سلطانی نے یاور مہدی بھائی کی مغفرت کے لیئے دعا کی ، اس کے بعد تقریب کے ناظم جناب اویس ادیب انصاری نے یاور مہدی بھائی کے لیئے اپنی مرتب کی گئی کتاب” جاوداں ” ، ” یاور مہدی ” مہمانوں کو پیش کی، ان کے بعد نظامت کار جناب ندیم ہاشمی نے تمام مہمانوں اور حاضرین کا تقریب میں بھرپور شرکت کرنے پر بہت بہت شکریہ ادا کیا اور سب کو پر تکلف ریفریشمنٹ کی دعوت دی ، اس تقریب میں جن علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی ان میں محترمہ عفت مسعود ، سائرہ سلمان ، یاسمین کاوش ، فرحانہ اویس ، جیسیکا جینٹ جرار ، جناب مسعود وصی ، انجینیئر وسیم فاروقی ، جمال اختر ، سلطان مسعود شیخ ، ارشاد آفاقی ، شیخ طارق جمیل ، محمد حسنین ، کامران مغل ، فاروق عرشی ، فہیم برنی ، نفیس احمد خان ، وقار شیرانی ، حسن امام صدیقی ، آصف انصاری ، محمد زبیر ، مبشر مدنی ، مظفر الحسن ، عثمان دموہی ، اویس احمد ، ابراہیم بسمل ، عامر ضیاء ، قیصر مسعود جعفری ، طاہر سلطانی ،ڈاکٹر شبیر آرائیں ، پروفیسر احسن رفیق ، شاہ میر اور خاکسار محسن نقی قابل ذکر ہیں اور اب تقریب کی رپورٹنگ کے دوران لی گئیں تصاویر پیش خدمت ہیں امید ہے آپ کو پسند آئیں گی آپکی رائے کا منتظر رہوں گا



محسن نقی ( رپورٹ  محسن نقی 08_03_2024)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے