تدریسی تیرگی میں سچائی کا چراغ افضل صفی
نقد و نظر : فرحت عباس شاہ


افضل صفی اردو ادب کے استاد بھی ہیں اور محقق بھی ہیں ۔ اپنے ذاتی مشاہدے کے مطابق میں کہہ سکتا ہوں کہ گزشتہ چار دہاٸیوں میں ادب کے استاد کا اچھا شاعر ہونا بہت کم کم ہی کہیں نظر آیا ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ غالباً یہ قیاس کی جاسکتی ہے کہ شعر کی نصابی تعریف ، نصابی اوصاف اور استاد شعراء کے بارے برس ہا برس تک مسلسل درس و تدریس کے عمل سے گزرتے رہنے سے یہ لوگ خود نصابیت زدہ ہوکر اپنے لیکچرز کے بوجھ تلے دب کر کچلے جاتے ہیں ۔ فطری میلان نہ ہونے کے باوجو ان میں سے اکثر اس لیے بھی شاعر ، ادیب ، محقق اور نقاد وغیرہ بن بیٹھتے ہیں تاکہ طلباء طالبات کو اپنی کتابیں بیچ کر ، کانفرنسوں میں جا سکیں یا دیگر فواٸد حاصل کر سکیں ۔
خاص طور پر یونیورسٹیوں میں بیٹھے اردو زبان و ادب کے اساتذہ کے کالجز کے اساتذہ اور جینوٸن شعراء و ادبا کے خلاف انتہاٸی تعصب پر مبنی گٹھ جوڑ نظر آتا ہے ۔ تخلیقی اخلاص سے محروم یہ طبقہ جھوٹ پڑھاتا ہے اور جھوٹ پر یقین کرنے کے طالب علموں کی ذہن سازی کرتا ہے جس کی وجہ سے بقول منیر نیازی دولے شاہ کے چوہوں کی پیداوار کا یہ سلسلہ بغیر کسی تبدیلی کے آگے بڑھ رہا ہے ۔ ان کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ
غالب اور اقبال بن نہیں سکتے ، ساحر لدھیانوی ، حبیب جالب اور احمد فراز یہ لوگ بننا نہیں چاہتے ۔ سو آپ نے دیکھا ہوگا کہ کلاس رومز میں شعری معاٸب و محاسن پر زمین و آسمان ایک کردینے والوں کے ہاں زندگی بھر کی مشقت کے باوجود ایسا ایک آدھ شعر بھی نظر نہیں آتا جسے عمدہ و اعلیٰ شعر قرار دیا جا سکے ۔ لیکن یہ بھی یونیورسل سچاٸی ہے کہ بڑی سے بڑی عمومییت کے باوجود اختصاص کی گنجاٸش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ اب تخصیص میں اکثریت پھر ان کی ہوتی ہے جو پہلے شاعر ہوتے ہیں بلکہ فطری شاعر ہوتے ہیں اوربعد می درس و تدریس سے منسلک ہوتے ہیں۔ صوفی غلام مصطفیٰ سے لیکر شفیق احمد خان ، ڈاکٹر یونس خیال ، ڈاکٹر شاہد اشرف ، ڈاکٹر مرتضیٰ حسن شیراز اور سر اظہار اللہ اظہار تک کہیں کہیں کوٸی کوٸی استاد اپنے اعلیٰ تخلیق کار ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے ۔ ایسے ہی معدودے اساتذہ میں سے ایک نام افضل صفی کا ہے جن کے پاس شاعری کا ایسا گلدان موجود ہے جس میں مختلف رنگوں کےاشعار اپنی اپنی الگ الگ مہک لیے ہوۓ ہے ۔
یا یوں سمجھیے کہ افضل صفی کی شاعری مختلف تخلیقی رنگوں اور خوشبوؤں سے سجا سجایا ایک ایسا باغ ہے جس میں زندگی، بلند فکری اور سچے جذبوں کے سنگ چلتی پھرتی ،لفظ و معنی کی خوب صورت روشوں کی سیر کرتی دیکھائی دیتی ہے
رابطہ پیڑ سے کٹ جاتا ہے جس وقت صفی
خشک پتے کو تو جھونکے کا بھی ڈر رہتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفرت سی ہو گئی ہے مجھے دوستی کے ساتھ
اتنا نہ دے خلوص کہ آنسو نکل پڑیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کی تذلیل پہ ہم چپ نہ رہیں گے
ہر شخص کے سینے میں تو پتھر نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔
تصور آئنہ خانہ ہے ہر تصویر افسردہ
بکھرتی کرچیوں میں زندگی کا رقص جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھتی ہے میرے جسم سے تیرے بدن کی لو
لگتا ہے چوم لیں گے ستارے وجود کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبر کیسے روک پائے گا نئی تعبیر کو
خواب جب آنکھوں کی دیواروں سے باہر آ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچتا ہوں کس قدر بدلا اسے حالات نے
پھول جیسا شخص تھا ، تلوارکیسے ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے گردش دوراں یہ تغیر نہیں اچھا
تُو سوچ کبھی صاحب دستار تھا میں بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جکڑ رکھا ہے پورے زور سے کس نے شکنجے میں
مجھے لگتا ہے تیری یاد کے بازو نکل آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کانچ کا ٹکڑا پڑا تھا دشت میں
یا مرا چہرا پڑا تھا دشت میں
دشت بھی سارے کا سارا مجھ میں تھا
میں بھی تو سارا پڑا تھا دشت میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدینے کی گلی تھی روشنی تھی اور میں تھا
تصور میں کہیں غار حرا رکھا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سے جھانکا ہے گریباں میں صفی
چھوڑ بیٹھے ہیں نصیحت کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افضل صفی کی شاعری میں مزاحمت ، انسان دوستی، سماجی شعور ،عشق و محبت کے مضامین جگہ جگہ باقاعدہ. قاری کے اندر سوالیہ نشان چھوڑتے محسوس ہوتے ہیں ۔ خود احتسابی ، جدید طرز ِ احساس اور خاص طور پر سماجی ناہمواری اور انسانی رویوں کے تضادات پر ایک نہایت لطیف طنز ملتا ہے جو کسی تیز دھار نشتر کی طرح کٹ بھی لگا جاتا ہے اور بہت زیادہ تکلیف بھی نہیں ہونے دیتا ۔
مسخر کر لیا انساں نے عجلت میں ستاروں کو
محبت مر رہی ہے آگہی کا رقص جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
آدمی کی بات اس کے ظرف کی عکاس ہے
پھول کی پہچان ہو جاتی no ہے اک مہکار سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاکم تمھاری سوچ پہ حیرت زدہ ہوں میں
تاریخ کو الٹ دیا خیرات کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے اندر شاعرانہ فطری بغاوت اور مزاحمت کا جزبہ پوری آب و تاب سے چمکتا نظر آتا ہے ۔ اسے محکوم طبقے کی بے بسی اور حکمران طبقے کے جبر کا نہ صرف پورا پورا شعور ہے بلکہ اس گہرے احساس سے پھوٹنے والی سرکشی اس کے اشعار میں بھی در آٸی ہے ۔
آو بڑھ کر چھین لیں ظالم سے سارے اختیار
کب تلک پھرتے رہیں گے بے نوا اس شہر میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگ اس خوف سے کم مرتے ہیں دنیا میں صفی
اپنی چادر سے کہیں بڑھ کے کفن لگتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر میں بے چہرگی کا گر یہی عالم رہا
دیکھنے والے نہ ہوں گے آئینے رہ جائیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گر ڈبوتا وہ مجھے خود بھی نہ بچتا دریا
میں جو طوفان میں ڈھلتا تو کنارہ جاتا
افضل صفی بلاشبہ صاحب ِ طرز ،جدید حسیات کا شاعر ہے ۔ وہ کیفیات کو نٸے پیراۓ میں بیان کرنے کی قدرت سے مالا مال ہے ۔ اس کے اشعار نٸے تلازموں سے مزیّن ہونے کی وجہ سے قاری کو شعر کے نٸے نئے ذاٸقوں سے روشناس کراتے ہیں ۔
میں نے بدن اتار کے گٹھڑی میں رکھ دیا
کیسے سنبھالتا میں ادھارے وجود کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برف پگھلی ہے میرے اندر سے
کون کہتا ہے اشک باری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اک تحیر نے اس کو سینچا ہے
میرے لب پر اُگی ہوئ چپ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قہقہے کی نوک پر رسوائی رکھ
دشت کی باہوں میں جا تنہائی رکھ
یہ نہ ہو اب وار اگلا میں کروں
ہاتھ سے تلوار نیچے بھائی رکھ
میں نے اپنے دل کو دل سے دھو دیا
تیرے دل میں جو کجی ہے آئی رکھ
اس قدر مت آنکھ سے پانی بہا
اس قدر رخسار پر مت کائی رکھ
آ سناؤں تجھ کو دردِ دل صفی
رکھ مرے آگے کوئ شہنائی رکھ
۔۔۔۔۔۔
میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے کہ پُر آشوب عہد ِ حاضر میں قحط الرجال کے شکار شعبہ درس و تدریس کے اندر ڈاکٹر افضل صفی جیسے صاحب ِ نظریہ ، حق پرست اور علم دوست موجود ہیں ۔ ایسے اشخاص و شعراء کا ہونا کہیں کہیں ٹمٹاتے ان چراغوں کی مانند ہے جن کی روشنی سے سَو مزید چراغ روشن ہونے کی امیدیں وابستہ ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے