ایس گھنڈ وچ بہت خرابیاں نیں اگ لائی کے گھنڈ نوں ساڑیے نی

گُھنڈ حسن دی آب چھپا لیندا لمے گھُنڈ والی رڑے ماریے نی

گھُنڈ عاشقاں دے بیڑے ڈوب دیندا مینا تاڑ نہ پنجرے ماریے نی 

تدوں ایہہ جہان سبھ نظر آوے جدوں گھنڈ نوں ذرا اتاریے نی

گھنڈ انھیاں کر ے سجا کھیاں نوں گھنڈ لاہ توں مونہہ توں لاڑیے نی

وارثؔ شاہ نہ دبیے موتیاں نوں پُھل اگ دے وچ نہ ساڑیے نی


فرہنگ

گُھنڈ: پردہ

ساڑیے: جلائیے

لمے: بڑے

رڑے: چٹیل میدان

تاڑ: قید

سجاکھے: بینا

لاڑی: دُلہن


ترجمہ: اس پردے میں بہت خرابیاں ہیں، اسے آگ لگا کر جلا دینا چاہیے پردہ حُسن کی چمک کو چُھپا لیتا ہے، بڑے پردے والی کو میدان میں مارنا چاہیے پردہ عاشقوں کو برباد کر دیتا ہے، مینا کو پنجرے میں قید کر کے مارنا نہیں چاہیے اس دُنیا کی رنگینی اسی وقت نظر آ سکتی ہے جب پردے کو اتار دیا جائے پردہ آنکھ والوں کو بھی اندھا کر دیتا ہے، اس لیے مُنہ سے پردہ اتار دو اے دُلہن وارث شاہ موتیوں کو مٹی میں دفن اور پھولوں کو آگ میں نہیں جلانا چاہیے ٹھہریے! بند یا ترجمہ دیکھ کر غصہ کرنے سے پہلے آئیے اس بند کو سمجھنے کے لیے یہ موقع و محل دیکھ لیں اور پھر گھنڈ کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔


سیاق و سباق: رانجھا جوگی کے بھیس میں رنگ پور کھیڑوں کے پہنچتا ہے اور بالآخر ایک دن ہیر کے دروازے پر جا کھڑا ہوتا ہے۔ ہیر کی نند جس کا نام سہتی ہے۔ اس کا ایک طویل جھگڑا جوگی کے ساتھ ہوتا ہے اور ہر دو طرف سے مرد و زن پر خوب خوب فقرے کسے جاتے ہیں۔ سہتی جوگی پر الزام لگاتی ہے کہ وہ خیر خیرات مانگنے کی آڑ میں گلی گلی گھوم کر لوگوں کی بہو بیٹیوں کو "تاڑتا” ہے، جبکہ جوگی خود کو اس الزام سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔ خیر وہ مکالمات بھی معنی خیز ہیں جو کسی اور موقعہ کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ فی الوقت زیرِ نظر بند جو کہ ظاہری طور پر کافی سخت اور مخصوص نقطہ نظر سے متنازع محسوس ہوتا ہے، اس تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سہتی اور جوگی جب خوب جھگڑا کر لیتے ہیں تو آخر میں سہتی جوگی کو بتاتی ہے کہ میرے بھائی کی دُلہن کو کوئی روحانی یا جسمانی عارضہ لاحق ہے۔ اس کی اپنے میاں (یعنی سہتی کے بھائی سیدے کھیڑے) کے ساتھ نہیں بنتی۔ کئی وید حکیموں کو دکھایا لیکن اسے شفا نہیں ملی، اس کا علاج کر دو۔ جواب میں جوگی دلہن کو سامنے لانے کے لیے کہتا ہے اور ایک مرتبہ پھر سہتی اور جوگی کے مابین بحث مباحثہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس موقع پر جوگی بین السطور ایک اشارہ دیتا ہے جس سے ہیر اس سارے قضیے کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔ وہ پردے کی اوٹ میں رہ کر جوگی سے رانجھے کے بارے میں سوال کرتی ہے اور رانجھا تو ظاہر ہے خود جوگی کے بھیس میں ہی وہاں کھڑا ہے، وہ ہیر کو اشاروں کنایوں میں پچھلی سب باتیں اور حال کا معاملہ بھی بتا دیتا ہے، تِس پر ہیر سوال کرتی ہے کہ اب وہ (رانجھا) کہاں ہے۔ یہ بند اس موقع پر آتا ہے۔


گُھنڈ: گھنڈ یا پردہ سماج میں بیاہی عورت کے لیے از بس ضروری سمجھا جاتا تھا (ہے)۔ اس سماجی رسم کے تحت شادی شدہ عورت نہ صرف غیر مردوں سے بلکہ اپنے سسرال میں موجود مردوں بشمول سُسر اور دیور یا جیٹھ وغیرہ سے بھی پردہ کرتی تھیں (ہیں)۔


اب یہ ہیر کے لیے بطور خاص اس گُھنڈ یا پردے کا کمال ہے کہ رانجھا جوگی کے رُوپ میں ہیر کے دروازے پر کھڑا ہے لیکن ہیر چونکہ سیدے کے ساتھ بیاہی جا چُکی ہے اس لیے وہ پردے کی اوٹ میں ہونے کی وجہ سے رانجھے کو اُس روپ میں پہچان نہیں پا رہی۔ حالانکہ رانجھے کو جوگ کا راستہ دکھانے والی بھی ہیر ہی تھی۔ ہو یہ رہا ہے کہ یہ گھنڈ جو کہ ہیر کی شادی کی وجہ سے اس پر مسلط ہوا ہے اور شادی بھی وہ جو کہ اول تو اس کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی، کی وجہ سے ہیر کو اُس ایک خاص مرد کی ملکیت مان لیا گیا ہے۔ حالانکہ وہ اول روز سے اس مرد کے ساتھ زندگی نہیں کرنا چاہتی، لیکن پھر بھی اسے اس مرد کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ بند میں شادی شدہ عورت پر مرد کی اس ملکیت کو لے کر گُھنڈ کی خرابیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس بند سے پیچھے کے مناظر میں جب جوگی اور سہتی کی طویل جھڑپ ہوتی ہے۔ سہتی جو ابھی کنواری ہے۔ اس نے جوگی سے کوئی پردہ نہیں کیا۔ یہ بند سماج کے اس دوہرے معیار پر ایک “ٹوک” ہے جس میں کنواری، شادہ شدہ، یا بیوہ عورت کے لیے مختلف رائج قوانین پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ شادی شدہ عورت کا مردوں سے پردہ کرنا، بیوہ کی دوسری شادی پر پابندی یا سناتن دھرم میں اُس کا خاوند کے ساتھ ستی ہو جانا وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ اس جبر کی تشبیہ ایک مینا سے دی گئی ہے جو گُھنڈ کے پنجرے میں قید ہے، آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھی ہونے کے مترادف ہے۔ عورت کے فطری جوہر کو پھول اور موتی کہا گیا ہے اور یہ عرض کی جا رہی ہے کہ موتیوں کو زمین میں نہیں گاڑنا چاہیے اور نہ ہی پھول کو آگ میں جھلسانا چاہیے۔ وارث شاہ کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ عورت کسی سماجی جبر یا رسم کے تحت اپنی مرضی کے خلاف کسی ایک مرد کی ملکیت نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ درست مان لیا جائے تو پھر شادی شدہ مرد پر بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے علاوہ باقی عورتوں سے پردہ کرے یا بیوی کے مرنے پر اُس کی چتا میں زندہ جل کر مر جائے۔ رانجھا ان تمام سماجی پابندیوں کو نہیں مانتا، اور اس کا ثبوت ہے اس کا جوگی ہو جانا اور اس نئے روپ میں ہیر کی طرف پیش قدمی کرنا۔ کیونکہ جب ہیر کی شادی ہو جاتی ہے تو رانجھے کی بھاوجیں بھی اسے اسی لیے واپس گھر بلاتی ہیں کہ اب تمہارا وہاں رکنے کا کوئی جواز نہیں کیونکہ ہیر کسی اور کی "ملکیت” ہو چُکی ہے۔


یہ تو ہوا بند کا خلاصہ رانجھے اور قصے کے نقطہ نظر سے، اب ذرا اسے ایک اور رُخ سے دیکھ لیں۔ جوگ درحقیقت عورت ہے، اور ہیر روح ہے، کسی پچھلے بند پر چند سطریں لکھتے ہوئے اس طرف اشارہ کیا تھا۔ اس بند کو ایک عورت کے نقطہ نظر سے خود اُس کے نفس یا روح کے ساتھ مکالمہ یا خود کلامی کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں اور یہ دیکھتے ہوئے اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ گُھنڈ صرف پردے کا نام نہیں ہے۔ عورت کا گھنڈ چاردیواری میں مقید ہونے اور اس جبری یا "اختیاری” قید کے باعث بطور انسان اپنے حقیقی جوہر سے محروم ہو جانے کا نام ہے۔ اختیار کے پیچھے بھی کہیں نہ کہیں لاشعوری طور پر معاشرتی جبر یا خوف ہی کارفرما ہوتا ہے۔ یوں یہ بند عورت کو اس کا حقیقی جوہر پہچاننے کی طرف ایک اشارہ بھی ہے۔


الیاس گوندل

1 thought on “گھونگھٹ (ہیر وارث شاہ کے ایک بند کی تفہیم)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے