بیاد سیماب اکبر آبادی

بیاد
سیماب اکبر آبادی
پیدائش ؛ ۵ ؍ جون ۱۸۸۲ء ۔ آگرہ
وفات؛ ۳۱ ؍ جنوری ۱۹۵۱ ء ۔ کراچی ۔


ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا ۔1898 میں ملازمت کے سلسلے میں کان پور گئے اور وہیں فصیح الملک داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے ۔
قصرِ ادب کے نام سے ادبی ادارہ قائم کیا۔ پھر بیک وقت ماہنامہ ثریا، ماہنامہ شاعر، ہفت روزہ تاج، ماہنامہ کنول، سہ روزہ ایشیا شائع کیا ۔
ان کی لکھی کتابوں کی تعداد 284 ہے جس میں 22 شعری مَجمُوعے ہیں جن میں "وحی منظوم” بھی شامل ہے جس کی اشاعت کی کوشش 1949 میں ان کو پاکستان لے گئی جہاں کراچی شہر میں 1951 میں انکا انتقال ہوا۔
مولوی فیروز الدین کی فرمائش پر مثنوی مولانا روم کا منظوم اردو ترجمہ شروع کیا جس کے لیے وہ لاہور منتقل ہوئے اور اپنا ادارہ قصرادب بھی لاہور ہی لے آئے۔ مثنوی مولانا روم کو فارسی سے اسی بحر میں اردو میں منظوم ترانے کام شروع کیا اور اس کا نام الہام منظوم رکھا تقریبا 45 ہزار اشعار 6 جلدوں میں ترتیب پائے۔
ہندووں کی مذہبی کتاب بھگوت گیتا کے کچھ حصوں کا منظوم ترجمہ کرشن کیتا کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیا۔
انیس سو چوالیس کے شروع میں قرآن مجید کا منظوم ترجمہ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور دس ماہ میں منظوم ترجمہ مکمل کر کے علما کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ستاروں کا ترجمہ ایک ہی بحر میں منظوم کیا گیا حاشیہ پر ضروری تشریح دی گئی علما کے تعریفی کلمات کتاب کے آخر میں شامل کیے گئے قرآن مجید کا یہ منظوم اردو ترجمہ "وحی منظوم” کے نام سے مشہور ہوا۔ 1981 کو اسلام آباد میں پندرہویں صدی ہجری کے سلسلہِ تقسیم انعامات میں قرآن پاک کے چار مختلف زبانوں کی کتابوں کو انعام سے نوازا گیا۔ وحی منظوم کتاب سرفہرست تھی۔
انیس سو پچاس میں شیخ عنایت اللہ کی درخواست پر سیرت نبی پر مختصر اور انتہائی جامع کتاب ڈیڑھ ماہ کے مختصر عرصے میں جدید اسلوب اور دلنشین پیرائے میں لکھ کر پیش کردی۔
1892 سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا اور 1898 میں مرزا خان داغ دہلوی کے شاگرد ہو گئے تھے۔ 1923 میں قصر الادب کی بنیاد رکھی اور پہلے”پیمانہ” اور بعد میں 1929 میں "تاج” اور 1930 میں "شاعر” شائع کرنا شروع کیے۔ پیمانہ 1932 میں بند ہو گیا تھا۔
سیماب کا پہلا مجموعہِ کلام "نیستاں” 1923 میں چھپا تھا۔ 1936 میں دیوان کلیم عجم شائع ہوا اور اسی سال نظموں کا مجموعہ کار امروز منظر عام پر آیا۔
سیماب کے تقریباً ڈھائی ہزار شاگرد تھے جن میں راز چاندپوری، ساغر نظامی، ضیاء فتح آبادی، بسمل سیدی، الطاف مشہدی اور شفا گوالیوری کے نام قابل ذکر ہیں۔ سیماب اکبر آبادی کو "تاج الشعرا”، "ناخدائے سخن” بھی کہا گیا۔ داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی سیماب کو جانشینِ داغ کہا کرتے تھے۔
سیماب اکبر آبادی کا کلام ، پنجاب میں پنڈی بہاؤالدین سے شایع ہونے والے رسالہ ’’ صوفی ‘‘ میں بڑے تسلسل کسے شائع ہوا کرتا تھا ۔ رسالہ ’’ صوفی ‘‘ کے بانی و مدیر میرے والد محترم کے سگے ماموں قبلہ ملک محمدالدین اعوان تھے ۔ ابتدائی کلام اقبال کے متلاشیوں کے لیے یہ رسالہ ایک مخزن سے کم نہیں، آج جناب سیماب اکبر آبادی کے یوم وصال کی برسی کے موقع پر رسالہ ’’ صوفی ‘‘ بابت ماہ اگست 1927ء میں شایع شدہ اُن کی ایک نظم بعنوان ’’ پیام ہند ‘‘ آپ احباب کی خدمت میں پیش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھئے امت کی بے بسی پر سیماب اکبر آبادی، خاتم النبیین محمد ﷺ کی خدمت اقدس میں ’’ مدد ‘‘ کے لیے کس طرح دردمندانہ التجا کرتے ہیں ۔ آپ کے تاثرات کے لیے ممنون ہوں گا ۔ شکریہ
۔ ( نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ) ۔


Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے