تفرداتِ جہاندار بحوالہ اجمعین
جہاندار منظر القادری سے میرا پہلا تعارف سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا. اب یہ تو یاد نہیں کہ میری طرف سے پہل ہوئی تھی یا ان کی طرف سے مگر اب رابطہ بہت مضبوط اور مستقل ہے اور اس کی ایک وجہ جو مجھے یاد ہے وہ یہ کہ جب میرا پہلا نعتیہ مجموعہ "ذکرِ منیر” شائع ہوا تو موصوف نے اس پر کمال لکھا اور ایسے نکات بیان کئے جو میں خود بھی نہیں جانتا تھا. جہاندار منظر القادری کی نسبت سلسلہ قادریہ رضوی عطاریہ سے ہے اور ابتدا سے ہی ان کا گھریلو دینی ماحول ان کی طبیعت کو وادیء نعت و مناقب کی طرف انگلی پکڑ کر چھوڑ آیا. ان کا وادیء نعت و مناقب میں ابھی تقریباً چھ برس کا وقت ہی گزرا ہے اور ان چھ سالوں میں ان کے دو نعتیہ مجموعے "کاسہ” اور "بخشش” اور ایک مجموعہ مناقب "اجمعین” ناصرف شائع ہوئے بلکہ علمی و ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل کر چکے حالانکہ "اجمعین” ان کی حالیہ تصنیف ہے جو عقیدت نوائی پر مشتمل ہے.
اجمعین موضوع کے اعتبار سے انفرادیت رکھتی ہے اور یہ سعادت بلاشبہ جہاندار منظر القادری کے حصے میں پہلے آگئی. "اجمعین” کل نو ابواب پر مشتمل ہے.
باب اول: حمد و نعت کے بعد رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے والد گرامی حضرت عبداللہ اور والدہ ماجدہ حضرت آمنہ، رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رضاعی ماں حضرت حلمیہ سعدیہ، چچا حضرت حمزہ اور حضرت عباس اور حضرت حلیمہ کی بیٹی اور رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رضاعی بہن حضرت شیما کے مناقب پر مشتمل ہے.


باب دوم: خلفائے راشدین کے فضائل و مناقب پر مشتمل ہے اور بلترتیب سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق پھر حضرت عمر فاروق پھر حضرت عثمان غنی پھر حضرت علی المرتضٰی رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دو دو مناقب شامل ہیں . خلافت راشدہ کے تیس سالوں میں آخری چھ ماہ حضرت حسن مجتبٰی کے بھی علمائے نے شامل کئے ہیں سو اسی مناسبت سے ان چاروں برگزیدہ ہستیوں کے بعد دو مناقب حضرت حسن مجتبٰی کے اس باب میں شامل کئے گئے ہیں.


باب سوم: رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خاندان کے مناقب پر مشتمل جن میں سب سے پہلے حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین کے مناقب شامل ہیں ان کے بعد امہات المؤمنین کے مناقب بلترتیب جمع کئے گئے ہیں. امہات المؤمنین کے مناقب کے بعد رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اولاد کے فضائل و مناقب شامل ہیں اور اس باب کے آخر میں حضرت سلمان فارسی کی ایک منقبت شامل کی گئی ہے جسے اس باب میں شامل کرنے کی وجہ موصوف نے خود بیان کی ہے.


باب چہارم: ان دس اصحاب مبشرہ کی منقبت پر مشتمل ہے جنہیں دنیا میں رہتے ہوئے رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جنت کی سند عطا فرمائی. ان عشرہ مبشرہ کی تعریف و توصیف پر مشتمل اس باب میں دس مناقب شامل ہیں.


باب پنجم: آئمہ اہل بیت اطہار (بارہ اماموں) کے مناقب پر مشتمل ہے. اس باب میں مولائے کائنات سے لے کر امام مہدی تک کے ائمہ کی شان بصورت اشعار کمال انداز میں بیان کی گئی. جسے اللہ کی عنایت اور شیوخ قادریہ کی خاص توجہ کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتے.


باب ششم: چند صحابہ کرام جن میں حضرت ابو ذر غفاری، حضرت بلال، حضرت خالد بن ولید، حضرت ابوہریرہ، حضرت حنظلہ، حضرت ابو ایوب انصاری، حضرت عمیر ابن عدی، حضرت حسان بن ثابت، حضرت معصب بن عمیر، حضرت سمیہ، یاسر بن عامر، عمار بن یاسر، صہیب رومی اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں کے مناقب پر مشتمل ہے. اور ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد جو کربلا میں شہید ہوئی ان کے مناقب شامل ہیں.


باب ہفتم: پنجتن پاک اور شہدائے کربلا کے مناقب پر مشتمل ہے. اس باب میں کل سات کلام جمع کیے گئے ہیں.


باب ہشتم: اہلسنت کے چار اماموں کے مناقب پر مشتمل ہے. جن میں نعمان بن ثابت (امام اعظم ابو حنیفہ)، مالک بن انس (امام مالک) محمد بن ادریس شافعی (امام شافعی) اور امام احمد بن حنبل شامل ہیں. اس باب میں ان چاروں آئمہ کے خصائص کے پھول نہایت خوبصورتی سے اشعار کی مالا میں میں پروئے گئے ہیں.


باب نہم: جو جہاندار منظر القادری کی کتاب عقیدت "اجمعین” کا آخری باب ہے پانچ مناقب اور گیارہ قصائد پر مشتمل ہے. اس باب میں چاروں سلاسل کے آئمہ طریقت کے مناقب شامل ہیں. پہلی منقبت شیخ عبد القادر جیلانی (غوث الاعظم)، دوسری شیخ بہاء الدین نقشبند، تیسری خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، چوتھی شیخ شہاب الدین عمر سہروردی اور پانچویں منقب عبد اللہ شاہ غازی کی تعریف و توصیف پر مشتمل ہے. اسی باب میں گیارہ موضوعاتی قصائد بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں قرآن، حرمین طیبین، غارِ حرا و ثور، قصر دنی، نجف، غدیر خم، کربلا، بیت المقدس اور بغداد معلیٰ کے قصائد شامل ہیں.
مجموعی طور پر "اجمعین” ایک ایسی کتاب ہے جس میں انفرادیت کے ساتھ ساتھ جو خصوصیات دیکھی جا سکتی ہیں وہ یہ ہیں:
1. اجمعین میں زمانی و مکانی ترتیب کا التزام کیا گیا ہے. اور ساتھ ہی شخصی درجہ بندی کو خاص اہمیت دی گئی ہے.
2. اجمعین کے کلام حسن بلاغت سے بھرپور ہیں جنہیں پڑھ کر بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جہاندار بھائی بات کہنے کا سلقیہ رکھتے ہیں. اور اس میدان میں مہارت تامہ رکھتے ہیں.
3. اجمعین میں شامل بعض اردو مناقب تو ایسے ہیں جو شاید ان سے پہلے کسی نے نہیں کہے.
4. تمام مناقب حسنِ ترتیب کے علاوہ مربوط، منظم اور شائستگی سے کہے گئے ہیں جب میں ایک خاص توازن نظر آتا ہے.
5. اجمعین کی فہرست دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ساری تخلیق آورد ہے اور سوچے سمجھے انداز سے لکھی گئی ہے مگر جب کلام پڑھتے ہیں تو زور زبردستی سے کہا ہوا ایک شعر بھی نظر نہیں آتا بلکہ ساری کی ساری کتاب آمد اور عطا دیکھائی دیتی ہے.
6. عصرِ حاضر میں لکھی جانی والی کتب مناقب میں تفرد کی حیثیت رکھتی ہے. کیونکہ اس میں کچھ موضوعات ایسے ہیں جو ان سے پہلے ایک ہی کتاب میں جمع نہیں دیکھے گئے.
7. اجمعین میں محاسن شعری کے ساتھ افراط و تفریط سے اجتناب نظر آتا ہے حالانکہ مناقب لکھنے والا اکثر اس کا شکار ہو جاتا ہے.
8. اگر”اجمعین” کے مصادر کو دیکھا جائے تو امہات الکتب سے استفادہ کیا گیا ہے. ساتھ ہی روایت کی صحت و سند بھی مستند نظر آتی ہیں.
"اجمعین” کی اشاعت کے بعد جہاندار منظر القادری نے اہل قلم کے لئے مناقب کے کچھ ایسے باب بھی تشنہ چھوڑ دئیے جن پر کلام کہا جا سکتا ہے بلکہ کثیر اور مربوط کام کیا سکتا ہے. ان موضوعات میں
1. بدری صحابہ
2. عہد رسالت و خلافت راشدہ میں اسلام کے مشہور جرنیل و سپہ سالار
3. غزوات و سرایا میں شامل اسلامی افواج و فوجی
4. اسلامی فتوحات
5. اصحاب صفہ
6. رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مکی زندگی کے تبلیغی مراکز (دارِ ارقم وغیرہ)
7. ہجرت مدینہ کے بعد کے تبلیغی مراکز (مسجد نبوی وغیرہ)
8. کاتبین وحی وغیرہ
اجمعین بلاشبہ جہاندار منظر القادری کا منفرد کارنامہ ہے جس کی اشاعت پر میں انہیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ ان کی یہ کاوش اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں مقبول ہو اور ان کے علم و قلم میں اللہ مزید برکات و اضافہ فرمائے. آمین
مرزا حفیظ اوج
ملتان
26 جنوری 2024ء


1 thought on “تفرداتِ جہاندار بحوالہ اجمعین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے