سیوا آرٹس سوسائٹی کے زیراہتمام ایک یادگار شامِ شاعری

سیوا آرٹس سوسائٹی کے زیراہتمام ایک یادگار شامِ شاعری کا انعقاد کیاگیا.جو برسوں ذہنوں پہ نقش رہے گی.پانچ سے رات نو بجے تک چلنے والی اس خوب صورت شام جو رات میں ڈھل رہی تھی.لیکن کسی کو جانے کی جلدی نہیں تھی سب شوق سے سن ریے تھے.ورنہ اکثر محافل میں صاحبِ صدر کو سننے والے صرف چند پرخلوص اور باادب لوگ ہی رہ جاتے ہیں.
سیوا آرٹس سوسائٹی کی مجلس عاملہ کے ممبر علیم اطہر نے دوسرے شہروں سے بھی مہمان شاعر بلائے ہوئے تھے جنہوں نے اپناکلام لاہور میں آکر اس بڑی محفل میں سنانے پر نہایت خوشی اور فخر کا اظہار کیا.
دل کھول کے تین چار غزلیں سنانے پہ شعراء کے چہرے کھلے ہوئے تھے.
قطر کی قدیم ترین ادبی تنظیم بزم اردو قطر کے چئیرمین اور معروف شاعر شوکت علی ناز کے اعزاز میں الحمراء ادبی بیٹھک میں سیوا آرٹ سوسائٹی کے زیرِ اہتمام شامِ شاعری کی صدارت ممتاز شاعر ، صحافی ، نقاد ، دانشور اور ایف سی کالج یونیورسٹی شعبہء اُردو کے صدر ڈاکٹر اختر شمار نے کی جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ممتاز شاعر ، صحافی ، براڈ کاسٹر ، نقاد اور دانشور فرحت عباس شاہ ، منزہ سحر اور مرزا رضی الرحمن’ تھے اور نظامت کے فرائض معروف شاعر اور پبلشر و سیوا آرٹ سوسائٹی کے کنوینئر عرفان صادق نے انجام دیئے ۔ مشاعرہ میں صاحبانِ اسٹیج کے علاوہ ڈاکٹر کنول فیروز ، محمد عباس مرزا ، اقبال راہی ، ممتاز راشد لاہوری ، آسناتھ کنول ، فراست بخاری ، تاثیر نقوی ، اعجاز اللہ ناز ، فیصل زمان چشتی ، ابتہاج ترابی ، ثمینہ سید ، علیم اطہر ، آفتاب جاوید ، کامران نذیر , وقار احمد وقار ، نجمہ شاہین ، علی۔حُسین عابدی ، پروین وفا ہاشمی ، خالد محمود آشفتہ ، اروج زیب ، رمضان صابر (چشتیاں ) ، محمد عارف کے علاوہ حافظ آباد ، مریدکے اور لاہور کے مضافات سے شریک شعراء کی کثیر تعداد نے اپنا اپنا خوبصورت کلام سُنا کر خوب داد سمیٹی اور شامِ شاعری کو یادگار بنا دیا ۔ خوبصورت محفل چائے و دیگر لوازمات سے تواضع کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی ۔وڈیو کیمرے مشاعرے کی مووی بناتے رہے اور فوٹو گرافی کے فرائض جناب فراست بخاری کے علاوہ متعدد لوگ اپنے کیمروں سے ادا کررہے تھے..تمام دوستوں کی آمد کا شکریہ.
ثمینہ سید
Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے