نشتر ہسپتال میں پریشانیوں سے بچنے کے لیے چند تجاویز


نشتر ہسپتال ملتان جنوبی پنجاب کے تقریباً سبھی شہروں اور دیہاتوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی عوام کو بھی بیماری کی حالت میں سہولت فراہم کرنے کا ذریعہ ہے ، جب اتنی زیادہ تعداد میں لوگ نشتر ہسپتال میں اپنے پیاروں کو لے کر آتے ہیں تو انہیں کچھ مسائل اور پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ، ان پریشانیوں سے بچنے کے لیے کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں تاکہ ہم بیرونی پریشانیوں سے بچ کر اپنے بیمار مریض کا اچھے سے خیال رکھ سکیں ۔

نشتر ملتان اسپتال میں اپنے پیارے کے ساتھ کچھ دن رہنے کا اتفاق ہوا اور ان دنوں میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔ نشتر ہسپتال ملتان جنوبی پنجاب کا واحد ہسپتال ہے جس میں پورے جنوبی پنجاب کے مریضوں کا بے تحاشا رش ہوتا ہے اور یہ ہسپتال ایک ماں کی طرح کسی بھی مریض کے علاج سے عاجز نہیں آتا اور ہر ایک کو اپنی گنجائش کے مطابق پناہ دیتا ہے اور ہر ممکن حد تک اس کے علاج معالجے کی کوشش کرتاہے ۔

ان دنوں میں بہت سی اموات دیکھ چکا تھا شروع کے دنوں میں تکلیف ہوتی تھی اور پھر آہستہ آہستہ اس تکلیف کو برداشت کرنے کی عادت ہوگئی۔۔۔۔ ان تکلیف دہ حالات میں صرف ایک بات سمجھ آئی ہے کہ لاکھ اختلاف سہی

لیکن تکلیف میں اپنے ہی کام آتے ہیں ۔۔۔۔ جب کبھی اسپتال سے باہر نکلتے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھیں تو ان کی قدموں کی چال اور آنکھوں کو دیکھنا

قدم لڑکھڑاتے ہوئے اور آنکھیں کئی دنوں کی جاگیں ، سوجھی اور لال ملیں گیں ۔

کہنے کو بہت رشتے ہوتے ہیں لیکن تکلیف میں صرف چند ایک بھائی ، بہن ، ماں ، باپ اور بیوی ، بچے اسپتال میں موجود ملیں گے ۔

باقی سب اپنی حاضری لگوا کر چلے جاتے ہیں ۔ لیکن پوری پوری رات مریض کے ساتھ اس کے سگے ہی جاگتے رہتے ہیں ۔

میں یعنی عمران اسحاق نے اسپتال میں رہ کر ان دنوں میں کچھ اہم باتیں نوٹ کیں ہیں وہ سب کو شیئر کرنا چاہوں گا ۔


1:- اگر آپ کے کسی پیارے کو ایمرجنسی میں اسپتال لے جایا جائے تو کوشش کریں کہ 1122 کی گاڑی سے جائیں کیونکہ ایمرجنسی تک کی ذمہ داری ان ہی کی ہوتی ہے ۔


2:- اپنے برتن ، صابن ، چادر ، تولیے ، چارجر ، پانی کی صاف بوتلیں اور ماسک ضرور ساتھ لے جائیں ۔


3:- مریض کے ساتھ 3 جوان لڑکے ساتھ ضرور ہونے چاہیئے ایک کا کام Medicine لانا ، دوسرے کا کام ٹیسٹ کروانا ، تیسرے کا کام مریض کے ساتھ وارڈ میں رہنا ہوگا ۔


4:- اگر مرد مریض ہے تو کوشش کریں کہ مریض کے ساتھ مرد ہی وارڈ میں رہے اور اگر عورت ہے تو کوشش کریں کہ 2 عورتیں ان کے ساتھ رات کو وارڈ میں رکیں ۔


5:- اگر مریض کے علاج میں تھوڑا لمبا عرصہ ہے تو اپنی ڈیوٹیاں لگا لیں کہ کون کتنی دیر جاگے گا کیونکہ اکثر ہی مریض کے ساتھ جاگ جاگ کر ساتھ آنے والے بیمار ہوجاتے ہیں


6:- اپنے ان پیاروں کی لسٹ بنالیں جو کہ آپ کی ایک کال پہ خون دینے آجائیں اور خون چاہے کوئی بھی ہو اسپتال سے Replacement ہوجاتا ہے ۔


7:- اگر آپ کو وہیل چیئر ، بیڈ یا کچھ بھی موقع پہ نا مل رہا ہو تو وارڈ میں موجود سوئیپر کو کچھ لے دے کر اچھا مشورہ لے لیں کیونکہ کچھ کام آئوٹ آف چائنل بھی کرنے کے ہوتے ہیں ۔


8:- سب سے آخری اور اہم بات کوشش کریں کہ اپنے مریض کو Room کی بجائے وارڈ میں شفٹ کروائیں وہاں پہ ہر رائوئنڈ میں مریض کی دیکھ بھال ڈاکٹرز اور نرسز کر رہی ہوتی ہیں ۔


9:- وارڈ میں موجود ہر انسان اپنے پیارے کی اذیت میں ہوتا ہے تو پلیز ہوسکے تو ایک دوجے کے ساتھ اچھا تعلق بنائیں کیونکہ بعض مریض ان پڑھ ہوتے ہیں اگر آپ اپنے مریض کے لیے باہر دوائی لینے جارہیں ہیں تو کوشش کریں کہ کسی ان پڑھ مریض کے ساتھ موجود لواحقین میں کسی کو ساتھ لے جائیں تاکہ وہ بھی اپنے مریض کی میڈیسن لے لے ۔

اپنے ساتھ کسی پڑھے لکھے کزن یا بچے کو لازمی ساتھ رکھیں تاکہ ڈاکٹرز اور نرسز کے ساتھ وہی بات چیت کرے

پڑھے لکھے سے بات کرنے کا طریقہ کچھ اور ہوتا ہے اور عام لوگوں سے کچھ اور ۔۔۔۔۔

ڈاکٹرز اور نرسز آپ سے برا رویہ کبھی نہیں رکھتے بشرط کہ ہم ان سے برا ٹریٹ نا کریں تو ۔


10:- اگر آپ کے پاس علاج معالجے سے پیسے نہیں ہیں تو MS کے پاس جاکر ان سے Request کرکے کم سے کم پیسے میں علاج کرواسکتے ہیں۔

 

دعا گو

محمد عمران اسحاق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے