تقریبِ رُونمائی۔۔ فرشتے کی ایف آئی آر۲

اپنے ہونے کی گواہی
تقریبِ رُونمائی

فرشتے کی ایف آئی آر۲


زندگی کے اکثر موڑاور مقامات ہم سے ہمارے ہونے کی گواہی مانگتے ہیں ، ایسے میں ہم اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لئے کبھی گیارہویں گواہی دیتے ہیں تو کبھی بارہویں گواہی کی ضرورت پڑتی ہے۔ہم اگر حق پر ہوں تو قدرت خود ہماری امداد کرتے ہوئے ہماری سچائی ثابت کرتی اور ہمیں سُرخرو ٹھہراتی ہے۔ یہی کیفیت، یہی صورت فرشتے کی ایف آئی آر کٹوانے والے حصہ دوم کو منظرِ عام پر لانے والے جناب ادریس احمد آفتاب کے ساتھ پیش آئی۔
سال دو ہزار تئیس میںجون کے شدید گرم موسم میں،دس تاریخ کو منعقد ہونے والی ایک دلا ٓویز تقریب میں پیش آئی جس کی تہذیب و ترتیب میں اُم الجامعات دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاول پور کے شعبہ تعلیم کا مرکزی کرداررہا۔
گرم دن کی دوپہر،نرم رُوپ دھارے طلبا، اساتذہ، دانشوران اور مقررین کا غلام محمد گھوٹوی ہال میں استقبال کرنے میں مصروف تھی۔ برقِ مصنوعی کی آنکھ مچولی کا سامنا کرنے کے لئے بیک اَپ پر موجود جنریٹرزاپنا کردار ادا کرنے کے لئے مستعد تھے۔ تقریب کی تہذیب کے لئے اگر چہ منصوبہ بندی مکمل تھی مگر قدرتی عوامل تاخیری حربے آزمانے پر آمادہ تھے جس کی بنا پر سوا ایک بجے شروع ہونے والایہ پروگرام دوپہر دو بجے کے بعد شروع ہو پایا جس کی ابتداء اللہ رب العزت کے بابرکت کلام سے ہوئی ، تلاوت کلام پاک کی سعادت شعبہ تعلیم کے سکالرحافظ محمد فاروق نے سمیٹی ۔پھرایک اور خوش الحان سکالر محمد مہران نے رسولِ رحمتﷺ کی مدحت کا حق ادا کیا۔ سچائی کی سرسوتی کو اپنا آپ ثابت کرنے کے لئے جب صدا بلند کرنی ہو تو ابتدا اللہ اور اُس کے رسولﷺکے مہربان نام ، کلام اور ذکر سے ہونی چاہئیے کہ پھر راستے کُھلتے اور دریچے کُشادہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔
تقریبِ رونمائی فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم کے لئے بھی یہی کیفیت و صورت تھی ۔ پہلا قدم اُٹھا تو سماعتوں نے والہانہ انداز میں شیخ الجامعہ پروفیسر انجینئیر اطہر محبوب ، تخلیق کار فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب اور چئیر مین شعبہء تعلیم اسلامیہ یو نیورسٹی بہاول پور پروفیسرڈاکٹر ارشاد حسین کااستقبال کیا۔بصارتوں نے بَلائیں لیں۔ پھر قومی ترانے کے احترام میں پنڈال کے وسیع ہال میں موجود حضرات و خواتین ، اساتذہ و طلبا، سامعین و مقررین کھڑے ہوگئے۔ ملی جوش و جذبے کو فراواں کرنے والی یہ رِیت روش ہماری حُب الوطنی کا دلنشیں عکس بن کر روبرو آتی ہے۔
نقیب محفل ڈاکٹرمحمد آصف ندیم،پروفیسر شعبہ ایجوکیشن ،اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاول پور نے نرم لہجے، مترنم الفاظ اور خوبصورت انداز میںتقریب میں شریک نشستوں پر موجود معزز مرکزانِ نظر کا تعارف کرایا، استقبال کے لئے تالیاں بجوائیں۔ ترانے، تلاوت اور نعت کے بعد ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد ارشادحسین سپاس نامہ پیش کرنے کے لئے تشریف لائے۔ انہوں نے فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم کا اجمالی تعارف کراتے ہوئے تقریب کو کامیاب بنانے کے لئے آنے والے معزز و محترم مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹرارشاد صاحب نے کہا کہ نہ تو میں ادیب ہوں نہ ہی نقاد لیکن اپنے مطالعہ کے لئے جس قدر پڑھا ہے اس کے آئینے سے یہ نمایاں ہوتا کہ فرشتے کی ایف آئی آر ہمارے ارد گرد کی ہمارے معاشرے اور ماحول کی کہانی ہے، بلکہ کہانیاں ہیں کہ صفحہ در صفحہ ،پرت در پرت واقعات کُھلتے چلے جاتے ہیں، ہم اپنے معاشرے کے مختلف واقعات و حوادث سے آشنا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ دراصل ہمارے ساتھ پیش آنے والے واقعات ہیں۔ ایک باب کی کہانی پڑھی تو لگا کہ یہ تو میری آپ بیتی ہے، اس صورتحال سے تو میرا ہر روز سامنا ہوتا ہے،اس کرب سے تو میں ہر روز گزرتا ہوں، کبھی موبائل فون کے وسیلے سے ، کبھی اخبار کی خبر کے ذریعے اور کبھی رسائل کی وساطت سے، یاد رکھئے کہ اچھا لکھاری معاشرے کا ایسا فرد ہوتا ہے جس کو رب کی طرف سے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا گیا ہوتا ہے اور وہ ان صلاحیتوں کے بل بوتے پر معاشرے کے مختلف لوگوں پر گزرتی کیفیات سے خود بھی گزرتا ہے اور پھر انہیں تاثیر بھرے انداز میں بیان کرتا ہے۔ ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب ایسی ہی گوناگوں خوبیوں سے نوازے گئے انسان ہیں اور آج اس خوبصورت تقریب میں مسندِ اعزاز پر فائز ہیں، رب تعالیٰ کی کرم فرمائی ہے کہ انہیں اتنی مشکلات سے گزرنے کے باوجود بے پناہ عزت اور شہرت ملی ہے اوروہ یقینا اس کے حقدار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرشتے کی ایف آئی آر اردو ادب کا ایک شاہکا رہے۔ آپ اس کا جس قدر مطالعہ فرمائیں گے آپ پر حیات کے نئے راز ہویدا ہوتے چلے جائیں گے۔ کتاب کی شہرت، عظمت مصنف کی شہرت اور عظمت ہے، اور آج کی یہ تقریب اس کا واضح ثبوت ہے۔ ہال میں اس قدر سامعین کی موجودگی بھی اس امر کا مظہر ہے کہ فرشتے کی ایف آئی آر کا ذ کر چار دانگ پھیل چکا ہے۔
ڈین فیکلٹی آف ایجو کیشن نے کہا کہ بیان کی دلکشی، الفاظ کے انتخاب اور ان کی موزونیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اور پھر ان کی ترتیب پر منحصر ہوتی ہے، فرشتے کی ایف آئی آر کے خالق جناب ادریس احمد آفتاب کے پاس مطالعہ، مشاہدہ، زندگی کا تجربہ اور پھر عمدہ اسلوب موجود ہے جس کے بل بوتے پر انہوں نے ہمارے معاشرے کی دُکھتی رگوں پر ہاتھ رکھا ہے، ہماری دعا اور خواہش ہے کہ وہ نہ صرف اپنے تجربات کو بلکہ دوسروں کے معاملات کو بھی بیان کر کے نئی نئی کتابیں لکھتے رہیں اور ہم پڑھتے رہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر ارشاد حسین نے مزید کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی کا یہ اعزاز ہے کہ وہ نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں پر بھی بھرپور توجہ دیتی ہے۔ آج کی یہ تقریبِ رونمائی اس دعوے کا بیّن ثبوت ہے۔ اگرچہ معاشرے میں کتب بینی کا شوق قدرے زوال شکار ہے مگر ہمیں اپنی اپنی سطح پر اس شوق کو افزو کرنے اور مطالعہ کی شمع روشن رکھنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ دیکھئے ُ بک ریڈنگ کی بجائے سکرین ریڈنگ کا دورانیہ بڑھ چُکا ہے ، سوشل میڈیا پر مصدقہ اور مستند مواد کی بھی کمی ہے، اور ہم ہیں کہ بنا تحقیق کئے سوشل میڈیا کا متن آگے فارورڈ کر دیتے ہیں، کتابیں ہمیں اس روش اور روٹین سے روکتی ہیں کہ استناد ہی سب کچھ ہے۔ کتاب تنہائی کی ساتھی اور دوست ہے اور دوست ہمیشہ بھلی بات ہی کرتے اور بتاتے ہیں، ہماری جذباتی ضرورتوں کے عین مطابق ہمارا ساتھ نبھاتے ہیں۔ فرشتے کی ایف آئی آر چاہے جلد اول ہو یا جلد دوم ، ایک ہی فریضہ نبھاتی ہے۔اور وہ ہے دوستی کا حق۔ سلامت رہئے ادریس احمد آفتاب صاحب آپ لکھتے رہیں اور ہم پڑھتے رہیں۔
تقریب دلپذیر ہو تو سامعین و حاضرین سانسیں سمیٹ کر مقررین کو سماعت کرتے ہیں، فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم کی تقریب ِ رونمائی یہی انداز و اطوار لئے ہوئے تھی اور سبھی سامعین محو تھے۔ ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب صاحب کے دوست جناب غفران امجد نذیر پاکستان پوسٹ سے تعلق رکھتے ہیں
فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم کے حالات و واقعات کے شاہد بھی ہیں، تقریبِ رُونمائی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا
’’میرا ادب و شعر سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر میں نے ماسٹرز اسی ادارے سے ادب میں ہی کیا اور محکمہ مجھے بے ادب ملا۔ ادریس احمد آفتاب کی کتابوں کے حوالے سے کچھ بولوں تو یہ کہنا بجا ہو گا کہ
طرزِ بیدل میں ریختہ لکھنا
اسداللہ خان قیامت ہے
ڈاکٹر صاحب نے مجھے و ہ اعزاز بخشا ہے کہ میں جب بھی چاہوںاُن کے درِ دولت پہ حاضری دے سکتا ہوں، اُن سے ملنے ، اُن کی علمی باتیں سننے کا شرف حاصل کر سکتا ہوں ، اور یقین جانئے علم و ادب کی اتنی بڑی شخصیت کی طرف سے یہ سہولت ایک نعمت ہے۔ اس لئے کہ شعور و دانش کے دریچے کُشاد ہوتے ہیں۔ فکر کے نئے جہان آباد ہوتے ہیں۔ آپ اُن سے ملئے وہ آپ سے پھولوں کی، رنگوں کی، زندگی کے انمول جذبوں کی ، خوابوں اور حقیقتوں کی اور سب سے بڑھ کر کتابوں اور گلابوں کی باتیں کریں گے، یہ حقیقت ہے کہ آپ اُن کی صحبت میں یکسانیت کی بوریت کا شکا ر ہرگز نہیں ہو سکتے۔ تو یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ان سے زندگی آموز باتیں سیکھنے کا موقع میسر آتا ہے۔ مجھے آپ سے گزارش یہ کرنی ہے کہ آپ ان کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کے خواہشمند ہیں تو پھر ان کی ساری کتابیں پڑھیں جن میں آپ بیتی بھی ہے اور جگ بیتی بھی، اندرون بہاول پور کی تاریخ بھی ہے اور روایات بھی اور ساتھ ساتھ ان کے عزم، ارادے اور ہمت کی کہانیاں بھی۔ ڈاکٹر صاحب بہت پیاری شخصیت ہیں ، ان کی کہانی سے جو باپ اُبھرتا ہے وہ باکمال ہے، انسیت اور محبت کا ٹھاٹھیں مارتا دریا، مگر اصولوں کی پاسداری میں سخت ۔ جس نے تربیت بھی کرنی ہے اور محبت بھی بانٹنی ہے۔ انہوں نے زندگی کو جس پامردی سے جھیلا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ یہ ہمہ جہت شخصیت ہیں ، ہمہ پہلو ہستی ہیں۔ اور مجھے ان سے ، ان کے قلم سے پیار ہے۔ ‘‘
’’ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب بہت بڑے عاشقِ رسول ﷺ ہیں۔ یہ اللہ کے ولی ہیں۔ان سے ملاقات کا موقع ملے تو بس ایک سوال کیجئے گا کہ روضہء رسولﷺ پہ چار لفظوں کی کون سی دعا مانگی تھی جو سب کچھ دے دیتی ہے۔ انہوں نے مجھے اس پگڈنڈی پر لا کھڑا کیا جو صراطِ مستقیم کی طرف جاتی ہے اس کے لئے میں ان کا مشکور ہوں۔ ‘‘
’’مجھے وائس چانسلراسلامیہ یونیورسٹی آف بہاول پور جناب اطہر محبوب سے گزارش کرنی ہے کہ یونیورسٹی میں ایک ادریس آفتاب سکول آف تھاٹ بنائیں جہاں بچے اِن کی فکر سے مستفید ہو سکیں۔ میری دعا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا یہ چراغ تا دیر جلتا رہے اور روشنیاں بکھیرتا رہے۔ ‘‘
پھر صادق پبلک سکول کی محترمہ نورین صاحبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا
’’ادب زندگی سے رنگ چُرا کر ماحول کو گُل و گُلزار بنا دینے کا نام ہے۔ ادب تپتے صحرا میں ننگے پائوں چل کر حقائق کھوجنے کا نام ہے۔ ادب آسمانوں کو چُھوکر کُھلی فضائوں میں سانس لینے کا نام ہے۔ پہاڑوں کو پاٹتے ، سمندروں کو عبور کرتے ہوئے، میدانوں کو سر کرتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے رہنے کا نام ہے، مسرت،محبت، اذیت، صعوبت، لطافت، کثافت، اجنبیت، مسافت، سیاست، عدالت، اساسیت، منافقت، بد نیت، اور خلوص و جاذبیت کو عکس کرنے کا ، من و عن بیان کرنے کا نام ادب ہے۔ ‘‘
’’ادب اور قاری کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ادیب اپنی تحریر کے ذریعے قاری کے دل پر حکومت کرتا ہے۔ اپنے ہر خیال میں اُسے ہم خیال بنا لیتا ہے۔ ہر سوچ میں ہم اس کے رفیق ٹھہرتے ہیں، اور ہر سفر میں ہمسفر ہوتے ہیں۔ فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم پڑھتے ہوئے بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوا ۔ کتاب کا عنوان ہی قاری کو اپنی سمت کھینچ لیتا ہے۔ وہ اس فرشتے کی کھوج میں سرگرداں نظر آتا ہے جس کی ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب نے سر ورق پر کچھ سوالات بھی اُجاگر کئے ہیں۔ جو قاری کو مزید سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ کہ آخر وہ کس قوم کا ذکر کر رہے ہیں۔ گاندھی کا اس میں کیا ذکر؟ مگر اس کتاب کا پہلا باب ہی آشکار کرتا ہے کہ سر ورق پر موجود سوال ہی اس کتاب کا حاصل ہیں۔ مجھے جلد اول پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا مگر جلد دوم سے بھی بہت سی حقیقتیں واضح ہوتی ہیں ۔ جس طرح مصنف نے ایک ایک گواہی کوشفافیت اور ثبوت کے ساتھ پیش کیا ہے، پڑھنے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ واقعات نگاری پر اس قدر عبور حاصل ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ڈاکٹر صاحب اور ان کے ساتھ سفر میں شریک ہیں۔ اور ساری جگہوں پر جاتے رہے ہیں۔ ‘‘
’’ یادِ ماضی عذاب ہوتی ہے اور انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا حافظہ چِھن جائے، اور وہ اپنے حال میں سر مست رہے۔ مگر یہاں معاملہ اُلٹ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے خود پر گزرنے والی اذیتوں کو نہ صرف بیان کیا بلکہ ہمیں سکھایا بھی کہ مشکل حالات میں زندگی کیسے گزاری جاتی ہے۔ ان کا انداز واضح اور تحریر سچ پر مبنی ہے۔ مگر کبھی کبھی ان کا لہجہ تلخ اور بے باک ہو جاتا ہے۔ درد سہتے آہیں بھرتے ادریس اچانک ماں کی گود میں سر رکھ کر سکون کی سانسیں لینے لگتے ہیں۔اور یہی اس آپ بیتی کی اس کہانی کی اس داستان کی خوبصورتی ہے۔ انہوں نے اپنی اذیتوں کو جس انداز میں بیان کیا ہے وہ یقینا ایک نڈر انسان کا کارنامہ ہے۔ ان کی تحریریں سچ اور حقیقت پر مبنی ہیں۔ ان کے کردار تمثیلی کی بجائے چلتے پھرتے، جیتے جاگتے، ہمارے ہی ماحول سے ابھرے ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے اسلوب کی ایک اور خوبی جزئیات نگاری ہے، وہ ہر ایک واقعے کا تفصیلی منظر نامہ یوں پیش کرتے ہیں کہ کہیں بھی ذرا سا کمی کا احساس باقی نہیں رہتا۔ وہ معمولی سی چیز کو بھی نہایت باریک بینی سے پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اور یوں کہ قاری ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا کمال یہ بھی ہے کہ وہ نہ صرف انسانی جذبات و احساسات کوبیان کرتے ہیں، بلکہ پودوں، درختوں، پھولوں سے بھی باتیں کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔‘‘
’’ ڈاکٹر صاحب کا اسلوب سادہ اور سلیس ہے۔ بات مشکل ترین ہو گی سمجھائیں گے ، بتلائیں گے بڑی سہولت سے۔ تحریر کا یہی پہلو اسے جاندار اور شاندار بناتا ہے۔ اشعار کا بر محل استعمال بھی تحریر کو لطیف اور دلکش بناتا ہے۔ جہاں ضرورت ہو وہ ان کے استعمال کے ہنر سے بھی استفادہ کرتے ہیں۔ ‘‘
جنات کی حقیقت، سیاست و حکومت سے آگاہی، معاشرتی تضادات، یہ اور حیات کے دوسرے پہلوئوں کو نہایت عمدگی سے بیان کرنا ایک عام لکھاری اور مصنف کا کام نہیں۔ سب سے بڑھ کر روضہء رسولﷺ پر حاضری کے دوران جن کیفیات سے گذرے وہ دل نرم کرنے اورآنکھیں بھگو دینے والے ہیں۔ تحریر میں آیات اور احدیث کے حوالے تحریر کو مستند بناتے ہیں، ڈاکٹر صاحب نے ان کا خوبصورت استعمال کیا ہے۔ یہ ایک کتاب نہیں ، اذیت سے ادراک تک کا سلسلہ اور سفر ہے، مطالعہ کا یہ سفر آپ کے ذہن کے کئی دریچے کھولے گا۔‘‘
سیددیوان آصف شہزاد گورنمنٹ ایس ای کالج بہاول پور میںاسسٹنٹ پروفیسر ہیں، شعبہ انگریزی سے تعلق ہے، وہ فرشتے کی ایف آئی آر میں بطور گواہ موجود تھے۔ فرمانے لگے۔
’’جب میں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تو ابتدائی پانچ برس بہاول نگر میں گزارے۔ چند ماہ پہلے فرشتے کی ایف آئی آر پڑھی اور اس میں مقامات اپنے ملے تو اشتیاق ہوا کہ دس گواہوں کی موجودگی میں ، میں گیارہواں گواہ بنوں، کتاب پڑھتے ہوئے مجھے یوں لگا ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب میرے دروازے کے باہر کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں آئو تمہیں ان جگہوں پر لے چلوں جہاں میں نے قید و بند کی صعوبتیں جھیلی ہیں۔ اور میں بغیر سوچے، بغیر سمجھے ان کی گاڑی میں بیٹھ گیا ہوں اور ہم منچن آباد، بہاول نگر، ہارون آباد، ڈونگہ بونگہ، مدرسہ، تخت محل، اور وہ عقوبت خانے جہاں جہاں انہیں صعوبتیں ملی تھیں، وہاں پہنچے۔ اور مجھے یوں لگا کہ دس گواہوں کی موجودگی میں میں گیارہواں گواہ بن گیا ہوں۔ میں وہ ساری چیزیں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں۔ سنئے ڈاکٹر صاحب فرشتے کی ایف آئی درج نہیں ہو گی۔ کہ فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا۔ اور یہاں تو انسانوں کی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔ چاہے وہ کسی لیول کے انسان ہوں۔ چاہے وہ عام پاکستانی ہوں یا خاص۔خیر یہ الگ بحث ہے۔‘‘
مصنف نے لکھا ہے کہ حسن کو حسن کا احساس زائل کر دیتا ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ طاقت کو بھی طاقت کا احساس زائل کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بطور مصنف خود ایک کتاب بھی ہیں اور کہانی گو بھی۔ جو دوسرا کردار ہے وہ ایک سکول آف تھاٹ ہے اور میرا مانناہے کہ ڈاکٹر صاحب کی فکر کو پھیلانا چاہیئے۔ ان کی تحریر میں روانی، شستگی اور بے ساختگی ہے، آپ انہیں پڑھنا شروع کریں بے اختیار پڑھتے چلے جائیں گے، اور یہی تحریر کا کمال ہے کہ وہ اپنے آپ میں جکڑ لے۔ اس کتاب کا ہر باب انفرادیت لئے ہوئے ہے مگر جو تاثیر ’’غلام آقاﷺ کے دربار میں پنہاں ہے وہ بے نظیر ہے، آنسوئوں سے تر بتر آنکھیں منظر کو مدھم کر دیتی ہیں لیکن یہاں معاملہ اُلٹ ہے، اس عالی دربار میں سارے منظر روشن ہو جاتے ہیں اور دعائیں مستجاب ہونے لگتی ہیں۔ اور یہی اس باب کی خوبصورتی ہے۔ پانی کی طرح بہتا ہوا قلم، خوبصورت فطری انداز، اور فکری پہلوئوں نے فرشتے کی ایف آئی آر کو اردو ادب میں خاص مقام عطا کیا ہے۔ ‘‘
ڈاکٹر قمر شعبہ فارمیسی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاول پور نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا۔
’’آج فرشتے کی ایف آئی آر اور صاحبِ کتاب ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب کی باتیں ہو رہی ہیں، آپ احباب بھی یہاں موجود ہیں، میں بھی یہاں چند گزارشات کے ساتھ حاضر ہوا ہوں ۔ اگر چہ میرا شعبہ سائنس ہے مگر میری محبت ادب سے بھی بے پناہ ہے۔فرشتے کی ایف آئی آر جلد اول پڑھ کر ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو ان کی پہلو دار شخصیت سے تعارف ہوا۔ کئی بھید کُھلے، کئی راز کشاد ہوئے اور میں ان کی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہوتا چلا گیا۔ ایک سیاح، علم دوست، علم پرور انسان آپ کو ہمیشہ اپنا بنا لیتا ہے اگر آپ بھی کچھ سیکھنے اور حاصل کرنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ مجھے ہر طرح کے موضوع پر کتابیں پڑھنا، کتابیں جمع کرنا، سچ کو سچ اور، جھوٹ کو جھوٹ کہنا بھلا لگتا ہے ، ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب میں یہ ساری خوبیاں ، یہ سب اوصاف بدرجہء کمال موجود ہیں ، تو میں ان کی شخصیت کے حصار میں گرفتار ہو گیا، اور ایسا کہ دل کہتا ہے وہ ڈھیر ساری کتابیں لکھیں ، میں وہ اکھٹی کروں اور پھر پڑھتا چلا جائوں۔ اللہ تعالیٰ ہماری عادات کو دوام بخشے۔
فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم، جلد اول کا تسلسل ہے، یہ کتاب صرف ذات کی کہانی نہیں، جو واقعات کی صورت درج ہوں، بلکہ یہ شعوری اور لا شعوری زندگی کے تجربات، مشاہدات، حاصلات، مجبوریوں اور محرومیوں کا مجموعہ ہے، حوالہ ہے، یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر وہ شخص جس کا سامنا اس طرح کے واقعات سے ہوا ہو، خود کو دیکھ سکتا ہے۔ یہ داستان ایک ظالم ڈاکٹر قدیراور دوسرے مظلوم بچے ادریس کے گرد گھومتی ہے۔ یہ دونوں کردار حقیقی اور حیات ہیں۔ میرے خیال میں یہ ہماری زندگی کے کردار ہیں جو ہر شبہء حیات میں موجود ہیں۔ بظاہر یہ چھوٹے بھائی اور بڑے بھائی کی کہانی ہے مگر یہ دونوں استعارہ ہیں، ظالم اور مظلوم کا ، حاکم اور محکوم کا ، شیطان اور انسان کا، جابر اور صابر کا، فرعون اور موسی کا جھوٹے اور سچے کا، تقدیر اور تدبیر کا، یعنی ناکام اور کامیاب کا، یا یوں کہہ لیجئے کہ یہ ڈاکٹر قدیر کے چنگل سے نکل کر ادریس کے ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب بننے کی روداد ہے۔
نہ یزید کی وہ جفا رہی، نہ زیاد کا وہ ستم رہا
جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا
ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب جہاں گرد بھی ہیں اور جہاں دیدہ بھی، وہ آزاد پرندے کی طرح دنیا کو دیکھنے اور پرکھنے کا تجسس رکھتے ہیں۔ اور پھر اپنے تجربات و مشاہدات کو دوسروں تک پہنچانے کی تمنا رکھتے ہیں۔ کبھی وہ ایمیزون کے جنگلوں کے بارے میں لکھتے ہوئے درختوں سے منسلک تغیراور آفات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں۔ اور کبھی جنات کی اصلیت اور حقیقت پر مشتمل معلومات بیان کرتے ہیں۔ وہ دنیا کو ایک وسیع پس منظر میں دیکھتے ہیں، عشقِ الہٰی ، عشقِ رسولﷺ، عشقِ اہلِ بیت، عشقِ اسلام و اہلِ اسلام، انسان، دنیا، دردِ پاکستان، غمِ دوراں، کبھی کبھی غمِ جاناں بھی، اُن کی رگوں میں رچا ہوا ہے۔ حکمت و طب تو گویا ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ یہی تو وجہ ہے کہ فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم مختلف ابواب، موضوعات، کا خزینہ اور سبھی کے لئے دلچسپی کا ذریعہ ہے۔
ڈاکٹر ادریس ایک منجھے ہوئے ناول نگار کی طرح کردار اور واقعات کو خوبصورتی کے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اور ایک کردار ڈاکٹر قدیر کو ہمزاد کی صورت اپنے ساتھ رکھ کر، اس کے سامنے اپنی کامیابی اور اس کی ناکامی کا ڈنکا بجاتے ہیں۔ یعنی یہ سچ کی جیت ہے اور جھوٹ کی ہار، اشعار کا چُنائو انتہائی دلفریب اور متاثر کُن ہے، ہر شعر کسی واقعے سے منسلک رہ کر فکر کے دریچے کھولتا چلا جاتا ہے۔ یہ فن بھی کسی کسی کو آتا ہے، اور ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب کو اس فن پر کامل دسترس ہے۔
یہ شہرِ طلسمات ہے کچھ کہہ نہیں سکتا
پہلو میں کھڑا شخص فرشتہ ہے کہ ابلیس
شعبہ ایجوکیشن اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاول پور سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹرنوشین ملک نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا
’’دو سال پہلے ایک تقریب میں ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب کو دیکھا تو دس برس پہلے کا ایک واقعہ یاد آگیا جب میں نے اپنے والد صاحب کو فرشتے کی ایف آئی آر جلد اول پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ اپنے پسندیدہ چشمے کے ساتھ بڑے انہماک سے مطالعہ کرتے دیکھ کر میں نے سوال کیا تو بتلایا گیا کہ ان کے ایک بہت اچھے دوست رائو سلیم سول جج کی جانب سے انہیں یہ تحفہ دیا گیا ہے۔ میں نے ابو سے اصرار کیا کہ مجھے بھی کتاب پڑھنے کو دیں۔ وہ کتاب پڑھ کر اندازہ نہیں تھا کہ بارہ برس بعد میری اسی شخص سے ملاقات ہو گی جن کی آپ بیتی میں نے پڑھی تھی۔ تو آج جب میں یہاں آنے لگی تو والد صاحب کو بتا کر آئی کہ میں فرشتے کی ایف آئی آر کے خالق سے ملنے اور کتاب پر تبصرہ کرنے جا رہی ہوں، یقین جانئے کہ آج خوشی بے پناہ ہے کہ اس محفل میں اس ہستی کو دیکھ اور مل رہی ہوں جو میرے والدِ محترم کے بھی پسندیدہ ہیں۔ اور میں شُکر گزار ہوں اپنے ان تمام کولیگز کی جن کی وجہ سے میں آج اس تقریبِ رونمائی میں شامل ہو سکی ہوں۔
مجھے یہ بتلانا ہے کہ ادریس صاحب نے اس کتاب کے وسیلے سے مجھے سمجھایا کہ عورت ہر روپ میں قابلِ احترام ہے۔ قابلِ محبت ہے۔ شوہر کی محبت اور توجہ عورت کے چہرے کو نکھارتی ہے، دل کو سنوارتی ہے۔ عورت اس قدر معصوم ہے کہ شوہر کے دئیے گئے ایک پھول سے بھی خوش ہو جاتی ہے۔ میں نے یہ باتیں اسی کتاب سے سیکھی ہیں اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ یہ حقیقت ہے۔ ہر عورت یہ چاہتی ہے۔
اُس کے لہجے کی نرمی میں کھونے لگا
اُس نے پاگل کہا اور میں ہونے لگا
معذرت کے ساتھ ہم خواتین میں حسد اور مقابلے کا پہلو بہت حاوی رہتا ہے، شاید یہ خُدائی تحفہ اور بخشش ہے، ایک لحاظ سے یہ اچھا بھی ہے کہ
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لئے!
میں اس تصنیف کے وسیلے سے اپنے بچوں اور بچیوں کو یہ سمجھائوں گی کہ کسی سے مخالفت ضرور کیجئے مگر منافقت نہیں، کہ یہ بزدلوں کی صفت ہے۔ البتہ اختلافِ رائے آپ کا حق ہے۔ یہ نہ ہو کہ آپ کے ساتھی کو اندازہ نہ ہو سکے کہ آپ اس کے ساتھ کیسے ہیں۔
یہ شہرِ طلسمات ہے کچھ کہہ نہیں سکتے
پہلو میں کھڑا شخص فرشتہ ہے کہ ابلیس
یہ اسی کتاب کی کہانی ہے ، اسی میں موجود حوالہ ہے۔یہ سچائی بھی یہاں تحریر ہے کہ ظلم ، ناانصافی کا بدلہ ہمیں ضرور مل کر رہتا ہے۔ سو ایسا رویہ اختیار کیجئے جس پر کل کو پچھتانا نہ پڑے۔
اک عمر گزار آئے تو محسوس ہوا ہے
اس طرح تو جینے کا ارادہ نہیں تھا
میں نے اس تصنیف سے یہ بھی سیکھا ہے کہ مجھے اگر اپنے حسن کو بڑھانا ہے تو اپنے تخلیقی اور ذہنی شعور کو بڑھانا ہو گا۔
سیرتوں کا حسن کیا جانیں
صورتوں کے بھکاری لوگ
ادریس صاحب نے اس تصنیف کو زندگی آموز بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس میں زندگی کے تمام موضوعات کو شامل کیا ہے۔ مگر سب سے اہم ترین رسولِ امیں ﷺ سے محبت وعقیدت کا پہلو ہے۔ اسی پر ہم سب کا مدار ہے، یہی ہمارا محور ہے۔
یہ تصنیف ہماری فکری، شعوری اور ذہنی تربیت کا دلنشیں ذریعہ ہے، میں نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے ، آپ بھی بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
صادق پبلک سکول بہاول پور سے پروفیسر نعمان فاروقی تشریف لائے ہوئے تھے، انہوں نے فرشتے کی ایف آئی آر کے حوالے سے پیاری گفتگو کی۔ انہوں نے کہا نہ میں ادیب ہوں نہ نقاد، اس تقریب میں گفتگو کا مقصد اُس تعلق اور مشفقانہ محبت کا اظہار ہے جو ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب صاحب سے جُڑا ہوا ہے۔ اور جو مجھے ڈاکٹر صاحب سے حاصل ہے۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے مکان سے متصل مکان میںڈاکٹر صاحب اور ان کی فیملی کو دیکھا۔ ان کے دو بڑے بچے مجھ سے چند سال چھوٹے تھے۔ بچپن ان کے ساتھ کھیلتے گذرا۔ کبھی وہ ہمارے گھر اور کبھی میں اُن کے گھر۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ مجھ سے بہت مشفقانہ برتائو کرتے۔ ان کے گھر کی ایک اور اہم شخصیت حامد حسین المعروف پیر جی تھے۔ جن کو ان کے گھر کے تمام افراد ابو جی کہہ کر پکارتے تھے۔ پیر جی سے ان کا نسبی تعلق تو نہیں تھا، مگر وہ ان سب کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے اور ان سے بہت پیار کرتے تھے۔ ان کا تفصیلی ذکر فرشتے کی ایف آئی آر جلد اول میں موجود ہے۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کا مشہورِ زمانہ سکوٹر لازم و ملزوم تھے۔ ڈاکٹر صاحب انیس سو اکیاسی میں محلہ چھوڑ کر ٹرسٹ کالونی چلے گئے، مگر جب بھی ملتے محبت اور شفقت سے ملتے۔
ڈاکٹر صاحب کے والد اقبال صاحب پولیس آفیسر تھے اور ان معدودے چند افراد میں سے تھے جو پولیس میں ہونے کے باوجود ایماندار ہوتے ہیں۔ میرے ماموں محمد فضل اللہ فاروقی علیگ جنہوں نے بہاولپور میں ایک بہت بڑا کتب خانہ فیض کے نام سے کھولا تھا، سابق جج تھے اور ایمانداری کی بناء پر انیس سو چونسٹھ میں ملازمت سے استعفیٰ دے کر خود کو اپنے کتب خانے تک محدود کر لیا، اُن کے اکثر فیصلے پولیس کے خلاف ہوا کرتے تھے، اور پولیس افسران سے متعلق ان کے خیالات زیادہ اچھے نہیں تھے، اقبال احمد خان کے حوالے سے اُن کا نقطہء نظر بالکل مختلف تھا، وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو ایسے ایماندارپولیس افسران کی اشد ضرورت ہے۔مجھے یاد ہے اقبال احمد خان جب اپنے بیٹے ادریس احمد کے گھر آتے تو میرے ماموں سے ملاقات ضرور کرتے۔ ادریس صاحب کی کتب پڑھ کر اندازہ و احساس ہوتا ہے کہ ان کی آئیڈیل شخصیت ان کے والد صاحب ہیں۔ ان کی کتابوں میں معاشرے میں موجود بدعنوانی اور منفی رویوں پر سیر حاصل بحث شامل ہے۔ جو ظاہر ہے ان کے والد کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ ‘‘
’’ انسان کو زندگی میں کئی طرح کی شخصیات سے واسطہ اور مختلف النوع واقعات سے گزرناپڑتا ہے۔ اسی لئے ہر شخص کی زندگی تلخ و شیریں یادوں کا مرقع ہوتی ہے۔ مگر یہ خداداد صلاحیت، چنیدہ لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو ان واقعات کوسمیٹ کر صفحہء قرطاس پر منتقل کر سکیں، ضبطِ تحریر میں لانے کا فن جان سکیں۔ اور پھر تحریر میں اس قدر جاذبیت اور دلکشی بھی ہو کہ جسے قاری اول تا آخر، دلچسپی سے پڑھے۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کسی کے لئے بھی محتاجِ تعارف نہیں۔ ان کی زندگی عجیب و غریب اور پراسرار واقعات سے مزین ہے۔ ڈاکٹر صاحب ان تلخ و شیریں واقعات کو جزئیات کے ساتھ بیان کرتے ہوئے پہلی بار فرشتے کی ایف آئی آر جلد اول کی صورت میں منظرِ عام پر لائے۔ ممکن ہے پہلے پہل اس کتاب کو کھول کر کسی نے سرسری دیکھا ہو گا ، مگر پھر ساحرانہ انداز نے سحر میں جکڑ لیا ہو گا، اور ایک اچھے کتب بین کی طرح اس کا دل چاہا ہو گا کہ وہ اسے ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالے۔ واقعات تو دلچسپ ہیں ، مگر ڈاکٹر ساحب کے اندازِ تحریر نے اس کی حیثیت و وقعت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ لوگوں کے لئے یہ بھی حیران کُن ہے کہ تعمیرات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے انسان میں ادب کو ذوق کیسے آگیا۔ ادبی ذوق کسی کی میراث نہیں ہے۔ وہ ڈاکٹر میں بھی ہو سکتا ہے، انجنئیر میں بھی اور وکیل میں بھی۔ یہ تو دلچسپی کی بات ہے ، عشق کی بات ہے۔ شوق کی بات ہے۔ بقول فیض
میدانِ وفا دربار نہیںیاں نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں ، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ کئی نامور انجنئیر ادب سے وابستہ رہے، سب سے اہم نام نامور محقق، نقاد، ڈاکٹر انور سدید کا ہے، دارالسرور بہاول پور سے تعلق رکھنے والے نظام حسینی، جو ڈپٹی چیف انجنئیر مغربی پاکستان تھے، جن کے دو یادگار پراجیکٹس وارسک ڈیم اور تونسہ بیراج ہیں، بے مثل ادبی ہستی تھے، اور یہاں موجود وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر انجنئیر اطہر محبوب صاحب کا ادب سے گہرا اور گوڑھا تعلق ہے، انجنئرز بذاتِ خود خوش مزاج کم کم ہوتے ہیں، مگر ان کی تحریر میں شگفتگی بے حساب ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب بھی اسی صف کے لکھاری ہیں۔ فرشتے کی ایف آئی آر، مشرق کا موتی حوروں کا مسکن، قومِ قوسِ قزح، اور آج فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم، جس کی اس وقت تقریبِ پذیرائی منعقد ہے، ان کی پہلی کتاب سے پہلے کا کوئی ادبی تعلق نظر نہیں آتا، مگر جب لکھنا شروع کیا ہے تو ادب کی دنیا میں اپنا منفرد مقام اور نام بنا لیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا اسلوب منفرد اور مختلف ہے۔ اور قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی ڈائریوں اور یادداشتوں میں ابھی ڈھیر سارا موادموجود ہے، جو انشاء اللہ جلد ہمارے سامنے ہو گا۔
شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاول پور کے پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد خان بھی فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم کی تقریبِ رونمائی میں موجود تھے، کتاب، صاحب ِ کتاب اور تقریب کے حوالے سے انہوں نے کہا،
’’ ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات ہے جو رئیس الجامعہ انجنئیر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کی موجودگی میں گھوٹوی ہال کی اس چھت تلے ممکن ہوئی ہے، لیکن کچھ عرصہ قبل میرے آبائی علاقے سے تعلق رکھنے والے ملک نعمان چنڑ کے ذریعے سے ڈاکٹر صاحب کی تحریروں اور شخصیت کے حوالے سے شناسائی ہوئی۔ میں شکر گزار ہوں ڈاکٹر آصف صاحب کا کہ انہوں نے مجھے آج کی اس شاندار تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ اس تصنیف کے حوالے سے کہوں گا،
اس جہاں میں جو کوئی سچ بولتا پایا گیا
آگ میں ڈالا گیا، سولی پہ لٹکایا گیا
ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب کی کتب عموماََ اور فرشتے کی ایف آئی آر خصوصاََ پڑھتے ہوئے یہ احساس نمایا ں ہو جاتا ہے کہ عہدِ موجود کے ناخدائوں کے اختیارات ، اندیشہ ہائے تعزیرات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ دعا کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ربِ عظیم اس بندہء معصوم کو نظرِ بد سے محفوظ رکھے، بہت سے بندوں میں حق گوئی کا جنون موجود ہوتا ہے۔ مگر فکر و اندیشہ چھپ کر روزہ رکھنے میں ہے، معدودے چند لوگ حق کا اظہار کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ مگر بہت جلد عالمِ فانی میں آنکھوں سے اوجھل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ عجب یہ کہ حق گوئی کے ساتھ بے باکی کا وصف بھی ساتھ رہے، تو بندہ ، منصور بن حلاج کی صورت اختیار کر لیتاہے۔ حروف کو لفظوں اور لفظوں کو جملوں میں ترتیب دینا اتنا سہل نہیں ، حقائق کو لفظوں کا جامہ اس طرح پہنانا کہ اصلیت کُھل کر کسی صورت میں ڈھل جائے انتہائی کٹھن کام ہے۔ فرشتے کی ایف آئی آر ایک استعاراتی عنوان ہے ، جس کی تفہیم دیدہء بینا کے سوا کوئی نہیں کر سکتا، یہ تصنیف بظاہر آپ بیتی دکھائی دیتی ہے، مگرایسی جگ بیتی ہے جو تاریخ کے تلخ اور سچ آراستہ رنگوں سے سجی ہوئی ہے۔ یہ کتاب ادریس احمد آفتاب کا ہی احاطہ نہیں کرتی بلکہ ریاست بہاول پور کے والیان کے ساتھ ساتھ اہلیان کا بھی کُھل کر بیان کرتی ہے۔ آنے والے وقتوں میں جب میرے وطن کی تاریخ لکھی جائے گی، تو مورخ کی ایماندارانہ رہنمائی کرنے والوں کی صف میں ڈاکٹر ادریس احمد کا نام بھی نمایاں نظر آئے گا۔ ترقی یافتہ اقوام کی رہنمائی اور ان کے روشن مستقبل کا تعین ان کے تاباں ماضی، معتبر ثقافت، شگفتہ مزاج سماج، اور عقائد کی درستگی سے ہوتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب جو سولہ ابواب پر مشتمل ہے، مگر اس کا متن سینکڑوں صدیوں کا نچوڑاور صدیوں محکوم رہنے والی نسلوں کے تجربات کا عکس پیش کرتا ہے۔ جس سے استفادہ کرنا صرف اور صرف اہلِ ادراک اور باشعور طبقات کا خاصہ ہو سکتا ہے۔
حیاتِ انسانی کے کئی پہلو ہیں جن میں علم و ہنر، عقیدہ و اطاعت، صداقت و شرافت، امامت و نظامت، حیا و ادا، تمدن و سیاست، سماج و رواج، نمایاں طور پر نظر آتے ہیں، ڈاکٹر ادریس نے اپنے وسیب کے عصری تقاضوں، رواجوں اور روایتوں کو خوبی سے قلمبند کیا ہے ۔ ان کی آپ بیتی قابلِ تقلید صحیفہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ قلمکار نے حقائق کی تلخیوں کو شگفتہ بیانی کی لطافت سے شیریں بیانات میں ڈھال دیا ہے۔ واقعات کو کہیں بھی فرضیات کا تڑکہ لگنے نہیں دیا۔ حالات کو حقائق سے لبریز، واقعات کو سندِ تحقیق سے سرفراز کیا ہے۔ ادریس احمد آفتاب جذبات نگاری کے فن سے بھی آشنا ہیں۔ ان کی فہمید قابلِ دید بھی ہے اور دادنی بھی۔ دینِ اسلام کے جُبے اوڑھ کر عداوت کی دعوت دینے والے اشخاص کی تصحیح کرنے پر میں انہیں داد دیتا ہوں۔ یہ شخص حق گوئی کا عملی نمونہ نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر ادریس ایک کھرا نسان، ایک عظیم ادیب، ایک موثر مبلغ، آپ بیتی نگار، مورخ اور خاکہ نگار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ خوشی اس بات کی ہے ایسا ادیب جس نے ادب کو وقار اور تحریر کو نکھار بخشا اس کا تعلق میرے اپنے شہر بہال پور سے ہے،
صد سلام علم و ادب کے وقار،صاحبِ کتاب سلام
پروفیسرثناء قاضی کا تعلق صادق ایجرٹن گریجویٹ کالج بہاول پور کے ڈیپارٹمنٹ آف انگلش سے ہے۔ فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم ان کے زیرِ مطالعہ بھی رہی ہے۔ انہوں نے تصنیف اور صاحبِ تصنیف کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا۔
’’ میرا تعلق انگلش لٹریچر سے ہے اور میں جانتی ہوں کہ ادب کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ یہ چار دانگ عالم کو سمیٹتا اور اس میں رہتا ہے۔ ادب برائے ادب ہو کہ ادب برائے زندگی ، یہ حیات کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ زندگی دکھاتا بھی ہے اور زندگی کرنا سکھاتا بھی۔ فرشتے کی ایف آئی آر ادب کے سارے انداز و اطوار سے منسلک ہے۔ آپ اس کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنے معاشرے کے مختلف کرداروں سے متعارف ہوتے ہوئے ان سے سبق بھی سیکھتے ہیں۔ یہ اس تصنیف کی باکمال خوبی ہے۔ اور تحریر اپنے لکھاری کی شخصیت کی بھی تو نمائندگی کرتی ہے، سو پتا چلتا ہے کہ ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب صاحب نے کتنے کٹھن دن گزارے اور کتنی مشکلات سے نبرد آزما رہ کر بھی سُرخرو ٹھہرے۔ انہوں نے تاریخ کے تناظر میں نوجوانوں کی رہنمائی کا فریضہ ادا کیا ہے۔ اس کتاب کے سارے واقعات دل موہ لینے والے انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
لگتا نہیں ہے دل مرا اُجڑے دیا ر میں کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لئے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
یہ بہادر شاہ ظفر کے اشعار ہیں، دورانِ اسیری یہ اشعار آخری مغل بادشاہ پر اُترے اور ان کی بدنصیبی کی کہانی کہہ گئے۔ ادریس احمد آفتاب نے ہمیں اس واقعے کے تذکرے سے بہت سے پیغامات دینے کی سعی کی ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں اس کتاب میں ڈھیروں مقامات ہمیں سکھاتے اور سمجھاتے ہیں۔ تو مطالعہ کیجئے نہ صرف اس کتاب کا بلکہ ان کی لکھی ہوئی دوسری کتابوں کا بھی تاکہ زندگی کا چلن قریب سے مشاہدہ اور مطالعہ کر سکیں۔
فرشتے کی ایف آئی آر کے حقائق بھرے واقعات کے بارہویں گواہ ڈاکٹر طاہر ندیم تھے۔ انہوں نے ادریس احمد آفتاب سے ہمسائیگی کے رشتوں کی ڈور میں بندھے رہنے پر اپنے تفاخر کا اظہار کیا اور کہا۔
’’میری ادریس احمد آفتاب صاحب سے چند ہفتے قبل ملاقات ہوئی ہے، میرے سامنے ان کی کتب تھیں، دوران گفتگو سوال ہوا کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟ تو میرا جواب تھا کہ سمہ سٹہ سے ۔ تو بات یہاں سے پھیلنے لگی۔ انہوں نے چونک کر میرے اور والد صاحب کے بارے میں دریافت کیا، میں نے بھی ان سے سوال کئے تو مجھے کچھ بتلا کر کہنے لگے کہ اندازہ کرو۔ میں بالآخر حقیقت تک پہنچ گیا کی اشارے مربوط اور مضبوط تھے۔ پتہ چلا کہ ہماری ہمسائیگی اور علاقے کی معروف شخصیت سے ان کا خونی رشتہ ہے اور وہ ان کے بھائی ہیں۔ انہوں نے مجھے فرشتے کی ایف آئی آر جلد اول تحفتاََ پیش فرمائی۔ میں نے مطالعہ شروع کیا تو بھید کھلتے گئے، اور میں نئے حقیقی حالات سے آشنا ہوتا گیا۔میں گواہی پیش کروں مگر اس سے پہلے یہ کہنا فرض بنتا ہے کہ یہ کتاب دریچہ در دریچہ بہت کچھ دکھاتی ہے۔ یہ آپ بیتی ہے، جگ بیتی ہے، افسانہ ہے ، انشائیہ ہے، سفر نامہ ہے، تاریخ ہے۔ آپ اس کتاب کو ادب کی تمام نثری اصناف میں شامل کر سکتے ہیں۔ کہ یہ تمام فریضے نبھاتی ہے۔ کتاب پڑھنے کا شوق اب کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کتاب نے شوق کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔
فرشتے کی ایف آئی آر سمہ سٹہ، سلطان پورہ کا عقوبت خانہ ہو ، مہار والی ہو، جنڈ والا ہو، نہر میں گرنے کا واقعہ ہو، چشتیاں، ڈاہرانوالہ کی قید ہو، ہر واقعہ پہ یوں لگتا ہے کہ اب شاید واپسی ممکن نہیں ہو گی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب عظم اور حوصلے کا ایک پہاڑ بن کر ہر مشکل سے نمٹتے ہوئے پھر واپس آجاتے ہیں۔ اور اگلی منزل کی طرف محوِ سفر ہوجاتے ہیں، نئے اورعظیم عزم اور نئے ارادے کے ساتھ۔ یہ کتاب ہمیں عزم، ہمت، حوصلے کی تعلیم دیتی ہے۔
اور اب میں اپنی گواہی دینا چاہوں گا۔اس آپ بیتی میںجن صاحب کا بڑا تذکرہ ہے جو اس میں بطور ولن موجود ہیں۔ وہ ان کے بڑے بھائی ہیں اورسمہ سٹہ میںہمارے گھر کے بالکل سامنے رہتے ہیں۔ ان کا بیٹا پرائمری کلاس میں میرا کلاس فیلو تھا۔ یوں اس فیملی کے ساتھ میرا قریبی تعلق رہا۔ ان کے بڑے بھائی اس کتاب کے ولن نہیں بلکہ ہمارے عہد کے اکثر نوجوانوں کے بھی ولن ہیں۔ سلطان ٹائون جہاں وہ اور ہم رہتے ہیں، وہاں پرائمری سکول کے سامنے ایک گرائونڈ تھا جس کے لئے ان کا دعویٰ تھا کہ وہ ان کا ہے ، اور وہ اکثر اس کا کھالا توڑ دیتے، پانی گرائونڈ میں چھوڑ دیتے۔ اس میں سے گزرنے والے راستے پر کئی بار انہوں نے دیوار تعمیر کی۔ طلبا نے اس کو گرایا اور گرائونڈ حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ یہ اور اس طرح کے کئی واقعات ان کے ساتھ منسلک ہیں۔ ان کی رعونت، غصہ، جلال، ہمیشہ ناک پر دھرے رہتے تھے۔ میںڈاکٹر صاحب کی قیدِ ابتدائی کا عینی شاہد تو نہیں ہوں مگر اس جگہ سے چند گز دوری پر ضرور رہتا ہوں۔ اور میں یہ بھی محسوس کر سکتا ہوں کہ وہ واقعات حرف بہ حرف درست ہیں۔ یہ کوئی داستان طرازی ہرگز نہیں ہے۔
محمد مدثر اسلامیہ یونیورسٹی کے شعبہ زوالوجی کے سٹوڈنٹ ہیں۔ وہ اظہارِ خیال کے لئے تشریف لائے اور بولے
عشق میں نام کماتا ہوںتو رب جاتا ہے
پیچھے ہٹتا ہوں توپُرکھوں کانسب جاتا ہے
دھیمی آواز سے ڈرتا ہی نہیں ہوں اک آن
طیش میں آئوں تو لہجے سے ادب جاتا ہے
فرشتے کی ایف آئی آر ادب کی کسی خاص صنف میں شامل نہیں ہے بلکہ متنوع موضوعات اور معاملات کا آئینہ خانہ ہے جہاں آپ زندگی کے بیشمار رنگوں سے آشنائی حاصل کرتے ہیں۔ اور یہ جان لیتے ہیں کہ عزم ، ارادہ، حوصلہ اگر ساتھ ہو تو ہر مشکل سے گزرا جا سکتا ہے۔ بہر حال ڈاکٹر قدیر اور ان جیسے دوسرے لوگوں کو علم ہونا چاہئے کہ ان کی ہر حرکت کے دو گواہ ہر طوقت ان کے ساتھ موجو د ہیں اور ایف آئی آر درج ہو رہی ہے۔
ڈاکٹرآصف ندیم نے کتابوں کے چمن کو ہرا بھرا رکھنے کی آرزو کے ساتھ شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر انجینئیر اطہر محبوب اور ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب کو سٹیج پر دعوت دی تاکہ فرشتے کی ایف آئی آر کی رونمائی کا فریضہ سر انجام دیا جا سکے۔ سو فریضہ نبھایا گیا، پردہ ہٹایا گیا، فرشتے کی ایف آئی آر جلد دوم کا چہرہ دکھلایا گیا، بھرپور تالیوں میں یہ منزل روشن ہوئی۔ اور پھر صاحبِ تصنیف تشریف لائے۔ اور گویا ہوئے۔
میں شکر گزار ہوں سب احباب کا جن کی آمد اور موجودگی نے میرا مان بڑھایا۔دیوان صاحب کا شکر گزار ہوں۔دیوان صاحب میں لسنر، لرنر اور کلٹیویٹر ہوں۔ سیکھتا ہوں، کہ جانتا ہوں یہی ہماری تہذیب ہے۔ میں شکر گزار ہوں انجنئیر ڈاکٹر اطہر محبوب صاحب کا جن کی عنایت اور محبت سے یہ تقریب سجائی گئی ، منائی گئی، اوراعتراف کے یہ لمحات یقینا حاصلِ حیات ہیں۔ ملک نعمان یہاں موجود ہیں ، یہ لکھت ابھی جاری تھی، مسودہ انہوں نے دیکھا اور کہا کہ آبِ زمزم کا ذکر موجود ہونا چاہئیے۔ میں نے پریٹوریا یونیورسٹی آف سائوتھ افریقہ رابطہ کیا وہاں سے میرے دو بچے فارغ التحصیل ہیں، سو وہاں اسی لئے رابطے رہتے ہیں، وہاں کے چیف ریسرچر ڈاکٹر زار سے گزارش کی تو انہوں نے سائنسی تحقیق ارسال فرما دی۔ جو ساری کی ساری آبِ زمزم سے متعلق ہے۔
یہاں پروفیسرقمر زمان کمبوہ موجود ہیں، ان کے پاس کتابوں کا ایک خزانہ ہے، ان کے پاس The Truth کے عنوان سے کتاب موجود ہے، میں نے عاریتاََ مانگی تو مل گئی۔ میں نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے جو آنے والی کتاب میں شامل ہو گا۔ یہاں غفران امجد موجود ہیں وہ اس ترجمے کی نوک پلک درست فرما رہے ہیں۔ ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب نے چنیدہ باتیں سماعتوں تک پہنچائیں۔
میری دوستی کا باب بہت چھوٹا ہے ، مگر پھول سب سچے گلاب رکھتا ہوں
دوست کم ضرور ہیں، مگر جو دوست رکھتا ہوں سب لاجواب رکھتا ہوں
الفاظ بھی روتے ہیں کبھی کبھی مگر ان کی سسکیاں صرف لکھنے والا سن سکتا ہے۔
ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب نے فرمایا میں نے اس تصنیف میں دوسروں کی بجائے اپنا سچ لکھا ہے۔اور میں جانتا ہوں کہ جھانکنے کی بہترین جگہ اپنا گریبان ہوتا ہے۔ اور رہنے کی بہترین جگہ اپنی ہی اوقات ہوتی ہے۔ مجھے پتہ ہے دل بہت قیمتی ہوتا ہے اور اس میں اسی کو رہنا چاہیئے جو اس کا حقدار ہو۔ انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی کے دوران مجھ سے ڈاکٹر عرفان نے پوچھا کیا آپ سگریٹ پیتے ہیں؟ میں نے جواب دیا کبھی بھی نہیں لیکن رات کو جب دل جلتا ہے تو دھواں تو اُٹھتا ہے۔ بقول شاعر
کچھ سانپ نایاب تھے سفرِ حیات میں
نہ چاہتے ہوئے بھی پالنے پڑے آستین میں
آخرِ کار مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ نسلی لوگوں سے تعلق رکھوں کہ وہ ناراض بھی ہو جائیں تو کردار کشی ہرگز نہیں کرتے ۔ کردار اور عزت پر وار نہیں کرتے۔ سنئے ظاہری حسن سے محبت رکھنے والے ہمیشہ گھاٹے میں رہتے ہیں۔ کہ ظاہری حسن کی عمر قدرت نے بہت کم رکھی ہے۔ جبکہ اندرونی حسن اَمر ہے۔
میں طلبا و طالبات سے گزارش کروں گا کہ معلومات تک رسائی کے لئے انٹر نیٹ سے رابطہ ضرور رکھیں لیکن یاد رہے کہ انٹر نیٹ پر موجود ساری ہی معلومات میں سچائی نہیں ہوتی۔ کتاب سے رشتہ مضبوط رکھیں اور جان لیں کہ کتاب ہی آپ کو آج اس مقام تک لائی ہے۔ اگر کتاب نہ ہوتی تو پھر ہم کیا ہوتے۔ ایک چینی کہاوت کے مطابق جب انسان دس کتابیں پڑھ لیتا ہے تو گویا وہ دس ہزار میل کا سفر طے کر لیتا ہے۔ اچھی کتاب وہ ہے جو زندگی کو جاننے کی بھوک بڑھائے۔ سو آپ بھی اچھی کتابوں کا انتخاب کر کے ان کا مطالعہ شروع کر دیں آپ شاندار منزل اور مقام تک پہنچ جائیں گے، انشاء اللہ۔
ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب نے اپنی حیاتی کے اس واقعے کو خوبصورت انداز، بھیگے لہجے اور سچے دل سے سنایا جب ان کی اہلیہ محترمہ بلقیس ادریس آفتاب دوران عمرہ شدید بیمار ہو گئیں اور ادریس صاحب نے انہیں اپنی زندگی دان کر کے واپس تحفہ لیا۔ یہ اس تقریبِ رونمائی میں صاحبِ کتاب کا آخری اظہارِ تشکر تھا۔ انہوں نے اسٹیج کو الوداع کہا اور جا کر اپنی نشست سنبھالی۔ صفحات جو وہ پڑھنے کے لئے لائے تھے، ان کے لئے عینک میزبانِ مکرم پروفیسر ڈاکٹر انجنئیر اطہر محبوب وائس چانسلر جامعہ اسلامیہ نے عاریتاََ عطا کی تھی۔ پھر انجنئیر صاحب نے صدارتی کلمات کے اظہار کے لئے تشریف لائے۔ انہوں نے فرمایا۔
آج کی اس تقریب میں شامل ہو کر انتہائی خوشی ہوئی ہے۔ آج کی اس تقریب میں مقررین نے جو لفظ کہے، جو جملے پیش کئے، جو مضمون سنائے بہ خدا وہی الفاظ ، خیالات میرے بھی ہیں، یوں گویا آپ سب نے میری نمائندگی فرمائی۔ ادریس احمد آفتاب صاحب سے میرا گذشتہ تین برسوں سے محبت اور احترام کا تعلق ہے، انہوں نے متحرک زندگی گزاری ہے، وہ اپنے وسیب اور علاقے اور ہمارے وطن کی تہذیب کے نمائندہ فرد ہیں۔ انہوں نے اپنے خیالات اور زندگی کے تجربات کو بہت عمدہ انداز میں صفحات کی زینت بنا کر ایک تاریخ ترتیب دے دی ہے۔ قلم کی صورت نقش کیا ہے۔ ان کی شخصیت کا تحرک، تجزیہ، تجربہ ان واقعات سے تشکیل پذیر ہوا ہے جو ان کے ساتھ پیش آئے، ان واقعات نے انہیں مضبوط بنایا، وہ اچھے الفاظ اور انداز میں ان تجربات کو پیش کرتے ہیں جو ہماری تہذیب کا خاصا ہیں۔ میں اس تقریب کے منتظمین کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ آپ نے ایسی شخصیات کو ادریس صاحب کی شخصیت اور کتاب پر بولنے اور اظہارِ خیال کرنے کے دعوت دی جو اپنے اپنے شعبوں میں مستند ہیں۔ ادریس احمد آفتاب محبت کرنے والی شخصیت ہیں۔ آج کی یہ تقریب اُن کا حق بنتا تھا۔ اسلامیہ یونیورسٹی ان کے اعتراف کے لئے اپنا حق ادا کر رہی ہے، اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ ادریس احمد آفتاب صاحب آپ جس کشمکش بھری زندگی سے گزرے اس کو آپ نے احسن انداز میں ہمارے سامنے پیش کر کے ایک کارنامہ انجام دیا ہے، ہماری دعا اور درخواست ہے کہ آپ ایسے ہی اپنے قلم کو رواں رکھیں اوراپنے قیمتی تجربات سے ہماری نئی نسل کو مستفید فرماتے رہیں۔ آپ تعمیرات سے منسلک رہے، آپ نے دنیا گھومی، آپ لکھنے سے وابستہ ہوئے، آپ پودوں اور زراعت سے بہت شغف رکھتے ہیں۔ فرنیچر کے حوالے سے آپ بہت نفیس اور لطیف ذوق رکھتے ہیں۔ برآمدات کے حوالے سے آپ کا تجربہ نایاب اور کمیاب ہے۔ اپنے اپنے ہر شوق کو عروج بخشا ہے۔ آپ یونائیٹڈ نیشنز کے مختلف اداروں سے بھی منسلک رہے ہیں۔ آپ کا زندگی کا تجربہ بہت وسیع ہے، آپ اپنے ان نایاب تجربات سے ہمیں اپنی تحریروں کے ذریعے سے متعارف کراتے رہیں۔ یہاں دو گھنٹے ہم نے آپ کے خیالات کی روشنی سے سجائے گئے مضامین سنے، خدا کرے آپ کا یہ سفر ایسے ہی جاری رہے۔
تقریب کے اختتام پر اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاول پور کی جانب سے ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب کو سووینئیر پیش کیا گیا۔ پھر سبھی احباب سٹیج پرتشریف لائے اور لمحاتِ دلنشیں کو کیمروں میں منجمد کرنے کی رسم نبھائی گئی۔
دن گزر جاتے ہیں، وقت اپنی کہانیاں ان دنوں کے اوراق پر لکھ جاتا ہے۔ جو آنے والے لوگ پڑھتے رہیں گے۔ سلامت رہئے ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب سائیں!
تحریر و تہذیب: سعید احمد سلطان

Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے