وقار عظیم

عصر حاضر کی عظیم افسانہ نگار ,ناول نگار, سفر نگار, محقق اور نقاد ڈاکٹر طاہرہ اقبال صاحبہ اردو ادب کا معتبر ادبی حوالہ ہیں جن کا نام ہی ان کا تعارف ہے. ان کی تحریریں جاندار اسلوب،استعارات کے استعمال سے بھر پور ، منفرد،متاثر کن اور یکتائی کی عمدہ مثال ہیں – بات کہ دینے کی اخلاقی جرات ان کو دوسرے افسانہ نگاروں سے ممتاز کرتی ہے- طاہرہ اقبال صاحبہ کی ساحرانہ تحریریں مشکل پسندی کے باوجود بوجھل معلوم نہیں ہوتیں بلکہ آگے بڑھتی تحریر اپنی دلکشی سے قاری کو اپنے سحر میں جکڑے چلی جاتی ہے -کرداروں کے نفسیاتی مطالعے ،معاشرے کی بے راہ روی کی عمدہ عکاسی حرص، ہوس، لالچ، مادہ پرستی، غرض و غایت کے تعلقات ،ابن الوقت لوگوں کے ہاتھوں عزتوں کی نیلامی اور اخلاقی قدروں کی پامالی پہ نوحہ کناں نظر آتی ہیں- ان کی تحریروں نے مرد کی حاکمیت اور اس کی مخصوص فطرت کی عکاسی کی ہے- یہ استحصال کی ہر صورت کو نہ صرف للکارتی ہیں بلکہ جنسی تشدد اور تذلیل کو جس صورت میں بھی معاشرے میں پوشیدہ ہے اس کو جوانمردی اور ہمت سے قرطاس پہ اتارتی ہیں – نیلی بار اس کی عمدہ مثال ہے – طاہرہ اقبال صاحبہ کی کہانیاں کرداروں کے چناو مناظر کی دلکشی ماحول اور واقعات کے چناو میں بہت محتاط نظر آتی ہیں- جملوں کی مرصع سازی کی ماہر طاہرہ حشو زوائدسے کوسوں دور تحریر کی حامل اردو ادب کی طیبہ نظر آتی ہیں-ان کی تحریروں میں جملوں کی درو بست جاندار ہے- ان کا افسانہ” روشندان” م) پڑھا تو کئی دن افسوس میں ڈوبا رہا کہ کاش میں یہ نہ پڑھتا اسی طرح ان کا افسانہ ماں ڈائن میرے لیے ان کی ذات سے تعارفی افسانہ تھا جب میں نے ایم فل میں ان سے مضمون اصول تحقیق پڑھا اور کم نمبر حاصل کیے تو میں نے ڈاکٹر صاحبہ کو بہت سخت گیر ,متشدد اور ظالم پایا اس کے ساتھ ایک عجیب خیال میرے ذہن میں گھر کر آیا کہ کوئی کردار تخلیق کرنے سے پہلے ادیب اس کو اپنی ذات پہ بیتاتا ہے مجھے ڈاکٹر طاہرہ اقبال ہو بہو "ماں ڈائن ” لگیں- ایک بار راقم نے آپ کے کسی قول کے ساتھ مشفق و مہرباں طاہرہ اقبال لکھا تو گروپ میں شامل آپ کے تمام شاگردوں نے اس لفظ پہ احتجاج کیا اور کہا کہ آپ سخت احتساب کرنے والی روحانی والدہ کو مشفق و مہرباں نہیں کہ سکتے جس پہ وہ الفاظ مجھے واپس لینے پڑے اور اس کے بدلے” ماں ڈائن ” لفظ کا انتخاب کرنا پڑا – جدید افسانہ نگاروں میں ان کا نام بہت نمایاں ہے اپنی تہذیب و ثقافت ,گردوپیش کی زندگی اور طبقہ نسواں کے مسائل و حالات اپنے کرداروں, مکالموں , پلاٹ اور موضوعات کو جزئیات نگاری سے پیش کرتی ہیں ان کے زیادہ تر افسانے مخصوص دیہاتی پس منظر کے حامل ہیں. ان کے افسانے اپنے معاشرے کے عکاس ہیں اور ان سے پنجاب دھرتی کے کلچر کی خوشبو آتی ہے.طاہرہ اقبال جدید فکشن میں پانچ دریاوں کی سر زمین خاص طور پہ نیلی بار کی مخصوص تہذیب و ثقافت کی عکاس ہیں- آپ کے افسانوں کی خاص خوبی ان کی مقصدیت گہرائی اور گیرائی ہے. افسانے کی طرح ناول بھی چونکہ بدیسی صنف ہے جس میں اردو ادب کے لکھاری ہمیشہ مشکلات کا شکار نظر آئے ہیں – ناول لکھنے کا معیار اگر حقیقت نگاری ہے تواردو ادب کے ناولوں سے زیادہ تھانوں کی رپورٹیں زیادہ حقیقت پہ مبنی ہیں- اگر اس کا معیار صرف فحش نگاری و جنس نگاری ہے تو اس کام کے اڈے ناولوں سے زیادہ اہم معلومات کے حامل ہیں- اردو ادب شاہکار ناولوں کے حوالے سے تشنگی کا شکار ہے چند قابلِ ذکر ناول لکھنے والوں میں ڈاکٹر طاہرہ اقبال صاحبہ کا نام بھی لیا جاتا ہے – واہ واہ، بےجاستائش، کاسہ لیسی، گھسی پھٹی برائے نام تحقیق و تنقید نے ادبی منظر نامے کو دھندلا کے رکھ دیا ہے- شعر کہنے والا ابھی مصرع کہتا نہیں کہ ایسی فضا بن جاتی ہے پطرس کا مضمون” کتے” ذہن میں گھوم جاتا ہے -احمد بشیر مرحوم لکھتے ہیں جب ان سے چراغ حسن حسرت نے حسرت موہانی کی غزل پہ رائے طلب کی تو کہا میں نے تو کبھی ان کی غزل سنی نہیں کہتے ہیں پھر جب میں نے ان کو پڑھا تو ان کے کلام کو پھیکا اور پھسپھسا پایا -ان کا خیال ہے کہ مکھی پہ مکھی مارنے والے محققین کو نئے پہلو تراشنے کی ضرورت ہے – ڈاکٹر صاحبہ تحقیق و تنقید میں کڑے معیار کی خواہشمند ہیں اور ادبِ عالیہ کے حوالے سے عالی خیالات کی مالک ہیں – ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی محقق خوشامند سے ہٹ کر پہلے ان کے کام کا صحیح تنقیدی جائزہ لے – اگر کوئی شخص یہ لکھے کہ غالب ایک عظیم شاعر تھے،میر خدائے سخن ہیں، اقبال شاعرِ مشرق ہیں تو ہر ذی شعور شخص یہ معلومات رکھتا ہے پڑھنے والا توقع کرے گا کہ ان شخصیات کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہوں – کوئی نیا پہلو تراشہ جائے یہی ان کا درس ہے – ڈاکٹر صاحبہ کے افسانوں اور دیگر ادبی خدمات پر ایم اے اور ایم فل سطح پہ بہت سے مقالے لکھے جا چکے ہیں . زمین رنگ اور گراں کو اکادمی ادبیات کی طرف سے بیسٹ بک آف دی ایئر ایوارڈ دیا گیا ہے . 2014 اور 2019 میں چار بار سارک رائٹرز کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے . ناول نیلی بار,” گراں” اور” ہڑپہ” کے علاوہ” سنگ بستہ "جس میں کل پندرہ افسانے "خون تپسیا”,” آپے رانجھا ہوئی”, "اسیرانِ ذات”, "مرقد شب”, "یہ عشق نہیں آساں ",”بھوک بھنور”, "خواب کہانی”, "حسن کی دیوی”, "خراج پس منظر”,” سڈن ڈیتھ”, "راکھ ہوتی ہوئی زندگی کا منظر”, "پتھر دھڑ والی شہزادی”,” پٹھانی افسانے”, مجموعہ” ریخت” میں اٹھارہ افسانے جن میں "ریخت”, "مس فٹ”, "چرواہا”, "جوڑا”, افسانوی مجموعہ” گنجی بار” میں کل چوبیس افسانے, "زمین رنگ” افسانوی مجموعہ میں اٹھارہ افسانے, ناولٹ” رئیس اعظم” اور "مٹی کی سانجھ ",سفر نامہ” نگیں گم گشتہ "تحقیق و تنقید میں "منٹو کا اسلوب” ایم فل تھیسز اور پی ایچ ڈی کا مقالہ "پاکستانی اردو افسانہ” (سیاسی و تاریخی تناظر میں)جیسے اہم موضوعات ڈاکٹر طاہرہ اقبال صاحبہ کے ادبی ،تحقیقی ،تنقیدی اور تخلیقی عظمت کے عکاس ہیں . ڈاکٹر صاحبہ ان دنوں عظیم درسگاہ رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس میں ایم فل اسکالرز کو تحقیق اور تنقید پڑھا رہی ہیں. ڈاکٹر صاحبہ بہت محنتی، کہنہ مشق ادیب اور شفیق استاد ہیں- جدید ادب کی معمار ،معروف فکشن رائٹر ڈاکٹر طاہرہ اقبال صاحبہ کے لئے ڈھیروں دعائیں اور نیک تمنائیں – اللہ کریم اردو ادب کے اس عظیم سرمایہ کو مثالی صحت کے ساتھ ہمیشہ سلامت رکھے آمین الہی آمین


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے