"کفِ خاک” کی طلسماتی فضا اور شعری جمالیات

سب سے پہلے تو ڈاکٹر خاور چودھری کو اپنے نظمیہ انتخاب کے لیے اتنا خوب صورت نام رکھنے پر داد دینا چاہوں گا اس نام میں بہت کچھ ہے اور اس ترکیب کو کئی فارسی شعرا نے بھی باندھا ہے لیکن شیخ علی حزیں نے اس ترکیب کو نیا آہنگ دیا ہے:
بر دیدہ کشم سرمہ ز خاکِ کفِ پائے
شاید کہ دہد اشک مرا رنگِ حنائے
(خاکِ کفِ پا کو سرمے کی طرح آنکھوں میں سجاتا ہوں،شاید کہ وہ میرے اشکوں کو حنائی رنگ دے دے)
یہ نام جہاں تخلیق کار کی جدت پسند طبعیت کو واضح کرتا ہے وہاں اس سے کلاسیکی روایت کا ذوق و شوق بھی منکشف ہوتا ہے۔کتاب کے نام سے آگے بڑھیں تو یہ مجموعہ خاور کی شاعری کے ممکنہ رنگوں کو سامنے لاتا ہے۔دوران مطالعہ ذہن میں کئی مرتبہ یہ خیال آیا کہ "کفِ خاک” پر شعری حساسیت کے ضمن میں فارسی،ہندی یا مقامی روایت میں سے کس کا رنگ حاوی ہے؟ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہاں تینوں ذائقے خوب صورت تناسب کے ساتھ موجود ہیں البتہ ہندی رنگ خاور کے تخلیقی شعور پر زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے ۔اس مجموعے کا ادبی اور موضوعاتی حُسن دیدنی ہے یہاں زندگی کی تہہ دار پراسراریت،اثبات و نفی کا خوش گوار امتزاج، معاشرے کی طلسماتی فضا،قدرت کے رنگا رنگ نظارے ، مشاہدات،تجزیات اور تجربات کا ایک جہان آباد ہے۔
خاور چودھری کی شاعری میں ماحولیاتی عناصر وافر مقدار میں موجود ہیں۔وہ اپنی بات کہنے اور سمجھانے کی خاطر شعوری یا لاشعوری طور پر اردگرد پھیلے ہوئے ماحولیاتی دائروں سے علامتیں اور کیفیتیں اخذ کرتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے شعری پیٹرن جہاں نئے ترکیبی بناؤ اور سبھاؤ کا اشاریہ بنتے ہیں وہاں قاری کو نئے ماحولیاتی جہانوں کی سیر بھی کرواتے ہیں۔یہ ماحولیاتی صنعت گری لطیف جذبات و احساسات کے نئے امکانات سامنے لاتی ہے۔ہندی روایت کے بہت بڑے تخلیق کار اور انسانی فطرت کے اہم ترجمان کالی داس کے ہاں بھی فطرت یا ماحول انسانی مسائل کے ساتھ منسلک نظر آتا ہے۔کالی داس کے فکری اور تخلیقی نظام میں ماحولیاتی تلازمات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔اردو میں اس روایت کو ہمارے کلاسیکی شعرا نے تو کسی حد تک ضرور اپنایا تھا تاہم جدید رجحانات میں اس طرف کم دھیان ملتا ہے۔خاور چودھری کا شعری نظام جدید شعری منظر میں اس کمی کو پورا کرتا ہے۔
خاور چودھری کے بارے میں جیسا کہ میں نے پہلے لکھا ہے کہ ان پر ہندی روایت کے اثرات زیادہ گہرے ہیں جس کا ثبوت ان کی شاعری میں جگہ جگہ بآسانی مل جاتا ہے۔ اس خصوص میں اُن کی نظم” نارسائی” کی لفظیات لائق توجہ ہیں : سندر بن،منوا آگ لگائے،رقص کرے آکاش پہ جیون،ہر مندر میں سو سو مورت اور سندر بن ہے کال سمے کا،یہ فضا خالص ہندی ہے جس کی اپنی کیفیات ہیں۔اس طرح کی ترکیب سازی یا لفظیات کا عمل جہاں قاری کے شعری ذوق کو نکھارتا ہے وہاں تخلیق کار کے فنی وصف اور صنعت گری کو بھی سامنے لاتا ہے۔خاور کے ہاں جو شعری فضا کا طلسماتی آہنگ ہے اس میں واقعیت اور پراسراریت کے عناصر وافر ہیں۔ان کا ایک اپنا تصورِ حیات ہے جہاں آسودگی اور تکمیل کے بجائے مسلسل ریاضت اور تحرک نظر آتا ہے۔زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مکالمہ کرنے کی سکت ہے۔خاور کے شعری اور فکری تجربات میں خود فراموشی اور وارفتگی کے بجائے شعور کی اعلی سطحیں ملتی ہیں جہاں اجتماعی معاملات پر ان کا دل افسردہ ہو جاتا ہے۔وہ سماج کے ہر غم کو اپنا ذاتی غم سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا کلام تاثیر اور کیفیات کا مجموعہ بن کر سامنے آتا ہے۔ان کی نظمیں : ” اولڈ ہوم،اکیسویں صدی کا نوحہ،سوشل میڈیا،فریب ہستی،نادار اور زندگی پھولوں کی سیج نہیں ” درحقیقت ہماری زندگی ہی کا عکس نامہ یا شناخت نامہ ہیں۔

 

خاور کے پاس تخیل کی بے پناہ قوت ہے جسے امیجری اور محاکات کے توسط سے شعری پیمانوں میں ڈھالا گیا ہے۔زبان و بیان کا سُلجھا ہوا اسلوب اور مناسب ترین الفاظ کی تلاش نے ان کی شاعری کو وسعت اور بلندی عطا کی ہے۔ان نظموں میں آپ کو کہیں بھی کوئی غیر معیاری لفظ یا اظہاریہ نہیں ملے گا۔کہیں کوئی خیال پیچیدہ اور انتہائی تہہ دار ہو سکتا ہے جہاں قاری کو قدرے فکری استدلال بھی کرنا پڑتا ہے تاہم اس کتاب کا مجموعی رنگ ہماری گرفت میں رہتا ہے۔ہر شاعر حقیقت کا ادراک مختلف طریقوں اور متنوع حسیات کی بدولت کرتا ہے۔ادراک کے یہ رنگ کبھی ماورائی کیفیت کا اشاریہ بھی بن جاتے ہیں،دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اس میں قاری کے لیے کیا کچھ پوشیدہ ہے۔خاور کی اس کتاب میں قاری کے فکر و احساس میں اضافہ کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ یہ کتاب خاور چودھری کی شعری صلاحیت اور فنی بصیرت کو بڑی عمدگی کے ساتھ سامنے لاتی اور قاری کو نئے ادبی جہانوں کی سیر کرواتی ہے ۔
(عامرسہیل)


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے