30 ویں کتاب ڈاکٹر نوید شہزاد دی


بابا فرید گنج شکر ریسرچ چئیر ، انسٹیٹیوٹ آف پنجابی اینڈ کلچر سٹڈیز ، پنجاب یونیورسٹی ،لاہور کی شائع شدہ تازہ گلاب ورگی کتاب کیسی ہے ۔۔۔۔؟؟ طالب علم کو اس کتاب کا شدت سے انتظار تھا ۔ شلوک فرید پنجاب کا قدیم ترین دستیاب ادب ہے۔ جس کی وجہ سے ہم بارہویں / تیرھویں صدی عیسوی کی رچناوی زبان تک رسائی دیتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔کینیڈا ( ٹورنٹو ) میں پچھلے سال کی ورلڈ پنجابی کانفرنس میں مجھے شدت سے ” شاہ مکھی ” لکھت کی تنہائی اور اردو سے گریز پائی میں ۔۔۔ بابا فرید مسعود گنج شکر ۔۔۔ کی تفہیم میں الجھاؤ دکھائی دیا ۔ یوں لگتا تھا جیسے انٹر نیشنل پنجابی کانفرنس کے نام پر "سکھ مت ” کی راگنی سنائی گئی تھی۔ بار کا خالص لہجہ شاید حقیقت کی طرف لے جائے ۔ پروفیسر ڈاکٹر نوید شہزاد کا شکریہ کہ انہوں نے محققانہ کتاب ڈاک کے ذریعے بھجوا کر فقیر پر بھی توجہ مرکوز کی ہے ۔
یہ طالب علم عموماً کتابی آراء کو شروع میں نظر انداز کرتا ہے ، بعد میں تعارفی کلمات پڑھتا ہے تاکہ کشاف ذہن پر کسی اور زاویہ نظر کے چمن زار کے اثرات مرتب نہ ہوں ۔


488 صفحات پلک جھپکتے پل پل بدلتے موسموں کے رزقِ مطالعہ میں خصوصی وقت مانگتے ہیں اور گہرائی اور گیرائی سمجھنے کے لئے استادِ گرامی ۔۔۔۔۔ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا ، پروفیسر ایمر یطس ( اردو ) ، پنجاب یونیورسٹی ،لاہور کی گراں قدر رائے کو رہنما بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کیونکہ استادِ محترم اپنی رائے کے اظہار میں بے باک تو ضرور ہیں ۔کوئی لگی لپٹی نہیں رکھتے ، محض شہرت کی خاطر کسی کے لئے قلم کو کاسہ لیسی میں نہیں ڈبوتے۔پس ورق گردانی کرتی تحریر مطالعہ کا بڑھاوا یوں دیتی ہے ۔::


شلوک فرید : متنی مطالعہ ( بہ حوالہ سری گرو گرنتھ صاحب جی ) ڈاکٹر نوید شہزاد کی ایک عظیم کاوش ہے ۔بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی پیدائش پر آٹھ صدیوں سے کچھ اوپر وقت گزر چکا ہے ۔ انھوں نے جس زبان میں شلوک لکھے ہیں انھیں ہم سہولت کے لئے پنجابی کہ سکتے ہیں مگر اس میں بول چال کے کئی لہجوں کی پرچھائیں پڑی ہوئی ہیں ۔میرے خیال میں بعد کی اردو اور پنجابی دونوں اسی زبان کے دو ارتقائی روپ ہیں ۔ایک لہجہ پنجاب سے دکن کے راستے دہلی پہنچا اور اردو کا کہلایا ۔ دوسرا پنجاب میں تحولات سے گزرا اور شاہ حسین ،سلطان باہو ، بلھے شاہ اور وارث شاہ کے توسط سے زبان پنجاب یعنی پنجابی بن گیا ۔ ( استادِ محترم نے علی حیدر ملتانی ۔۔۔ جم پل رجانہ و مدفن/ ہیڈ سدھنائی عبد الحکیم کو شامل کرنا شاید مناسب نہیں سمجھا )


حضرت بابا فرید کے ایک سو بارہ ( 112) شلوک گرو گرنتھ میں شامل کئے گئے اور اس وجہ سے انھیں ایسا تقدس حاصل ہوا کہ باید و شاید ۔ اول تو اس لئے کہ یہ ایک بہت بڑے صوفی کا کلام ہے اور مزید یہ کہ اسے مذہبی تقدس حاصل ہے ۔ اس لئے متعدد کوششیں کی گئیں کہ اس کا ایک معیاری متن تشکیل دیا جائے مگر عملاً یہ کام مشکل ہی نہیں ، حد مشکل ہے ۔وجہ یہ ہے کہ دنیا کا کوئی رسم الخط زبان کی بول چال کو پوری طرح نقل کرنے پر قادر نہیں ہے ۔زبان باہمی تفہیم کے لئے ہے اس لیے بول چال کی زبان میں قدرتی طور پر بہت سی باریکیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ظاہر ہے کہ تحریر تو آوازوں کی نقل کی کوشش ہے مگر یہ کوشش آوازوں کے باریک اور نازک تغیر و تبدل کو ظاہر نہیں کر سکتی ۔چنانچہ کسی زبان کا معیاری رسم الخط کبھی نہیں بن سکتا ۔یہی دقت کلام فرید کو تحریری شکل میں منتقل کرنے والوں کو پیش آتی ہے ۔ اگرچہ کلام فرید شاہ مکھی اور گرمکھی دونوں خطوں میں لکھا گیا ہے اور اس کی تدوین کے لئے متعدد کوششیں ہو چکی ہیں مگر , حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہو سکا ، والی صورت حال ہنوز موجود ہے ۔


ڈاکٹر نوید شہزاد نے اس سلسلے کی تمام قابلِ لحاظ کوششوں کا بہت باریکی سے جائزہ لے کر اور ان کی پوری جانچ پرکھ کر کے ایک معیاری متن بنانے کی بہترین کاوش کی ہے ۔ ڈاکٹر نوید شہزاد نے یہ تفصیلی تقابلی جائزہ جس جستجو ،توجہ اور انہماک سے کیا ہے ویسی مثالیں ہمارے ہاں شاذ ہی دکھائی دیتی ہیں ۔ ترتیب و تدوین متن کا یہ کام غیر معمولی ہے اور اسے جتنا بھی سراہا جائے ،وہ جائز اور روا ہے ۔


منیر ابنِ رزمی ۔
18 جنوری 2023
چیچہ وطنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے