خمار منزلی،اللہ اکبر!
نسیم سید

یہ قصہ دلی کے مشاعرے جشن بہاراں میں شرکت کاہے
کامنا پرساد اس عظیم الشان مشاعرے کی میزبان تھی۔ ان سے ملاقات دوستی مین کیسے بدلی یہ ایک الگ مضمون ہے کبھی شیئر کرونگی مگر خمار منزلی کچھ اور ہی ہے۔
شام غزل،بزم سخن، جشن بہاراں. خاطردارئی حرف و قلم اور رونق خاطر داراں سب کا اختتام ہوااور اب شوق کی بارگاہ میں قدم بو سی کی بے تابیاں حضرت نظام الدیں محمد اولیا سلطان المشائخ .. کے دربار میں حاضری تھی "خمار منزلی اللہ اکبر” (اختر عثمان)کیا کچھ یاد نہیں آرہا تھا کبھی کا پڑھا ہوا..حضرت نظام الدیں تقی الدیں نوح کے مزار سے واپس آکے ملول واداس جلا الدیں کی دہلیز کے بڑے گنبد میں تشریف فرما ہیں..امیر خسرو ملاقات کو تشریف لائے ہیں حضرت نے اپنے عزیز امیر خسرو کو نظر اٹھاکے دیکھتے ہیں”چیست !”امیر خسرو نے آگے بڑھ کے سرسوں کے پھول قدموں میں رکھ دئے” عرب یار توری بسنت منائی” آج ہندو اپنے بت پر بسنت کے پھول چڑھانے جارہے ہیں میں بھی اپنے بت پر سرسوں کے پھول چڑھانے آیا ہوں ۔۔”۔خلق می گوید کہ خسرو بت پرستی می کند/ آرے آرے می کنم با خلق و عالم کار نیست "امیر خسرو گا رہے ہیں اشک ریز آمد ند ابروبہار/ساقیا بریزد و بادہ بیار..نظام الدیں اولیا بیتاب ہو کے کھڑے ہوجاتے ہیں اور محو رقص ہیں "اشک ریز آمد ندا برد بہار ” کی تکرار ہے امیر خسرو فی البدیہہ اشعار کہتے چلے جاتے ہیں اور دو روحیں محو دھمال ہیں ..حضرت نظام الدیں اولیا امیر خسرو کے لائے ہوئے سرسوں کے پھول خواجہ تقی الدین نوح کے مزار پر ڈال رہے ہیں(یہ رواج آج بھی باقی ہے اس واقعے سے پہلے مسلمانوں میں بسنت کا رواج نہیں تھا اب بسنت کے دن شام کے چار بجے درگاہ حضرت سلطان المشائخ کے پیرزادے اور دہلی کے نظامی جلال الدین خلجی کے کوشک کے سامنے آتے ہیں اور اس پتھر پر سرسوں کے پھول چڑھاتے ہیں جس پر حضرت سلطاں ..شام غزل،بزم سخن، جشن بہاراں. خاطردارئی حرف و قلم اور رونق خاطر داراں سب کا اختتام ہوااور اب شوق کی بارگاہ میں قدم بو سی کی بے تابیاں حضرت نظام الدیں محمد اولیا سلطان المشائخ .. کے دربار میں حاضری تھی "خمار منزلی اللہ اکبر” (اختر عثمان)کیا کچھ یاد نہیں آرہا تھا کبھی کا پڑھا ہوا.
.حضرت نظام الدیں تقی الدیں نوح کے مزار سے واپس آکے ملول واداس جلا الدیں کی دہلیز کے بڑے گنبد میں تشریف فرما ہیں..امیر خسرو ملاقات کو تشریف لائے ہیں حضرت نے اپنے عزیز امیر خسرو کو نظر اٹھاکے دیکھتے ہیں
"چیست !”
امیر خسرو نے آگے بڑھ کے سرسوں کے پھول قدموں میں رکھ دئے
” عرب یار توری بسنت منائی” آج ہندو اپنے بت پر بسنت کے پھول چڑھانے جارہے ہیں میں بھی اپنے بت پر سرسوں کے پھول چڑھانے آیا ہوں
خلق می گوید کہ خسرو بت پرستی می کند/ آرے آرے می کنم با خلق و عالم کار نیست..امیر خسرو گا رہے ہیں اشک ریز آمد ند ابروبہار/ساقیا بریزد و بادہ بیار..  نظام الدیں اولیا بیتاب ہو کے کھڑے ہوجاتے ہیں اور محو رقص ہیں "اشک ریز آمد ندا برد بہار ” کی تکرار ہے امیر خسرو فی البدیہہ اشعار کہتے چلے جاتے ہیں اور دو روحیں محو دھمال ہیں ..
حضرت نظام الدیں اولیا امیر خسرو کے لائے ہوئے سرسوں کے پھول خواجہ تقی الدین نوح کے مزار پر ڈال رہے ہیں
(یہ رواج آج بھی باقی ہے اس واقعے سے پہلے مسلمانوں میں بسنت کا رواج نہیں تھا اب بسنت کے دن شام کے چار بجے درگاہ حضرت سلطان المشائخ کے پیرزادے اور دہلی کے نظامی جلال الدین خلجی کے کوشک کے سامنے آتے ہیں اور اس پتھر پر سرسوں کے پھول چڑھاتے ہیں جس پر حضرت سلطاں المشائخ بیٹھے تھے اس روزقوال "عرب یار توری بسنت منائی اور ساقیا گل بریزد بادہ بیار گاتے ہیں جلوس خواجہ تقی الدیں نوح کی مزار سے حضرت نظام الدیں اولیا کی مزار اور پھر امیر خسرو کی مزار پر آتا ہے)
"خسرو اب گھر جائو اور آرام کرو” حضرت نے کہا اور خسرونے سر جھکاکے فرمایا”
نہ خفت خسرو مسکیں ازیں ہوس شبہا/کہ دیدہ بر کف پایت نہد بخواب شود
( غریب خسرو بہت راتوں سے اس آرزو کے سبب نہیں سویا کہ حضور کے قدموں پر سر رکھ کے سوجائے)
نظام الدین نے فرمایا
گر برائے ترک ترکم ارّہ بر تارک نہند/ترک تارک گیرم و ہرگز نہ گیرم ترک تُرک ( اگر میرے ترک (امیر خسرو)کو مجھ سے جدا کرنے
کے لئے میری پیشانی پر آرہ بھی رکھ دیا جائے تب بھی میں اپنے تُر ک کو ترک نہین کرونگا
من تو شدی تومن شدی من تن شدم تو جان شدی کی تال پر روح دھمال کررہی ہے کیسے کیسے محبتوں کی کرامات کے، روحانی و علمی مباحث کے شعر و فن کے مناظر دیکھے ہونگے اس جگہ نے اس زمین نے کیسی خوش بختی ہے ان معطر جگہوں کی زیارت وہان کی قدم بوسی ذہں ان ملفوظات کے اوراق مین گم تھا وہ مناظر دکھا رہا تھا جو ان عظیم ہستیوں نے قلم بند کئے اور دل ..نظام الدین اولیا،امیرخسرو اور غالب کے نام کے دھمال میں مست
اس سفر میں دوست محمد خان صاحب جیسے دوست کاذکر بھلا کیسے نہیں آئے گا کہ وہ نام کے ہی نہیں اپنی صفات میں بھی دوست ہیں بیتے ہوئے زمانے کی تہذیب کی یادگار،خلیق، پر خلوص با کمال شاعر ہوتے ہوئے بھی اور دلی کے بیچ و بیچ رہتے ہوئے بھی گوشہ نشیں اور بے غرض دوست انکی عنایات کاشکریہ ادا کرنا ممکن نہیں اگر وہ اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے وقت نکال کے مجھے ان مقدس مقامات کی زیارت نہ کراتے تو شاید ممکن نہ ہوتا میرا وہاں تک پہچنا..
کچھ تنگ سی گلیوں سے گزرتے ہوئے ہم غالب اکیڈمی کے قریب پہنچ کے
ابھی کار سے اترے ہی تھے کہ عالب اکیڈمی کی سیڑھیوں سے ایک بزرگ پیلی ٹوپی، سفید کرتے پاجامے میں ملبوس گلے میں پیلا پٹکا ڈالے سیڑھیوں سے اتر تے نظر آئے خان محمد صا حب نے بتا یا ” یہ حسن نظامی ثانی ہیں” حسن نظامی کے بھتیجے شان الحق حقی کے داماد وصی نظامی ٹورنٹو میں رہتے ہیں .. انکی مرحومہ بیگم زیبا جو کہ شان الحق حقی کی صاحب ذادی تھیں ہماری ان سے دلی وابستگی تھی ہماری اور اس حوالے سے وصی بھائی سے بھی دلی رابطہ ہے، حسن نظامی کی کتاب ” تاریخ اولیا.نظامی بنسی "ان کی وساسط سے پڑھی اس سفر کا آغاز ہی بڑا روح پرور ہوا میں نے جلدی سے آگے بڑھ کے سلام کیا اور وہ مجھے اپنے سا تھ آنے کی تاکید کرتے ہوئے ان ہی تنگ گلیون میں آگے بڑھنے لگے میں ان کے ساتھ چل رہی تھی گلی کا ایک موڑ کاٹتے ہوئے دائیں جانب بہت سی اینٹوں کا انبار تھا جناب حسن نظامی ثانی زرا سی دیر کو اس جگہ ٹھٹکے شاید اس کھنڈر سے انکی کوئی یا د وابستہ تھی میری طرف دیکھ کے بولے "یہ دیکھ رہی ہیں نا آپ ؟بس اب تو ایسے ہی کھنڈر ہیں ہمارے اطراف” اس ایک جملے میں کیا کچھ نہیں کہہ دیا انہوں نے
ہم کچھ تنگ گلیوں سے گزر رہے تھے چھوٹی چھوٹی دکانیں بے خبر تھیں کہ انہی راستوں نے کبھی کیسے کیسے قدموں کو چوما ہوگاانہیں کیا معلوم کہ حسن نظامی ثانی جو زیر لب کچھ کہتے چلے جارہے ہیں تو وہ کن آوازوں اور کن یادوں سے مخاطب ہونگے حضرت زیر لب شاید مجھ سے یا شاید خود سے محو گفتگو تھے مجھے کوشش کے باوجود سب کچھ سنائی نہیں دیا بہت دھیان سے آواز پر کان لگائے تھی مگر صرف چند جملے ہی سن پائی وہ بھی مشکل سے
” یہ گلیاں جانتی ہیں” میں نے کہتے سنا پھر خاموش ہوگئے کچھ دیر یون چلتے رہے جیسے ہماری موجودگی سے بھی بے خبر ہوں پھر دھیرے سے بو لے ” بہت کوڑاہے مٹی ہے ” ہاتھ اٹھایا ایک بار زرا سا ٹھٹکے اور مجھے دیکھا” نہ جنوں رہا نہ پری رہی” پھر بہت آہستہ شاید اسی کو دوبارہ دہرایا شاید پھر دہرایا ” نہ پری رہی”
گھر کے قریب دائیں سمت میں ایک احاطہ میں سبز گنبد نظر آرہا تھا حضرت نے ادھر اشارہ کیا ” اپنے والد کا مقبرہ میں نے بنوایا تھا” میں نے حضرت حسن نظامی کو دل ہی دل میں عقیدتیں پیش کیں ہم گھر کے اندر داخل ہوئے کتنا پرانا ہوگا حضرت یہ گھر؟ وہ مسکرائے ” یہ سوسال سے بھی زیادہ پرانا ہے آئیے آئیے میں آپکو تفصیل بتا تا ہوں نور بھئی مہمان آئے ہیں اندر خبر کرو چائے بنوائو…میں آپکو خربوزہ کھلائوں گا خر بوزے سے وابستہ ایک تاریخی واقعہ ہے وہ بھی سنائوں گا..میری نگاہیں اس بہت وسیع احاطہ میں موجود ہر شے کو خود میں محفوظ کر رہی تھیں احاطہ کے بائیں جانب کچھ قبریں تھیں جن پر سو کھے ہوئے پھول پڑے تھے اس سے کچھ فاصلے پر سبز رنگ کے کئ دروازے تھے جو شاید مختلف کمروں کے ہونگے مگر سب خود پر خود کو بھیڑے ہوئے بہت خاموش اور بہت اداس سے کسی گہری سوچ میں گم صم تھے.. ایک تنہا ساچبوترہ ایک اکیلی سی پیڑھی کچھ بے دلی سے اگے ہوئے پودے سب کچھ سارا کچھ بہت خاموش بھی تھا اور بہت باتیں بھی کئے جارہا تھامیں تو شاید انکی قربت میں ہی آدھا دن گزار دیتی مگر مجھے محسوس ہوا کہ دوست محمد خان صاحب کواکتاہٹ ہورہی ہے میری اس بے وقوفانہ دلچسپی سے اور انکی خوش اخلاقی نے مجھے ٹو کنے سے باز رکھا ہوا ہے میں ایک قبر کے سامنے کھڑی اسکا کتبہ پڑھنے میں محو تھی تب مجبوراً بولے چلیں اندر چلتے ہیں تب ہی میں نے دیکھا کہ حضرت حسن نظامی بھی سیڑھیوں کے قریب رکے ہوئے ہیں
چند سیڑھیا چڑھ کے ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے میں نے سوچا شاید کبھی یہ دالان کی شکل میں ہوگا کیونکہ وہ دبلا سا کمرہ تھا مگر اپنی لمبائی میں دالان کی طرح دور دور تک بل کھاتا کہیں نکل گیا تھا
کد ھر نکل گیا اس بات کو شاید سب کو پتہ نہ چلنے دینے کی غرض سے درمیان میں ایک پردہ ڈال دیا گیا تھا ایک تخت بچھا ہوا اندر داخل ہوتے ہی دکھائی دیا . "میری عمر سو سال سے بھی ذیادہ ہے” گھر کی فضائوں میں ایک باوقار سی آواز کی گونج تھی یہی سوسال سے ذیادہ پرانی تہذیب گھر میں دبے پائوں ادھر ادھر گھومتی دکھائی دی تخت پر گائوتکئے سے ٹیک لگائے عجب تمکنت اور شانِ بے نیا زی سے جمے رسم و رواج دکھائ دئے ..اس تخت کے نیچے اس گھر میں بیتے ہوئے ایام کو ایک بڑے سے پلاسٹک کے ڈبے میں ڈال کے محفوظ کردیا گیا تھا. میں شاید لاشعوری طور پر حضرت نے جس کرسی پر تشریف رکھی اس کے بہت قریب ہی رکھے صوفے کے کونے پر جم گئی جاکے حضرت حسن نظامی ثانی سے میں سوال پر سوال کئے جارہی تھی سر اس گھر میں کون کون آچکا ہے سر؟ کون نہیں آیا یہ پوچھئے وہ تفصیلات بتاتے رہے کون کون سے اہم تاریخی فیصلے اس گھر میں ہوئے ہیں اکبر الہ آبادی کا ذکر نکلا ..میں نے بتایاکہ وہ میرے جد اعلی ہیں ( میرے والد ایک شجرہ نامی چھوٹی سی کتاب کو سینے سے لگائے پھرتے تھے ہم بہن بھئیوں کو اس کتاب سے کوئی دلچسپ نہیں تھی وہ ہمیں پکڑ دھکڑ کے سرخ سفید منی پھوپھو اور عائیشہ پھوپھو کے گھر لیجاتے تھے وہ کہتی تھی ارے بیٹا ہم ایک چنے کی دو دال ہیں وہ اکبر الہ آبادی کی بھتیجی بھانجی کچھ تھیں ہمیں اس بات سے بھی کچھ دلچسپی نہیں تھی والد کا انتقال ہوگیا وہ شجرہ ایک دن ہم بہین بھائیوں مل کے پڑھا تب پتہ چلا کے میرے والد کے دادا کے سگے چچا تھے
اکبر الہ آبادی) حضرت نظامی ثانی نے بتایا کہ انہوں نے نوسال اکبر الہ آبادی کی سرپرستی میں گزارے ہیں.. سر کیا اس گھر کا کوئی حصہ اپنی اصل شکل میں موجود ہے؟ میں نے پوچھا تو انہوں نے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیااسے کھولیں اس کے اندر جائیں یہ کمرہ قدیم ہے اور ابھی تک موجود ہے اس کی چھت کو دیکھئے گا یہ قدیم چھت ہے ..میں نے سبز دروازے سے احترام کے ساتھ اجازت مانگی اندر جانے کی تو وہ شفقت سے مسکرادیا ..تخت، گائوتکیے. تخت پوش . تصویروں کے فریم جدھر نظر ڈالی تاریخ آویزاں نظر آئی،اس تخت پر بیٹھ کے مجھے لگا وہ تخت اڑائے لئے جارہا ہے مجھے گزشتہ زمانوں میں ..میں دیکھ رہی ہوں ..کس کس کو دیکھ رہی ہوں اللہ اللہ سرسید ہیں مولانا محمد حسین آزاد ہیں اقبال ہیں اکبر الہ آبادی ہیں …کون نہیں ہے ..وہ چل رہے ہیں وہ پھر رہے ہیں وہ آ رہے ہیں وہ جارہے ہیں.
نور چائے لاچکے تھے تخت کے نیچے سے پلاسٹک کے بڑے سے ڈبے کوگھسیٹ کے نور نے حضرت نظامی ثانی کے حکم کے مطابق بیتے ہوئے تما م ایام کو نکال ..یہ تصویر دیکھئے ..دیکھا آپ نے یہ سب اس گھر میں آچکے ہیں ایک کے بعد ایک نور بڑی بڑی سائز کی تصویریں نکالتے اور میں اس گھر کی خوش قسمتی پر رشک کرتی رہی ممکن ہے دوست محمد خان صاحب میرے اس شوق کے نظارے سے اللجھ رہے ہوں مگر بیچارے شریف انسان چپ چاپ بیٹھے رہے..
سر اس ٹوپی کی کیا کوئی تاریخی اہمیت ہے یہ اس شکل میں کیوں ہے اسکا رنگ پیلا کیوں ہے..حضرت نے ٹوپی سر سے اتاری اور مجھے دکھائی
یہ دیکھ رہی ہیں نا اس میں چار تکونے ٹکڑے جڑے ہوئے ہیں اس ٹوپی کو کلاہ چہار ترکی کہتے ہیں اور یہ ٹوپی اوڑھنے والا دینا وی چار چیزوں کو چھو ڑ دیتا ہے انہوں نے اپنے خدمت گار نور کو آواز دی بھئی اصل ٹوپی لیکے آئو ..حضرت نے دکھایا دیکھئے یہ جو گہرازرد رنگ ہے اصل رنگ یہ ہے ٹو پی کا.. رنگ کے سوال پر وہ توجہ نہیں دے سکے اپنی باتوں کی دھن میں اور میں نے دوبارہ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا دل چاہ رہا تھا کہ پوچھوں کہ آپ نے کونسی چار چیزیں ترک کیں مگر ہمت نہیں ہوئی پھر بھی ایک سوال کے لئے تو سوچا کہ دیکھا جائے گا اگر حضرت کو خفگی ہوئی تو معافی مانگ لونگی مگر پوچھ لینا چاہئے کہ بھلا
پھر یہ موقع کہاں ملے گا سو میں نے اپنے لہجے کے تمامتر ادب کو اکٹھا کیا اور ہمت کرکے پوچھا ..سر بے ادبی تو ہے مگر اجازت ہو تو
ایک سوال پوچھوں ..وہ مسکرائے ضرور پوچھئے..سر آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟
ہمارے والد نے بس کہہ دیا تھا کہ ہمیں کسی اور کام کے لئے چن لیا گیا ہے اور والدہ کو بھی ایک خاتوں سے بات کرتے سنا تھا کہ "حسن ثانی کو تو قدرت نے کسی اور کام کے لئے چن لیا ہے اسکی شادی نہیں ہو سکتی” بس پھر ہمارا دھیان اسطرف نہیں گیا..تھوڑا توقف کیا اور پھر بولے وہ صاحب ہمیں اپنی بیٹی دینا چاہتے تھے( نام بتایا تھا ان صاحب کامگر مجھے یا د نہیں رہا) یہ جملہ کچھ اچانک آیا تھا جیسے کسی یاد کا دفتر کھل گیا ہو انکی سوچو ں میں پھر تصویریں دکھاتے ہوئے جس میں کئی بچیا ں اور بچے تھے ایک تصویر پر ایک بچی کی انگلی رکھی …انکے والد ہمیں اپنی بیٹی دینا چاہتے تھے
میںے تصویر کو غور سے دیکھا ..نہ جانے وہ واقعی مجھے کچھ بتا نا چاہ رہے تھے میرے سوال کے جواب میں کہ "سر آپ نے شادی کیوں نہیں کی” یا یہ میری اپنی سوچ کی اڑان تھی .. مجھے اس تصویر کے ساتھ ہی یاد آیا گلی سے گزر تے ہوئے انکا اپنے آپ میں گم خود سے مخاطب رہ کے زیر لب بار بار دہرانا..نہ جنوں رہا نہ پری رہی
انکے چہرے کی مقدس شکنوں میں سے کوئی شکن تھی تو جو خبر تحیر عشق کانقش خود میں سمیٹے اپنے وجدان میں گم تھی
نہ جنوں رہا نہ پری رہی
…حسن نظامی ثانی میرے ساتھ پرانی اور خراب حال گلیوں سے گزر رہے ہیں اور زیر لب کہہ رہے ہیں ..نہ جنوں رہا نہ پری رہی ..نہ پری رہی..میں ان کے برابر بیٹھی تصویریں دیکھ رہی ہوں اور بہت.. کچھ نہ جانے کیا کیا کچھ دیکھ رہی ہوں
ایک صدی سے ذیادہ پرانی شال لپیٹے میں اس گھر سے نکلی تو دور تک
وہ دہلیز مجھے رخصت کرنے آئی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے