کائناتِ شعر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لکھی ہے ہم نے باوضو ہو کر حدیثِ دل
پڑھیے حضور اس کو بڑے احترام سے
اتری ہے شب کے پچھلے پہر اوس کی طرح
پلکوں پہ جم گئی ہے بڑے اہتمام سے
” زرد موسم کا عذاب ” میرا پہلا شعری مجموعہ ہے جو 1991 میں چھپا تھا اس مجموعہ میں میری 1970 اور 1980 کی دہائی کی شاعری شامل ہے ، اس میں بیشر شاعری میرے زمانہءِ طالب علمی کی ہے
آج جب میں اس دور کو یاد کرتا ہوں تو بہت سی حیرتیں مجھے گیھر لیتی ہیں – میں سمجھ نہیں سکا کہ میں نے اپنے پہلے شعری مجموعہ کا نام آخر ” زرد موسم کا عذاب” ہی کیوں رکھا – مجھے یاد ہے کہ میں نے اس مجموعہ کے ٹائٹل کے حوالے سے اس وقت سرگودھا کے مشہور ٹائٹل ڈیزائنر فیصل سے بار بار ٹائٹل کو بہتر کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ میں ایسا ٹائٹل چاہتا ہوں جو رنگوں کے ذریعے شعری مجموعہ کے مجموعی تآثر کو نمایاں کرے-
کافی ٹائٹل بنانے کے بعد ایک ڈیزائن پر اتفاق ہوا جو اب اس مجموعہ کا سر ورق ہے – اس مجموعہ کے لیے ٹائٹل کا جو شعر منتخب کیا گیا وہ بھی اب مجھے حیرت زدہ کرتا ہے یعنی
کیا خبر تھی فصلِ گل کی آرزو کرنے کے بعد
عمر بھر سہنا پڑے گا زرد موسم کا عذاب
سوچتا ہوں کہ طالب علمی کے دور میں ایسی شاعری، مجموعہ کا نام ، ٹائٹل اور ٹائٹل کا شعر آخر کس طرزِ فکر کی نمائندگی کرتا ہے – طالب علمی کے دور میں تو موضوعات کا انتخاب کچھ اور ہوتا ہے جن میں رنگوں کی خوشبو کی بات کی جاتی ہے حسنِ فطرت اور حسنِ انسان سے جڑی کیفیات اور جذبے شعر کا رزق بنتے ہیں- اس مجموعہ میں ایسی شاعری بھی گرچہ ہے مگر بہت کم ہے
کچھ غزلوں کے اشعار دیکھیں جو مجموعہ کے مجموعی مزاج کی ترجمانی کرتے ہیں
بھگت رہا ہے زمانہ ازل سے اس کی سزا
کیا تھا جرم جو یزداں کے روبرو میں نے
میں اس جہان میں آیا ہوں زندگی لے کر
جہاں پر موت ہی دیکھی ہے چار سو میں نے
٭٭٭٭٭٭٭٭
کیسا یہ دلخراش سا منظر ہے سامنے
گم صم کھڑا ہوں جلتا ہوا گھر ہے سامنے
دشتَ بلا سے کم نہیں شہروں کی زندگی
ہر اک قدم پہ خوف کا پیکر ہے سامنے
جائیں کہاں لے گی کہاں عافیت ہمیں
اک عہدِ فتنہ ساز و ستم گر ہے سامنے
جس نے کیا تھا وحدتِ ملت کو پاش پاش
ویسا ہی اک عذاب مکرر ہے سامنے
٭٭٭٭٭٭٭
نئی تہذیب کی صورت بدل جائے تو اچھا ہے
جنوں خیزی کا یہ طوفان ٹل جائے تو اچھا ہے
مرے بگڑے ہوئے ماحول کے انساں کا وحشی پن
شرافت کے کسی سانچے میں ڈھل جائے تو اچھا ہے
جو اندھا بھی ہے اور منہ زور بھی اور مضطرب بھی ہے
وہ جوبن وقت سے پہلے ہی ڈھل جائے تو اچھا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آ کے رہتا ہے وہاں پر انقلاب
ہو جہاں آوے کا آوا ہی خراب
عدل کا ہم سے ہوا نہ اہتمام
کیسے کم ہو گا دلوں کا اضطراب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پل رہا ہے جو تمدن بے حسی کی گود میں
اس کی ہر بستی میں اب یومِ حساب آنے کو ہے
جب پرندے بے سبب خاموش ہوں تو جان لو
آندھیاں اٹھنے کو ہیں موسم خراب آنے کو ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سجا دی ہیں در و دیوار پر عریانیاں کس نے
مرے ماحول کو بخشی ہیں یہ بدنامیاں کس نے
یہ کس نے ہر قدم پر بے یقینی کے شجر بوئے
جبینِ وقت پر لکھی ہیں یہ محرومیاں کس نے
جوانوں کے لبوں پر کیوں بغاوت کے ترانے ہیں
اتاری ہیں لہو میں اس قدر بے تابیاں کس نے
وطن کے بام و در پہ وحشتوں کا رقص کیسا ہے مرے شہروں میں پھیلائی ہیں یہ بربادیاں کس نے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایسے اور بھی بہت سے اشعار ہیں جو نقل کیے جا سکتے ہیں – اب نظم کے حصے سے کچھ نظمیں
یہ افسردہ
تھکی ہاری
دریدہ پیرہن کے روزنوں سے جھانکتی
دم توڑتی مخلوق
کس کی بے حسی پر
نوحہ خواں ہے؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہمارا ہر قدم
اٹھنے سے پہلے
کسی نادیدہ طاقت کے تسلط کے سبب
تھکن محسوس کرتا ہے
ہماری آرزو !
احساس کی دہلیز پر آنے سے پہلے
فنا کے خوف سے دم توڑ جاتی ہے
ہمیں شاید
ابھی کچھ دیر
تاریکی میں رہنا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں ان آنکھوں سے
لا تعداد خوں آشام منظر دیکھ کر
یہ سوچتا ہوں
کہ میری کل کا سورج
اور کتنی وحشتیں ہمراہ لائے گا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مسلسل حیرتیں
بے رنگ تصویریں
نا مہرباں لمحے
مرا زادِ سفر ہیں
اور
میں تنہا مسافر
کسی موہوم سی امید کی انگلی پکڑ کر
مسلسل چل رہا ہوں
خوف کے صحرائے اعظم میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم احباب
میں نے یہ چند نمونے اپنے پہلے مجموعہ سے نقل کیے ہیں – آج 2024 ہے میں سوچتا ہوں کیا 1970 کی دہائی ہمارے نظام فکر میں ٹھہر گئی ہے یا اس دہائی کی فکر 2024 تک آتے آتے زیادہ تقویت پکڑ چکی ہے- آپ درج بالا اشعار کو آج یعنی سالِ گزشتہ اور 2024 کے تناظر میں دیکھیں –
ہم آج جو دیکھ رہے ہیں جو سہہ رہے ہیں جو محسوس کر رہے ہیں اور جو لکھ رہے ہیں کیا یہ ہماری زبوں حالی کا تسلسل اور ایک متوازی اور حقیقی تاریخ نہیں ہے-
اگر آپ بھی میری طرح حیرت زدہ ہیں تو کیا اس حیرت کو ہمارے مجموعی مزاج کے لیے المیہ نہیں کہا جا سکتا اور کیا ایک تخلیق کار اس سے زیادہ بھی کوئی کردار ادا کر سکتا ہے –
ہم نے کب لکھی نہیں ہے داستاں
کیا مستقبل کا مؤرخ اس عہد اور گزشتہ ادوار کے تخلیق کاروں کی سوچ، فکر اور اذیتوں سے صرفِ نظر کر سکے گا –
اور ایک اہم بات جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ تخلیقی دھارے کسی کائناتی نظام کا حصہ نہیں ہیں کیا یہ آگہی ہمارے طرزِ عمل کے خدو خال نمایاں کرنے اور اپنی سمت درست کرنے کا فطرت کا کوئی اشارہ نہیں ہیں
اقبال نے کہا تھا
جو بات حق ہو وہ مجھ سے چھپی نہیں رہتی
خدا نے مجھ کو دیا ہے دلِ خبیر و بصیر
ایک تخلیق کار تخلیقی کے لمحوں میں عرفان و آگہی کے کس مقام پر ہوتا ہے اس پر غور تو کرنا چاہیے –
شاعری تقاضا کرتی ہے کہ اسے بڑی یکسوئی اور توجہ سے پڑھا جائے اور پسِ الفاظ جو منظر نامہ ہے اس تک رسائی حاصل کی جائے تا کہ ہم نئے جہاںوں اور تخلیق کی وادیوں میں اتر کر نئے امکانات کا شعور حاصل کر سکیں-
بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں مگر طوالت کے خوف سے اسی پر اکتفا کرتا ہوں اگر میرے یہ چند الفاظ کسی بھی دوست کے فکری نظام کو متحرک کر سکے تو میں سمجھوں گا میرا لکھا رائگاں نہیں گیا
سلامت رہیں احباب
دعا گو
یوسف خالد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے