سر سید اور اقبال
تحریر:حافظ صفوان محمد چوہان

اقبال کے یومِ پیدائش پر آج ایک پڑھے لکھے دوست کی تقریر سنی۔ پہلا امپریشن یہی بنا کہ سر سید اور اقبال دونوں کچھ نہیں کھاتے تھے سوائے ہندوستانی مسلمانوں کا غم کھانے کے، اور کچھ نہیں پیتے تھے سوائے انگریز کی چیرہ دستیوں پر غصے کے گھونٹ پینے کے۔ سوچا کہ مجھے موقع ملتا تو میں کیا بولتا۔ یہ نکات فی البدیہہ لکھ رہا ہوں۔
۱: سر سید اور اقبال دونوں انگریز کے فعال عہد میں پیدا ہوئے، جیے اور مرے۔ سر سید آزاد ہندوستان میں پیدا ہوئے اور زندگی کے آخری بیالیس برس غلامی میں بسر کیے جب کہ اقبال کی پیدائش سے وفات تک تاجِ برطانیہ کا راج رہا۔ چنانچہ دونوں کا مابعد نوآبادیاتی مطالعہ آزادی اور غلامی کی کلید پر ہوگا۔
۲: سر سید اور اقبال دونوں کو وفات تک انگریز کی غلامی سے آزادی کا شائبہ تک محسوس نہ ہوا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انگریز کا راج کبھی ختم بھی ہوسکتا ہے۔ چنانچہ اقبال کی تحریروں میں آزادی یا علیحدگی کی نہیں، صرف انتظامی تبدیلیوں کی تجاویز ملتی ہیں۔ اِسی طرح سر سید کی تحریروں میں دہلی کی پنجاب میں Annexation پر سخت برہمی ملتی ہےلیکن چونکہ وہ خود دہلی اور پنجاب صوبہ سے دور جا بسے تھے اِس لیے یہ ذکر اُن کی آخری دور کی تحریروں میں نہیں ملتا اور وہ دہلی کے اِس نئے انتظامی بندوبست کو گویا تقدیر کا لکھا سمجھ کے قبول کر گئے تھے۔
۳: سر سید اور اقبال دونوں بنیادی طور پر سیاسی آدمی تھے۔ سر سید نے انڈین نیشنل کانگریس کے قیام کے وقت مسلمانوں کو الگ سیاسی تشخص قائم کرنے کا مشورہ دیا اور اپنی زندگی کے باقی تقریبًا اٹھارہ برس اِس تشخص کی پیدائش اور پرداخت میں لگا دیے۔ وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو اقبال نے اِس جداگانہ سیاسی تشخص سے عملی فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں وقت اور صلاحیت خرچ کی۔
۴: سر سید کی عملی کوششیں ہندوستان اور ہندوستانیوں اور ازاں بعد ہندوستانی مسلمانوں کی بہبودی کے لیے تھیں اور اقبال کی ہندوستانی مسلمانوں کے لیے۔ سر سید میں بھی اگرچہ کہیں کہیں اہداف کی تبدیلی کی وجہ سے یکسوئی کا فقدان محسوس ہوتا ہے تاہم اقبال میں یکسوئی کا فقدان بہت زیادہ ہے۔ البتہ سر سید تازندگی صرف اور صرف قابلِ حصول تعمیری اہداف کے پیچھے رہے جب کہ اقبال شاعری جیسے غیر تعمیری کام میں زیادہ وقت صرف کرتے رہے۔ مثال لیجیے کہ سر سید نے جگہ جگہ پر مسلمانوں کو تعلیمی و تربیتی ادارے بنانے اور لوگوں کو ذرائع معاش پیدا کرنے میں لگایا۔ اقبال کی زندگی عوامی نوعیت کے ایسے کسی بھی perpetual عملی اقدام سے خالی ہے۔
۵: مغرب سے باقاعدہ تعلیم پائے ہوئے اقبال کو اصولًا زیادہ فوکسڈ اور نتائجیت آسا ہونا چاہیے تھا لیکن وہ عملًا ایسے محسوس نہیں ہوتے۔ اِس کوتاہ عملی کے اسباب میں ایک بڑا سبب اُن کا الہلال اور البلاغ جیسے مقتدرائی اخبارات کے طاری کیے ہوئے فسوں کا شکار ہونا بھی ممکن ہے۔ اقبال کے عملی و فکری انتشار کی بلکہ بے عملی کی صرف ایک مثال لیجیے کہ وہ (غالبًا شعر گوئی جیسے غیر تعمیری مشغلے میں لگے رہنے کی وجہ سے) 1926ء سے پہلے کسی قومی سماجی یا سیاسی سرگرمی میں شامل نظر نہیں آتے سوائے انجمنِ حمایتِ اسلام کے جلسوں میں شعر گوئی کے۔ یہیں سے یہ وجہ بھی سمجھ آتی ہے کہ اقبال کو نائٹ ہڈ دلانے کے لیے قدآور مسلمانوں نے کیوں کوششیں کیں۔ سر سید کو نائٹ ہڈ دلانے میں کسی مسلمان کا کوئی کردار نہیں ہے۔
۶: سر سید اور اقبال دونوں کی عملی اور فکری کوششوں میں تخریب کا کوئی عنصر اور انگریز سے بغاوت کا کوئی شبہ نہیں ہے۔
۷: سر سید نے اپنی براہِ راست علمی و فکری میراث (کا ایک پہلو) سید امیر علی کی صورت میں اور سیاسی میراث محسن الملک اور دیگر دھاکڑ بنگالی مسلم سیاستدانوں کی صورت میں چھوڑی جب کہ اقبال کی علمی و فکری میراث اور سیاسی میراث پاکستانی مسلمانوں کو منتقل ہوئی۔ سر سید کی علمی، فکری اور سیاسی میراث کو علی گڑھ کالج نے سنبھالا۔ اقبال آفاقی ہوگئے۔
۸: سر سید نے اقبال کی نسبت کہیں زیادہ عملی کام کیے اور قانون سازی میں بھی بڑے کام کیے مثلًا قانونِ ٹیکۂ چیچک، قانونِ تقررِ قاضیان، قانونِ وقفِ خاندانی، اور مختلف قوانین پر وائسرائے کونسل میں گفتگو جیسے البرٹ بل پر۔ اقبال کی عملی زندگی میں ایسا یا ایسی سطح کا کوئی کام نہیں ہے۔
۹: سر سید اور اقبال کی اردو اور زبان و اسلوب کے لیے کوششوں میں بنیادی فرق ہے۔ سر سید نے زبان، رسمِ خط اور زبان کی تعلیم و نفاذ و اشاعت (ہر دو معنی میں) کے لیے دور رس عملی کام اور اقدامات کیے جب کہ اقبال نے محض ادبی نوعیت کی کچھ تگ و تاز کی۔ چنانچہ بغور دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سر سید کی لکھی برتی اردو میں کوئی بڑی کجی یا داخلی انتشار / ناہم آہنگی نہیں ہے جب کہ اقبال کا املا تک آج بھی مصلحین کی خوش فعلیوں کا ہدف اور مشاہروں کا سبب بنتا رہتا ہے۔ اِس قیل و قال سے اِس نتیجے پہ پہنچنا بھی بدیہی ہے کہ سر سید نے غالب کی تنقید سے عملی زندگی میں بھی فائدہ اٹھایا جب کہ اقبال نے غالب سے محض ادبی فائدہ ہی پایا۔
۱۰: سر سید اور اقبال میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ سر سید مستقبل آسا ہیں جب کہ اقبال ماضی آسا۔ چنانچہ اقبال نوحہ خواں ہے اور سر سید ریفارمر۔ ماضی پرستی اور مستقبل اندیشی میں دن اور رات جیسا یعنی سیاہ و سفید جیسا فرق ہے۔ کہاں سر سید اور کہاں اقبال؟
تلک عشرۃٌ کاملہ
حافظ صفوان
بہاول پور: 9 نومبر 2022ء

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے