منفرد لہجے ، نئے آہنگ اور جدید تخیل کے حامل بے مثال و ممتاز شاعر دلاور علی موجودہ ادبی منظر نامے میں اپنی ایک منفرد اور جداگانہ پہچان رکھتے ہیں ۔ دلاور علی آزر نئی غزل کا ایک اہم اور بڑا نام ہے ، جن کی شاعری میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے.
گزشتہ روز دلاور علی آزر صاحب کی غزلیات کی نئی کتاب ” ابجد” بذریعہ ڈاک موصول ہوئی، اُن کی پچھلی کتابوں کی طرح ابجد بھی غزلیات کی ایک بہترین کتاب ہے، کتاب کے پسِ ورق پر جناب خورشید رضوی لکھتے ہیں کہ” لہجے کا نیا پن دلاور علی آزر کی شناخت ہے جو غزل کے علاوہ دیگر اصناف میں بھی اس کی انفرادیت کو قائم رکھتا ہے ” میں دلاور علی آزر کا پرانا قاری ہونے کے ناطے خورشید رضوی صاحب کی بات کی بھرپور تائید کرتا ہوں.
ابجد کی اشاعت پر میں جناب دلاور علی آزر کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اس انمول ادبی تحفے پر میں اُن کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ تعالٰی دلاور علی آزر صاحب کو ادبی میدان میں مزید ڈھیروں کامیابیاں عطا فرمائے آمین
دعاگو : عتیق الرحمٰن صفی
صدر گجرات ادبی فورم
ابجد سے ایک خوبصورت غزل پیشِ خدمت ہے
فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے
خاک ہو جائیں گے ہم لوگ ہمارا کیا ہے
جیتنے والوں کا ہم کو نہیں کچھ علم کہ ہم
ہار کر سوچتے رہتے ہیں کہ ہارا کیا ہے
دیکھو اے عمرِ رواں خواہشیں رہ جائیں گی
تم گزر جاؤ گی چپکے سے تمھارا کیا ہے
تہ بہ تہ دھڑکنیں تجسیم ہوئی جاتی ہیں
پے بہ پے اُس نے مرے دل سے گزارا کیا ہے
وہ اگر دیکھ لے اک بار محبت سے تو پھر
ذرہء خاک چمک اُٹھے ستارہ کیا ہے
ناؤ کس چڑیا کو کہتے ہیں ہمیں کیا معلوم
لہر کیا شے ہے، ندی کیا ہے، کنارہ کیا ہے
خواب میں ہم کو فلک پار بلاتا ہے کوئی
جانے کیا نام ہے اُس کا وہ ہمارا کیا ہے
سوچنا یہ ہے کہ آزر ہمیں جانا ہے کہاں
دیکھنا یہ ہے مقدر کا اشارہ کیا ہے
شاعر : دلاور علی آزر
انتخاب از مجموعہء کلام "ابجد”


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے