پوٹھوار کی زبان اور قرآن عزیز !!

تے اساں قرآن کی سمجھنے آسطے سوکھا کری شوڑیا
تے کوئی تھیا جہڑا سوچے سمجھے ( القمر : 17)
محمد شریف شاد !!

( سابق ڈائریکٹر پروگرامز ریڈیو پاکستان )
زربخت ہیں کہ جنہوں نے علم کو نعمت و دانائی سے تعبیر کرتے ہوئے خطہ پوٹھوہار میں دل کی پاکیزگی ،لطافت اور آنکھوں کے نور سے معرفتِ الٰہی اور عشقِ رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے خزانے کو اپنی مادر مہربان پوٹھواری زبان میں قرآن مجید کی تلاوت کو رعنائی خیال دی ہے۔۔۔۔۔۔تلاوت کے لئے مادری زبان کو صحیفہ حیاتی سے تنویر کیا ہےکہ پروردگار عالم نے ہر انسان کی مادری زبان کو میری اپنی رچناوی زبان کا کھلار بنا دیا ہے۔
نسیم سحر نے کہا تھا :
کسی سے دشمنی کرتا نہیں میں
مجھے اک صلح جو مذہب ملا ہے
ہر شخص کو   اپنی مادری زبان سے رغبت ہوتی ہے۔ دنیا کے ہر خطے میں سے یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق چار ہزار کے لگ بھگ زبانوں کا وجود زندہ ہے۔ جسے ہر شخص بولنے پہ قدرت نہیں رکھ سکتا مگر دو زبانیں ایسی ہیں کہ جنہیں ہر شخص سمجھتا ہے۔ ان میں سے ایک طاقت کی زبان ہے اور دوسری دولت کی زبان ۔۔۔۔۔۔مگر اس سے بھی ایک اور زبان زیادہ طاقتور ترین ہے اور وہ ہے محبت کی زبان۔۔۔۔۔۔۔جسے زوال کبھی نہیں آسکتا ۔
لفظ کا کلچر کبھی ختم نہیں ہو سکتا اگرچہ اب غلبہ امیج کے کلچر کو حاصل ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ علم سے آگہی حاصل ہوتی ہے اور آگہی ہی انسان کی تہذیب و ترقی کا زینہ بن کر اس کو عظمتوں اور رفعتوں سے ہمکنار کرتی ہے۔خالق کائنات کا انتہائی کرم ہےکہ اس ذات پاک نے انسان کو صاحب علم بنایا ، جو اس کی بلند ترین صفت ہے اور یہی نہیں بلکہ اس کو قلم کے ذریعے لکھنے کا فن بھی سکھایا جو بڑے پیمانے پر علم کی ترویج و ترقی، اشاعت اور نسل درنسل اس کی بقا و تحفظ کا ضامن بنا۔اسی لئے دنیا کے دیگر مزاہب میں علم حاصل کرنا ایک ضرورت ہے مگر دین اسلام میں ہر مرد وعورت کے لئے فرض قرار دیا گیا ہے۔
قرآن مجید
عربی مبین کی زبان میں ہے ۔۔۔فارسی ہماری تہذیبی زبان اور اردو زبان ہمارے خطہ پاک کی قومی زبان ہے مگر ہماری دھرتی کے باسیوں کی مادری زبان ہر بیس کوس کے بعد فطری طور پر بدلتی جاتی ہے۔ یہ سب زبانیں اپنی اپنی جگہ پر پاکستانی ہیں اور محبوب ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہم پاکستانی زبانوں سے شناسائی اور رسائی حاصل کریں تاکہ یک جہتی کو استحکام حاصل ہو۔۔۔۔۔
قرآن مجید
وہ کتاب ہے جو درس انقلاب ہے۔اس انقلابی پیغام کو ہر عاقل اور بالغ تک پوری شرح و بسط سے رگ و پے میں سرایت کرنا آفاقی منشور کی زیبائی ہے۔ قرآن مجید میں غوطہ زن ہوں گے تو ہر طرف پھول ہی پھول کھلیں گے۔
تلاوت قرآن پاک 
ثواب اپنی جگہ پر مگر اس کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا سب سے پہلے ہے۔ ورنہ دل کی زمین بنجر رہے گی۔۔۔۔۔قرآن کا مخاطب انسان ہے خواہ وہ کسی زمانے کا ہو اور اس کی مادری زبان کہیں کی بھی ہو ۔ ہر دور کی ضرورت اور اس کے مسائل کے حل کی کلید قرآن مجید ہی ہے۔ قرآن مجید خود پکار پکار کر پیغام سرمدی کو ابدیت دیتا ہے کہ :
جس کو دانائی ملی بے شک اس کو بڑی نعمت ملی۔
( سورتہ البقرہ : آیت 269 )
پڑھو اور آپ کا رب بڑا ہی کرم کرنے والا ہے جس نے سکھایا ( پڑھایا انسان کو ) قلم کے ذریعے ۔
( سورتہ العلق : آیت 3..4 )
محمد شریف شاد  نے خطہ پوٹھوار کے قلوب میں اپنی محبوب علاقائی زبان کے زریعے قرآن مجید کے رس کو چس بنایا ہے تاکہ وہ آسمان کو چھونے کی آرزو کو تکمیل کا گلاب رستہ دکھا سکے ۔
مترجم   نے مولانا فتح محمد جالندھری کے اردو ترجمے سے اپنی مادری زبان پوٹھواری ۔۔۔۔۔میں قرآن مجید کی تفہیم کو آسان بنایا ہے۔ دیدہ زیب کتابت ، 856 بڑے رنگدار صفحات ، اول اللہ کی اسم ذات سے 99 الا سما ءالحسنی اور اختتامی دونوں صفحات پر محمد ( بہت تعریف کیا ہوا ) کے اسمائے النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے اردو ترجمہ سے منور کیا ہے۔
میری زاتی رائے میں   سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ کا تفہیم القرآن ۔۔۔۔اردوئے متین میں اولی ہے کہ وہاں ترجمہ نہیں بلکہ ترجمانی کرتا ہے۔ قرآن مجید جیسی الہامی اور نجیب عربی زبان کا ابلاغ کسی بھی دوسری زبان میں منتقل کرنا انسانی کاوش سے بالاتر ہے۔ اللہ کی زبان ہے اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اس کے اصل میں ترجمان ہیں۔
فخر ہے اور مان ہے ان صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی غلامی پر مجھے
میرے آقا عقل و دانش ،میرے آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم علم و فن !!
یہ عطا اللہ کی تھی ،عکس تھا قرآن کا
مرتکز تھا ذات اقدس صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم میں جو سارا علم و فن
یہ عطا اللہ کی ہم پر ہوئی ان صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے طفیل
ورنہ کس گنتی میں ہم ہیں اور ہمارا علم و فن
(۔ محور دو جہاں ۔۔۔نسیم سحر )
صاحبو !!
میری خوش قسمتی کہ خیابان سرسید ، راولپنڈی سے ایک ہزار گز کی دوری پر دورویہ سڑک عبور کرتے ہی اسلام آباد میں میرے نہایت مہربان محبتی ۔۔۔۔۔جبار مرزا ۔۔۔۔ہمیشہ مجھےخوشگوار حیرت کی انتہا میں کتابوں سے استفادہ کرنے کا چمنستان کرم گستر کھلا رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
جس تپاک سے دو دن قبل راولپنڈی آرٹس کونسل میں اچانک طویل وقفے کے بعد پرجوش خیر مقدم کیا ، اسی خوشگوار حیرت کے حجرے میں اسلام ،پاکستان اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کے فصیح اللسان کی توانا اور بلند آھنگ نقیب سے موتی چننا لازم تھا۔
۔29 دسمبر 2020ء کے ڈوبتے سمے قرآن مجید کے پوٹھواری ترجمے کی تجلیاتِ انوار سے مستنیر فرمایا۔ دیگر دو تحائف کے ساتھ مالا مال کیا۔۔سلامت رہیں کہ وہ چراغ سے چراغ روشن رکھنے کی توفیق ربانی کی خوشبو پھیلانے کا ہنر جانتے ہیں اور ہم جیسے رچناوی زبان کے ان گھڑت کے لئے رزق علم چننے کے الاؤ کو مدھم نہیں ہونے دیتے۔
اللہ کریم کی نصرت سے مجھے تلاوت قرآن پاک میں سرور حاصل ہؤا تو ایک طرف پوٹھواری زبان کے محترم مترجم قرآن مجید ۔۔۔۔محمد شریف شاد ۔۔۔کے لئے ڈھیروں مبارکباد کے پھول نچھاور کرنے کے لئے دل سے برکت کثیر کی دعائیں زبان پر دستخط کرنے آئیں کہ مادری زبان کو اشتیاق قرآن مجید بنا دیا ہے تو دوسری طرف اپنے ۔۔۔۔جبار مرزا۔۔۔کے ذوق تحقیق کو داد دی کہ وہ میرے شوق کی چنگیر میں انمول رتن سے بھرتے بتاتے ہیں کہ:
قرآن کریم میری زندگی ہے۔
منیر ابنِ رزمی
2022 ء دسمبر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے