جھنگ ۔۔۔ جہاں میں نے جنم لیا ، اس جہان کو دیکھنا شروع کیا ، ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلنا اور پھربھاگنا شروع کیا ، میرا بچپن جھنگ میں گزرا ہر چیز سے پہلا تعارف جھنگ میں ہوا ، میرے کانوں میں نئی نئی آوازیں اپنے رس بکھیرتیں اور میں اُن کے بارے میں اندازے لگاتا، الٹا اخبار بچھا کر اُس پر بیٹھ کر پڑھنے کی کوشش کرتا ، سکول میں داخلے کا انتظار میرے لئے لمبا انتظار تھا میں اخبار سے الفاظ دیکھ کر نقل کرنے کی کوشش کرتا لفظ بناتا سلیٹ پر ، زمین پر ، کاپی پر یہی وجہ ہے کہ آج بھی کئی الفاظ الٹے لکھتا ہوں میرے ٹیچرز میرے دوست حیران ہوتے تھے کہ الٹا کیوں لکھتا ہوں اور میں حیرت سے دیکھتا کہ میں نے کب الٹا لکھا ؟ الٹا لکھنے سے مراد یہ ہے کہ اگر لفظ عطیہ لکھنا ہے تو میں ہ سے شروع کرتا اور ع تک آتا ، اب اخبار نے مجھے تھوڑی بتانا تھا کہ میاں سیدھا لکھو۔ ابھی تک بہت سے الفاظ الٹے لکھتا ہوں۔
ریل بازار جھنگ میں باٹا شوز کی دوکان پر میرے والد صاحب مینیجر ہوا کرتے تھے اوپر فلیٹ میں ہم رہا کرتے تھے سارے پہلے احساسات نے جنم اسی فلیٹ میں لیا ، میں نے اپنے بچپن کے ابتدائی چند سال جھنگ میں گزارے اُس کے بعد کبھی جھنگ جانا نہیں ہوا۔ فلیٹ کے پیچھے کٹرہ بیر والا ہوتا تھا جس کا ایک ایک منظر میری آنکھوں میں قید ہے فلیٹ کی سیڑھیوں سے گرا اور لڑھکتا ہوا ایک درخت کے نیچے بندھی بھینس کے پاس جا گرا اتنی بڑی بھینس کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں آنکھیں کھولیں تو ایک بزرگ مجھے اُ ٹھائے میرے والد صاحب کے پاس جا رہے تھے ۔
سکیرڈ ہارٹ سکول ، ریل بازار ، دھجی روڈ برف خانہ، شہید روڈ ، فردوس سینما والی گلی، مائی ہیر کا مزار اور ہم بھائیوں کو سکول لے جانے والا صابر ٹانگے والا مجھے آج بھی یاد ہیں، صبح جب صابر کے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز آتی تو دل کرتا یا اللہ یا اس صابر کا اُٹھا لے یا مجھے ، سکول جانا کسی قیامت سے کم نہ تھا ۔ سیکرڈ ہارٹ سکول کا نقشہ آج بھی یاد ہے گراؤنڈ، کلاس روم ، کینٹین ۔۔ ایک بڑی کلاس کا لڑکا میرا لنچ چھین کے کھا جاتا تھا اُس سے ڈر ہی اتنا لگتا تھا کبھی کسی کو بتانے کی ہمت نہ ہوئی اور ایک دن اچانک وہ غائب ہو گیا زندگی کتنی پرسکون ہو گئی تھی بتا نہیں سکتا۔
زندگی کے ابتدائی چند سال تک جھنگ میں رہا والد صاحب کی ٹرانسفرسیالکوٹ ہوگئی تو ہم سب گھر والے سیالکوٹ شفٹ ہوگئے اُس کے بعد کبھی جھنگ نہ گیا پر جھنگ ہمیشہ یاد آتا رہا جہاں جائے پیدائش لکھنا ہوتی جھنگ لکھتے ہوئے ایک عجیب سی خوشبو مجھے گھیر لیتی ، جھنگ کی خوشبو ، محبت کی خوشبو میں لاہور میں اس خوشبو کو تلاش کرتا رہا آج بھی کرتا ہوں ادبی حلقوں میں فرحت عباس شاہ جی سے ملاقات ہوئی تو اُسی خوشبو نے آن گھیرا اُن سے محبت کا ایک ایسا اٹوٹ رشتہ ہے کہ بیان نہیں کر سکتا ، علی نواز شاہ جی سے بھی اسی جھنگ کی نسبت سے بہت محبت ہے، بھائی جان حسین مجروح جہاں ملتے ہیں ہم جھنگ کا ذکر ضرور کرتے ہیں میں ان سے جھنگ کی گلیوں بازاروں کا پوچھتا ہوں موسم کا پوچھتا ہوں اور وہ بھی ہزار بار کہہ چکے ہیں کسی دن ہم ساتھ چلیں گے بس میں ہی نہیں جا پاتا ، علی اصغر عباس صاحب بہت محبت اور شفقت فرماتے ہیں مجھے بہت عزیز ہیں اُن سے محبت کی کئی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ جھنگ بھی ہے بے مثل انسان ہیں علی بھائی، بڑے بھائی ڈاکٹر محسن مگھیانہ جب بھی لاہور میں ملے ایسی شفقت اور محبت سے ملے کہ دل خوش ہو گیا ، انہیں مل کر لگتا ہے پورے جھنگ سے ملاقات ہو گئی ، بھائی توقیر عباس میرا سوہنا ویر ہے ، کئی سال بیت گئے ہماری دوستی کومحبت کو جہاں بھی ملاقات ہوتی ہے میں بھاگ کر گلے ملتا ہوں اور جھنگ کی خوشبو سمیٹ لیتا ہوں، بھائی سبطین رضا جھنگ جاتے ہوئے مجھے میسج کر کے موسم بتاتے ہیں سبطین بھائی سراپا محبت ہیں ۔ مخدوم امجد شاہ جی سے کافی کافی دیر فون پر جھنگ کی باتیں ہوتی ہیں ، بہت محبتی انسان ہیں شاہ جی ،بابا جی اقبال رمیض حیدری پیاری اور عزیز ترین ہستی ہیں مجھے بہت عزیز ہیں لاہور میں کچھ سال قبل ان کے ساتھ بِتائی شامیں امر ہیں ۔ علی نواز شاہ جی سے پاک ٹی ہاؤس میں ڈھیروں ملاقاتیں ہیں عزیز ترین ہستی ہیں ۔ سید عابدبخاری، ڈاکٹر عاصم بخاری دونوں بھائیوں سے الگ الگ ڈھیر ساری محبت ہے اور دونوں کو پتا ہے کہ وہ میرے دل میں بستے ہیں۔ محمد علی ظاہر بہت پیارا شاعر اور خوبصورت انسان ہے اُسے پتا بھی نہیں ہوگا میں اُس سے کتنی محبت کرتا ہوں کیوں کہ وہ بھی جھنگ سے ہیں ثمر محمد علی بھائی کی نفاستوں کے ہم سب قائل ہیں ثمر بھائی آپ جھنگ سے ہو سو عام دوستوں سے ذرا زیادہ ہی عزیز ہو، اسی طرح میرے دوست تنویر حسین جو آئی ٹی ایکسپرٹ ہے جھنگ سے ہیں لاہور میں ہوتے ہیں بہت محبت ہے مجھے تنویر سے ، بھائی اختر علی سے جب ملاقات ہوتی ہے میں بہانے سے جھنگ کا ذکر ضرور کرتا ہوں لاہور میں کوئی ملے اور جھنگ کا ذکر کرے میں چونک جاتا ہوں جن احباب کا یہاں ذکر کیا ان کو شائد پتا بھی نہیں ہوگا کہ میں بار بار اُن سے گلے کیوں ملتا ہوں مجھے جھنگ کی خوشبو آتی ہے ،مجھے جھنگ یاد آتا ہے، میں دوبارہ جھنگ جا ہی نہیں سکا، ایک بار ضرور جاؤں گا جھنگ ۔۔۔جو میری جنم بھومی ہے۔


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے