خود احتسابی-شوکت علی


سالِ رواں کی اختتامی محفل

ریڈیو ہموطن کی ٹیم نے وقتا فوقتا باہم مل بیٹھنے کے سلسلے کا آغاز کر رکھا ہے ۔ہم ریڈیو پر اپنا اپنا پروگرام تو کرتے ہی ہیں لیکن شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا تھا کہ ہم سب بیک وقت اکٹھے مل بیٹھیں چنانچہ اس کا حل یہ ڈھونڈا گیا کہ ایک دو ماہ کے وقفے کے ساتھ کبھی ایک اور کبھی دوسرے ٹیم ممبر کے ہاں محفل سجائی جاے جہاں ہم ہر موزوں پر خوب مشقِ سخن کیا کریں۔ اس دفعہ لگاتار دوسری مرتبہ یہ محفل ریڈیو ہموطن کے روحِ رواں رضا مصطفیٰ کی رہائش گاہ پر سجی۔ راقم اور نصر ملک مہمان خانے میں تشریف فرما تھے اسی اثنا میں رضا مصطفیٰ کمرے میں داخل ہوا اور السلام و علیکم کہنے کے بعد مصافحہ کرنے کے لیے ہماری طرف بڑھا۔ ہم نے بیٹھے بیٹھے اس سے ہاتھ ملایا تو رضا نے ایک غیر متوقع شکایتی تیر ہماری طرف داغ دیا کہ ریڈیو ہموطن کے ڈائریکٹر بننے کے بعد میں تکبر میں مبتلا ہو چکا ہوں جو اٹھ کر مصافحہ نہیں کیا بلکہ صوفے میں نیم دراز حالت میں لیٹے ہی اسکی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔اس پر نصر ملک نے یاد دلایا کہ بڑے بزرگوں سے آگے بڑھ کر سلام کرنا، سر پر دستِ شفقت اور دعا لینا ہماری تہذیب کا حصہ ہے لہذا رضا مصطفیٰ اپنی شکایت پر غور کرے۔ اسی اثنا میں باشی تشریف لاۓ تو رضا مصطفیٰ نے انھیں دروازے پر “مائی سویٹ ڈارلنگ باشی” کہہ کر خوش آمدید کہا تو میں اور نصر صاحب اس امتیازی رویے پر احتجاج کیے بغیر نہ رہ سکے کہ میزبان رضا مصطفیٰ نے ہمیں تو ایسے میٹھے اور دلرُبا انداز سے ویلکم نہیں کیا یوں اس محفل کا آغاز بے تکلفانہ شکوے شکایتوں سے ہوچکا تھا۔ اسی دوران خواتین کچن میں اس قیام کے طعام کا بندوبست کرنے میں مصروف تھیں۔
گفتگو کے آغاز میں مسلہ کشمیر کا ذکر چل پڑا تو نصر صاحب نے اس مسلہ کے آغاز میں اسوقت اقوامِ متحدہ میں پاکستانی وفد کے رکن سر ظفر اللّٰہ خان کو مسلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے بہترین انداز میں پیش کرنے پر سراہا جو کہ واقعی سراہنے کے قابل تھا کیونکہ انکی تقریر نے ہندوستانی وفد کے سربراہ سوامی آئینگر کی میراتھن تقریر کے سامعین پر اثر کو بلکل زائل کر دیا تھا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان جاننے لگے تھے کہ مسلہ کشمیر کا اصل ولن انڈیا ہے۔ راقم نے یاد دلایا کہ بھارت نے جس طرح آج کشمیر کی خصوصی حثیت کو ختم کر کے اپنے اندر ضم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے جس پر دنیا اپنی زبان پر تالے لگاۓ بیٹھی ہے اس طرح کی کوشش بھارت پہلے بھی کرتا رہا ہے۔ یہ ۱۹۵۶ء کی بات ہے جب ہندوستان نے اپنی صوبائی اسمبلیوں کی طرح کشمیر اسمبلی کے لیے بھی انتخاب کی تجویز پیش کی تھی اور اسکے ساتھ ہی ہندوستان کی مرکزی اسمبلی میں کشمیر کے نمائندے شامل کر کے کشمیر کو اپنے اندر ضم کرنے کی کوشش کی تھی۔ پاکستان کا ایک وفد اس وقت کے وزیرِ خارجہ سر فیروز خان نون کی قیادت میں اقوامِ متحدہ پہنچا تاکہ اس مسلہ پر سلامتی کونسل کی ہدایت حاصل کی جاسکے کہ ہندوستان غیر آئینی اور من مانی کاروائی کا مرتکب ہو رہا ہے چنانچہ سلامتی کونسل میں بھارت کے اس عمل کے خلاف قرارداد دس ووٹوں سے منظور ہوگئی اور ہندوستان کو ایسی کسی بھی کاروائی سے روک دیا گیا۔ روس نے راۓ شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ سر فیروز خان نون بتاتے ہیں کہ کشمیر کے مسٓلہ پر پاکستان کو اتنی شاندار کامیابی پہلی بار حاصل ہوئی تھی۔ مسٹر کرشنا مینن ہندوستانی مندوبین کے سربراہ تھے انکی تمام تر ذہانت دھری کی دھری رہ گئی اور انکی پُر پیچ لفاظی کو سبھی مندوبین نے “میننیات” یعنی خبط قرار دیا۔ نصر ملک کی سر ظفر اللّٰہ خان کی صلاحیتوں اور مسٓلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بہترین انداز میں لڑنے کے حوالے سے راقم نے ایک اہم نقطہ کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ بین الاقوامی سطح پر ایک وزیر خارجہ وہی کرتا ہے جو حکومتِ وقت کی پالیسی ہوتی ہے اور اس وقت ریاستِ پاکستان کے سربراہ قائد اعظم تھے جنکے بیانات پاکستان کے قیام سے پہلے ہی مسٓلہ فلسطین پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے راہنما اصول وضع کر چکے تھے جس کو سر ظفر اللّٰہ خان نے بہترین انداز سے ایک بین الاقوامی ادارے کے فورم پر آگے بڑھایا۔ نصر ملک نے اس بات سے مکمل اتفاق کیا۔
باشی قریشی پاکستان بزنس کونسل اور ڈنمارک میںُ مقیم پاکستانی عیسائی برداری کے ساتھ ملکر کرسمس کے حوالے سے ایک تقریب میں شرکت کر کے آۓ تھے جس کے مہمان خصوصی سفیر پاکستان جناب شعیب سرور تھے۔ باشی قریشی نے اس تقریب میں اپنی خطاب کے حوالے سے ایک عجیب بات بتائی جو ظاہر کرتی ہے کہ ہم اس قدر نیچ اور پست ہے کہ اگر اللّٰہ کی کتاب قرآن میں بیان کی گئی کوئی بات اپنے مفاد کے مطابق نہ لگے تو ہم اسے بھی پوشیدہ رکھنے کی کوشش کریں گے کہ اس بات کا پتہ دوسرے عقیدہ کے لوگوں کو نہ چل سکے۔ باشی قریشی نے بتایا کہ انھوں نے اپنے خطاب میں یہ ذکر کر دیا کہ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر چوبیس مرتبہ آیا ہے جبکہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر چار مرتبہ آیا ہے۔ جب وہ خطاب کر چکے تو اسی تقریب میں حاضر پچھلی نشستوں پر بیٹھے کسی پاکستانی نے ان سے گلہ اور ناراضگی کے انداز میں کہا کہ آپ کو یہ حوالہ دینے کی کیا ضرورت پڑی تھی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر قرآن میں یہ بات ایسے ہی ہے تو اسکو چھپایا کیوں جاۓ؟ جن صاحب نے گلہ کیا تو کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت میں کوئی فرق آتا ہے؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت یہ ہے کہ آپ انبیاء علیہ السلام کے عظیم الشان سلسلے کی آخری کڑی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی کوئی پیغمبر نہیں آے گا۔ جہاں تک بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قرآن میں اتنی بار ذکر آنے کی ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ توریت اور انجیل میں بی بی مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کردار کو جس طرح داغدار کیا گیا ہے اللّٰہ تعالی اپنے اس جلیل القدر پیغمبر اور انکی والدہ کی کردار کشی کو کیسے پسند فرما سکتے تھے چنانچہ اس ذات باری تعالی نے اپنے اس محبوب کا ذکر بار بار کرتے ہوۓ ان کے دامن پر لگے داغوں کو دھویا ہے اور بی بی مریم کے نام پر پوری ایک سورہ نازل کر دی جو اس پاک دامن بی بی کے باکردار ہونے کی شہادت ہے۔
اسی دوران خواتین نے کھانے کی میز پر پکوان چُن دیے تھے اور ہم میز پر اپنی اپنی نشستیں سنبھالنے لگے۔ کھانے کی میز پر بھی ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو جاری رہی۔ ڈاکٹر ہما ڈنمارک میں پاکستانی کمیونٹی کے مختلف فورمز پر سرگرم رہی ہیں لیکن وہ کمیونٹی کے افراد کی ذھنیت اور کام کرنے کے طریقوں پر تذبذب کا شکار نظر آئیں۔ ڈاکٹر ہما ایک انتہائی اعلی تعلیم یافتہ اور ہر دم مائل با عمل رہتی ہیں لیکن اب وہ آہستہ آہستہ اپنے کام تک محدود ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ راقم کمیونٹی کے بارے میں انکی راۓ سے مکمل اتفاق کرتا ہے۔ ہماری کمیونٹی کی مختلف تنظیمیں دراصل مخصوص افراد تک محدود ہیں اور انکا دوسری کمیونٹیز یا ڈینشوں کے ساتھ باہم مل جل کر بیٹھنے کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے ہماری سوچ اور کام کرنے کے انداز محدود ہی رہ گئے ہیں اور جب ڈنمارک جیسے ملک میں پلا بڑھا اور اعلی تعلیم یافتہ پاکستانی شخص یا خاتون ایسے ماحول میں کام کرنے آۓ گا تو وہ کچھ عرصے بعد ہی مایوس ہو کر واپس اپنی مصروفیات کی طرف لوٹ جاۓ گا۔ راقم نے خواتین کے حوالے سے ہی فیس بک پر ایک پوسٹ کا حوالہ دیا کہ جس میں ایک خوبصورت پاکستانی اداکارہ و ماڈل عروسی ملبوسات پہنے ماڈلنگ کر رہی تھی تو کسی نے اسکے نیچے کمنٹ کیا ہوا تھا کہ ان بیچاریوں کی ویسے تو شادی نہیں ہوپاتی چنانچہ یہ اس طرح ہی دلہن بن کر اپنی خواہش پوری کر لیتی ہیں۔ اس پر راقم نے گفتگو میں یہ نقطہ اٹھایا کہ مسٓلہ انکی شادی کا نہیں بلکہ مردوں کا ہے کہ مرد کے لیے کامیاب اور معاشی طور پر خود انحصار عورت کے ساتھ زندگی گزارنا ایک چیلنج ہوتا ہے جبکہ مرد ایسی عورت کو ترجیح دیتا ہے جو کمزور ہو اور اپنی ہر ضرورت کے لیے مرد پر انحصار کرے کیونکہ ایسی عورت اسکی فرمانبردار اور مطیع بن کر رہتی ہے جبکہ معاشی طور پر آزاد اور خود مختار عورت برابری کی بنیاد پر مرد کی رفیق بننا چاہتی ہے۔ اس پر ڈاکٹر ہما کے شوہر اشفاق ابدالی نے کہا کہ ایسا تو نہیں کہا جاسکتا کہ شوبزنس کی خواتین بہت ذہین ہوتی ہیں تو راقم نے یاد دلایا کہ بات عورت کی ذہانت کی نہیں بلکہ اسکی خود انحصاری اور خود مختاری کی ہو رہی ہے اور شوبزنس کی خواتین اچھا کمانے کی وجہ سے بڑی حد تک خودمختار ہو جاتی ہیں اور انکو ایک موزوں اور باہمی سمجھ بوجھ رکھنے والا شریک حیات ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔
کھانے کی میز پر نصر صاحب اپنی یادوں کے نایاب ڈخیرے سے انتہائی حیرت انگیز اور محظوظ کرنے والی معلومات ہم تک پہنچاتے رہے جس میں کوپن ہیگن میں ڈیوڈ کی نوادرات ( David’s samling)کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ تھا۔ یہ ایک یہودی خاندان کی جمع کردہ نوادارت ہیں جنکو بعد ازاں ایک میوزیم کی شکل دے دی گئی۔ اس چھوٹے سے میوزیم میں اسلامی تاریخ سے بھی انتہائی قابلِ قدر اشیا شامل ہیں۔ یہ میوزیم جس جس گلی میں واقعہ ہے راقم نجانے وہاں سے کتنی بار گزرا اور میوزیم سے بے خبر ہی رہا۔ اپنی اس لاعلمی پر ماتم ہی کیا جاسکتا تھا۔ نصر صاحب کی بہت سی دلچسپ باتیں “آف دی ریکارڈ” قرار دیے جانے کی وجہ سے محفل میں تو قہقہے اور مسکراہٹیں بکھیرتی رہیں لیکن راقم تحریر میں انکا تذکرہ کرنے سے معذور ہے۔

ریڈیو ہموطن کی ٹیم میں مزید افراد کی شمولیت پر بات کرتے ہوۓ اشفاق ابدالی کو ٹیم میں شامل ہونے کی پیشکش یاد دلائی گئی تو انھوں نے وقت کی تنگی کا ذکر کیا لیکن ساتھ ہی ہمیں وقتا فوقتا اپنی پیشکش یاد دلاتے رہنے کا اشارہ بھی دیا کہ نجانے کب اسے شرفِ قبولیت حاصل ہو جاۓ۔ اس دفعہ گفتگو میں خواتین کی شمولیت بہت کم رہی جس کا بعد ازاں راقم اور باشی قریشی نے آپس میں ذکر بھی کیا اور مستقبل کی ملاقاتوں میں ان عوامل سے پہلو تہی کرنے کا عزم کیا گیا جو خواتین کے گفتگو میں شامل ہونے کی راہ میں حائل ہوسکتے ہیں۔ اگلی محفل کی تاریخ طے کی گئی جو ڈاکٹر ہما کے گھر منعقد ہوگی اور جس کا سب کو انتظار رہے گا کہ کچھ کہنے کچھ سننے کا یہ سلسلہ بہت خوب ہے۔


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے