شاعری کسی بھی زبان میں اظہار کا مؤثر ترین ذریعہ ہے


انسانی جذبوں اور احساسات کو جس شدت اور دلکشی سے شاعری دوسروں تک منتقل کر سکتی ہے کوئی دوسرا ذریعہ ءِ اظہار اتنی خوبی سے منتقل نہیں کر سکتا – شعر و ادب سے وابستہ تخلیق کار لفظوں کو اس ڈھنگ سے استعمال کرتا ہے کہ پڑھنے والے کو تخلیق کار کی کیفیات تک رسائی مل جاتی ہے –
تمام انسان کم و بیش ایک جیسی خوشیوں اور دکھوں سے گزر رہے ہوتے ہیں اس لیے جب تخلیق ان کی ذات میں موجود کیفیات سے ہم رشتہ ہوتی ہے تو پڑھنے والے پر اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں – اور یوں شاعری انسانوں کی جذباتی گھٹن کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، انہیں جذبوں کی تہذیب سے روشناس کرتی ہے- یوں ایک متوازن سوچ کا حامل معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور تہذیب کی خوشبو پھیلتی ہے –
تخلیق کار کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ جو کچھ بھی لکھے شعری جمالیات سے روگردانی نہ کرے تا کہ قاری دکھ سکھ کی بر تر صورت سے جڑا رہے –
قاری کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ بڑی توجہ اور انہماک سے شاعری کے دیار میں اترے تا کہ وہ شعری آہنگ، شعری جمالیات اور شعری تاثیر سے پوری طرح لطف حاصل کر سکے –
ڈاکٹر وزیر آغا نے ایک جگہ شعر کے حوالے سے کہا تھا کہ
” شعر اس مشکیزہ کی مانند نہیں جس میں پانی بھرا ہوا ہے بلکہ وہ تو برف کی اس قاش کی طرح ہے جو بیک وقت برف بھی ہے اور پانی بھی-مراد یہ کہ شعر کے قالب میں معنی بند نہیں ہوتا——–اور نہ شعر زندگی کے کسی پہلو کا ہو بہو عکس ہوتا ہے بلکہ شعر کا بدن اور اس کا معنی یک جان اور دو قالب ہوتے ہیں”
شاعری کو سائنسی اصولوں سے جانچنے یا منطقی سوچ سے معنی تک رسائی حاصل کرنے سے ہم تخلیق کی اس جمالیات سے محروم ہو جاتے ہیں جو کسی بھی فن پارے کو ہمارے لیے جمالیاتی مسرت کا ذریعہ بناتی ہے-
تخلیق ایک گہرے احساسی نظام سے جڑی ہوتی ہے اور تخلیق کار اپنے حسی تجربہ میں ہمیں شریک کرتا ہے — اس لیے لازم ہے کہ سب سے پہلے فن کی جمالیات اور احساسی پرتوں کو مس کیا جائے- احساس اور جذبے کی بہت سی صورتیں جنہیں ہم بزعم خود خیر باد کہہ چکے ہوتے ہیں وہ موسم بدلنے کے ساتھ پھر ہمارے روبرو آ کھڑی ہوتی ہیں — گویا عارضی طور پر تو شاید ہم ان سے لا تعلق ہو جاتے ہیں مگر مستقل طور پر ان کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں-
یوسف خالد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے