احمد فراز سے پہلی ملاقات اور گمشدہ ڈائری کا دکھ : حامد رضا کی یادیں


بلاشبہ میرے لئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں نے احمد فراز کے عہد میں سانس لیا، صدی کے بدلنے کا منظر دیکھا، ملاقاتیں ہوئیں ، اکٹھے سفر کیا، کھانا ایک ساتھ کھایا ، گھنٹوں گفتگو ہوئی، اب سوچتا ہوں تو یہ سب خواب سا لگتا ہے۔ طویل عرصہ احمد فراز کی رفاقت کے باوجود ان سے جو پہلی ملاقات کا لطف تھا اس کا خمار آج بھی قائم ہے۔
شاکر بھائی کی کمال مہربانی کی بدولت ان کی تازہ کتاب ” سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں ” مجھے لاہور میں ہی حاصل ہو گئی۔ کتاب کھولتے ہی انتساب میں بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ اپنا نام پڑھا تو آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ میں کہاں اس قابل تھا۔
شاکر بھائی نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ احمد فراز کے ساتھ ملتان میں گزارے وقت اور تقریبات کا جو احوال لکھا اس نے مجھے پھر سے اسی منظر میں پہنچا دیا۔ ان میں بہت سی تقریبات میں میں خود بھی موجود رہا ہوں۔ ان سب تقریبات کا احوال، گفتگو وغیرہ کی تفصیل کو ایک مضمون میں سمونا ممکن نہیں البتہ فراز صاحب سے پہلی ملاقات اور تقریب کا احوال پیش کررہا ہوں۔
اوائل عمری سے پڑھنے کا شوق تھا مگر نوجوانی کے دنوں میں شاکر حسین شاکر، رضی الدین رضی، قمر رضا شہزاد اور پھر ڈاکٹر عباس برمانی سے دوستی کے بعد یہ شوق بڑھتا چلا گیا۔ خاص طور پر شاکر بھائی اور رضی بھائی کے توسط سے بڑے بڑے نامور شاعروں اور ادیبوں سے ملاقات ہوئی ۔ ان ملاقاتوں کا احوال بمع آٹوگراف (ان دنوں میں سیلفی کا رواج عام نہیں تھا ) اپنی ڈائری میں نوٹ کرتا رہا۔ بدقسمتی سے ایک المناک حادثے میں وہ ڈائری مجھ سے کھو گئی اور اس کے اثرات آپ کو آگے پڑھتے ہوئے محسوس ہوں گے۔
احمد فراز جیسی طلسماتی شخصیت سے ملنے کا ہمیشہ سے ہی اشتیاق رہا تھا خاص طور پر فیض صاحب اور پروین شاکر کی وفات کے بعد جن سے چاہنے کے باوجود بھی کبھی ملاقات نہ ہو سکی، یہ شوق اور بھی بڑھ گیا کہ "زندگی کا کیا بھروسہ ” بچھڑنے سے پہلے کم از کم ایک بار تو ضرور مل لیا جائے۔
یہ شائد1997 کی بات ہے شاکر بھائی نے بتایا کہ احمد فراز صاحب دو دن بعد ملتان آ رہے ہیں۔ اسی روز ملتان کی معروف شخصیت اللہ نواز ترین کے فارم ہاوٴس میں ان کے اعزاز میں ایک شام کا اہتمام کیا گیا ہے اور اگلے روز ملتان پریس کلب میں فراز صاحب کے ساتھ مکالمہ رکھا گیا ہے۔ میری تو خوشی کے مارے نیند اڑ گئی۔ دو دن کیسے گزرے بیان سے باہر ہے۔
دوپہر کو شاکر بھائی ایرپورٹ پہنچ گئے میں وہاں پہلے سے موجود تھا۔ جہاز کی آمد کا اعلان ہوا تو میں شاکر بھائی کے ساتھ ارائیول لاونج میں فراز صاحب کو ریسیو کرنے پہنچ گیا۔ سیکیورٹی والوں کے ساتھ جان پہچان کی وجہ سے مجھے لاونج میں اندر تک جانے کی اجازت مل گئی۔ کچھ ہی دیر میں احمد فراز آتے ہوئے نظر آئے۔ میں آگے بڑھ کر انھیں ملا۔ احمد فراز کچھ پریشان سے لگ رہے تھے۔ وجہ پوچھنے پر بتایا کہ ان کی ڈائری دوران سفر کھو گئی ہے۔ فوراً ہی سیکیورٹی والوں کو رپورٹ لکھوائی گئی اور ہم احمد فراز کے ساتھ باہر آ گئے۔
اللہ نواز ترین کا فارم ہاؤس ملتان کے علاقہ قاسم بیلہ میں واقع ہے۔ نہایت سرسبز و شاداب ماحول میں تقریب کا اہتمام کا کیا گیا تھا جس میں ملتان کی قدآور سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات موجود تھیں جو اپنے محبوب شاعر کو دیکھنے اور سننے کو بیتاب تھیں۔ کچھ ہی دیر میں احمد فراز گاڑی میں تشریف لے آئے۔ اتفاق سے ان دنوں میرے پاس بھی اسی ماڈل کی گاڑی تھی۔ بےاختیار میرے دل میں یہ خواہش اٹھی کاش احمد فراز کبھی میرے ساتھ میری گاڑی میں بھی سفر کریں۔ خدا جانے کیسی قبولیت کی گھڑی تھی کہ اس کے بعد ایک دو بار نہیں بلکہ لاتعداد بار احمد فراز نے میری گاڑی میں سفر کیا۔ گاڑی سے یاد آیا کہ احمد فراز کی شہرہ آفاق گاڑی جو کہ نیشنل بک فاونڈیشن نے نیلام کر دی تھی اس پر مجھے بھی سفر کرنے کا اعزاز حاصل ہے جس کو خود احمد فراز ڈرائیو کر رہے تھے۔
خیر ذکر ہو رہا تھا تقریب کا جس کی میزبانی کےفرائض شاکر بھائی انجام دے رہے تھے جس میں پہلی بار میں نےاپنے محبوب شاعر کو براہ راست دیکھا اور سنا۔ اس موقع پر احمد فراز نے جو تازہ کلام سنایا اس کے چند اشعار مجھے آج بھی یاد ہیں
اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
طاق پہ عزت سادات بھی دستار کے ساتھ
میرے دشمن کا کوئی تیر نہ پہنچا مجھ تک
دیکھنا اب کے مرا دوست کماں کھیننچتا ہے
دوران تقریب مختصر سے وقفہ میں شاکر بھائی نے احمد فراز کو میرے ساتھ والی نشست پر بٹھا دیا۔ ان سے اپنی ڈائری پر آٹوگراف لئے اور ساتھ تصویر بھی بنوائی ۔ اس کے بعد پروگرام کے اختتام پر احمد فراز نے اپنی مشہور زمانہ نظم محاصرہ بھی سنائی ۔ یاد رہے اس سے کچھ ہی دن پہلے پرویز مشرف کے دورہ ہندوستان میں ان کے ساتھ
دیگر اہل قلم کے ہمراہ احمد فراز بھی تھے اور خیر سگالی دورہ کے مطلوبہ نتائج بوجوہ حاصل نہ ہونے پر خاصے دل برداشتہ تھے۔ اسی تقریب میں انھوں نے اپنی نظم "ہندوستانی بھائیوں کے نام” بھی سنائی تھی۔
اگلے دن ملتان پریس کلب میں احمد فراز کے ساتھ گفتگو تھی اور اس کے بعد جی بھر کے احمد فراز کی شاعری سنی گئی۔
اس کے بعد احمد فراز کئی بار ملتان آئے۔ اسلام آباد ان کے گھر پر اور لاہور میں بھی ملاقات ہوئی لیکن پہلی ملاقات پہلی محبت کی طرح کبھی نہ بھولنے والی ہے۔ آخری بار 12جنوری 2008 کو ان کی سالگرہ کے موقع پر بات ہوئی۔ اس کے بعد پتہ چلا احمد فراز امریکا چلے گئے ۔ وہیں سے ان کے گرنے کی خبر پھر بیماری کی تشویش ناک خبریں آنے لگیں۔ سابقہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی کوششوں سےکوما کی حالت میں پاکستان آئے اور اسی کیفیت میں کروڑوں مداحوں کو اداس چھوڑ گئے ۔

 

بشکریہ: گرد و پیش ویب سائیٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے