خزاں رتوں کی بہار
صوفی مشتاق


گرم خطوں کے برعکس سرد برفانی ملکوں کی خزاں تمام درختوں کے پتوں کو جھڑنے سے قبل مختلف رنگوں کی اوڑھنی پہنا دیتی ہے ۔ہر ہر درخت بلکہ جنگل تک رنگوں کی چترکاری چھا جاتی ۔جیسے آجکل کی خزاں گلابی ،عنابی ،سرخ ،زرد اور خاکی رنگوں کی بہار ہماری حس جمال کی تسکین کے ساتھ ساتھ سلسلہ حیات کے لئے انمول سبق لئے آمد آمد ہے ۔بہار ہر درخت کے انفرادیت طرح کے رنگ و حسن کا جو بن ہے۔ جبکہ خزاں درختوں کے جنگل کی اجتمائی شاعری کی سمفونی symphony اور رنگوں کا صوفی رقص ہے ۔پتے ہماری دھرتی کا جگر ہیں ،جو سورج کی انرجی کو کیمیکل توانائی کی مادی شکل دیتے ہیں ۔پتے ہی آگ کے لئے لکڑیاں ۔ہمارے گھروں کی چھتوں دروازوں ۔ارائش سہولت کیلئے فرنیچر ۔بھوک ، ذائقوں کیلئے خوراک اور سانس لینے کے لئے ہوا مہیا کرتے ہیں ۔پھولوں پھلوں ،شاخوں جڑوں کی نشمونما انہی کی بدولت ہوتی ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ دھرتی پر حیات انہیں کے دم سے ہے ۔مگر پتوں کو خزاں میں زیست کی گھڑیاں ختم ہونے پر کوئی ملال نہی کوئی ماتم نہی بلکہ پتے بلکے لال پیلی کیسری ،رنگ کی پگڑیاں پہنے تتلیوں کی طرح ناچتے گاتے سوئے مقتل رواں دواں ہوتے ہیں یا یوں کہیئے انکے رنگا رنگ جنازے ہوا کے سنگ رخشاں فرحان محو رقص اپنی اپنی قبروں کی جانب اڑتے جاتے ہیں ۔۔جبکہ ہم حضرت انسان زیست کے آخری مرحلہ پر جرم ضعیفی کا بوجھ اٹھائے بے بسی کی عبرت ناک تصویر بنے زرد چہرہ ،ٹیڑھی پیشانی لئے اجل کے فرشتے سے ہاتھ ملاتے ہیں تو سسکیوں ،آہوں اور چیخوں کے جلو میں زندگی کو الوداع کرتے ہیں ۔درختوں کے پتے ست رنگی اوڑھنی اوڑھے اپنی کھڑ کھڑ کی تال پر ۔ اور ہوا کی سرسراہٹ کی لے پر رقص کرتے ہوئے پہلے میں پہلے میں کا ورد کرتے ہوئے دھرتی ماں کا ماتھا چوم کر فنا کی گھاٹی اتر جاتے ہیں ۔جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے ۔
بقول فیض احمد فیض ۔۔۔
رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو
دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو
فیص احمد فیض کی موت کی رجائیت کی شاعری کا استعارہ اسی موسم گل رنگ سے مستعار لگتا ہے ۔جیسے فیض جی کا لازوال مصرعہ ۔۔۔یہ کون سخی ہیں ۔جنکے لہو کی اشرفیاں دھرتی کے پیاسے کشکول میں ڈھلتی جاتی ہیں ۔
ابھی چند دن اور رنگوں کی ہولی کھیلنے کے بعد وقت اجل آنے پر ہواؤں کے کندھوں پر اپنا اپنا جنازہ رکھے رقص کرتے ہوئے دھرتی ماں کا ماتھا چومنے کی رسم ادا کرنے کے بعد زمیں کی عنائیتوں کا قرض ادا کرنے کے لئے رزق زمیں ہونگے اور یوں سال ہال سال زمیں انہی پتوں سے زرخیزی لے کر انکی آنے والی نسلوں کو اور شادابیاں بخشے گی۔
یوں تو تمام موسموں کے مزاج انسانی زندگی کے مختلف ادوار کے ہم شناس ہیں ۔جیسے سردیاں انسانی بڑھاپے اور گرمیاں پختہ عمر کے مزاج کی تمام کیفیات رکھتی ہیں ۔ایسے ہی بہار محبتوں کے سنجوگ کا موسم ہے دھرتی پر تمام زندگی اسی موسم میں مائل تخلیق ہوتی ہے ۔مگر خزان کے موسم کی خستہ تازہ دھوپ ،تمام پودوں پر رنگوں کی چتر کاری اور شرارتی سی خنک ہوائیں بندہ کو واپس بچپن کی کچی عمرکے فارغ لمحوں میں واپس لے آتی ہیں ۔جس میں زندگی جہد تگ و تاز کے برعکس سستا تے آرام ،خوشیوں کےچٹختتے پھولوں کی مہک اور فطرت کے ساتھ ہم رقص ہونے کا احساس ہوتا ہے ۔اس انتم موسم کے بعد برف کا دوزخ زیست کے اک اک اظہار کو چاٹ جائیگا اور پھر شجر شجر برف کا سفید کفن پہن لیں گے جب تک دوبارہ فطرت کن نہیں کہتی ان کی شاخیں برہنہ سوختہ تن رہینگی اور یوں ہر شجر کی ٹہنی ٹہنی اپنی ننگی کلائیوں پر ٹکے برف گالوں کے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے پورا یخ موسم ، زندگی کی نمو کی دعا کرتے رہیں گے ۔جب دعائیں فطرت سے قبولیت کا شرف حاصل کرینگی۔ تو پھر کہیں جاکر لکڑیوں کے خشک جنگل کو زندگی کی بہار نصیب ہوگی ۔یہ سلسلہ ازل سے ابد تک یونہی رہیگا ۔ اور یوں زندگی وقت کی رتھ پے سوار فطرت کو اگلی قسط ادا کرنے چل پڑیگی ۔پھرہم نا ہونگے کوئی ہم سا ہوگا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے