اچے گنبد مینارے جس دے نیں
علم دا دارلسرور بول دے نیں
میں واسی ایس وسیب دا واں
لوک جہنوں بہاول پور بول دے نیں

تحریر: سہیل ابو زینب

جنرل سیکرٹری
بہاول پور رائٹرز فورم

 

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بہاول پور علم و ادب کا گہوارہ اور دارالسرور ہے۔ ہم یعنی راقم اور راجہ شفقت محمود خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ ہمیں بہاول پور رائٹرز فورم کے پلیٹ فارم پر ہمہ جہت شخصیات اور نابغہء روزگار افراد کی پزیرائی کرنے کی سعادت میسر آتی رہتی ہے۔ اس مرتبہ وسیب کے نامور ریڈیو آرٹسٹ، سرائیکی زبان و ثقافت کے ماتھے کا جھومر افسانہ نگار مکالمہ نگار و اداکار سرائیکی افسانے گاہنے گٹھڑے کے خالق نسیم بھٹی کے ساتھ ایک یادگار شام منانے کا موقع ملا

اس بابت جب سجاد حسین ڈائریکٹر آرٹس کونسل بہاول پور سے بات ہوئی تو انہوں نے ادبی بیٹھک میں شام منانے کی پیشکش کی، اور اپنے بھرپور تعاون کا عملی مظاہرہ کیا ۔ سجاد حسین ادب دوست و ادب شناس شخصیت کے مالک ہیں۔ سجاد حسین نے اپنے اظہار خیال میں نسیم بھٹی کی سرائیکی ادب و ثقافت کے لئے کی گئی خدمات کو سراہا اور محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب اور آرٹس کونسل بہاول پور کی جانب قلم کاروں اور فنکاروں کو دی جانے والی سہولیات کے بارے تفصیل سے آگاہ کیا۔
شریف نسیم بھٹی تقریب کے مہمان خصوصی تھے، ان کے ہمراہ ان کی بیٹی حمیرا یاسمین و دیگر اہلخانہ موجود تھے جبکہ عبدالخالق قریشی چیئرمین ادراک فورم بہاول پور، انعام الحق راشد صدر ادراک فورم بہاول پور، بہاول پور کے نامور مصور و خطاط خالد سعید، نوشہ ملک، ندیم قریشی، ریڈیو آرٹسٹ سانول، کالم نگار سب انسپکٹر ڈاکٹر عامر نذیر، وسیم خان، استاد الشعراء ناصر عدیل، فیصل صاحب، ماہر اقبالیات حفیظ طاہر گھوٹیا، عمار زیدی، روزنامہ طاقت کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن ساجد محمود چوہدری، بشارت سعیدی و دیگر شامل تھے۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز طاہر حفیظ نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔
راجہ شفقت محمود نے شریف نسیم بھٹی کے فن اور شخصیت پر سیر حاصل گفتگو کی انہوں نے اپنی کھٹی میٹھی علم و فراست سے بھرپور باتوں سے محفل کو گرمائے رکھا۔ حمیرا یاسمین نے اپنے والد محترم کی زندگی کے مختلف ابواب سے پردہ اٹھایا، جنہوں نے اپنے والد کو اپنا پہلا عشق قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے سکھائے ہوئے آداب اور دی گئی تربیت کے سہارے کیسے اپنی ترقی کی منازل کو طے کیا، جہاں حمیرا یاسمین کی گفتگو نے ماحول کو خاصا جذباتی بنا دیا تھا ہر آنکھ اشکبار تھی وہیں عبدالخالق قریشی نے نسیم بھٹی کے لڑکپن اور جوانی کے کھلنڈرے پن و بے باک طبیعت کے قصے سناتے ہوئے ماحول کو خوشگوار بنائے رکھا۔ شریف نسیم بھٹی نے گفتگو کرتے ہوئے علامہ اقبال کے درج زیل شعر کو اپنی زندگی کا حوالہ قرار دیتے ہوئے پڑھا

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

علامہ صاحب کے اس شعر کو نسیم بھٹی نے نہ صرف پڑھا، سمجھا بلکہ اس پر عمل بھی کیا، ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی علم کو پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے، نسیم بھٹی علامہ صاحب کے شعر متذکرہ بالا کی مجسم تصویر ہیں، جنہوں نے بچپن کسمپرسی کی حالت میں گزارا، اپنے لڑکپن میں غربت کی وجہ سے حقارت جھیلی پھر جنہوں نے اپنا نام منوانے، کچھ کر دکھانے کی جو ٹھانی تو پیچھے مڑ کے نہ دیکھا اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب نسیم بھٹی کے بنا بہاول پور کے کسی ڈرامے کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ریڈیو پر صداکاری ہو یا مکالمہ نگاری یا پھر سٹیج پر اداکاری صرف اور صرف نسیم بھٹی کا ہی طوطی بولتا تھا۔ ہم دعا گو ہیں کہ اس گوہر انمول کو صحت و تندرستی والی لمبی زندگی عطا ہو اور مثل ماضی مستقبل میں بھی نئی نسل کو ان سے سیکھنے کا موقع ملتا رہے۔

نسیم بھٹی نے بہاول پور رائٹرز فورم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسی (80) سالہ زندگی میں مجھے نجی یا سرکاری سطح پر اتنی عزت اور محبت سے نہیں نوازا گیا جتنا بہاول پور رائٹرز فورم اور آرٹس کونسل بہاول پور نے مجھے عزت اور مان دیا ہے۔ آج کی یہ شام میرے اور میرے بچوں کے لئے ہماری زندگی کی خوب صورت اور یادگار شام ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہماری اگلی نسل جو اپنی مادری زبان سے دور ہوتی جا رہی ہے وہ میری کتاب کے ذریعے سرائیکی زبان کی روح اور اس کی ثقافت کو سمجھے، میں نے اپنی زندگی کے تجربات کے نچوڑ کو کتاب کی شکل میں ڈھال دیا ہے۔ اس موقع پر بہاول پور رائٹرز فورم کی جانب سے یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

نسیم بھٹی کی گفتگو کے بعد شعری نشست ہوئی جس میں راجہ شفقت محمود، حفیظ طاہر گھوٹیا، انعام الحق راشد، عمار زیدی، فیصل صاحب اور استاد الشعراء ناصر عدیل نے اپنے کلام سے محفل کو گرمایا بعد ازاں چائے کا دور چلا، غیر رسمی و ہلکی پھلکی گپ شپ کے بعد ایک یادگار شام کا اختتام ہوا۔
مشاعرے میں پڑھا گیا شعراء کرام کا منتخب کلام

آج ول یار دی مونجھ آئی اے
اساں پیر فرید دے شہر ویسوں
راجہ شفقت محمود
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ کیسا خیال رکھا ہے
درد تیرا سنبھال رکھا ہے
انعام الحق راشد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نہیں کہتا اسے آزار دینا چاہیئے
کیا تغافل کی سزا میں مار دینا چاہیئے؟
عمار زیدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ میں اب اور سکت باقی نہیں بٹنے کی
میں میسر ہوں جسے جتنا غنیمت سمجھے
فیصل صاحب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی نہ جانے کس کا اترن ہے
جس نے پہنا وہی اداس ہوا
ناصر عدیل

1 thought on “میں واسی ایس وسیب دا واں

  1. خواب گر ادبی رپورٹوں کالم لکھنے والوں کو بہت اچھے انداز سے پذیرائی دے رہا ہے۔سلال یوسف صاحب کی محبت اور محنت قابل ستائش ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے