تحریر : وقاص عزیز
دوستو یہ سن تھا 2014/15 کا جب کہوٹہ میں یار_طرحدار ،خوبصورت لب و لہجہ کے غزل گو جناب حسن ظہیر راجہ نے بابائے کہوٹہ کی صدارت میں مرے اعزاز میں شعری نشست کا انعقاد کیا
وہ لمحہ اور آج کا دن ،میرا ایمان اپنی کہی ہوئی اس بات پر پختہ تر ہوتا چلا گیا ہے کہ کہوٹہ کی شعری فضا عالمی ادبی منظرنامے کے ہم قدم ہے اور اس کا کلی سہرا جناب جاوید احمد کو جاتا ہے جنہوں نے دبستان_کہوٹہ کی بنیاد رکھی جو آج تناور شجر کی شکل اختیار کر گیا ہے
فرحت عباس شاہ جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ،ان کا شعری،نقدی،سیاسی،سماجی شعور اب سماج کا بیانیہ بدلنے کی قوت اختیار کر گیا ہے اور اس کا عملی ثبوت حال میں انے والا ان کا تنقیدی مجموعہ اردو تنقید کا ادراکی دبستان کے حوالے سے ہے اور پاکستان رائٹرز یونین کا قیام عمل میں آنا ہے
علامہ شکیل اختر صاحب کی میزبانی میں پی ٹی وی پر پروگرامز کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں اسلام آباد آمد کے موقع پر دبنگ شاعر دوست ،جنرل سیکرٹری پاکستان رائٹرز فورم عبداللہ کمال نے استاد شاعر نقاد تہذیبی شخصیت جناب شفیق احمد خان کی صدارت میں شام_فرحت عباس شاہ کا انعقاد کیا
مشاعرہ عبداللہ کمال کے خوبصورت شعروں سے آغاز ہوا ،جس کے بعد وقاص ہوں یا حسیب علی ،عدنان ہوں یا حسن ظہیر راجہ یا قبلہ شکور احسن ،ایک سے بڑھ کر ایک تازہ ہوا کا خوشگوار جھونکا مسام_جاں کو معطر کرتا ،کس مصرع پر داد دی جاے اور کسے حرز_جاں بنایا جاے ابھی اسی سوچ میں گم تھا کہ جناب عبدالرحمان واصف کے تازہ کلام نے سامعین کو اپنی گرفت میں لے لیا ،ہنروری کی اعلی مثال غزلیات نے مشاعرہ کو بام_عروج تک پہنچا دیا
بات یہاں تک ہی نہیں رہی خیبر پختوانخواہ سے پاکستان رائٹرز یونین کے چہرہ ،نوجوان شاعر ،ادراکی نقاد جناب نظیر ساگر خصوصی طور پر تشریف لائے اور ان کے کلام سے اٹھنے والی شناسا مہک نے بعد از مشاعرہ یہ عقدہ کھولا کہ چل استاد ان کی غزلیات پر بعینہ ہاتھ صاف کر چکے ہیں لہذا اک مرتبہ پھر ان گنت لعنت بر چل استاد رسید ہوئی ،چونکہ اس میں کوئی دو راے نہیں کہ ساگر ایک باشعور تخلیق کار ہیں اور چل استاد کی استادیاں مجھ سے بہتر کون جانتا ہے سو جتنا افسوس کیا جاتا کم تھا
بین الاقوامی شہرت یافتہ ،صاحب_اسلوب شاعرہ محترمہ راشدہ ماہین ملک کی موجودگی اور دبنگ شاعری نے مشاعرہ کو چار چاند لگا دئیے
خوبصورت لب و لہجہ کی منفرد شاعرہ محترمہ زہرا بتول زہرا اور نوجوان نسل کے نمائندہ غزل گو ،یار_مہربان ڈاکٹر فیصل شہزاد کے کلام اور موجودگی باعث_خیر رہی اور دونوں اصحاب نے تازہ کلام سنا کر ڈھیروں ڈھیر سمیٹی
علی عارف بھائی کو پہلی بار سنا اور ملا ،پرتاثیر شاعری و شخصیت نے محفل پر اپنا خوب اثر جمایا
جس کے بعد بابائے کہوٹہ جناب جاوید احمد کے تحت اور ترنم میں کلام نے مشاعرہ کا رنگ ہی بدل دیا ،صدر_مشاعرہ جناب شفیق احمد کی تازہ غزلوں اور مزاحمتی نظموں نے شرکا کا خون خوب گرمایا
صاحب_شام جناب فرحت عباس شاہ کی محبت میں سخنواران_کہوٹہ نے دیدہ و دل فرش_راہ کیے ،شام صاحب نے ترنم و تحت میں پڑھنے سے پہلے ادبی مافیا کا پردہ چاک چاک کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں جہنم رسید کرنے کا سامان بھی مہیا کیا
کہوٹہ بار کی ادبی روایت کو اگر دیکھا جاے تو معزز جج صاحبان جہاں مشاعرہ کے ابتدا سے اختتام تک موجود رہے وہیں کہوٹہ بار کی کابینہ کی موجودگی و مہمانان کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ میزبانی کی اعلی مثال ہوا
الغرض دبستان_کہوٹہ کے دوستوں کو اس شاندار مشاعرہ پر جتنی مبارکباد دی جاے کم ہے ،قمر عباس جگر شاعر کی کمی بہت کھلی اور جناب حبیب گوہر کا دیدار نہ ہوا جس سے تھوڑا سا جی اداس ہوا ،بہرطور یار زندہ صحبت باقی ہے
راوی
وقاص عزیز


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے