نسیم سحر کی تخلیقی دھنک :عملی اطلاقی تنقید

اکرم کنجاہی کی نئی کتاب 
نسیم سحر کی تخلیقی دھنک

عملی اطلاقی تنقید
اس خوبصورت اور اہم کتاب میں اکرم کنجاہی شکوہ کناں ہیں کہ نعت کی تفہیم و تحقیق اور تنقید پر بات عمومی تاثرات اور تبصرہ نگاری سے آگے نہیں بڑھی. بات یوں ہے کہ جس طرح ڈاکٹر اپنا علاج خود نہیں کرتا اس طرح اکرم کنجاہی صاحب کا دھیان بھی اپنی طرف نہیں گیا، جو یقیناً ان کی عاجزی و انکساری ہی ہو سکتی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ اکرم کنجاہی نعتیہ تنقیدو تحقیق کے ہراول دستے کے سرخیل ہیں، جس کے ثبوت میں صرف نعت کے حوالے سے ان کی پانچ تنقیدی و تحقیقی تصانیف ہیں (تصریحات نعت).. (نعت گوئی :ہیت اسلوب اور موضوع)… تقسیم ہند کے بعد نعت نگاری)… نعت گوئی ارتقا اور رجحانات)… (دبستان فلم کے نعت نگار).. اور اگر ان کے نعتیہ مجموعے کو بھی کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ چھ کتابیں بنتی ہیں….. "نسیم سحر کی تخلیقی دھنک” یہ ایک ایسی تصنیف ہے جس میں ایک طرف تو ہم نسیم سحر کے شعری محاسن اور تنقیدی رویوں کو سمجھتے ہیں لیکن دوسری طرف نسیم سحر کے ساتھ ساتھ خود اکرم کنجاہی کی تنقیدی بصیرت بھی ہم پر منکشف ہوتی چلی جاتی ہے… اس تصنیف سے پتہ چلتا ہے کہ اکرم کنجاہی کس گہرای کے ساتھ نسیم سحر کو جانتے ہیں اور یہ جاننا بلاشبہ نسیم سحر کی تحاریر کے گہرے مطالعے کے وسیلے سے ہے. اکرم کنجاہی خود تخلیقی آدمی ہیں اس لیے ان کی اس کتاب کے مضامین میں بھی فکر اور علم کی عمدہ آمیزش ہے… شخصیات پر اکثر ادبی رسائل کے نمبر نکلتے ہیں. لیکن یوں انفرادی طور پر کسی شخصیت پر کتاب لکھنا یقیناً گہری عقیدت کا باعث ہے لیکن اکرم صاحب عقیدے کے صرف گھوٹے ہی نہیں لگاتے بلکہ علمی سطح پر نسیم سحر کی تحاریر سے معاملہ کرتے ہیں. اکرام صاحب نے تنقید کے متعلق ایڈیسن کا جو حوالہ دیا ہے اس پر وہ خود پورا اترتے ہیں مثلاً "تنقید کسی تخلیق یا فن پارے کی صرف خوبیوں کو ظاہر کرنے کا ایک زریعہ ہے”.پھر خود ایک سوال رکھتے ہیں کہ "بہرحال یہ ایک بحث طلب نظریہ ہے کہ کیا تنقید محاسن اور معائب میں کوئی فرق نہ کرے؟”.. کتاب نہایت معلوماتی اور ایسے دلکش اسلوب میں ہے کہ بس پڑھتے چلے جائیے اور ذہن و نظر کو منور ہوتا محسوس کریں. مثلاً” دیکھا جاے تو نظری تنقید بھی صرف ادب پاروں کی بنیادی نظریات پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ اس کا دوسرا حصہ اطلاقی ہوتا ہے کہ ہم مذکورہ نظریات کی روشنی میں نگارشات پر حکم لگاتے اور ان کی قدر کا تعین کرتے ہیں یہ کام نسیم سحر کامیابی سے کر رہے ہیں. دیکھا جاے تو عملی یا اطلاقی تنقید بڑا نازک کام ہوتا ہے کہ ناقد براہ راست تخلیق اور تخلیق کار پر بات کر رہا ہوتا ہے اور ادب کے واسطے سے تخلیق کے سوتوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے ".. اکرم کنجاہی کی پورے ادب پر نگاہ ہے اور یہ بڑی ہمدرد نگاہ ہے. لیکن ایک تنہا آدمی کس کس پر اور کتنا لکھے.. مگر اس کے باوجود انھوں نے جتنا لکھا ہے ادب پر جتنا کام کیا ہے اتنا کام صرف ایک اکیڈمی ہی کر سکتی تھی. ان کی ادبی خدمات کا میدان بہت وسیع ہے. مزاح نگاری پر ایک اقتباس دیکھیے "مزاح کے حوالے سے ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ ناقدین فکر وفن کے نزدیک یہ کوئی صنف سخن نہیں ہے بلکہ ایک رنگ ِسخن ہے یا کیفیت کا نام ہے” اس اقتباس کے آگے کچھ دلچسپ حوالہ جاتی بحث ہے جو آپ کے پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے. اس کتاب سے نسیم سحر کے تنقیدی رویوں کے ساتھ ساتھ خود اکرم کنجاہی صاحب کی علمی و تنقیدی بصیرت سے بھرپور آگاہی ملتی ہے. اس تازہ تصنیف کی اشاعت پر اکرم کنجاہی صاحب بلاشبہ مبارکباد کے مستحق ہیں…………
Ejaz Roshen
اعجاز روشن (جہلم)

Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے