کھمبا


میں ایک کھمبا ھوں ۔چلچلاتی دھوپ ھو یا ٹھٹھرتی راتیں میں برقیات کے نظام کے تسلسل اوراستحکام کے لیے ہمہ وقت چاک و چوبند کھڑا رہتا ھوں ۔بارڈر پر فوجی اور شہروں میں کھمبے ہمیشہ کھڑے ملتے ہیں۔اگر ان میں سے کوئی گرا ہوا نظر آئے تو سمجھ لیں حالات خراب ہیں۔خیر آگے سنیئے میری زندگی بڑی سونی اور بےرونق تھی۔وہی سڑک کنارے کھڑے کھڑے آتے جاتے لوگوں کو دیکھنا اور دن رات کے ڈھلنے ابھرنے کی کہانی ۔
ایک رات گہری تاریکی میں مجھے محسوس ھوا کہ میرے سینے سےایک سیڑھی آ کر ٹکی اور اس پر ایک نامعلوم نوجوان چڑھنے لگا۔پہلے تو مجھے محسوس ھوا کہ کوئی غموں کا مارا عاشق نامراد ہے جو خودکشی کرنے کی نیت سے آیا ہے۔لیکن دوسرے ہی لمحے میں نے سوچا کہ نہیں کیبل والا ھو گا ۔عاشق لوگ تو اب خودکشی کرنے کی بجائے دوسری معشوقہ ڈھونڈنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔اس نامعلوم نوجوان نے میرے اردگرد اپنی بانہوں کا گھیرا بنایا اور کچھ باندھنے لگا ۔مجھے اپنے سینے پر کچھ پھڑپھراہٹ محسوس ھوئ ۔اسی اثناء میں اس پراسرار شخص نے نیچے اترنا شروع کر دیا اور سیڑھی اٹھا کر سامنے والے میرے ہمسائے کے ساتھ جا ٹکائ ۔وہاں بھی اس نے اوپر چڑھ کر وہی حرکت کی اور نیچے اتر کر اگلے کھمبے پر اسی طرح وہ سڑک کنارے نصب سارے کھبموں کے ساتھ ایسی حرکات کر کے غائب ھو گیا ۔ہم سب نے برقی تاروں کے ذریعے سب کو پیغام رسائی کی لیکن کسی بھی طرف سے خاطر خواہ جواب موصول نہ ھوا ۔ایک تو اندھیری رات اوپر سے لوڈشیڈنگ۔ رات کاٹی خدا خدا کرکے صبح کاذب کے وقت مسجد جانے والے مؤذن نے میری طرف دیکھا تو کچھ بڑبڑاتے ھوے اپنی راہ ھو لیا۔
آج سے پہلے تو مولوی نے میری طرف دیکھا ہی نہیں تھا ۔آج اس کا مجھے دیکھ کر یوں بڑبڑانا مجھے مشکوک سا لگا۔جوں جوں دن نکلتا گیا ہر آنے جانے والا مجھے غور سے دیکھتا ۔کوئی ہنستا،کوئی گھورتا اور کوئی فاتحانہ انداز سے دیکھتا ۔میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ماجرا کیا ہے ۔
عقدہ یوں کھلا کہ میرے سامنے والے کھبے پر جو میری نظر پڑی تو میں دیکھتا ہی رہ گیا ۔ایک بہت ہی گھبرو جوان جو شکل و صورت میں کسی فلم کا ولن لگتا تھا کہ فوٹو والا پینا فلیکس کھمبے پر لٹکا ھوا تھا ۔
الیکشن کا اعلان ھو گیا تھا اور شہر کے سارے کھمبے سج سنور کر یوں کھڑے تھے جیسے کھبموں کی اجتماعی بارات جانے کے لیے تیار کھڑی ہے ۔ سارا دن لوگوں کی نظربازی کی گولہ باری سہتے گزری۔جونہی رات ڈھلی ایک۔پکی عمر کا بندہ جسکے ساتھ چودہ پندرہ سال کا لونڈہ تھا آکر میرے ساتھ لگ کر کھڑے ہوگئے اور سگریٹ کے کش لگانے لگے۔کچھ دیر بعد بالک نے۔کہا۔استاد جی میں چڑھتا ہوں آپ زرا ادھر ادھر دیکھو ۔بچہ۔جمہورا بغیر سیڑھی کے بندر کی طرح مجھ پر چڑھنا شروع ہوا۔اسکے ہاتھ میں چھری دیکھ کر میرا دل ہی دہل گیا۔لیکن اسنے چھری کا استعمال میرے گھبرو جوان کے پینا فلیکس کی رسی پر کیا۔پینا فلیکس زمین پر گرگیااور اسی طرح پچھلی رات لگنے والے لاکھوں روپے کے پینا فلیکس دوگھنٹے میں اتار لیے گئے۔استاد شاگرد نے ان۔پینا فلیکسوں سے بڑی بڑی تڑپالیں بنالیں۔جبکہ الیکشن لڑنے والے امیدوار نے اپنے مخالف پر پرچہ کرادیا۔میں آج بھی اپنے سر پر برقی تاروں کا بوجھ اٹھائے وہیں کھڑا ہوں زمانے کے چلن دیکھ رہا ہوں ۔


راجہ شفقت محمود،آواز وسیب،بہاول پور 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے