آزاد مہدی کا ناول ”ایک دن کی زندگی “
( ایک کمزور اور مصنوعی ناول )

نقد و نظر :فرحت عباس شاہ


آزاد مہدی ایک طویل عرصے سے ناول لکھ رہا ہے ۔ اس کے چار ناول شائع ہو چکے ہیں ۔ اس کے دوسرے ناول ” دلال “ نے لاہور اور شاہدرہ کے چند ادیبوں کی کچھ توجہ حاصل کی جبکہ ” مسافر خانہ “ پی ٹی وی کے ڈرامے انتظار گاہ سے مماثل ہونے کے وجہ سے اتنی توجہ بھی حاصل نہ کرسکا ۔
آزاد مہدی کا اسلوب نیچرل ہونے کی بجاۓ اتنا خودساختہ ، مصنوعی اور مہمل ہے کہ اس کا چوتھا ناول پڑھتے ہوے ہرگز احساس نہیں ہوتا کہ قاری کوئی نئی کتاب پڑھ رہا ہے ۔ آزاد مہدی خود کو جملہ ساز سمجھ کر ناول کے ہر پیراگراف میں اتنی مرتبہ قاری پر جلمہ آور ہوتا کہ اس کے لیے ناول جاری رکھنا اذیت ناک ہونے لگتا ہے ۔ اس کا جملہ سن کر نہج بلاغہ اور دیگر مذہبی و ادبی کتابوں کی بھونڈی اور جاہلانہ نقل کا احساس ہوتا ہے ۔ خلیل جبران بننے کا شوق یا شاعری کرنے میں ناکام ہو کر مرصع نثر لکھنے بھونڈی حرکت اس سے پہلے بھی بہت سارے کمزور اور مصنوعی لکھاریوں کو ڈبو چکی ہے ۔ مثال کے طور پر زیر نظر جملے دیکھئیے ۔۔۔۔
”یہ روڈ دونوں سٹرکوں کو لے کرمستی گیٹ کی گھاٹی کی طرف بڑھتی ہے جس
کے بائیں جانب قلعہ کی بلند دیوار ساتھ ساتھ چلی جاتی ہے جس کے بیچ سیڑھیوں کا ایک انبوہ دکھائی دیتا ہے جیسے سرخ زینوں کی آبشار ہم تک آ رہی ہو“۔
اب زینوں کو آبشار قرار دینا نظر کی کمزوری کے باعث ہی ممکن ہو سکتا ہے یعنی یہ کیسی تشبیہہ ہے جو زینوں کو اوپر سے نیچے کی طرف بہتا ہوا دیکھنے پر مجبور کردیتی ہے ۔ ایسی تشبیہہ نثر کی بجاۓ جدید شاعری کہہ کر پیش کی جاۓ تو شاید کوٸی قبول کر بھی لے لیکن ناول میں یہ حرکت کرنا ناول لکھنے کی قابلیت اور ناول کو بطور صنف سمجھنے سے محرومی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
ایک اور مثال دیکھئیے ۔۔۔۔
” ہر پیشے کی اپنی تمکنت اور غرور ہوتا ہے جو سماج میں کسی دوسرے پیشے کی احتیاج سے ابھرتا ہے “ ۔
اس جملے میں بظاہر کوئی مخفی یا گہرا سماجی شعور پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ اس جملے کو کھولیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ جیسے کسی جاہل لکھاری نے قاری کو چوتیا بنانے کی کوشش کی ہے ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ زیادہ تر پیشے اور پراڈکس کسی پیشے کی نہیں بلکہ انسانوں کی احتیاج سے پیدا ہوے اور ہوتے ہیں اور غرور پیشوں کو نہیں بلکہ پیشہ وروں کو ہوتا ہے اور یہ بھی مہارت کے درجے سے پیدا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ۔ شاہدرے کے نائی اور لبرٹی کے نائی کی تمکنت کا فرق علاقے اور کام کی کمرشل ویلیو کی وجہ سے ہوگا نہ کہ پیشے کی وجہ سے ۔
مجموعی طور پر دیکھا جاۓ تو بدیسی ادب اور عزاداری کی مجالس کا رنگ اس کے جملوں پر غالب ہے شاید یہی وجہ ہے کہ بطور ناول نگار اس کے مبہم خیالات ناول کی کہانی یا کرداروں یا مکالموں کی بجاۓ اس کے جملوں سے برآمد ہوتے ہیں جنہیں وہ کبھی منظر کے بیان میں جان ڈالنے کے لیے استعمال میں لے آتا ہے تو کبھی کردار نگاری کے دوران کردار کے کسی پہلو کو اجاگر کرتے ہوۓ بیان کرتا ہے ۔ منظر اور کردار کے درمیان تعلق بنانے کی کوشش کرتا ناول نگار ہمہ وقت کوئی نیا جملہ دینے کے جتن میں یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ جس کردار کے منہ سے بھاری بھرکم ادبی اور فلسفیانہ جملہ کہلوا رہا ہے کیا وہ کردار اسے جسٹیفائی بھی کر پاۓ گا یا نہیں ۔
ناول ” ایک دن کی زندگی “ کا مرکزی کردار فاحشہ جو غریب ماں باپ کی غربت اور تقدیر کی ماری ہوٸی بیٹی اور بار بار بیوہ ہوجانے والی لاوارث خاتون ہے اور جو زندہ رہنے کے لیے جسم بیچ کر روٹی کھانے کے عمل سے گزرتی ہے ۔ اپنے ایک ریڑھے بان گاہک کے سوال پر جواب میں کہتی ہے ، ” کیا تم انسان سے انسان تک کا فاصلہ جانتے ہو “ ؟
” یہ فاصلہ نہیں ہوتا یقین دہانی ہوتی ہے “۔۔۔۔
پھر وہ کسی منجھے ہوۓ ادیب کی طرح مثال دے کر جملے کا مطلب سمجھاتی ہے ۔ دوران مطالعہ میں اس کے منہ سے یہ جملے سن کر باقاعدہ ٹھٹک گیا ۔ اگرچہ ناول نگار نے فاحشہ کے کردار کا حلیہ ضرورت سے کچھ زیادہ تفصیل سے بیان کر کے قاری کی بام ِ تصور پر ثبت کر دیا ہے لیکن یہ جملے پڑھ کر مجھے یوں لگا جیسے اس کی جگہ خود ناول نگار سامنے آ گیا ہو ۔ پھر اس کے بعد جب بھی ناول میں یہ کردار آیا مجھے اس کے لمبے بالوں کے نیچے آزاد مہدی کا گہرے سستے میک اپ اور لال سرخ لپ سٹک والا چہرہ ہی نظر آیا ۔ اب اس کا کیا کیجٸیے کہ وہ ان خودساختہ مصنوعی فلسفیانہ جملوں کو اپنی طاقت اور انفرادیت بنانے کی کوشش کرتا ہے اورمنظر یا کسی کردار کا حلیہ بتاتے بتاتے یا کسی کردار کے ہونٹوں سے پھسلتی گفتگو کے دوران سخت جملہ کہلوا دیتا ہے تاکہ قاری سمجھے کہ ناول نگار سعادت حسن منٹو کے پاۓ کا لکھاری ہے جو معاشرے کی منافقتوں پر گہرے نشتر چلا رہا ہے ۔
مثال دیکھئیے ۔۔۔۔۔
” قابل ذکر بات تو یہ ہے کہ اس روز اس کے سینے میں ضمیر نے کوئی پہلو نہیں بدلا نہ
ہی اسے کوئی خلش ہوئی بلکہ اسکے اعصاب میں خوشی کا نفوذ ہونے لگا تھا جیسے وہ اور اسکی زندگی پہلی بار آمنے سامنے ہوں اور انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہو۔ اسے زندگی بہت ہی آسان معلوم ہوئی ۔ اس شام اس نے ان معاشرتی بندھنوں سے بھی رہائی پائی جنہیں وہ مقدس سمجھا کرتی تھی “ ۔
طواٸف کے کردار اور معاشرتی بندھنوں کے موضوع پر خواتین ڈاٸجیسٹ سے لیکر رضیہ بٹ کے ناولوں تک اور اخبار جہاں سے لے کر اردو پنجابی فلموں تک اتنا کچھ پہلے لکھا اور دکھایا جاچکا ہے کہ اب اس طرح کے کردار قاری کو متاثر کرنے کی بجاۓ کھلنے لگتے ہیں ۔ میں اپنے اس احساس کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ آزاد مہدی کا علم اور داناٸی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں اس لیے اسے اپنے جملے لکھنے کے شوق کو پورا کرنے کے لیے مصنوعی اور غیر ضروری جملوں سے ہی کام چلانا پڑتا ہے ۔
مثال دیکھئیے ۔۔۔
” یہ چیزیں اس رات ختم ہوگئیں تھیں جب مجھے دو لڑکے شاہی مسجد کی سیڑھیوں میں ملے تھے جو لاہور دیکھنے آۓ تھے ۔ وہ قومی شاعر کی قبر کی زیارت کرنے کے بعد لاہور کا مزہ لینے کے لیے میرے گاہک بھی بن گئے اور مجھے اماں تک کہہ دیا “ ۔
ایک تو اس پورے پیرا گراف کی نثر انتہائی کمزور ہے ۔ دوسرا اس واقعے کا کہانی سے دور دور تک کوٸی تعلق نہیں تیسرا نوجوان گاہکوں کا ایک جسم فروش عورت سے حظ اٹھانے کے بعد اسے اماں کہنے کی طاقت ناول نگار میں تو ہوسکتی ہے لیکن ہمارے سماج کے عمومی کرداروں میں نہیں ۔
مجھے آزاد مہدی کے ناول پڑھتے ہوۓ ہمیشہ دوچیزوں کا شدت سے احساس ہوا ہے کہ اس کے ہر ناول اور اس کی ہر کہانی سے نہ تو ذاکر نکل سکا ہے نہ میراثی ۔ یہ دونوں نفسیاتی اکاٸیاں جہاں اس کے شروع کے ناولوں میں اسے دوسرے ناول نگاروں سے مختلف بناتی ہیں وہاں اس کے اپنے ناولوں میں انتہا کی یکسانیت کا شکار کر دیتی ہیں ۔
ہاں اگر اس کے تمام ناولوں کو ایک ناول قرار دے کر ان کا مطالعہ ایک کہانی کے مختلف ابواب سمجھ کر کیا جاۓ اور جا بجا موجود اس کی نثری کمزوری کو بشری کمزوری سمجھتے ہوے اس کی طرف سے چشم پوشی اختیار کی جاۓ تو اس کے ناولوں میں ایسا ایسا اعلیٰ کانٹینٹ پڑھنے کو ملتا ہے کہ جسے آنکھیں بند کرکے ادب عالیہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔
مثال کے طور پر یہ دو پیرے دیکھیے ۔۔۔۔

” وہ رات کو اپنے لیے ایک گھونسلہ خیال کرتی دن کوسنگدل اور بے رحم روشنی کا نام دیتی کیونکہ اس کی زندگی کے خلاف جتنے بھی فیصلے ہوۓ تھے وہ دن کی روشنی میں ہوئے تھے۔یوں وہ ’’دن‘‘ سے ڈرنے لگی تھی ۔’’رات‘‘ سے اسے اس لیے محبت تھی کہ اس کا بے سہارا اور تنہا ہونا رات کی تاریکی میں چھپ جاتا تھا۔ وہ اکثر سوچا کرتی ۔”میں دنیا کے ایسے کونے میں رہتی ہوں جہاں چھ ماہ تک سورج نہیں نکلتا اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے“ ۔
” وہ اکثر سونے سے پہلے اپنے جسم کے دوحصے کر لیتی تھی ایک انسان سونے والا
دوسرا اس کو سلانے والا اور وہ میٹھی نیند سوگئی ۔ دیا کچھ دیر جلنے کے بعد اپنے کمزور شعلے کےساتھ بجھ گیا کمرے میں سواۓ اندھیرے کے کچھ نہ بچا “ ۔
درج بالا عبارت کی چند سطروں میں فکشن ڈالنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے شاعری بھی ، فکر وفلسفے کا تاثر بھی دیا گیا ہے اور نفسیات کا بھی ۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا جھجھک مانع نہیں کہ ناول نگار اپنے مصنوعی جملہ جاتی اسلوب کے ساتھ نہ صرف اردو ناول کو آلودہ کرنے کا ذمہ دار ہے بلکہ کسی نسلی احساس کمتری کے ازالے کے طور پر خود کو دستوٸیفسکی سے بڑا ناول نگار ثابت کرنے پر مصر ہے ۔
اس کے ہر ناول کی طرح اس ناول میں بھی پہلے ہی کی طرح انتہاٸی کمزور دو اور کردار بھی ہیں ۔ بوڑھا اور مصور ۔ فاحشہ ، مصور اور بوڑھا ایک ہی عمارت میں مکین ہیں جن کا آپس میں کو فطری تعلق یا رشتہ قاٸم کرنے کے لیے مجھے ناول کی بجاۓ خود اپنے تخٸیل سے کام لینا پڑا ہے کہ ان کی اپنی اپنی داخلی دنیاٸیں ان تینوں کو ملا کر ایک اور اندرونی دنیا کو تشکیل دیے ہوۓ ہیں ۔ یہ تین بے خانماں و بے خانداں ایک خاندان بھی ہیں اور حقیقت کی طرح ایک خاندان ہوتے ہوے ایک دوسرے کے لیے اجنبی بھی ہیں ۔ ماشکی کا کردار یا درزی یا فاحشہ کے گاہک ان کے لیے زمانے کی یا دنیا والوں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ایسا زمانہ جس میں ماشکی اور درزی دنیا کے بڑے فاٸنانشل اداروں کی طرح قرض دینے والے اور فاحشہ غریب ملکوں کی طرح نادہندہ ہے ۔ یتیم ، مسکین اور بیوہ جو حالات کی ستم ظریفی کی بنیاد پر فاحشہ کی زندگی گزارنے پر مجبور غربت ، جسم فروشی ، جسم نوچنے والوں ، بدصورتی اور وقت سے لڑتی لڑتی اس نتیجے پہ پہنچ جاتی ہے کہ موت سے زیادہ حسین ، شفیق اور پرسکون شۓ دنیا میں نہیں ۔ موت کے بعد بے جان جسم کو اعضا بیچنے والے یا ہڈیاں پیس کے اس میں سے فارسفورس نکال کے لے جانے والے ، کان چیر کے بالیاں کھینچنے والے ، بچے کھچے سکے سمیٹ کے لے جانے والے ۔ یہ سب غربت زدگی کے المیے ہی نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹ لینے کی حرص کے ماروں کا المیہ بھی ہے ۔ کہیں پیٹ بھرنے کے کارن تو کہیں سب کچھ لپیٹ لینے کے کارن ایک کمزور اور غریب کی زندگی جانوروں سے بھی زیادہ تکلیف دہ اور تضحیک آمیز بنا دی گٸی ہے ۔ فاحشہ مرتی ہے اور قرض خواہ اور زبردستی کے مصنوعی وارث وہی کچھ کرتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں آۓ دن ہوتا رہتا ہے ۔ ناول میں شروع سے آخر تک فکشن ، حقیت اور شاعری کا غیرمتوازن سلسلہ تو چلتا ہی ہے لیکن آخر میں جا کے اس میں ڈرامہ بھی شامل کر دیا گیا ہے ۔ جب مصور فاحشہ کی لاش کے ساتھ لیٹ کر کفن کو اپنے اوپر بھی لینے کے لیے کھینچتے ہوۓ محسوس کراتا ہے کہ جیسے کہہ رہا ہو ۔۔۔۔
” محترمہ اپنے ساتھ تھوڑی سی جگہ دے دیں گی ؟ باہر مجھے کوٸی کفنانے والا نہیں ملے گا ۔ اپنے ساتھ میرا لیٹنا معیوب نہ سمجھیے گا مشترکہ مدفون ہونا مجبوری بن چکا ہے ۔
اختتامی جملوں میں ایک دفعہ پھر ناول نگار نمودار ہوتا ہے اور کہتا ہے ، ” موت اور پاکستان ہم شکل ہوگئے ہیں “ ۔
میرے نزیک اس جملے نے ایک دفعہ پھر ناول کی چولیں ہلا کے رکھ دی ہیں ۔ اگر پاکستان کی جگہ شہر ہی لکھ دیا جاتا تو پھر بھی ناول کی مجموعی فضا قاٸم رہتی لیکن پاکستان لکھنے سے ڈرامے کے بعد ناول میں صحافت بھی ڈال دینے کی فاش غلطی نے ناول کی فضا کو بھک سے اڑا کے رکھ دیا ہے ۔ میں اگرچہ اس ناول کے بارے میں کوٸی حتمی راۓ دینے سے گریز کرنا چاہتا ہوں لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ آزاد مہدی کا یہ ناول اس کے پہلے ناولوں کی نسبت بہت کمزور ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ اس میں کہانی کا نہ ہونا ہے اور دوسری وجہ اس میں غیر ضروری اور بےجا تفصیلات کا مسلسل جاری رہنا ہے ۔ آزاد مہدی کے لیے یہ ایک واضح خطرے کا نشان بھی ہے کہ اگر وہ اگلے ناول میں ان کمزوریوں کو دور نہیں کرتا تو پھر ایک اور لتھارجک تحریر کے سوا کسی بڑے کام کی توقع نہیں رکھی جا سکتی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے