” شجر حیات “ ( ایوارڈ یافتہ ) ناول کا نیا عہد
تحریر : فرحت عباس شاہ


شاعری ک طرح ناول نگاری کے شعبہ میں بھی شوقیہ ناول نگاروں کی بھرمار ہے ۔ ایک طرف کمرشل ناولوں کی اشاعت زور شور سے جاری ہے تو دوسری طرف زبردستی کے ناول بھی مسلط کیے جا رہے ہیں ۔ ایسے میں علی نواز شاہ ، اسد محمود خان اور ریاظ احمد جیسے ناول نگاروں کا ہونا کسی غنیمت سے کم نہیں ۔ کامریڈ ریاظ احمد نے پینتیس سال پہلے افسانے لکھنے شروع کیے لیکن ناول اس کے اندر تڑپ رہا تھا ۔ اگرچہ ان کا زریعہء روزگار مصوری رہا لیکن انہوں نے کہانی سے اپنا تعلق کبھی ٹوٹنے نہیں دیا اور آخر کار تقریباً تین سال پہلے ان کا پہلا ناول ، ” شجر ِ حیات “ شاٸع ہو کر نہ صرف قارٸین و ناقدین سے داد وصول کرنے میں کامیاب ہوا بلکہ یو بی ایل ایوارڈ کا مستحق بھی ٹھہرا ۔
شجر حیات جس کا مرکزی کردار موت کی روشنی میں زندگی کی حقیقت تلاش کرنے کی آرزو کے سفر پر گامزن قدم قدم پر ایک ہی نتیجے پر پہنچتا کہ پچھلا قدم مرچکا اگلا صرف ایک امکان ہے اور جس قدم پر وہ ایک ثانیے کے لیے کھڑا ہوا ہے یہی زندگی ہے ۔ اس ناول کی زبان شاعرانہ اور اسلوب مفکرانہ ہے جو اسے نہ صرف ایک معتبر انفرادیت بخشتا ہے بلکہ مصنف کی علمی ، ساٸینسی ، فلسفیانہ اور نضریاتی بصیرت سے استفادہ کرنےکا موقع بھی فراہم کرتا ہے ۔
ناول ایک مصور کی کہانی ہے جسے سماج اور فنکار دشمن معاشرے کا سامنا ہے ۔ وہ محبت ، سماجی وقعت اور ذات کی معنویت کی مثلث کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا کسی ایسے دروازے کی تلاش میں رہتا جو گھٹن سے باہر کھلتا ہو ۔ یہ ناول مذہبی لوگوں کے نافذ کیے گٸے عقاٸد اور سامراج کے مسلط کیے گٸے شماریوں پر سوال اٹھاتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ کی تصویر کی آنکھوں کی رنگت ہمارے ازلی حکمران اور طاقتور مفاد پرست طبقے کو بےنقاب کرتی ہے ۔ کہانی میں مرکزی کردار اور پروفیسر کا مکالمہ دراصل معصومیت اور زمانے کے درمیان مکالمہ ہے جو قاری کے اندر ان کہے فطری سوالات اور خارجی داناٸی کی پرتیں کھولتا ہے ۔ ناول میں لمحہء موجود کی حیاتیاتی اہمیت اور معروضی نفسیاتی دباو سے آزاد ہو کر ایک مسرت بھری خودمختار زندگی جینے کے فلسفے گتھیاں سلجھتی دکھاٸی دیتی ہیں ۔
عام طور پر ترقی پسند ادب ایسی تحریروں کو سمجھا جاتا ہے جن میں سرمایہ دارانہ نظام کے معاشی جبر پر براہ راست کمینٹ موجود ہو لیکن میری ذاتی راٸے کے مطابق وہ تحریریں زیادہ طاقتور اور موٸثر اور پاٸندگی کی حامل ہوتی ہیں جن میں اس گلے سڑے نظام کی روح سے اٹھنے والی سڑاند محسوس ہو اور اس کے ردعمل میں قاری اس نظام سے باقاعدہ گھن محسوس کرنا شروع کردے ۔ کامریڈ ریاظ احمد کا ناول ایسے ہی رستے زخموں کی آپ بیتی ہے جن کے پاس اب اس کے سوا کوٸی مداوا نہیں کہ خود ہی اپنے آپ کو مندمل کرنے کے عمل سے گزارا جاٸے ۔
اس ناول کا مطالعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ معاشرے کے اس جبر کی ڈاٸسیکشن کرتا ہے جس میں کسی بھی تخلیقی ، مثبت اور معصوم فطرت لے کر پیدا ہونے والے انسان پر ڈھاٸے جانے والے رویوں کے ریشے ادھڑتے صاف محسوس کیے جاکتے ہیں
فرحت عباس شاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے