شہر جلتا رہا اس نے غزلیں کہیں
ڈاکٹر ابرار عمر کا شعر آشوب
نقد و نظر : فرحت عباس شاہ


اردو شاعری میں شہر آشوب ایک تگڑی صنف ہے ۔ سودا اور میر تقی میر کے نام اس حوالے سے نمایاں ہیں ۔ حال ہی میں شاٸع ہونے والی ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن شیرازی کی کتاب ، ” اردو شہر آشوب ، تنقید و تحقیق “ اس حوالے سے ایک جامع اور بھرپور آگہی بخش علمی سرماۓ کی حیثیت رکھنے والی کتاب ہے ۔ میرا ادبی عقیدہ ہے کہ ارتقاء کا سفر نہ رکنے والا ہے ، تبدیلی اٹل ہے اور نٸے سے نٸے امکانات کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوسکتا ۔ اپنے اس عقیدے جسے آپ فلسفے یا ساٸنس کی زبان میں مفروضہ بھی کہہ سکتے ہیں کے حق میں دلیل بلکہ ثبوت کے طور پر فطری اور طاقتور اور عہد ِ حاضر کے قدآور شاعر ڈاکٹر ابرار عمر کی طویل غزل جسے آپ موضوعاتی بنیاد پر نظم بھی کہہ سکتے ہیں اور میں نے جس کو شعر آشوب کا نام دیا ہے ” شہر جلتا رہا اس نے غزلیں کہیں “ پر مختصر تاثر پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔
شاعری یا ادب اپنے عہد کی حقیقتوں سے جُڑا ہوا نہ ہو تو سستی اور مجرمانہ تفریح سے زیادہ اس کی کوٸی وقعت نہیں رہ جاتی ۔ بڑا ادب ویسے بھی بڑے سماجی بحرانوں میں ہی تخلیق ہوا ہے چاہے وہ 1857 کے آس پاس کے حالات ہوں ، جنگ عظیم کے بعد کی صورتحال ہو ، تقسیم ہند اور ہجرت کا تناظر ہو یا پاکستان کے مارشل لاٸی ادوار بشمول لمحہء موجود یا عصر ِ حاضر ہو جسے فسطاٸیت کی انتہاء کے نام سے تاریخ میں یاد رکھا جاۓ گا ۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ پچھلے سو سالوں سے ہمیں ہمیشہ یہی لگتا آ رہا ہے کہ ہر موجود عہد اپنے گزشتہ کی نسبت زیادہ پُر آشوب ہے لیکن یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہ دنیا بھر میں معاشی اور عسکری جدال اور رسہ کشی میں جتنی شدت اور تسلسل اب نظر آ رہا ہے پہلے کم کم ہی دکھاٸی دیا ہے ۔ اس کے ساتھ اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ ظلم کی نوعیت ، پس منظر ، پیش منظر ، شدت اور مقاصد سمجھ کے پورے شعور کے ساتھ اس کے خلاف آواز بلند کرنے والے شاعر اور ادیب طبقے کی باقاعدہ پورے منصوبے کے ساتھ بیخ کنی کی جا رہی ہے ۔ اصلی کے سامنے جعلی اور حقیقی کے خلاف غیر حقیقی کو عزت ، اہمیت اور ترقی سے نوازا جا رہا ہے جس کی وجہ سے تخلیقی اظہار کا فطری میلان رکھنے والے بھی اسی بہاو کا شکار ہو کر اپنی ادبی اور سماجی ذمہ داری نبھانے سے معذور نظر آتے ہیں ۔ معاشرے کو شعور دینے والا ہی اگر راہ بھٹک جاۓ تو بے سمتی سماج کا مقدر ہوجایا کرتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ، سطحی اور سرسری شاعری کا ایک بے ہنگم غوغا ہے جو نہ صرف ہر لطیف سماعت کے لیے تیز دھار نشتر بن کر چل رہا ہے بلکہ سماجی بےحسی اور کج روی میں اضافے کا باعث ہے ۔
ڈاکٹر ابرار عمر کی طویل غزل ، یا نظم یا شعر آشوب اسے جو بھی نام دے دیں اسی المیے کی نشاندیہی ہے جو بجا طور پر مصنوعی شاعر اور ادیب کے استعارے کے گرد گھومتی تجزیہ کرتی ، تدارک کا کام سرانجام دیتی نظر آتی ہے ۔ شعراء اور ادباء کا گمراہ کردیا جانا یا خود راہ گم کر بیٹھنا ہرگز ہرگز معمولی سانحہ نہیں ہے ۔ یہ جس شدت سے وقوع پذیر ہوا ہے اسی شدت سے حقیقی شاعر کے دل پر جا لگا ہے ۔ اس کا کرب غزل کے ایک ایک شعر سے عیاں ہے ۔ میں اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ کسی بھی تخلیق کار کے ہاں جب مقصدیت اور احساس اپنی شدت اور سچاٸی کی انتہا کو چھو رہا ہو تو اصناف کا فرق اور دوٸی معدوم ہوجاتی ہے ۔ بلکہ مجھے کہنے دیجٸیے کہ تخلیقی سچاٸی کے سامنے صنف اور ہٸیت کی کوٸی حیثیت ہی نہیں رہ جاتی ۔ میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ حقیقی اور بڑے شعراء کے ہاں کٸی دفعہ خیال خود صنف کا انتخاب کرتا ہے البتہ جو شعراء صرف ایک صنف تک محدود رہ جاتے ہیں ان کا معاملہ الگ ہے ۔ ابرار عمر کا شمار اردو شعراء کی اس کلاس سے ہے جن کا تخلیقی وفور انہیں کسی ایک شعری صنف تک محدود نہیں رہنے دیتا۔ غزل ، نظم ، نثری نظم اور اب یہ طویل غزل ۔ ہوں لگتا ہے جیسے وہ بحر ِ سخن میں اظہار کے جزیرے بنا بنا کے رکھتا چلا جاتا ہے ۔ کیا یہ کم ہے کہ آج کے اس عہد ِ نا خالص میں اردو کو ابرار عمر جیسا خالص انسانی نظریے کا حامل شاعر میسر آیا ہے ۔ ابرار عمر کی زیر نظر غزل صرف مصنوعی شاعروں کی بے حسی کا ماتم ہی نہیں بلکہ انسانی اور سماجی احساس سے عاری ہر اس انسان اور طبقے پر ماتم ہے جو اپنی تمام تر جہالت ، بے حسی ، سفاکی اور بے شرمی سمیت معتبر اور باعزت ہونے کا دعویدار بن بیٹھا ہے ۔ میں اس غزل میں شاعر اور وہ بھی غزلیں کہنے والے شاعر کو صرف استعارے کے طور پر دیکھتا ہوں ۔
شہر جلتا رہا اُس نے غزلیں کہیں
کیا وہ کرتابھلا اُس نے غزلیں کہیں

سانحہ أس کی ہمساٸگی میں ہوا
وہ رہا ماورا أس نے غزلیں کہیں

موت کے خوف سے گھر میں دبکا رہا
وہ نہ باھر گیا أس نے غزلیں کہیں

أس کی بہنیں محافظ أٹھا لے گۓ
أس کو صبر آگیا أأس نے غزلیں کہیں

ہجرت اور تقسیم کے سانحے کے بعد ہم بحیثیت پاکستانی وقفے وقفے سے بار بار مختلف سانحات سے گزرتے رہے ہیں ۔ حقیقی شاعر نے ہر عہد میں اپنے حصے کا کردار ادا کیا ہے لیکن اب کی بار تو وہ انتہا ہوگٸی ہے کہ نوحہ کہنے کی سکت بھی نہیں رہی ۔ ہمارے نظام تعلم نے علم کے فقدان کے باعث ہمیں اس قابل ہی نہیں رہنے دیا کہ ہم حالات کے پیچھے کے محرکات سمجھ سکیں ۔ پچھلی دوتین دہاٸیوں میں مختلف دانشوروں کی طرف سے ضمیر اور غیرت کے موضوعات پر مباحث کی گونج سناٸی دیتی رہی ہے ۔ غیرت کیا ہے ؟ ضمیر کس چڑیا کا نام ہے ۔ اس وقت لوگوں کو بلکہ آج بھی لوگوں کو اس بات کا ادراک نہیں کہ بات انفرادی اور ذاتی غیرت کی بیخ کنی تک محدود نہیں رہی بلکہ اقبال کے تصور ِ حمیت ِ ملی اور قومی غیرت تک جاۓ گی ۔ مجھے کہنے دیجٸیے کہ کسی کو معاشرے پر ہونے والے مسلسل سماجی و تہذیبی حملوں سے ہونے والی اقدار کی شکست و ریخت کا احساس ہی نہیں ہوا کیونکہ ہر کوٸی تو اپنی اپنی غزلیں کہنے میں لگا ہوا ہے ۔
ابرار عمر نے اس طویل غزل میں جہاں مصنوعی شاعر کو سماج کے تمام بےحس طبقات کا استعارہ بنایا ہے وہاں صنف غزل کو بھی خود لذتی اور نشے کی لت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے جس کا شکار ہونے والے کے نزدیک اپنی بین بجانے کے سوا کسی شَۓ کی کوٸی اہمیت نہیں ۔ اگر میں اس طویل غزل کے مرکزی خیال کو ایک جملے میں پرونا چاہوں تو اس سے بہتر شاید اور کوٸی کوٹ نہ ملے ، ” شہر جلتا رہا اور نیرو بانسری بجاتا رہا “ ۔ آج کا شاعر ، آج کا معلم ، آج کا عالم ، آج کا دانشور ، آج کا لیڈر ، آج کا کاروباری ، آج کا منتظم ، آج کا محافظ چند انفرادی مثالوں کو چھوڑ کے اجتماعی سطح پر نیرو بن چکا ہے جسے اپنے لطف و سرور کے سوا کسی سے کوٸی غرض نہیں ۔
أس نے سکرین پر سب نظارا کیا
ٹس سے مس کب ہوا أس نے غزلیں کہیں

کس نے کیا کچھ کیا کس کا کیا دوش تھا
أس کو کب ہوش تھا أس نے غزلیں کہیں

أس کی بے شرم وڈیو بناٸ گٸ
أس نے دیکھاکیا أس نے غزلیں کہیں

بے حسی أس کی فطرت کی قاٸل رہی
وہ بھی ماٸل رہا أس نے غزلیں کہیں

ظلم دھرتی کے لوگوں پہ داٸم رہا
وہ بھی قاٸم رہا أس نے غزلیں کہیں

ایک نشے میں یو ں وہ رہامبتلا
جب بھی موقع ملا أس نے غزلیں کہیں

ابرار عمر نے زیر نظر غزل میں صرف بےحس اور نام نہاد شعراء کے استعارے کو استعمال کرتے ہوۓ معاشرے کے بےحس لوگوں کی ہی نشاندہی نہیں کی بلکہ بدیانت ، کمینے اور طے شدہ مفاد پرستوں کے چہروں سے بھی نقابیں الٹی ہیں لیکن اس سے بھی بڑا کمال عہد موجود میں کیے جانے والے ظلم و ستم کی منظر کشی ہے جو بظاہر تو ضمناً نظر آتی ہے لیکن درحقیقت اس پر شاعر کا پورا پورا ارتکاز ہے ۔ اس نے ستمگروں کے منہ پر طمانچے مار مار کے ان کا مونہہ لال کردیا ہے ۔ شاعر کا کرب اور اس کے کرب کی شدت کا یہ عالم ہے کہ ہر دوسرا شعر قاری کی رگوں میں آتشیں سیال کی طرح دوڑتا باقاعدہ محسوس ہوتا ہے ۔ یہ ہوتا ہے بڑا شاعر ، یہ ہوتا ہے حقیقی شاعر اور یہ ہوتا ہے صاحب نظریہ شاعر جو غزل جیسی صنف نازک سے بھی میدان جنگ میں دشمن پر آسمانی بجلی بن کر ٹوٹ پڑنے والے جنگجو کا کام لے لیتا ہے ۔ میں اس شاہکار کی تخلیق پر ڈاکٹر ابرار عمر کو مبارک باد دیتا ہوں ۔

قوم پر جب کوٸ بھی مصیبت بنی
أس نے صدقہ دیا أس نے غزلیں کہیں

أس کے بچے محافظ أٹھا لے گۓ
أس نے نوٹس لیا أس نے غزلیں کہیں

اپنی غزلوں کے انبار میں خود کو وہ
ڈھونڈتا ہی رہا أس نے غزلیں کہیں

یوں تو اپنے تٸیں انقلابی ہے وہ
خود بدل کب سکا أس نے غزلیں کہیں

میری غزلوں سے اک انقلاب آۓ گا
أس کا یہ زعم تھا أس نے غزلیں کہیں

أس کو سمجھانے میں أس کے گھر تک گیا
وہ نہ مجھ کو ملا أس نے غزلیں کہیں

أس کےاپنوں نے بھی أس کو قاٸل کیا
وہ نہ قاٸل ہوا أس نے غزلیں کہیں

راٸگانی صدا أس کی منزل بنی
وہ تھا اک سر پھرا أس نے غزلیں کہیں

أس پہ بلوا ہوا أس نے غزلیں کہیں
أس کو پیٹا گیا أس نے غزلیں کہیں

لوگ لوٹے گۓ لوگ مارے گۓ
أس کاٹسوا بہا أس نے غزلیں کہیں

چور جب أس کا گھر لوٹنے آگۓ
أن سے وہ مل گیا أس نے غزلیں کہیں

دیس کے بچوں کو بھوک کی آگ میں
جب بھی جھونکا گیا أس نے غزلیں کہیں

مُلک کی فوج کو غیر کی جنگ میں
جب أتارا گیا أس نے غزلیں کہیں

ایک ظالم کے باعٹ مرے شہر میں
کربلا تھی بپا أس نے غزلیں کہیں

کربلا سے ہمیں سیکھنا چاہییے
وہ نہیں سیکھتا أس نے غزلیں کہیں

کفراور ظلم چکی کے دو پاٹ تھے
جن میں مَیں پٍس گیا أس نے غزلیں کہیں

حاکمٍ وقت کی چال میں آ گیا
أس کا مہرہ بنا أس نے غزلیں کہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے