اردو ادب کو نقصان پہنچانے میں مدرسین کا کردار

اردو ادب کو نقصان پہنچانے میں مدرسین کا کردار

مقالہ نگار : فرحت عباس شاہ


علم کی تعریف نہ تو محض جاننا ہے اور نہ ہی فقط معلومات کو جمع کرکے اس کے تجزئیے سے حاصل ہونے والے یا اخذ کیے گئے نتائج ہے ۔
میرے نزدیک کسی راز کے منکشف ہو کر مکمل شعور کے ساتھ انسان کی شخصیت اور کردار سے جھلکنے کا نام علم ہے ۔
اگر علم کی اس تعریف کی روشنی میں تعلیم کی تعبیر کی جائے تو تربیت کے لیے تعلیم و تربیت کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کیونکہ کردار سازی خود اس کے جُز کے طور پر نظر آتی ہے ۔
کُتب ، کورسز ، تعلیمی ادارے ، اساتذہ ، امتحانات اور پاس فیل یا اول دوم سوم کا معیار ، اس کے پیمانے اور ترسیل علم کے دیگر ذرائع مل کے ایک ایسا نظام ترتیب دیتے ہیں جس میں کلیدی کردار استاد ، معلم یا مدرس کا ہوتا ہے ۔
تعلیمی کورسز کے مخصوص ڈیزائن اور تعلیم کا منافع بخش انڈسٹری کے طور پر رائج کیا جانا اگرچہ زیر بحث لایا جانا نہایت اہم ہے لیکن موضوع کی مناسبت سے عہد حاضر میں استاد کا کردار خصوصاً ادب بلکہ اردو ادب کے مدرسین کے کردار اور اس کے نتائج کے حوالے سے خیالات کے اظہار ، مشاہدے ، تجربے اور معلومات کی شئیرئنگ تک محدود رہنا مجبوری ہے۔
ادب کو علوم کی ماں اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ زندگی کے ہر ڈسپلن کو سمجھنے اور اس کے انسان پر عمل اور ردعمل کے تخلیقی اظہار اور پھر اس اظہار کی تفہیم ، تعبیر اور تشریح کو اس خلوص سے اپنے داٸرہء فکر و نظر میں لاتا ہے کہ انسان کے بحیثیت انسان خالص انسانی پن کی نہ صرف تشفی ہوتی ہے بلکہ اسے محسوس کرنے کا موقع میسر آتا ہے ۔
پوری دنیا کی طرح پاکستان پر بھی سرمایہ دارانہ نظام نے ہر اس شعبے کو شکنجے میں کس کے رکھ دیا ہے جس کا تعلق انسانی فکر اور احساس کی آزادی سے ہے ۔ موسیقی ، مصوری اور شاعری سمیت تدریس کی کمرشلاٸزیشن اور زیادہ سے زیادہ مفاد حاصل کرنے کے ماٸینڈ سیٹ نے جس طرح باقی دیگر شعبوں کو آلودہ کیا ہے بالکل ایسے ہی اردو ادب کے معلمین کو بھی لپیٹ میں لیا ہے جو کہ یقیناً کسی المیے سے کم نہیں ۔
جہاں تعلیم کے حصول پر ڈگریوں کے حصول کا رویہ غالب آیا وہیں تعلیم دینے والے اساتذہ کی جگہ کورس ورک کروانے اور ڈگریاں بلیک کرنے والے اساتذہ کی چاندی ہوگٸی اور ہرادارے میں حقیقی معنوں میں استاد کی جگہ پست ذہن ، غیر تخلیقی ، نالاٸق اور بدنیت افراد استاد کے بھیس میں مسلط نظر آتے ہیں ۔ میری اس تمام گزارش کی دلیل کے طور پر اگر آپ صرف تعلیمی اداروں کے شعبہ ہاٸے اردو زبان و ادب کی زیرنگرانی کرواٸے جانے والے تھیسس پر ہی تھوڑی سی تحقیق کرلیں گے تو ان کا معیار ، قابلیت ، نیت اور فرض کی اداٸیگی آپ کے سامنے آ جاٸے گی ۔
اگرچہ استادوں کی سیٹوں پر تعینات کیے جانے والے کمتر اہلیت کے افراد کی تعداد سو فیصد نہیں لیکن جو اکا دکا شریف النفس ، لاٸق اور مدرس مزاج لوگ ان میں جا پھنستے ہیں یہ چالاک لوگ آپس میں گٹھ جوڑ کرکے نہ صرف انہیں نکرے لگاٸے رکھتے ہیں بلکہ آٸے دن چھوٹے سے چھوٹے انتظامی یا تدریسی معاملات میں نہ صرف ان کے خلاف سازشیں بنتے رہتے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان کی زندگی اجیرن کیے رکھتے ہیں ۔ یہی سلوک ان کا شاگردوں کے ساتھ بھی جاری ہے ۔ استاد کے ساتھ بنا کے رکھنے کا جبر تعلیم پر توجہ مرکوز رکھنے اور محنت کرنے کے اصول پر فوقیت دینے کا رویہ شاگردوں کی ذہنی بالیدگی اور شعور کے ارتقاء کے رستے میں کس قدر رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے کسی بھی باشعور انسان کے لیے اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں اور طالبات کے ساتھ جنسی ہراسگی کے مساٸل تو وقتاً فوقتاً منظر عام پر آتےہی رہتے ہیں.
ادب میں نٸے ٹرینڈز کے خلاف ہرزہ سراٸی اور دوچار پرانے اور آوٹ ڈیٹڈ شعراء کی آڑ میں درجنوں قدآور شعراء کے خلاف شاگردوں کے کچے اذہان کو زہر آلود کرنےکا وطیرہ ان پر ختم ہے ۔ ادب اور ادیب کو ذاتی پسند نا پسند اور مفاد پر مبنی تعصبات کی عینک سے نہ صرف خود دیکھنا بلکہ اسے فروغ دینا تو جیسے ان کی فطرت ثانیہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔ غالب ، میر ، اقبال ، منٹو اور پطرس بخاری پر رٹے رٹاٸے لیکچر دے دے کر یہ احساس کمتری کے مارے ہوٸے خود کو ان اکابرین کے مرتبے سے بھی بلند سمجھنے کے ساتھ ساتھ سٹوڈینٹس کے ذہنوں میں بھی یہی ڈالتے رہتے ہیں ۔
تعلیمی اداروں میں بیٹھے یہ ناسور لاکھوں میں تنخواہیں بٹورتے ہیں اور ٹکے کا ڈلیور نہیں کرتے ۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں یہ حالات تجارتی تعلیمی اڈوں سے کہیں زیادہ مخدوش ہیں ۔
اپنی بیویوں ، دوستوں اور فاٸدہ بخش لوگوں کو عظیم بنا کر پیش کرنے کا جرم بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ شاگردوں سے سخن شناسی ، ادب فہمی اور تجزیاتی فکر تک چھینی جا رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فارغ التحصیل سٹوڈینٹس ادیب نقاد شاعر محقق یا معاشرے کے مثبت افراد بننے کی بجاٸے متعصب اور علم دشمن بن کر نکلتے ہیں ۔ وہ اساتذہ جو معاشرے کے تہذیبی ارتقاء میں براہ راست حصہ ڈالتے تھے ان کی جگہ سوڈے فیکٹریوں کے کلرک اور سیمنٹ ایجنسیوں کے ٹاٸم کیپر لے چکے ہیں ۔ اگرچہ محنت کش ہر شعبے میں قابل احترام ہیں لیکن ہمارے جیسے معاشروں میں پہلی نوکری اور پہلے تعلیمی ادارے کے باعث راسخ ہوجانے والی ذہنیت مرتے دم تک پیچھا نہیں چھوڑتی ۔
میرے اس مقالے کے لیے کیے گٸے سروے کے دوران ایک یونیورسٹی کے وی سی نے بتایا کہ مجھے انتظامی اور اخلاقی سطح کے مساٸل کا سامنا سب سے زیادہ شعبہ اردو کی طرف سے کرنا پڑتا ہے یہاں تک کہ شعبہ اردو کے نگران ایڈمنسٹریٹو میٹنگز میں بھی کم کم ہی تشریف لاتے ہیں ۔ ایک کالج کے پرنسپل نے بتایا کہ شعبہ اردو کے ٹیچرز کے کالج میں کسی شاعر ادیب کو مدعو کرنے میں اپنی پسند نا پسند سے باہر نکل کر سوچنے کی اہلیت سے محروم ہیں ۔ ایک یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ہیڈ نے بتایا کہ بہت سارے علمی معاملات میں میرے ہاتھ باندھ دٸیے جاتے ہیں اور علمی ترجیحات پر سیاست مسلط کردی جاتی ہے ۔
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کے قلمی دشمنی کے نام سے ایک اخبار میں شاٸع ہونے والے ضمنی عنوان ، ” تحقیق کو تخلیق کی بدعا لگی ہوٸی ہے “ کے تحت دوقسطوں میں شاٸع ہونے والے کالموں میں تعلیمی اداروں کے ہاتھوں غیر معیاری تحقیق کے ہتھیار سے تخلیق کے قتال کی روداد کسی المیے سے کم نہیں ۔
یہ صرف چار مثالیں اس لیے پیش کی گٸی ہیں کہ میرے اس مقالے پر کسی ذاتی عناد کا سٹیکر چپکا کر یہ غیر استاد مکار طبقہ اس کی صحت سے انکار کرکے اپنے آپ کو صاف بچا نہ لے جاٸے کیونکہ ان کی تمام تر مہارت تعلیم و تدریس کی بجاٸے اسی کام میں ہی تو ہے ورنہ میں اگر اپنا ذاتی شکوہ ریکارڈ پر لے آوں تو کہہ سکتا کہ گزشتہ پینتس سالوں سے مسلسل اعلیٰ ادب تخلیق کرنے کے باوجود مجھے ملک کے نوے فیصد اردو مدرسین کی اندر کھاتے دشمنی کا مسلسل سامنا ہے جنہوں نے میرے تخلیقی کام کو پڑھنے ، سمجھنے کی زحمت تو کیا ہی کرنی ہے الٹا نظر انداز کرنے ، زہریلا پراپیگنڈا کرنے اور اس پر کام کو روکنے جیسے مذموم کردار کے مظاہرہ کرتے دکھاٸی دیتے ہیں ۔ یہ میرے مزاج کے خلاف ہے کہ میں ذاتی بات درمیان میں لے آوں ۔ البتہ میں عدیم ہاشمی ، محسن نقوی ، ڈاکٹر انیس ناگی ، اخترحسین جعفری اور رام ریاض جیسے درجنوں اعلیٰ تخلیقی نابغوں کے نام گنوا سکتا جنہیں مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے مدرسین کے نام پر تعلیمی اداروں پر قابض یہ مفاد رست طبقہ ہمہ وقت نوکری ، ترقی ، پوسٹنگ ، دورے ، رشوت اور اقربا پروری جیسی لاعلاج امراض کا شکار ہے اور کسی کا ان کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا ۔ انہوں نے سب سے پہلے تحقیق کا بیڑا غرق کیا پھر تنقید کو لے بیٹھے اور اس کے بعد تخلیکاروں کے خلاف صف آراء ہوگٸے ۔ گزشتہ چالیس سالوں میں کسی مدرس کی طرف سے کو ابل ذکر تخلیقی کام سامنے نہیں آیا جس پہ چلو میرے جیسے طالب علموں کو کچھ حوصلہ ہی ملتا لیکن اگر یہ تخلیقی قابلیت رکھتے ہوں تو کبھی تخلیق کاروں سے دشمنی نہ کریں ۔ میری ذاتی تحقیق اور تنقید کے مطابق گزشتہ تیس سالوں میں ہمارا ادب پوری دنیا کے ادب کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑے قد کاٹھ سے ارتقاء کی منزلیں طے کرتا نظر آتا ہے جبکہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے کورسز ، سیمینارز اور تحقیق میں یہ بڑا کام کہیں ریفلیکٹ نہیں ہوا بلکہ یہ لکیر کے فقیر پرانے ادب سے نکل ہی نہیں پاٸے ۔ صرف آج اگر ہم جدید اردو نظم کی ہی مثال دیں تو یہ ن م راشد سے آگے بڑھی ہے لیکن ن م راشد پر بار بار اور مجید امجد پر ہزار بار کام کروا کروا کر بیچارے ان شاعروں کا بھی کباڑا کرکے رکھ دیا ہے ۔
ایسا ہرگز نہیں کہ عظیم اور دانا اور نیک خصلت اساتذہ موجود نہیں موجود ہیں لیکن جراٸم پیشہ افراد کا نیٹ ورک اتنا مضبوط ہے کہ انہیں جہاں بھی کوٸی داناٸی اور معصومیت کا حامل استاد نظر آتا ہے یہ بھوکے بھیڑیوں کی طرح جتھا بنا کے اس کا جینا حرام کرکے رکھ دیتے ہیں ۔
ان میں بہت سے نیک صفت استاد ایسے بھی ہیں جو خود ان کے خوف سے یا تو خاموش رہتے ہیں یا انتہاٸی پچھلی صف میں بیٹھ کے سرگوشیوں میں اپنے مجبور ہونے کا رونا روتے رہیں ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجھے اور میرے جیسے دوسرے ادب کے طالب علموں کو کونسی پوزیشن لینی ہوگی ۔ کیا ہمیں علم دوست اور خالص دانا اساتذہ کا ساتھ دینا ہے یا مفادپرست نام نہاد اور نالاٸق استاد لوگوں کی طرف کھڑا ہونا ہے ؟
اگر کوٸی ادارہ یا فرد میری ان گزارشات کی ویلیڈیٹی دیکھنا چاہے تو ٹارگٹ پاپولیشن کے سیمپل کے طور پر صرف پنجاب یونیورسٹی کے اورٸینٹیل کالج کے شعبہ اردو کا سوشل اور تدریسی آڈٹ کروا لیا جاٸے سارا کچا چٹھہ باہر آجاٸے گا

Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے