مجید امجد ایک مبالغہ

مجید امجد ایک مبالغہ


ادراکی تنقید کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ ادب میں پیدا کیے اور پھیلائے گئے غلط ادراک کی نشاندیہی اور پرکھ کرے اور جھوٹ سچ کو الگ الگ کرکے سامنے لے آٸے ۔ False Perception کی ٹیکنیک سے مصنوعی حقیقتیں بنا کر دنیا کی بڑی بڑی حقیقتوں کو چھپانے کا کام لیا جا رہا ہے جس کے پیچھے بڑے بڑے سیاسی اور معاشی مقاصد کارفرما ہیں ۔ ضروری نہیں کہ ہر مبالغے یا اخفاء کے پیچھے کوئی منظم گروہ ہی سرگرم ہو ۔ بعض اوقات ایسے کام انفرادی سطح پر بھی کسی بڑے منصوبے کے بغیر صرف ذاتی تعصب کی بنیاد پر بھی ہوتے دکھاٸی دیتے ہیں جن کے اثرات پورے طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔ میرے خیال کے مطابق یہی صورتحال ہمیں مجید امجد کے سلسلے میں وقوع پذہر ہوئی ملتی ہے ۔
مجید امجد نے تمام زندگی دکھوں کے گھیرے میں گزاری ۔ بچپن میں پہلے والد دنیا سے رخصت ہوئے پھر والدہ داعی ِ اجل ہوئیں ۔ شادی ہوئی تو بیوی ساتھ چھوڑ گئیں اولاد سے محرومی نے مزید اکیلا کردیا طرہ یہ کہ پینشن میں رکاوٹ کے باعث آخری عمر عسرت میں گزاری اور کسمپرسی کے عالم میں وفات پا گئے۔ زندگی میں کسی نے پوچھا تک نہیں اور وفات کے بعد ان کی شاعرانہ اہلیت سے زیادہ مرتبہ عنایت فرما دیا گیا ۔ ان کے ساتھ یہ بے انصافی اور ظلم کس نے کیا اور کیوں کیا یہ جاننا محقیقن کا کام ہے بحیثیت ایک ادراکی نقاد کے میرا کام تو یہ ہے کہ ہرطرح کے تعصب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے لے آوں ۔ مجید امجد کی دکھوں بھری زندگی کے آلام کو دیکھتے ہوئے منیر نیازی کا ایک شعر پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔
کالے کٹھن پہاڑ دکھوں کے سر پر جھیل کے دیکھے
میری طرح کوئی اپنے لہو سے ہولی کھیل کے دیکھے
( منیر نیازی )
منیر نیازی کی زندگی بھی کچھ اچھی نہیں گزری لیکن ان کے درج ِ بالا شعر کی کاٹ اور شدت ایسی ہے کہ مجید امجد کے حالات پڑھ سُن کر بے اختیار دل چاہتا ہے کہ کاش یہ شعر مجید امجد نے ہی کہا ہوتا ۔
اگرچہ نقاد کا یہ کام نہیں کہ کسی کی نیت پر شک کو اپنی تحریر کا حصہ بنائے ممکن ہے کہ مجید امجد کی ایسی پروجیکشن کے پیچھے ادب کی خدمت اور شاعر کو اس کا حقیقی مقام دلانے کی آرزو کار فرما ہو لیکن بیس تیس سال بعد آج تک مرتب ہونے والے نتائج کو دیکھتے ہوٸے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہمارے ناقدین اور محققین نے ہر سطح پہ بے انصافی سے کام لیا ہے منیر نیازی جیسے عالمی ادب میں منفرد ترین شاعر کو کبھی قابل توجہ نہیں سمجھا گیا جبکہ مجید امجد کو جدید نظم کا عظیم شاعر قرار دے دیا گیا اور مزید ظلم یہ کیا کہ ان کی کمزوریوں کو طاقت بنا کے پیش کیا گیا ۔
شاعری خصوصاً جدید نظم میں امیجری ، لسانی تازہ کاری ، شدت ِ احساس اور جدید طرز احساس و اظہار کو خصوصیت گردانا جاتا ہے اور مجید امجد کی نظم ان تمام بنیادی خوبیوں سے تقریباً محروم ہے ۔
وہ ایک دھیمے اور گھٹے ہوۓ مزاج کے انتہائی شریف النفس انسان تھے ۔ ان کا یہی مزاج ان کی شاعری میں بھی بدرجہءاتم موجود ہے ۔ بڑے سے بڑے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بھی جیسے کسی سہم کا شکار ہوں ۔ ان کی شخصیت کا دھیما پن اور ناتوانی ان کی شاعری میں بھی ہوبہو منعکس نظر آتا ہے ۔ ان کا ایک قدرے مشہور شعر دیکھئیے ۔۔
میں روز اُدھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

یہ شعر ان کے تخلیقی سفر کا بلند ترین شعر قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اب میں کیا کروں کے جھنگ کے شاعر رام ریاض ، کا اس سے ملتے جلتے احساس کا شعر دیکھئیے ۔۔۔
پتھر کی طرح تو نے مرا سوگ منایا
دامن نہ کبھی چاک کیا بال نہ کھولے

دونوں شعراء کا کرب شاید ایک جیسا ہو لیکن جو شدت اور شعریت رام ریاض کے شعر میں موجود ہے مجید امجد کے شعر میں دور دور تک نظر نہیں آتی ۔
یہی احساس ِ راٸیگانی جب منیر نیازی کے ہاں نظر آتا ہے تو شعری رفعت کی تشریح کی بھی ضرورت نہیں رہتی ۔۔ منیر کا شعر دیکھئیے ۔۔۔
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

مجید امجد کا ایک اور بہترین شعر دیکھئیے

پلٹ پڑا ہوں شعاوں کے چیتھڑے اوڑھے
نشیب ِ زینہ ایام پر اعصاء رکھتا

مجید امجد کی شاعری میں اس سے زیادہ خوبصورت امیجری کا شعر شاید ہی کوٸی اور موجود ہو لیکن امیجری کے باوجود اس شعر میں کسی قسم کی کوئی کیفیت اور کسک نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ منیر نیازی کے ہاں جب ایسی کوئی امیجری آتی ہے تو لگتا ہے کیفیت دل کو چیر کر گزر جائے گی ۔ منیر نیازی کا شعر دیکھئیے ۔۔۔
صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا ایسا منیر
ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا

یہی حال مجید امجد کی نظموں کا بھی ہے ۔ شکوہ یا مشرق و مغرب جیسے موضوعات پر اگر کوٸی ایک آدھ بڑے موضوع کی نظم ہے بھی تو اس میں بیانیہ نثری زیادہ اور شعری کم ہے اور پھر جب سامنے علامہ اقبال جیسا قدآور اور عظیم المرتبت شاعر ان موضوعات کو جناتی شعری قد و قامت کے ساتھ بیان کرتا نظر آ رہا ہو تو مجید امجد کی ایسی نظمیں قابل ِ ذکر بھی نہیں رہ جاتیں ۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مجید امجد ایک تو خارجی منظر نامے کے ساتھ داخلی کیفیت کو متوازن نہیں رکھ پاتے اور دوسرا روایتی انداز بیان جدید نظم کے حقیقی استعاراتی قدر پر غالب نظر آتا ہے ۔ ناقدین کا تضاد دیکھٸیے کی ان پر کی گٸی تحقیق و تنقید میں موضوع ِ بحث بناٸی گٸی نظمیں وہ ہیں جو سیدھی سیدھی روایتی نظمیں ہیں اور جس مواد پر انہیں جدید شعراء کی صف میں لاکھڑا کیا جاتا ہے ان پر کام نظر ہی نہیں آتا ۔ وجہ یہ ہے کہ ان کی جدید کہی جانے والی نظمیں نظمیں ہیں ہی نہیں ۔ بے وزن ابہامات کو جدید نظم قرار دے بھی دیا جاٸے تو ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔ ایک بات اور بھی دلیل کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے کہ پچھلی تین چار دہاٸیوں سے مجید امجد کی عظمت کا واویلا آپ کو اردو پڑھنے اور پڑھانے والوں میں ہی زیادہ نظر آٸے گا یا پھر جہاں تک اس مغالطے کا پراپیگنڈا پہنچ سکا ۔ مجید امجد ایک نہایت اعلیٰ انسان تھے اور عمدہ شاعر ہیں لیکن کیا یہ ضروری تھا کہ ان کو ایسے مرتبے پر فاٸز کردیا جاٸے جس کے وہ مستحق نہیں ۔ ان کی کمزور نظموں سے ایسے ایسے مضامین نکالے گٸے اور اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ ایم اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں خود چل کر طالب علموں کے گھروں تک پہنچ گٸیں ۔
مجید امجد کی نظم کنواں اگر وقت یا زمانے کا استعارہ ہے تو زنجیروں میں جکڑے بیل رات اور دن کا استعارہ بننے میں ناکام رہتے ہیں کہ رات اور دن وقت کے دو پہٸیے تو ہوسکتے ہیں لیکن ایک تو وہ بیلوں کی طرح متوازی نہیں چلتے دوسرا بیلوں کی طرح مجبور بھی نہیں ۔ ان بیلوں کے پیچھے بانسری کی میٹھی دھن بجانے والا اگر خدا کا استعارہ ہے تو وہ کیسا خدا ہے جو اپنی ہی پیدا کی گٸی مخلوق کے پیچھے داٸرے میں گھوم رہا ہے ۔ کنواں ہر وقت نہیں چلتا جبکہ وقت یا زمانہ رکتا نہیں ۔ گردش ِ زمانہ عروج و زوال ، خوشی غمی ، رونق و ویرانی اور آبادی و بربادی سے مرصع ہے جبکہ مجید امجد کے کنویں پر صرف بربادی کا منظر ہے ۔ لہذا جہاں بھی اس کی نظموں سے کوٸی بھی نقاد بڑا موضوع برآمد کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے ثابت کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یا تو ناقدین مجید امجد کی نظموں کے اندرونی قوافی اور اس کی لفظیات کا اسلوبیاتی تجزیہ کرنے میں منہ چھپاتے ہیں یا پھر اسے کثیر الجہات شاعر کہہ کر بات گول کر جاتے ہیں ۔ جبکہ نہ تو مجید امجد اصناف کی سطح پر کثیرالجہات ہیں نہ ہی موضوعات کی سطح پر ۔ ورنہ ڈاکٹر انیس ناگی جیسے شاعر ، کالم نگار ، ناول نگار ، نقاد ، محقق اور مدیر کو کس کھاتے میں ڈالیں گے یا منیر نیازی جیسے مدیر ، پبلشر ، کالم نگار غزل گو ، نظم گو اور گیت نگار شاعرکی موجودگی میں اتنا بڑا مغالطہ کیسے پھیلایا جاسکتا ہے جو بے مثال اردو شاعر ہونے کے علاوہ پنجابی زبان میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔
مجید امجد کے ہاں کنواں ، پنواڑی اور دیگر نظموں میں برتے گٸے ، روز مرہ کے عذاب ، عام انسان کی زندگی ، گرد و پیش کے مساٸل اور حالات کی ستم ظریفی چھوٹے موضوعات نہیں لیکن یہ شاعر پر منحصر ہوتا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے موضوع کو بڑے سے بڑا شعری پیراہن عطاء کردے لیکن مجید امجد اپنی کسی بھی نظم کو بڑا شعری پیراہن عطاء کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔
لے دے کے مجید امجد کے پاس ایک ہی نظم ، ” آٹو گراف “ یا پھر ” بس سٹینڈ پر “ بچتی ہیں جنیں موضوع ، ڈکشن ، کرافٹ ، شدت ِ احساس اور شعری اظہار میں جدید اور اچھی نظمیں قرار دیا جاسکتا ہے لیکن فکری اور موضوعاتی حوالے سے بڑی نظمیں انہیں بھی نہیں کہا جاسکتا ۔ کیونکہ جب ہم جدید اور بڑی نظم کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے اختر حسین جعفری کی ، آٸینہ خانہ ن م راشد کی ” حسن کوزہ گر “ اور ساحر لدھیانوی کی ” کبھی کبھی میر دل میں خیال آتا ہے “ کھڑی نظر آتی ہیں ۔ یہی حال مجید امجد کی مبینہ تجرباتی اور کینٹوز نما نظموں کا ہے کیونکہ اگر ہم ان کی بات کریں گے تو سوال پیدا ہوگا کہ پھر جعفر طاہر اور ڈاکٹر انیس ناگی کے کینٹوز کو کیوں نظر انداز کیا گیا ۔ مجید امجد کو ایک اچھے شاعر کے طور پر ہر کوٸی تسلیم کرتا ہے لیکن اسے عظیم شاعر قرار دے کر ایک تو خود مجید امجد کے ساتھ ظلم کیا گیا اور دوسرا اردو ادب کے ان طلباء کے ساتھ زیادتی کی گٸی جنہیں یہ کہہ کر مجید امجد پڑھایا گیا کہ یہ ایک بڑا شاعر ہے ۔ جس شاعر کا اپنا کوٸی اسلوب ہی نہ ہو اور جس کے کریڈٹ پہ چند مناسب سی گزارا نظموں اور اکا دکا شعر کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو اگر وہ بڑا شاعر ہے تو پھر اس سے بہتر شاعر کیوں قابل ِ توجہ نہیں سمجھے گٸے ۔ کیا یہ بے انصافی اور تنقیدی جرم اردو ادب کے لیے باعث ِ ندامت نہیں ۔ چند مدرسین اور غیر ذمہ دار نقادوں کے دباو میں آ کر ایک جینوٸن اور عمدہ شاعر کو عظیم شاعر سمجھنے والے غور کریں کہ کیا کبھی کسی نے شعر و ادب سے پیار کرنے والے کسی غیر جانبدار قاری یا نقاد کے منہ سے مجید امجد کی کوٸی نظم سنی ہے جس طرح فیض اور منیر نیازی کی نظمیں ہر دوسرے ادب دوست کے لبوں سے اترتی ہی نہیں ۔ اس کی صاف وجہ یہی ہے کہ مجید امجد کی نظمیں ایک تو دل کے نازک تاروں کو چھیڑنے والے طلسم سے عاری ہیں اور دوسرا دیر پا تاثر کی حامل نہیں ہیں ۔ شعر کی کسوٹی پر پورا نہ اترنے والی نظموں کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا انتہاٸی افسوسناک اقدام ہے لیکن حیرت یہ ہے کہ ایک بھیڑ چال ہے جو ادب کی ڈگریاں لینے اور دینے والے طبقے میں جاری ہے اور اس طرح کے روٸیے کو نوکری کے حصول اور تحفظ کے مقصد کے تحت اپنایا گیا ہے ۔
مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوٸی جھجھک نہیں کہ مجید امجد ایک اچھے شاعر اور عظیم انسان تھے لیکن ان کے لیے عظیم شاعر کا لیبل کسی بھی باشعور اور دیانتدار ناقد کے لیے ہضم کرنا مشکل امر ہے ۔
اسی بحث کے ضمن میں میں مجید امجد اور منیر نیازی کی ایک ایک نظم درج کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ اکتسابی شاعری اور الہامی شاعری کا فرق واضح ہوسکے ۔

کنواں چل رہا ہے، مگر کھیت سوکھے پڑے ہیں، نہ فصلیں، نہ خرمن، نہ دانہ
نہ شاخوں کی باہیں، نہ پھولوں کے مکھڑے، نہ کلیوں کے ماتھے، نہ رُت کی جوانی
گزرتا ہے کیاروں کے پیاسے کناروں کو یوں چیرتا تیز، خوں رنگ پانی
کہ جس طرح زخموں کی دکھتی تپکتی تہوں میں کسی نیشتر کی روانی
ادھر دھیری دھیری
کنوئیں کی نفیری
ہے چھیڑے چلی جا رہی اک ترانہ
پراسرار گانا
جسے سن کے رقصاں ہے اندھے تھکے ہارے بےجان بیلوں کا جوڑا بچارا
گراں بار زنجیریں، بھاری سلاسل، کڑکتے ہوئے آتشیں تازیانے
طویل اور لامنتہی راستے پر بچھا رکھے ہیں دام اپنے قضا نے
اِدھر وہ مصیبت کے ساتھی ملائے ہوئے سینگوں سے سینگ، شانوں سے شانے
رواں ہیں نہ جانے
کدھر؟ کس ٹھکانے؟
نہ رکنے کی تاب اور نہ چلنے کا یارا
مقدر نیارا
کنوئیں والا گادی پہ لیٹا ہے مست اپنی بنسی کی میٹھی سریلی صدا میں
کہیں کھیت سوکھا پڑا رہ گیا اور نہ اس تک کبھی آئی پانی کی باری
کہیں بہہ گئی ایک ہی تند ریلے کی فیاض لہروں میں کیاری کی کیاری
کہیں ہو گئیں دھول میں دھول لاکھوں رنگارنگ فصلیں، ثمردار ساری
پریشاں پریشاں
گریزاں گریزاں
تڑپتی ہیں خوشبوئیں دامِ ہوا میں
نظامِ فنا میں
اور اک نغمۂ سرمدی کان میں آ رہا ہے، مسلسل کنواں چل رہا ہے
پیاپے مگر نرم رو اس کی رفتار، پیہم مگر بےتکان اس کی گردش
عدم سے ازل تک، ازل سے ابد تک، بدلتی نہیں ایک آن اس کی گردش
نہ جانے لیے اپنے دولاب کی آستینوں میں کتنے جہان اس کی گردش
رواں ہے رواں ہے
تپاں ہے تپاں ہے
یہ چکر یونہی جاوداں چل رہا ہے
کنواں چل رہا ہے
( مجید امجد )
اب منیر نیازی کی نظم دیکھٸیے ۔۔

دئے ابھی نہیں جلے
درخت بڑھتی تیرگی میں چھپ چلے
پرند قافلوں میں ڈھل کے اڑ چلے
ہوا ہزار مرگ آرزو کا ایک غم لیے
چلی پہاڑیوں کی سمت رخ کیے
کھلے سمندروں پہ کشتیوں کے بادباں کھلے
سواد شہر کے کھنڈر
گئے دنوں کی خوشبوؤں سے بھر گئے
اکیلی خواب گاہ میں
کسی حسیں نگاہ میں
الم میں لپٹی چاہتیں ورود شب سے جاگ اٹھیں
ہے دل کو بیکلی لگی کہ سیاہ رات آئے گی
جلو میں دکھ کی لاگ کو لیے ہوئے
نگر نگر پہ چھائے گی
( منیر نیازی )
۔۔۔۔۔
اب میں آپ کے سامنے مجید امجد کی ٹوٹل عمدہ شاعری رکھتا ہوں جس میں سے کچھ اشعار اور نظم ” کنواں “ پہلے درج کرچکا ہوں ۔ ہوسکتا ہے کہ کوٸی اکا دکا اور کلام بھی اسی معیار کا نکل آٸے لیکن اسے ملا کے بھی پورے مجید امجد سے ایسا کچھ برآمد نہیں کیا جسکتا جس کی بنیاد پر اسے بڑا یا قدآور جدید شاعر قرار دیا جا سکے اور پھر آخر میں ساحر کی صرف ایک نظم کوٹ کرنے کی جسارت کروں گا جو مجید امجد کے اس سارے کلام پر بھاری پڑتی ہے ۔

” بس سٹینڈ پر “
خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئی
خدا سے کیا گلہ بھائی
خدا تو خیر کس نے اس کا عکس نقش پا دیکھا
نہ دیکھا تو بھی دیکھا اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا
مگر توبہ مری توبہ یہ انساں بھی تو آخر اک تماشا ہے
یہ جس نے پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا بڑے جتنوں سے سیکھا ہے
ابھی کل تک جب اس کے ابروؤں تک موئے پیچاں تھے
ابھی کل تک جب اس کے ہونٹ محروم زنخداں تھے
ردائے صد زماں اوڑھے لرزتا کانپتا بیٹھا
ضمیر سنگ سے بس ایک چنگاری کا طالب تھا
مگر اب تو یہ اونچی ممٹیوں والے جلو خانوں میں بستہ ہے
ہمارے ہی لبوں سے مسکراہٹ چھین کر اب ہم پہ ہنستا ہے
خدا اس کا خدائی اس کی ہر شے اس کی ہم کیا ہیں
چمکتی موٹروں سے اڑنے والی دھول کا ناچیز ذرہ ہیں
ہماری ہی طرح جو پائمال سطوت میر و شاہی میں
لکھوکھا آب دیدہ پا پیادہ دل زدہ واماندہ راہی ہیں
جنہیں نظروں سے گم ہوتے ہوئے رستوں کی گم پیما لکیروں میں
دکھائی دے رہی ہیں آنے والی منزلوں کی دھندلی تصویریں
ضرور اک روز بدلے گا نظام قسمت آدم
بسے گی اک نئی دنیا سجے گا اک نیا عالم
شبستاں میں نئی شمعیں گلستاں میں نیا موسم
وہ رت اے ہم نفس جانے کب آئے گی
وہ فصل دیر رس جانے کب آئے گی
یہ نو نمبر کی بس جانے کب آئے گی
۔۔۔۔
” آٹو گراف “
کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے کتابچے لیے ہوئے
کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں
مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کوارٹر چیخ اٹھے
ابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے پر ہراس قافلے
گرے بڑھے مڑے بھنور ہجوم کے
کھڑی ہیں یہ بھی راستے پہ اک طرف بیاض آرزو بکف
نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں
لرز رہا ہے دم بدم کمان آبروؤں کا خم
کوئی جب ایک ناز بے نیاز سے کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا
حروف کج تراش کی لکیر سی
تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی
کسی عظیم شخصیت کی تمکنت
حنائی انگلیوں پہ کانپتے ورق پہ جھک گئی
تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز نبض رک گئی
وہ بالر ایک مہوشوں کے جمگھٹے میں گھر گیا وہ صفحۂ بیاض پر
بصد غرور کلک گوہریں پھریں
حسین جھلملاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
میں اجنبی میں بے نشاں میں پا بہ گل
نہ رفعت مقام ہے نہ شہرت دوام ہے یہ لوح دل پہ لوح دل
نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
” جاروب کش “
آسمانوں کے تلے سبز و خنک گوشوں میں
کوئی ہوگا جسے اک ساعت راحت مل جائے
یہ گھڑی تیرے مقدر میں نہیں ہے نہ سہی
آسمانوں کے تلے تلخ و سیہ راہوں پر
اتنے غم بکھرے پڑے ہیں کہ اگر تو چن لے
کوئی اک غم تری قسمت کو بدل سکتا ہے
آسمانوں کے تلے تلخ و سیہ راہوں پر
تو اگر دیکھے تو خوشیوں کی گریزاں سرحد
سوز یک غم سے شکیب غم دیگر تک ہے
زندگی قہر سہی زہر سہی کچھ بھی سہی
آسمانوں کے تلے تلخ و سیہ لمحوں میں
جرعۂ سم کے لیے عفت لب لازم ہے
اور تو ہے کہ ترے جسم کا سایہ بھی نجس
تو اگر چاہے تو ان تلخ و سیہ راہوں پر
جا بجا اتنی تڑپتی ہوئی دنیاؤں میں
اتنے غم بکھرے پڑے ہیں کہ جنہیں تیری حیات
قوت شب کے تقدس میں سمو سکتی ہے
کاش تو حیلۂ جاروب کے پر نوچ سکے
کاش تو سوچ سکے سوچ سکے
۔۔۔۔۔
” پنواڑی “
بوڑھا پنواڑی اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری
آنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری
نام کی اک ہٹی کے اندر بوسیدہ الماری
آگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساری
پان کتھا سگریٹ تمباکو چونا لونگ سپاری
عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری
چونا گھولتے چھالیاں کاٹتے کتھ پگھلاتے گزری
سگریٹ کی خالی ڈبیوں کے محل سجاتے گزری
کتنے شرابی مشتریوں سے نین ملاتے گزری
چند کسیلی پتوں کی گتھی سلجھاتے گزری
کون اس گتھی کو سلجھائے دنیا ایک پہیلی
دو دن ایک پھٹی چادر میں دکھ کی آندھی جھیلی
دو کڑوی سانسیں لیں دو چلموں کی راکھ انڈیلی
اور پھر اس کے بعد نہ پوچھو کھیل جو ہونی کھیلی
پنواڑی کی ارتھی اٹھی بابا اللہ بیلی
صبح بھجن کی تان منوہر جھنن جھنن لہرائے
ایک چتا کی راکھ ہوا کے جھونکوں میں کھو جائے
شام کو اس کا کمسن بالا بیٹھا پان لگائے
جھن جھن ٹھن ٹھن چونے والی کٹوری بجتی جائے
ایک پتنگا دیپک پر جل جائے دوسرا آئے
۔۔۔
غزل
دل سے ہر گزری بات گزری ہے
کس قیامت کی رات گزری ہے

چاندنی نیم وا دریچہ سکوت
آنکھوں آنکھوں میں رات گزری ہے

ہائے وہ لوگ خوب صورت لوگ
جن کی دھن میں حیات گزری ہے

تمتماتا ہے چہرۂ ایام
دل پہ کیا واردات گزری ہے

کسی بھٹکے ہوئے خیال کی موج
کتنی یادوں کے سات گزری ہے

پھر کوئی آس لڑکھڑائی ہے
کہ نسیم حیات گزری ہے

بجھتے جاتے ہیں دکھتی پلکوں پہ دیپ
نیند آئی ہے رات گزری ہے
۔۔۔۔۔۔۔
غزل
روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول
حسیں گلاب کے پھول ارغواں گلاب کے پھول

جہان گریۂ شبنم سے کس غرور کے ساتھ
گزر رہے ہیں تبسم کناں گلاب کے پھول

یہ میرا دامن صد چاک یہ ردائے بہار
یہاں شراب کے چھینٹے وہاں گلاب کے پھول

خیال یار ترے سلسلے نشوں کی رتیں
جمال یار تری جھلکیاں گلاب کے پھول

مری نگاہ میں دور زماں کی ہر کروٹ
لہو کی لہر دلوں کا دھواں گلاب کے پھول

سلگتے جاتے ہیں چپ چاپ ہنستے جاتے ہیں
مثال چہرۂ پیغمبراں گلاب کے پھول

یہ کیا طلسم ہے یہ کس کی یاسمیں بانہیں
چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول

کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجدؔ
مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول
۔۔۔۔۔۔۔
غزل
مہکتے میٹھے مستانے زمانے
کب آئیں گے وہ من مانے زمانے

جو میرے کنج دل میں گونجتے ہیں
نہیں دیکھے وہ دنیا نے زمانے

تری پلکوں کی جنبش سے جو ٹپکا
اسی اک پل کے افسانے زمانے

تری سانسوں کی سوغاتیں بہاریں
تری نظروں کے نذرانے زمانے

کبھی تو میری دنیا سے بھی گزرو
لئے آنکھوں میں انجانے زمانے

انہی کی زندگی جو چل پڑے ہیں
تری موجوں سے ٹکرانے زمانے

میں فکر راز ہستی کا پرستار
مری تسبیح کے دانے زمانے
۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل
دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا
انجمن انجمن رہا تنہا

ڈھلتے سایوں میں تیرے کوچے سے
کوئی گزرا ہے بارہا تنہا

تیری آہٹ قدم قدم اور میں
اس معیت میں بھی رہا تنہا

کہنا یادوں کے برف زاروں سے
ایک آنسو بہا بہا تنہا

ڈوبتے ساحلوں کے موڑ پہ دل
اک کھنڈر سا رہا سہا تنہا

گونجتا رہ گیا خلاؤں میں
وقت کا ایک قہقہہ تنہا
۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آخر میں ساحر لدھیانوی کی ایک مختصر لیکن آفاقی نظم دیکھٸیے ۔ یہ نظم میں نے اس لیے منتخب کی ہے کہ مجید امجد کی تمام تر شاعری اس ایک نظم کے نیچے دبی ہوٸی ہے ۔ لیکن ایسی شدت ، ایسی محرومی ، ایسا بہاو ، ایسا کرب اور ایسا شکوہ مجید امجد کی تمام شاعری کو ملا کر بھی پیدا نہیں ہوا جو ساحر کی صرف ایک نظم میں موجود ہے ۔ تدریسی نصابی اسٹیبلشمینٹ جتنا زور لگا لے قانون فطرت ہے کہ سچاٸی ایک نہ ایک دن ضرور ظاہر ہو کر رہتی ہے ۔
” تاج محل “ ساحر لدھیانوی
تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہی
تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی
ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی
میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں
میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی
جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل
یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے