علی نواز شاہ کا ناول ” یہوہ “

علی نواز شاہ کا ناول ” یہوہ “
عالمی ادب کا گرانقدر سرمایہ


دنیا کے بڑے بڑے ناول ہمیشہ کسی انسان ، کسی معاشرے یا کسی عہد کی کہانی پر مشتمل نظر آتے ہیں ۔ کچھ ناول فرد یا کسی فرد کی کسی مخصوص تناظر میں ذہنی کیفیت یا ایک سے زیادہ کیفیات پر مبنی بھی لکھے گٸے ہیں لیکن بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی مصنف نے ایک ہی ناول میں انسان ، قبیلوں ، معاشروں اور تاریخی ادوار کی کہانی کو بیک وقت بیان کیا ہو۔ اگر میں اپنے مطمہءنظر کو ایک جملے میں بیان کرنا چاہوں تو اپنے عجزِ بیان پر معذرت کے ساتھ یہی کہہ سکتا ہوں کہ علی نواز شاہ کا ناول دراصل انسانی تاریخ کی کہانی ہے ۔
فِکشن اینڈ فیکٹ کی ٹیکنیک پر لکھا گیا یہ ناول بظاہر قوم ِ یہود کے گرد گھومتا ہے لیکن درحقیقت یہ انسانی عقاٸد کے ارتقاء و زوال ، علوم کی ماہٸیت ، فکر و فلسفہ کی منازل ، تفہیم فطرت اور نظریات کے تصادم کی ایسی دستاویز ہے جسے انتہاٸی اختصار سے تحریر کی گٸی تفصیل قرار دیا جاسکتا ۔ چار لافانی کرداروں کی غیر روایتی افسانیت نے اس ناول کو تکنیکی اعتبار سے بھی منفرد بنا دیا ہے کیونکہ ہزاروں صدیوں کے انسانی تاریخی سفر کی کہانی فانی کرداروں کے تسلسل سے ممکن نہیں تھی اور ” صدیوں کا بیٹا “ جیسا کردار اس کی تحقیقی اور حقیقی ویلیو کو کم بھی کردیتا اور فیکٹ پر فکشن کے غالب آجانے کے امکانات بھی بڑھ جاتے جبکہ موجودہ صورت میں براہما ، وشنو ، شیوا اور خداٸے بزرگ و برتر کے کردار ماٸیتھالوجیکل اور مذہبی تصورات ہونے کے باوجود فکشن نہیں ہیں ۔ یہاں میں یہ نشاندیہی بھی کرنا مناسب سمجتا ہوں زیر نظر ناول میں قوم یہود بھی ایک کردار کے پر بلکہ مرکزی کردار کے طور نظر آتی ہے جس کی صدیوں پر محیط محنت ، قربانی اور کمٹمینٹ ناولوں کے روایتی ہیروز کی طرح آخری فتح کے اعزاز سے سرفراز ہوتی ہے اور غالباً ان کے خدا یہوہ کا ان سے وعدہ بھی یہی تھا ۔
علی نوازشاہ کے زیر نظر ناول کا شمار عالمی ادب کے چند بہترین ناولوں میں اس لیے بھی کیا جاسکتا ہے کہ مصنف نے کمال مہارت سے اس کی بنیاد کاٸنات کے اساسی نکتے ، ” علم “ پر رکھی ہے اور اس کلیدی نکتے کو ناول میں تسبیح کا وہ دھاگہ بنا دیا ہے جس میں ناول نگار اپنے تمام کرداروں کے ساتھ ساتھ واقعات و حالات کو بھی دانوں کی طرح پروتا چلا جاتا ہے ۔
علی نواز شاہ کے زیرِ نظر ناول ” یہوہ و یہود“ کے تاریخی کرداروں کے علاوہ چار کردار نہ صرف غیر تاریخی ہیں بلکہ غیر روایتی بھی ہیں جن میں سے تین ، براہما ، وشنو اور شیوا ہیں جن سے ہمیں ہندو ماٸیتھالوجی دیوتاوں کے طور پر متعارف کراتی ہے جبکہ چوتھا کردار ایک خدا کو ماننے اور اس کی تبلیغ کرنے والے پیغمبروں کا خدا ہے ۔ تینوں مذکورہ دیوتاوں میں براہما اور وشنو کاٸنات میں جاری و ساری معاملات پر مسلسل بحث کے زریعٸے سربستہ رازوں کی گتھیاں سلجھانے کے ساتھ ساتھ انسانی فطرت کا مشاہدہ کرتے ہوے حاصل ہونے والے علم اور اپنے اندر پہلے سے موجود قدیم ادراک کی روشنی میں کاٸنات کو سمجھنے اور سمجھانے کی ذمہ داری سنبھالے نظر آتے ہیں جبکہ شیوا اپنی منفی قوتوں سے خیر کے تسلسل کو توڑ کر شر کو مہمیز دینے سے نظام کاٸنات کے توازن کو برقرار رکھنے کے مقصد میں لگا رہتا ہے ۔ شیوا وقت ، روح ، رفتار ، روشنی ، تاریکی اور سوچ پر قابو پانے کی ریاضت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی شکتی سے انسانوں کے کاروبار ِ حیات میں مداخلت کرنے کا کوٸی موقع ضاٸع نہیں جانے دیتا اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے سوچ کو سب سے موٸثر ترین ہتھیار کے طورپر استعمال میں لاتا ہے ۔ ناول میں اگرچہ ان مخفی علوم تک رساٸی کو ممکن نہیں دکھایا یا بتایا گیا لیکن علم ِ فکر
یعنی نالج آف تھنکنگ اُس پہلے مخفی علم کے طور پر سامنے آتا ہے جس پر گرفت حاصل کرنے کے بعد کسی بھی انسان کی روح ، دماغ ، ارادے ، عمل اور وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ حالات و واقعات پر بھی کنٹرول حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
دوسرا مخفی علم جو مصنف نے اس ناول میں آشکار کیا ہے اور جسے پہلے ایک عمل سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گٸی وہ خداٸے واحد سے رابطہ اور اس سے مدد مانگنا ہے ۔ جسے ہم دعا بھی کہتے ہیں ۔ یعنی پیغمبروں کا بتایا گیا خدا جس نے ایک طرف تو خودکار کاٸنات کو تخلیق کرکے اور انسان کو خیر و شر کے راستے دکھا کر آزماٸش میں ڈال دیا ہے وہاں خود اپنے نظام میں مداخلت اور تبدیلی کی گنجاٸیش بھی رکھ دی ہے جو خالص دعا کی انرجی سے بروٸے کار لاٸی
جاسکتی ہے ۔
ناول میں جان دی بیپٹسٹ کے دور میں ہی مخفی علوم کی پٹاری سے ایک اور علم کی دریافت ہوتی ہے جسے سامری کے پجاری پہلے والے اور پیغمبروں کے خداٸے واحد کے متوازی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اسی کو ہی خدا قرار دے دیا جا ہے لیکن بعد میں اسے ایسے مخفی علم کے طور پر تسلیم کیا گیا جس کے زریعٸے طاقت اور اقتدار حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ اس مخفی علم کو دولت یا سرماٸے کا نام دیا گیا ۔
اگرچہ ناول کا آغاز حضرت محمد کی پیداٸیش پر یہودیوں کی بے چینی اور پھر فلیش بیک میں فرعون اور حضرت موسیٰ کے تذکرے سے ہوتا ہے لیکن ناول کی کہانی کا آغاز دراصل صدوسیوں کی اینٹری سے ہی ہوتا ہے جب وہ دولت کو خدا مان کر خلق ِ خدا حتیٰ کے خود خداٸے واحد کے خلاف سازشوں کے جال پر جال بچھانا شروع کردیتے ہیں ۔ ناول کا پلاٹ دراصل انسان اور خدا کے خلاف اسی گروہ کی سرگرمیوں کے تانوں بانوں سے بُنا گیا ہے ۔
ناول ” یہوہ و یہود “ میں قاری کو ششدر کردینے والی کٸی باتیں درون ِمتن منکشف ہوتی چلی جاتی ہیں ۔ عام طور پر یہ وصف عظیم شاعری میں ملتا ہے لیکن آمد یا الہام کے مناظر اس ناول کو انکشاف نظام کاٸنات کی جستجو کا ایسا وصف عطاء کرتے چلے جاتے ہیں جو ناولوں کے حصے میں کم کم ہی آیا ہے ۔ اس ضمن میں پالو کوٸیلو کے ناول ”الکیمسٹ“ اور ہرمن ہیسے کے ”سدھارتھ“ کو اگرچہ کسی حد تک اسی نوع کے ناول شمار کیا جاسکتا ہے لیکن سچ تو یہی ہے کہ علی نوازشاہ کا یہ ناول ان سے کہیں زیادہ عمیق ، بلیغ اور وسیع ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا جھجھک نہیں ہے کہ اس ناول کے مقابلے میں عالمی ادب کے عظیم ترین ناولوں کے کینوس بھی سکڑ کر رہ گٸے ہیں ۔ جبکہ ناول ” یہوہ و یہود “ کے کینوس کا تعین ہی ایک بڑے کینوس کا متقاضی دکھاٸی دیتا ہے ۔ اس ناول میں زیر بحث لاٸے گٸے مخفی علوم ہی اتنا بڑا موضوع ہے کہ ہزاروں صفحات کالے کرنے کے باوجود بھی گرفت میں نہ آٸے مگر علی نوازشاہ نے جس آسانی سے انہیں دریافت کیا ہے یہ تحقیق کے بس کی بات نہیں نہ ہی اسے الہامی قرار دینے کے سوا کو چارہ نظر آتا ہے ۔ مثال کے طور پر ناول میں تاریخی واقعات کے بیان سے جو چوتھا مخفی علم پردہءاسرار سے نکل کر دل ہاٸے صالح کو رساٸی دیتا ہے وہ علم الایثار ہے جو شیوا کے نظریہء توازن میں چھپے عدم توازن اور عدم میزان کے عمل کو پچھاڑتا خداٸے واحد سے رابطے اور اس سے مانگنے کے علم یعنی قوت دعا کے ساتھ مل کر کاٸنات اور نظام ِ کاٸنات کو حقیقی توازن پر قاٸم رکھنے کا باعث بنتا ہے ۔ ناول کا پلاٹ اتنا مضبوط ہے کہ بظاہر کہانی کے روایت سے ہٹ کے نظر آنے والے مباحث اور زیر بحث لا ٸے جانے والے فلسفے بھی کہانی کے موضوع میں اس طرح کھبے ہوٸے ہیں کہ ایک لفظ یا ایک فقرہ سیاق و سباق سے باہر نہیں نکلتا ۔ مصنف نے کرداری نگاری اور منظر نگاری کو اتنا فطری انداز میں قلم زد کیا ہے کہ کہیں بھی کہانی کا مرکزہ مغلوب یا متاثر نہیں ہوا اور سادہ ترین زبان میں لکھی گٸی نثر کی روانی اور واقعات کا تسلسل ایسا رواں دواں ہے کہ ایک عہد سے دوسرے عہد میں داخل ہونے کے باوجود قاری کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا ۔
علی نواز شاہ کے ناول ” یہوہ و یہود “ کا وہ مرکزی نقطہ ۔۔۔۔ جس کی وجہ یہ ناول میکسم گورکی کے ناول ” ماں “ کے قریب لیکن تناظر میں اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے ۔۔۔ اسے دنیا کے ناولوں سے منفرد کرتا نظر آتا ہے ، دراصل دولت کے اندھا دھند حصول ، قربت الٰہی کی طرز پر چاہت ، عشق حقیقی کی طرح جنون اور دیگر مذاہب کی طرح اس کا پرچار اور اس کے غلبے کا مشن ہے ۔ صدوسی یہ طے کرچکے تھے کہ یا تو دولت ہی خدا ہے یا پھر جس کے پاس زیادہ دولت ہوگی اسے ہی خدا سمجھا جانا اور مان لیا جانا چاہٸیے ۔ انہوں نے اسے پہلے تو مذہب کے طور پر اپنا اور پھر نظرٸیے کے طور پر راٸج کر دیا اور راٸج بھی ایسا کہ آج پوری دنیا میں سرمایہ داری نظام کسی بھی مذہب ، کسی بھی نظرٸیے سے زیادہ طاقتور ، غالب اور ناقابل شکست نظر آتا ہے ۔ خاص طورپر سفاردیم ایگریسو نظرٸیے کے پھیلاوں اور اثرپذیری کے بعد تو اب اسے ایسی یونیورسل حیثیت ہوچکی ہے جو کسی دوسرے مذہب یا نظرٸیے کو حاصل نہیں ۔ جدید ترین زندگی زندگی کی ہر ترقی اور ہر سہولت اسی کی مرہون منت ہے ۔ خداوند سرمایہ جس دشت کو چاہے سبز و شاداب کردے جس شہر کو چاہے صفحہ ہستی سے مٹا دے ۔ جسے چاہے تخت پر بٹھاٸے یا تختہءدار پر لٹکا دے ۔ بیماریاں اور وباٸیں پیدا کرے اور جب چاہے جسے چاہے شفا بخش دے ۔ سمندروں میں ارتعاش پیدا کرے ، بارشیں برساٸے ، روشنی کو قید کرلے ، ہواوں ، فضاوں ،خلاوں کو مسخر کرے یا دنیا بھر کے انسانوں کی سوچ کنرول کرے اس کے معجزات سنے دیکھے اور بھگتے جا رہے ہیں ۔
یہاں پر میں ان دو مزید علوم کے منکشف کیے جانے کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں جو یقیناً پردہء اسرار سے نکل کر انسانی دسترس میں آٸے ۔ ایک علم الموت اور دوسرا علم العزم کہا جانا چاہٸیے ۔ موت کا علم انسان سے جو کچھ کروانے پر جتنا قادر ہے اور جس قدر زندگی کی گتھیوں کو سلجھانے کی قابلیت لیے ہوٸے ہے اس کی ایک اپنی بے پناہ اہمیت ہے ۔ اسی طرح علم العزم ہے ۔ مختصراً قوم یہود کی آج کےانسان پر فتح اور دنیا پر حکومت کا بنیادی سرچشمہ اسی لامتناہی اور عظیم کمٹمینٹ ( علم العزم ) کو قرار دیا جاسکتا ہے۔
بڑا ادب وہی ہوتا ہے جو ہواوں کے رخ کے مخالف چل کے وہ بات بتا جاٸے جو عام انسانوں کی ذہنی و مشاہداتی رساٸی سے دور ہو ۔ علی نواز شاہ اردو زبان کو اپنی نوع کا وہ عظیم ناول دینے میں کامیاب ہوگیا ہے جو نہ پہلے کبھی لکھا گیا تھا نہ لکھا جاٸے گا۔
فرحت عباس شاہ


Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے