متوازی تہذیبی ارتقاء کی کہانی

اسد محمود خان کا ناول ” پیشی “
متوازی تہذیبی ارتقاء کی کہانی

نقد و نظر : فرحت عباس شاہ


مغربی تھیوریاں پچھلے تیس سال کی محنت کے باوجود اردو ناول کو مشرق کی تہذیب سے کاٹنے میں ناکام رہی ہیں البتہ ان تھیوریوں کو پاکستان کے ادب پر مسلط کرنے کی منافع بخش ذمہ داری لینے والے ناقدین اور مدرسین اسد محمود خان کے ناول ، پیشی کو اپنے تٸیں کم از کم ابھی تک تو نظر انداز کرنے اور گمنام رکھنے میں کامیاب نظر آتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ” پیشی “ ایک تو غیر معمولی ناول ہے دوسرا ایک بار پھر قرة العین کے ناول ، ” آگ کا دریا “ اور مستنصر حسین تارڑ کے ناول ، ” بہاو “ میں ناول کی شکل میں پیش کی جانے والی تہذیبی کہانی کا غیر تخلیقی پن بے نقاب کرتا ہے ۔ یہی وہ پہلُو ہے جس کی بنیاد پر فورٹ ولیم کالج کے ویژن کو آگے لیکر چلتے تعلیمی اداروں کے ادبی شعبوں اور بہت سستے مفاد پر ست تدریسی اور ضمیر کو بیچ دینے والے ناعاقبت اندیش مدرس ناقدین کے لیے ایسے ہر تخلیق پارے کو دفنانے کی کوشش کرنا پوشیدہ فرض منصبی کی حیثیت رکھتا ہے تاکہ سرمایہ دارانہ نظام کے لیے انسانوں کو ان کی تہذیبی یاداشت سے کاٹ کے اپنی مرضی کی غلام اور کنزیومرسوساٸیٹی میں تبدیل کرنے کا ایجنڈا پورا کرنا آسان ہو سکے ۔
معروف و ممتاز ادیب مشرف عالم ذوقی ناول کے فلیپ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔
” اسد محمود خان کے ناول پیشی کا مطالعہ کرتے
ہوے میں تارڑ صاحب کے بعد دوسری بار حیران ہوا
کہ یا خدا، کیا قدیم تہذیبوں کی بازیافت کرتے
ہوئے ایسی نثر اور مکالمے بھی لکھے جا سکتے ہیں جن پر آسمانی صحیفہ کا گمان ہو ۔ سترہویں صدی سے قبل کی
تاریخ اور سترہویں صدی کے آغاز کا منظر نامہ اس قدر حیران کن ہے کہ زبان، کردار، مکالمے
واقعات، وارداتیں ہم کواسی تہذیب کا حصہ بنا دیتی ہیں۔ یہ عمل مجھے یا تو ”آگ کا دریا“ میں نظر آیا یا تارڑ صاحب کے ناول” بہاؤ “ میں۔ سندھ کے
ساحل تک مغل حملہ آور ہوئے تو ارگون کی حکومت ختم ہوئی ۔ ایک سورج غروب ہوا تو دوسری صبح کا یقین بڑھ گیا ۔ محبت کی حرف حرف تفسیر راستے کو روشن کرتی رہتی ہے۔ تاریخ کے صدیوں پر محیط منظر نامے سمیٹ
گر حال اور مستقبل پر گرفت ڈالنا، نئے افق تلاش کرنا، عالمی سیاست اور جنگوں کے بطون سے محبت کی تفسیر لکھنا ، آنے والی نئی صبحوں کو یقینی بنانا ، پیشی ایسے
ادیب کا ہی کرشمہ ہو سکتا ہے جو لاشوں اور تباہی کے
درمیان کھڑا اپنی قوم کو بیدار کر رہا ہو کہ ، ” نئی دنیاٶ تہذیب پر اپنی نشانیاں ثبت کرو کہ آگے فتح ہی فتح ہے “ ۔ اس ناول نے اردو ناولوں کی اب تک کی تاریخ میں گراں قدراضافہ کیا ہے“ ۔

اگرچہ میں مشرف عالم ذوقی صاحب سے کافی حد تک متفق ہوں لیکن اس اضافے کے ساتھ کہ تہذیب کی خارجی تاریخ کے علاوہ ایک باطنی تہذیبی تسلسل بھی ہوتا ہے جسے میں متوازی تہذیب کا نام دیتا ہوں اور جو انسان کی داخلیت پر اثرانداز ہو کے اس کی سوچ اور فکر حتیٰ کہ جذبات و احساسات کی ترتیب و تدوین پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔ ہوسکتا ہے اسے کچھ لوگ یونگ کے اجتماعی لاشعور کی کارستانی سمجھیں لیکن میں اسے اپنی تھیوری ” بنیادی لاشعور “ ( جس کا کانسیپٹ میں نے اپنی کتاب ” روگ “ کے دیباچے میں دیا ہے ) کی کارکردگی ، ڈی این کے ارتقاء اور خارجی ردعمل پر مبنی سمجھتا ہوں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں ایک قاری کے طور پر ” آگ کا دریا “ اور ” بہاٶ “ سے متاثر نہیں ہوسکا ۔ نہ ہی ان دونوں ناولوں کو دلچسپی سے پڑھ سکا نہ انہوں نے مجھے ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ۔ ان دونوں ناولوں میں غیرتخلیقی اور زبردستی کے کانٹینٹ کے ریڈیبیلٹی کا عنصر بہت ہی کمزور ہے ۔ آپ بھی اگر اسے مدرسین اور نصابی نقادوں کے بناٸے ہوۓ تاثر سے نکل کر پڑھیں گے تو شاید مجھ سے متفق ہوجاٸیں ۔ اسد محمود خان کا ناول ایک تو اپنے آغاز سے ہی قاری کی انگلی پکڑ کر لے کے چل پڑتا ہے اور دوسرا یہ کہ اس میں دراصل تہذیب کی داخلی صورتحال کی شکست و ریخت کی کہانی ہے ۔ جو کہیں نہ کہیں انسان کے اپنے اندر اٹھنے والے سوالات کی کتھا سے جا کے جڑ جاتی ہے ۔
جبلتیں ، احساسات و جذبات ، اُنسیت ، اپناٸیت ، محبت اور عشق ۔ اسی طرح اعتبار ، اعتماد ، یقین اور ایمان یہ سب انسان کی داخلی حالتیں ہیں ۔ تہذیب انہیں حالتوں کی اجتماعیت کے تفاعلی انعکاس سے متشکل ہوتی ہے ۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اسد محمود خان کے ناول کو دیگر ناولوں سے الگ کرتا ہے ۔
انسان کا ماحول کے بارے پہلا علم جبلت سے جنم لیتا ہے ۔ جس کے لیے وہ دیکھتا ہے یا محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ پھر سمجھنے کی کوشش کرکے اپنی بقاء کے لیے کردار اپناتا ہے اور جب ماحول رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو پھر انسان اگلے عمل کا تعین کرتا ہے ۔ نامساعد ماحول ، بے اختیاری اور خوف کی صورتحال انسان کو لاٸحہءعمل بنانے پر ماٸل کرتی ہے ۔ یہ لاٸحہ عمل انفرادی ہو تو خود غرضی اور اجتماعی ہو تو اس سے سماج کی ترتیب و تہذیب جنم لیتی ہے ۔ اسد محمود خان کا ناول ” پیشی “ فکشن اور حقیقت نگاری کے امتزاج سے وقوع پذیر ہوتا جس میں موضوع کے پس ِ پردہ موجود نظریے کی سطح پر محبت کو مرکزیت حاصل ہے ۔ محبت ناول میں محض ایک جذبے کے طور پر آنے کی بجاٸے ایک ایسی فورس اور تواناٸی کے طور پر آٸی ہے جو خارجی انرجی کے متوازی ایک باطنی انرجی کی حیثیت سے انسانی یقین کی اصلیت کے آرکیٹیکچر کو تشکیل دیتی ہے۔ ناول نگار کے مطابق محبت دو اشیاء یا دو مظاہر یا دو واقعات کے درمیان ایسی کڑی ہے جس کے سچے اور مضبوط یا کمزور ہونے پر ۔۔۔۔۔ تہذیب کی باطنی تشکیل سے خارجی تہذیبی مظاہرے تک کی ماہٸیت و کیفیت ۔۔۔۔۔ من و عن منحصر ہے ۔
ناول کے آغاز میں ہی واقعات کی بجاۓ نامساعد حالات کے احساس ، بے اختیاری ، تصور ِ خدا اور دعا کرنے کے عمل کا اختیار ، صبر و رضا اور تشکر جیس باطنی حالتوں کے وقوع پذیر ہونے سے تہذیبی خد و خال کا منظرنامہ سامنے آتا ہے ۔ کیا اس میں کوٸی شک و شبہ ہے کہ انسانی تاریخ میں پہلا انقلاب انکار سے اور دوسرا اقرار سے آیا ۔ اگرچہ ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے یہی دو گروہ آج تک برسرپیکار نظر آتے ہیں لیکن اسد محمود خان نے ان کے باطن کے اندر موجود ایسی کہانی تک رساٸی حاصل کی ہے جو دونوں کے میکانکی عقیدوں کو بے نقاب کرتی ہوٸی اعلیٰ تصورات کی عزت کی بحالی کا نظریہ پیش کرتی ہے اور وہ نظریہ ہے محبت ۔ جب تک خدا یا حقیقت ِ مطلق کی تلاش کا سفر جاری رہے گا اس کی نفی کرنے والے اور اس کے سامنے نت نٸے اختلافی دلاٸل رکھنے والے بھی کھڑے ہوتے رہیں گے ۔ انسان کی داخلی اور خارجی کاٸناتوں میں اضطراب کبھی ختم نہیں ہوگا کیونکہ شاید یہی اضطراب زندگی ہے اور یہی بے چینی حرکت اور انرجی ہے جس کے توازن سے انسان کا باطن اور خارج اپنے بنانے والے کے کہیں نہ کہیں ہونے کا پتہ دیتے ہیں ۔ اسد محمود خان کا یہ عجیب و غریب ناول اقتصادی سازشی تھیوریوں کی بھرمار کے عہد میں انسانوں کو واپس خود اپنی طرف لوٹنے کی ترغیب دیتا ہے اور ناول پیشی کی یہی خصوصیت اسے ” آگ کا دریا “ ، ” بہاو “ اور اس طرح کے دیگر ناولوں سے ممتاز کرتا ہے ۔ پیشی کو اگر فکری مماثلت کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو یہ برگساں سے زیادہ اقبال کی روحانیت اور وجدانی و قلبی کیفیات کے آگہی تک پہنچنے کی طاقت ہونے کے تصور سے زیادہ قریب ہے ۔ ناول کے مناظر اور مکالمے اتنے طاقتور ہیں کہ قاری کو لمحہءموجود سے نکال کے کہیں اور ہی لے جاتے ہیں ۔ ناول میں حُلیہ نگاری کردار نگاری پر حاوی نظر آتی ہے اور زبان سے ماضی کے کسی عہد کے تعین کا تاثر خود بخود قاری کے ذہن میں پیدا ہوجاتا ہے ۔
میرے نزدیک اب ہمارے مدرسین اور نصابی دانشوروں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوۓ ادب کے پرانے پچاس سالوں سے نکل کر آج کے ادب اور ادیب کو دیکھنا ہوگا تاکہ طلباء و طالبات کو دھوکے میں نہ رکھا جاۓ اور نہ اردو ادب کے شاندار ارتقاء کو نظر انداز کرکے زبان و ادب سے دشمنی کی جاۓ ۔ آخر میں ایک بار پھر یہ تنبیہہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسد محمود خان ایک بڑے ناول نگار ہیں انہیں نظر انداز کرکے اردو ادب کو مزید نقصان نہ پہنچایا جاۓ ۔


Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے