ممتاز شاعر اورکالم نگاررضی الدین رضی سے ایک ملاقات

 


س:اگر رضی الدین رضی گمنامی کی زندگی گزاررہا ہوتا تو آپ کو کیسے لگتا؟
ج:یہ سوال تو مجھے کرنا چاہیے تھا کہ اگر میں گمنامی کی زندگی گزاررہا ہوتا تو آپ کو کیسا لگتا؟اور اگر میں گمنامی کی زندگی گزاررہا ہوتاتو پھرآپ کس سے یہ مکالمہ کررہے ہوتے۔اورجوسوالات آپ نے مجھے ارسال کیے وہ کسی اور کو بھیج رہے ہوتے اوراس سے پوچھ رہے ہوتے کہ جناب گمنامی کی زندگی کیسی ہوتی ہے؟ہاں مجھے جوکچھ بھی ملا وہ شاعری اورادب سے وابستگی کے نتیجے میں ہی ملا۔اگر میں شاعر یا لکھاری نہ ہوتا تو شاید کسی محکمے میں کلرک ہوتا۔ممکن ہے کہ کسی بڑے منصب پربھی فائز ہوتا،کوئی افسر ہوتا،شاید کرپٹ بھی ہوتا۔ اور آج نیب سے چھپتا پھررہا ہوتا۔مجھے سر اٹھا کر چلنے کا جو حوصلہ ملا وہ قلم نے عطا کیا۔

س:کیا ترقی پسندی اور دائیں بائیں بازو کی اصطلاحات اب بوسیدگی کا شکارنہیں ہوچکیں؟
ج:نظریہ کبھی بوسیدگی کاشکارنہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہوا کہ مفاد پرستوں نے نظریات کوبھی کھیل بنادیا۔وہ جو سچائی کے ساتھ کسی نظریئے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے انہیں بہت بعد میں احساس ہوا کہ ان کے ساتھ تو ہاتھ ہوگیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جن جہادیوں کو ڈکٹیٹر کی آواز پر اور ریاست کے ایماءپر ترقی پسندوں کو برا بھلا کہتے اور ان کی مخبری کرتے دیکھا بعدازاں وہی سبزے خود چولا بدل کر ترقی پسندوں کی صف میں شامل ہوگئے۔ اصل میں تو وہ ریاست کے آلہ کارتھے ۔وہ خفیہ والوں کے ایجنٹ تھے۔ جب ریاست کے لیے جہاد ضروری تھا تو وہ جہادی بن گئے اور جب ریاست نے جہادیوں کو برابھلا کہنا شروع کیا تو انہوں نے بھی دہشت گردوں کے خلاف بظاہر مہم شروع کردی۔اصل میں تو مفادات کاکھیل ہے جیسے ایک ہانکے پر ساری بھیڑ بکریاں ایک پارٹی میں شامل ہوجاتی ہیں کچھ ایسا ہی ان نام نہاد دانشوروں کے ساتھ ہوتا ہے۔اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دونوں طرف ان کے اپنے آدمی ہی بیٹھے ہیں۔ انہوں نے جسے جہاں معمور کرنا ہوتا ہے وہیں اس کی ڈیوٹی لگادیتے ہیں اور پھریہ اس ڈیوٹی کو قومی فریضہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔اوراس کے عوض اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں اور پھرمحفلوں میں ہنس کر کہتے ہیں کہ بھائی ہمیں تو شرم نہیں آتی ،بچوں کوپالنے کے لیے کسی کا پالتوبن جانا کوئی بری بات نہیں۔

س:کسی متحد ادبی تحریک کی ضرورت محسوس نہیں کرتے؟
ج:یہ متحد ادبی تحریک کیا ہوتی ہے میرے بھائی؟ کیا سوچنے سمجھنے والے دانشوروں کو برائلروں کی طرح کسی ایک ڈربے میں بند کیاجاسکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن نہیں تو کوئی متحد ادبی تحریک بھی ظہورپذیرنہیں ہوسکتی۔ادبی تحریکیں خاص ماحول میں جنم لیتی ہیں اوران میں مختلف نظریات رکھنے والے قلم کار موجودہوتے ہیں۔ ان میں فکری اختلاف بھی ہوتا ہے اور اختلاف کوئی بری بات نہیں۔ اختلاف کرنے والے کسی بحث مباحثے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں لیکن اگر آپ یہ سوچیں کہ سب دانشور ایک ہی سوچ اور فکر کے مالک ہوں اور کوئی متحد ہ ادبی تحریک تشکیل پاجائے تو یہ ممکن نہیں ہوتا۔

س:کیا آج کل ادبی دنیا میں درآنے والے ”متشاعروں“ کی وسیع تعداد جینوئن شاعروں کے لیے فکر انگیز نہیں؟
ج:متشاعروں کے ساتھ شاعروں کی محبت کاسلسلہ ہمیشہ سے چلاآرہاہے۔ اب سوشل میڈیا کی وجہ سے اس میں کچھ تیزی آگئی اور اچھے برے کی تمیز بھی ممکن نہیں رہی۔بہت سے شاعر ایسے ہیں جنہیں ہم جنیوئن سمجھ کر ان کی عزت کرتے ہیں لیکن اچانک کسی موڑ پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو سرے سے شاعر ہی نہیں ۔ ہمیں کوئی کان میں آ کر بتاتا ہے کہ یہ تو مانگے تانگے کی غزلوں اور نظموں سے اپنا کام چلارہے ہیں پھر ہم محفلوں میں ان کی گفتگو اور حرکات کا جائزہ لیتے ہیں۔ان کے اندر کا چور شاعر پکڑنے کے لیے مصرعے بازی شروع کردیتے ہیں۔مصرعوں پر گرہیں لگاتے ہیں۔ اوٹ پٹانگ نظمیں کہتے ہیں اور محفل میں بیٹھے لوگوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھی اس مصرعے بازی میں شامل ہوجائیں۔جوشاعر ہوتے ہیں وہ تو اس محفل میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں لیکن بے چارے متشاعرفون سننے کے بہانے اٹھ کر باہر چلے جاتے ہیں۔ پھرہم پر ان کی اصلیت واضح ہوجاتی ہے۔متشاعروں کا سب سے بڑا سہارا استاد شعرا ہیں جو اپنی مجبوریوں اور مالی ضروریات کے پیش نظر اپنا کلام فروخت کردیتے ہیں۔بسا اوقات ایک ہی غزل معمولی ردوبدل کے بعد اپنے ایک سے زیادہ شاگردوں میں دانستہ تقسیم کردی جاتی ہے۔ماضی میں تو استاد شعراءایسی غزلوں کا اپنے پاس ریکارڈ میں بھی محفوظ رکھتے تھے۔کچھ متشاعر جو آج قومی سطح پر مشہورہیں ۔ ان کے ایسے کئی مسودے مختلف اساتذہ کے پاس محفوظ تھے ۔ ان اساتذہ کی موت کے بعد ان مسودوں کے حصول کی جنگ نے بھی بڑا لطف دیاتھا۔

س:کیا دونمبرشاعروں کے مانگے تانگے کلام پر ہوچکے تحقیقی مقالوں کو مستقبل رد کرسکے گا؟
ج:یہ یقیناً ایسا المیہ ہے کہ جس پر صرف افسوس کا اظہارہی کیا جاسکتا ہے۔جن لوگوں کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ وہ مانگے تانگے کا کلام پیش کرتے ہیں اور ہم سب جانتے بوجھتے بھی مشاعروں میں ان کی شرکت پر اعتراض نہیں کرتے اور ان سے سماجی روابط ختم نہیں کرتے اور ان دو نمبرلوگوں کو اپنی صفوں میں شامل رکھتے ہیں توپھر آنے والا مورخ بھلا سچائی کیسے تلاش کرے گا۔ ان پرتحقیقی مقالے لکھے جارہے ہیں یہ اچھی بات ہے لیکن اس کے نتیجے میں جن حقیقی قلم کاروں پر مقالے لکھے گئے آنے والے دنوں میں وہ مقالے بھی مشکوک قرارپائیں گے۔گویا یہ دونمبرشاعر صنم کوبھی لے ڈوبیں گے۔اس صورت حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے شاعروں کو ان کے عہدوں اور دولت سے مرعوب ہوئے بغیر آج ہی بے نقاب کردیا جائے۔ وگرنہ کل کس نے دیکھا۔

س:افسانے میں کس کو اہم سمجھتے ہیں ۔۔مطلب اردو ادب کا بڑا افسانہ نگارکون ہے؟
ج:ایک ہی نام ایسا ہے جو افسانے کے منظرمیں سب سے بلند قامت ہے اوروہ نام سعادت حسن منٹوکا ہے۔وہی منٹو جس پر فحش نگاری کا الزام لگا۔ جس کی کتابوں پر پابندی عائد کی گئی۔ جس پر مقدمے بنے اور جس کی کتابیں ضبط کی گئیں۔ وہی منٹو آج بھی اس عہدکا اور آنے والے عہد کابھی سب سے بڑا افسانہ نگارہے۔

س:ملتان نے کوئی بڑا شاعر پیدا کیا۔اگر نہیں تو کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
ج:ملتان کاتعارف شاعری میں پروفیسر عرش صدیقی ،ڈاکٹر اسلم انصاری اور ڈاکٹر عاصی کرنالی بنتے ہیں۔سینئر شعراءمیں یہ تین نام ہیں جنہیں ہم ملتان کی پہچان قراردیتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ان تینوں کو وہ ملک گیرشہرت نصیب نہیں ہوئی جولاہور ،کراچی اورراولپنڈی والوں کے حصے میں آئی۔اس کی بنیادی وجہ ملتان کی مرکزسے دوری ہے۔یہ شہر 1990ءکے عشرے تک میڈیا کامرکز نہیں بن سکا تھا۔اخبارات کے ادبی ایڈیشن بھی لاہور سے بن کر آتے تھے اور ان میں لاہور اورپنڈی والے ہی چھائے ہوتے تھے۔اسی طرح ایک ٹی وی سنٹر تھا جس کے پروڈیوسرلاہور میں بیٹھ کر کبھی کبھارملتان والوں کو یاد کرلیتے تھے۔اب صورت حال بدل چکی ہے۔اب ملتان کی پہچان قرارپانے والوں میں خالد مسعود خان، شاکرحسین شاکر، قمررضا شہزاد اور نوازش علی ندیم شامل ہیں۔یہ ملک بھر میں بین الاقوامی سطح پربھی ملتان کی نمائندگی کرتے ہیں اور نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ہائیکو کو متعارف کروانے والے ڈاکٹر محمد امین اور اردو پنجابی کے نامور شاعر پروفیسر انور جمال بھی شاعری میں ملتان کااہم حوالہ ہیں۔

س:جنوبی پنجاب ،سرائیکی صوبے جیسے نعروں کا اصل فائدہ کس کوہوگا۔۔۔کیا ہم نے کبھی سوچا؟
ج:سیدھی سی بات ہے کہ اس کافائدہ عوام کوتو نہیں ہوگا۔ یہ نعرے صرف اس لیے لگائے جارہے ہیں تاکہ حکمران طبقہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے یہاں حکمرانی کاایک اور نظام قائم کرسکے۔صوبے کی بات صرف اورصرف اقتدار کے لیے کی جارہی ہے۔ اس کایہ مطلب نہیں کہ صوبے کی ضرورت نہیں ۔ صوبے کی ضرورت تو ہے لیکن جو لوگ یہ نعرے لگارہے ہیں صوبہ اصل میں ان کی ضرورت ہے کہ صوبے کی گورنر شپ ،وزارت اعلی اور دیگر عہدے تو انہی کے حصے میں آنے ہیں۔ا شرافیہ جب اپنی ضروریات پوری کرلیتی ہے تو عوام کی ضرورتیں بھول جاتی ہے۔بالکل اسی طرح جیسے کسی کے اشارے پر راتوں رات صوبہ جنوبی پنجاب محاذ تشکیل پایا۔عوام کے جذبات سے کھیلا گیا اور پھر جب حکومت بن گئی تو صوبے کا مطالبہ نظرانداز کردیاگیا۔صوبہ تو دور کی بات ہے ان لوگوں سے تو لالی پاپ کے طورپر الگ سیکرٹریٹ بھی نہ بن سکا۔ورنہ اس کے خطے کے لوگ تو اتنے بھولے ہیں کہ وہ سیکرٹریٹ پرہی رضا مندہو نے کو تیارتھے۔

س:زندگی کوروز بروز مشکل سے مشکل تر کرنے کا اصل فائدہ کسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔عام آدمی کے دکھوں کا ازالہ کس کی ذمہ داری ہے؟
ج:جو عوام کی زندگیاں مشکل بناتے ہیں فائدہ بھی انہی کوہوتاہے۔ لیکن دکھوں کا ازالہ لوگوں کی اپنی ذمہ داری قرارپاتا ہے۔ لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تمہیں تمہارے کیے کی سزا مل رہی ہے۔حکمرانوں کوغلط کہنے کی بجائے یہ کہا جاتا ہے کہ جیسے تم تھے ویسے ہی تمہارے حکمران ہیں۔یہ کہیں باہر سے تو نہیں آئے۔یہ تمہارے ہی لوگ ہیں۔ اور انہیں منتخب بھی تم نے کیا ہے۔ایسے میں لوگ دکھوں کے ازالے کا مطالبہ کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔

س:اردو زبان کو”رکھیل“ سمجھنے والوں کونکیل ڈالنا ضروری نہیں کیا؟
ج:بھائی رکھیل تو اب قومی کھیل بن چکا ہے ۔آپ کسے کسے نکیل ڈالیں گے ۔

س:گڑے مردہ اکھاڑنے والے گروہ۔۔۔زندہ انسان کے دکھوں پر کب توجہ دیں گے؟
ج:ہم مردہ پرست معاشرے میں رہتے ہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں برگزیدہ ہستیوں کے مزارات پر چڑھاوے چڑھا کر مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے ۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں پیر سپاہی جیسا کردار ہزاروں لاکھوں افراد کا مجمع کرکے کہتا تھا کہ پانی والی بوتلوں کے ڈھکن کھول لو میں لاﺅڈ سپیکر پر پھونک ماروں گا اور پھر یہ پانی تمہارے لیے شفاءکاباعث بنے گا۔ایک ایسے معاشرے میں جہاں آج بھی ہم توہم پرستی کو فروغ دیتے ہیں۔وہاں یہ توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ گڑے مردے اکھاڑنے والے زندہ انسانوں کے دکھوں کا مداوا کریں گے۔

س:آج کا دور نئی غزل کا متقاضی ہے یاجدید نظم کا؟
ج:میرا نہیں خیال کہ ان دواصناف میں سے کسی ایک صنف کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ آج کے دور کی نمائندگی کرسکتی ہے ۔ہمیں غزل اورنظم دونوں میں عصری شعور پوری توانائی کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زبان و بیان کے تجربات اور نئے موضوعات ان دونوں اصناف میں جگہ بنارہے ہیں ۔ نئی آوازیں ہیں جو غزل اور نظم میں اپنی پہچان بنارہی ہیں۔ اس لیے یہ سوچنا درست نہیں ہوگا کہ غزل یا نظم میں سے کوئی ایک صنف آج کے تقاضوں کو پورا کرسکتی ہے۔

س:پاکستانی فلم اور ڈرامہ تباہی کے دہانے پر کس طرح جاکھڑا ہوا؟
ج:فلم اورڈرامے کو کمرشلزم کی انتہاءلے ڈوبی۔ اگرچہ کمرشلزم تو پہلے بھی موجودتھی اور فلمیں اور ڈرامے کمرشل بنیادوں پر ہی بنائے جاتے تھے لیکن ہدایت کار ،پروڈیوسر اوراس فن سے وابستہ دیگر افراد خالصتاً پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مالک ہوتے تھے۔لہذا وہ فن کو کمرشلزم کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیتے تھے۔ اب معاملہ الٹ ہوگیا فلم ساز اور ہدایت کار وہی ہیں جن کا ان فنون لطیفہ سے کوئی تعلق نہیں۔ سو انہوں نے پیسے کی دوڑ میں فلمیں اور ڈرامے برباد کردیئے۔


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے