مزاحیہ کالموں کی کہانی

عرض مصنف
مزاحیہ کالموں کی کہانی
ملتان میں کالم نگاری کی روایت بہت پرانی ہے ۔1960ءکے عشرے میں منوبھائی نے روزنامہ امروز ملتان سے ہی گریبان کے نام سے کالم نگاری شروع کی اور پھر گریبان ہی ان کی پہچان بن گیا۔بعد کے زمانے میں اقبال ساغر صدیقی، مسعود اشعر، شبیر حسن اختر،حسین سحر، اقبال ارشد، پروفیسر انورجمال،ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹرصلاح الدین حیدر، اصغر ندیم سید، طفیل ابن گل،اطہر ناسک،شاکرحسین شاکر،خالد مسعود خان،گل نوخیزاختر، اختر شمار،اظہر سلیم مجوکہ، راحت وفا اور شفیق آصف نے اس شہر میں گاہے گاہے کالم نگاری کی ۔یہ کالم سیاسی موضوعات پربھی لکھے گئے ،ادبی وثقافتی تقریبات کے حوالے سے بھی اور معاشرتی، سماجی ومقامی مسائل پربھی۔ 1983ءمیں روزنامہ سنگ میل سے جب میں نے اپنے صحافتی کیریئر کاآغاز کیا تو میرے سامنے کالم نگاری کی ایک بہت مضبوط روایت موجودتھی۔وہ جنرل ضیاءالحق کا زمانہ تھا جب لکھنا پڑھنا اوربات کرنا آسان نہیں تھا۔ روزنامہ سنگ میل میں افضل چوہدری مرحوم (ڈاکٹر حنیف چوہدری کے صاحبزادے)نیوزایڈیٹر تھے جنہوں نے بعدازاں مجھے بھی نیوزڈیسک پر بٹھا کر نیوزایڈیٹربنادیا۔لیکن جب میں پہلے روزاخبار کے دفترپہنچا تو مجھے ادارتی صفحات مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔یہ اپریل کامہینہ تھا۔میری ڈیوٹی ادارتی صفحے کے لیے مضامین اور نامہ نگاروں کے مکتوبات تیارکرناتھا۔وہ کتابت کازمانہ تھا ۔اخبار میں خوش نویسوں کی بڑی تعداد موجودتھی۔کتابت سے لے کر ڈیزائنگ تک سبھی کچھ اس زمانے میں ہاتھ سے کیاجاتاتھا۔نامور خطاط اورمصور علی اعجاز نظامی اس اخبار میں آرٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے تھے(آرٹ ایڈیٹراخبارکا لے آﺅٹ تیارکرنے والے کوکہا جاتاتھا۔اب یہ ذمہ داریاں پیج میکروں نے سنبھال لی ہیں)۔علی اعجاز نظامی نے اسی زمانے میں مصوری اور پین ورک کے ذریعے خاکے بنانے کا آغاز کیاتھاجس کے بعد وہ مصورانہ خطاطی کی طرف بھی آگئے۔مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ علی اعجاز نظامی نے پہلا خاکہ میرا ہی بنایاتھا جو میرے کالم کاحصہ بھی بنا۔بعدازاں میں نے ان سے پروفیسر حسین سحر، اقبال ارشداقبال ساغر صدیقی اور پروفیسر انور جمال کے علاوہ اور قومی مشاہیر کے خاکے بھی بنوائے اور اخبار کے لیے پورے پورے صفحات کے ایڈیشن بھی تیارکروائے۔اخبارمیں حافظ سراج صاحب خوش نویسی کرتے تھے جو بعدازاں قرآنی خطاطی کے لیے ادارہ منہاج القرآن کے ساتھ منسلک ہوگئے۔
میں اس سے پہلے خاکے ،بچوں کی کہانیاں اور مضامین تو لکھتاتھا،شاعری بھی کرتا تھا لیکن کالم نگاری کاآغازمیں نے ابھی نہیں کیا تھا۔سو ادارتی صفحے کے انچارج کی حیثیت سے میں نے اس صفحے میں اپنے کالم کے لیے بھی جگہ مختص کرلی۔روزنامہ سنگ میل میں میرا پہلا کالم 29اگست 1983ءکو شائع ہوا( آج کے بہت سے مقبول کالم نگاروں میں سے بعضوں کا تو اس وقت ادبی سفر بھی شروع نہیں ہوا تھا ۔وہ جنرل ضیاءالحق کی آمریت کادور تھا۔کالم کا نام میں نے پہلے ہی سوچ رکھا تھا،خوف وہراس کے اس زمانے میںمیں نے اپنے کالم کانام ” ڈرتے ڈرتے“ رکھ لیا اور یہ نام خوف زدہ ہونے کے لیے نہیں صرف اپنے خوف کو ”ظاہر“ کرنے کے لیے رکھاگیاتھا۔ میں نے اپنے پہلے کالم میں لکھاتھا”امید تھی کہ ہم بڑے ہوںگے تو ہمارا ڈر ختم ہوجائے گالیکن ہم بڑے ہوئے تو ہمارا ڈر بھی بڑا ہوگیا، شعور کی منزل کوپہنچے تو یہ ڈربھی ہمارے ساتھ ہی باشعور ہوگیا۔اب ہر وقت دھڑکا لگار ہتا ہے کہ وہ جانے کب ہمیں کسی بھی الزام میں پکڑ کر لے جائیں ۔اب ڈر ہماری ذات کاحصہ بن چکا ہے اسی لیے ہم نے اپنے کالم کا نام ”ڈرتے ڈرتے “ رکھا ہے“۔میرے کالم کا پہلا لوگو حافظ سراج صاحب نے ڈیزائن کیاتھا ، کچھ عرصے بعد علی اعجاز نظامی نے بھی ایک لوگو بنایا اورساتھ میں میرا وہ سکیچ بھی بنادیا جس کا ابھی میں نے ذکر کیاتھا۔ منٹو سے ملتی جلتی شکل والا یہ سکیچ طویل عرصے تک میرے کالم کاحصہ اور میری پہچان بنا رہا۔”ڈرتے ڈرتے” کے عنوان کے ساتھ ہی بعد کے زمانے میں میں نے روزنامہ نوائے ملتان، قومی آواز، اعلان حق، نوائے وقت ، جنگ، نیا دن اورروزنامہ آج کل میںبھی کالم نگاری کی اور اب بھی میں اسی عنوان سے روزنامہ پاکستان کے لیے کالم لکھ رہاہوں۔اس تمام عرصے کے دوران میں نے کہیں روزانہ اورکہیں ہفتہ وارکالم تحریر کیے جن کی مجموعی تعداد ہزاروں میں بنتی ہے۔ ان کالموں میںکبھی سیاسی موضوع پر بات کی ،کبھی سماجی موضوعات کو زیربحث لایا۔ کبھی پابندیوں میں رہتے ہوئے پابندیاں توڑنے کی کوشش کی اورکبھی کچھ کہے بغیر اشارتاً بہت کچھ کہہ دیا۔پہلے جنرل ضیاءالحق ، پھرجنرل پرویز مشرف اوربعد ازاں عمران خان کے زمانے میںاظہار رائے پر عائد کی جانے والی پابندیوں نے مجھے لکھنے کا ہنر سکھایا۔پابندیوں کے ان ادوار میں بدترین دور عمران خان کا تھا ۔ جنرل ضیا کے دور میں تو صحافیوں کو صرف کوڑے مارے جاتے تھے لیکن اب لاپتا اور صحافیوں کو قتل کرنے کا زمانہ آ گیا ہے ۔
ضیاءالحق کے دور میں کڑی سنسر شپ تھی اور اس سنسر شپ کے دوران بہت کچھ لکھنے کے باوجودمیں کسی مشکل کا شکارہونے سے بچ گیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یہ اخبار مقامی تھا ۔اگرچہ اس کی سرکولیشن بہت زیادہ تھی لیکن اس کے باوجود شاید نوجوان لکھاری کی باتوں کومارشل لاءحکام نے دیوانے کی بڑھ سمجھ کر نظرانداز کردیا۔اسی زمانے میں مسعود اشعراور اظہر جاویدسمیت بہت سے صحافیوں کو ایم آرڈی کی قرارداد پر دستخط کے”جرم“ میں ملازمتوں سے برطرف کیاگیا اور ریڈیو ،ٹی وی پر بھی ان پر پابندیاں عائد کردی گئیں ۔ان کے حق میں واحد آواز روزنامہ سنگ میل ملتان سے بلند ہوئی تھی اور میرے اس کالم کی بازگشت ملک بھر میں سنائی دی تھی۔ پھر اظہر جاویدصاحب نے ایک خط کے ذریعے میرا شکریہ بھی ادا کیا اور محتاط رہنے کامشورہ بھی دیا۔اسی طرح بیگم ثاقبہ رحیم الدین کو ”بوڑھوں کی چلڈرنز اکیڈمی“ کے عنوان سے لکھے گئے ایک کالم میں جب میں نے بیگم سابقہ رحیم الدین لکھا تومحترم اقبال ساغر صدیقی نے فون کرکے مجھے اپنے دفتر بلایا اور محتاط رہنے کامشورہ دیاتھا(بعدازاں کسی نے بتایا کہ ساغر صاحب سے خفیہ والوں کی جانب سے میرے بارے میں معلومات حاصل کی گئی تھیں)۔ ایسی بہت سی یادیں اور کہانیاں ہیں جو آج اس کتاب کاپیش لفظ لکھتے ہوئے مجھے یاد آرہی ہیں اوریہ بھی یاد آرہاہے کہ جب جنرل ضیاءالحق کاطیارہ 17اگست 1988ءکو لال کمال کے قریب تباہ ہوا اور سرکاری طورپر انہیں دوروز بعد شہید کا رتبہ دیاگیا تو میں نے روزنامہ ”قومی آواز“ میں ”شہید کی جوموت ہے وہ قوم کی حیات ہے “ کے عنوان سے کالم تحریر کیاتھااور ان کے ساتھ اسی طیارے میں ہلاک ہونے والے آئی ایس پی آر کے سربراہ اور ان کے تقریر نویس بریگیڈیئر صدیق سالک کے بارے میں لکھے گئے کالم کو ”ہمہ یاراں دوزخ“ کا عنوان دیاتھا۔(جو ان کی کتاب کانام ہے )
زیرنظرکتاب میں آپ کو صوفی عبدالقدوس ،علیل حیدرآبادی ،پھجا قصائی ، صدیق پردیسی، حامد کرزئی ،نذیر گھوٹوی، رشید بی اے ،سعید پٹواری ،چاچا کرم دین ،موٹے بھائی جان جیسے کردار دکھائی دیں گے۔ ان میں سے کچھ کردار سیاسی بھی ہیں اور کچھ غیرسیاسی ۔یہ سب وہ کردار ہیں جن کاادب سے بھی ،صحافت اور طب سے بھی۔ان میں وکیل بھی ہیں،استاد بھی، ریا کار مولوی بھی اور منافع خورتاجر بھی۔روزہ خوربھی اور چغل خوربھی۔ان کرداروں میں ممکن ہے آپ کو اپنے کسی شناسا کاچہرہ بھی نظرآجائے لیکن اس کے باوجود کسی کردار کی مماثلت کو محض اتفاق سمجھنا بھی آپ کے لیے ضروری ہوگا۔کچھ کردار تو بہت بدکرداربھی ہیں اوراسی لیے وہ معزز بھی بہت ہیں ۔لیکن یہ دراصل اس معاشرے کی وہ تصویریں ہیں جنہیں میں نے پابندیوں کے خوف سے مختلف ناموں کے ساتھ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مجسم کردیا۔یہ کالم 2002سے 2022کے درمیان روزنامہ نیا دن، روزنامہ نوائے وقت اور دیگراخبارات میں تحریر کیے گئے۔ سو ان میں آٰپ کوپرویز مشرف کے زمانے کے کئی کالم بھی ملیں گے اور پھر نام نہاد جمہوری ادوار کی کہانیاں بھی دکھائی دیں گی۔کچھ حساس واقعات اورموضوعات کو کہانی کے انداز میں قلم بند کردیاگیا۔کہیں علامتی اسلوب اپنایا گیا اور کہیں خاکے کے ذریعے کوئی نقشہ کھینچ دیاگیا۔اصل میں یہ میرے چار عشروں کے صحافتی سفر کا حاصل ہے۔
کہا جاتا ہے کہ صحافتی کالموں کی عمر ایک روز کی ہوتی ہے۔ اگلے روز آپ کی تحریر ماضی کاحصہ بن جاتی ہے۔ موضوعات چونکہ ہنگامی ہوتے ہیں اس لیے کچھ عرصے بعد ہی لوگوں کو کالموں کا سیاق و سباق بھی بھول جاتا ہے۔کارکن صحافی اگر ڈیوٹی کے دوران کالم نگاری کرے تو اس کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اسے کاپی پیسٹنگ کے وقت ہی اخبار کی جگہ کے مطابق اپناکالم مکمل کرنا ہوتا ہے۔میں نے ہمیشہ اسی اندازمیں کالم لکھے خواہ وہ” رفتگان ملتان “ میں شائع ہونے والے مضامین ہوںیا”آدھا سچ“ یا ”وابستگان ملتان“ کے مضامین ۔میری یہ عادت بن چکی ہے کہ ایک ایک سلپ (کاغذ کا ورق)جو کبھی میں کاتب کے حوالے کرتاتھا اب لکھنے کے دوران کمپوزر کی خدمت میں پیش کردیتا ہوں۔فی زمانہ تو لفظ گننے کی سہولت بھی کمپیوٹر پر میسر ہے وگرنہ تو یہ ہوتا تھا کہ مجھے کاتب صاحب آوازدیتے تھے کہ آپ کا کالم تو بہت مختصر ہے۔ پانچ صفحے اورلکھنے ہیں اورجب میں پانچ صفحے لکھ دیتاتھا تو وہ کہتے تھے کہ یہ تو زیادہ ہوگئے اب انہیں تین صفحوں میں تبدیل کردیں۔سو یہ طریقہ کارتھا ہماری کالم نگاری کا۔پھرجب کمپیوٹر کی سہولت ملی تو لفظوں اورسطور کے درمیانی فاصلہ قائم کرنے کی سہولت بھی میسرآگئی۔
قارئین محترم ! میں نے خالصتاً سیاسی موضوعات پرلکھے گئے کالموں اورتجزیوں کو اس کتاب کا حصہ نہیں بنایا۔یہ صرف میری مزاحیہ تحریریں ہیں جنہیں میں نے کالم، کہانیاں اور خاکوں کے عنوانات دے کر الگ الگ حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ان کالموں کی زندگی ممکن ہے ایک روز ہی کی ہو لیکن میں نے کوشش کی کہ ان ذریعے اس عہدکو محفوظ کردیا جائے۔ آپ کی رائے ہمیشہ کی طرح میرے لیے اہمیت کی حامل ہوگی۔
رضی الدین رضی
سات مئی دوہزار بائیس
poetrazi@gmail.com

0300-6359941


Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے