دلدار پرویز بھٹی

دلدار پرویز بھٹی
تحریر: ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم

دلدار پرویز بھٹی رنگت کے سانولے ‘ اور من کے اجلے انسان تھے۔وہ بیک وقت بہت سی خوبیوں کے حامل تھے۔ایک قابل اور شفیق استاد ‘اور کالم نگار ‘ ایک باذوق ادیب ‘ اور ایک بہترین کمپیئر کی حیثیت سے وہ ملک اور ملک سے باہر پاکستان کی شناخت رہے۔ان کا انتقال 30اکتوبر 1994ءکوہوا۔
دلدار پرویز بھٹی اپنی ذات میں انجمن تھے ۔ دوسروں کا غم کھا کر مسکرانے والا بھٹی آج ہم میں موجود نہیں ہے ‘ لیکن دوسروں کے لیے اس کی دھڑکنیں آج بھی محسوس ہوتی ہیں۔ کمپیئرنگ میں ان کی سب سے بڑی انفرادیت پنجابی ‘ اردو اور انگریزی تینوں زبانوں کی بے مثال سبک رفتار مہارت تھی۔ برجستگی اور روانی پر عبوران کی ذات پرایک خاص عطیہ خداوندی تھا ۔ برجستہ جملوں کا برموقع اور برمحل استعمال کرنے میں دلدار پرویز بھٹی کا کوئی ثانی نہ تھا۔ وہ کمرہ ءجماعت میں ہوتے تو قابل قدر استاد ‘ طالب علم اس لیے بھی خوف ذدہ رہتے تھے کہ ”جگت“ لگ گئی تو پورے کالج میں شیطان کی طرح مشہور ‘ کالم میں تذکرہ آ گیا تو ”جگ ہنسائی“ آغاذوالفقار خان (پروڈیوسر پاکستان ٹی وی) کہتے ہیں کہ ”کمرہ جماعت میں دلدار بھٹی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے عادی تھے۔ اس لیے طالب علم ان کی طیبعت کے مطابق کبھی تو دل لگی کرتے تھے اور کبھی بھیگی بلی کی طرح بڑے معصوم ہو کر مودب بیٹھتے تھے۔“ دلدار پرویز بھٹی نے سٹیج ڈراموں اور فلموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔کمپیئرنگ میں انھیں بے تاج بادشاہ کہا جاتا تھا۔مختلف ثقافتی پروگراموں ‘ سٹیج ڈراموں ‘ ٹی وی پروگراموں کی پرلطف کمپیئرنگ کے ساتھ ساتھ وہ سنجیدہ کمپیئرنگ کے بھی ماہر تھے۔درس و تدریس سے وابستگی اور وسعت مطالعہ نے انھیںکمپیئرنگ کے لیے برجستگی اور زرخیز مواد عطا کیا۔ٹیلیویژن کے پروڈیوسر صاحبان ان پر بہت اعتماد کرتے تھے۔کیونکہ دلدار بھٹی سکرپٹ کو صرف ایک نظر دیکھتے اور پھر تخلیقی صلاحیتوں سے پروگرام میں جان ڈال دیتے۔مجھے ذاتی طور پر ”جشن سرگودھا “کی تقریبات میں ان کے ساتھ معاون کمپیئر رہنے کا اعزاز حاصل رہا۔عوام الناس ان کی بہت سی باتوںکو تضحیک سمجھ لیاکرتے تھے۔حالانکہ مزاح کے باب میں یہ سب گفتگو سٹیج کی ضروریات میں شامل ہوتی ہے۔دلدار بھٹی خواتین و حضرات میں یکساں مقبول رہے۔پرمسرت تقریبات میں ان کا انداز ”ون مین شو“ جیسا ہوتا۔بوقت ضرورت وہ گنگنا بھی لیا کرتے تھے۔ہلکا پھلکا رقص کرنے کو بھی معیوب نہیں سمجھتے تھے ۔ مجموعی طور پر وہ ایک کامیاب فنکار تھے۔ان کی شخصیت شش جہات تھی۔جن احباب نے ان کی نجی محفلوں میں شرکت کی ‘ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ دوستوں کے دوست تھے۔سرگودھا کے دو تین احباب جب ان کے پروگرام میںشریک ہوئے تو انھوں نے راقم الحروف کا تذکرہ ضرور کیا۔ہر باصلاحیت شخص کی قدر دانی دلدار بھٹی کا خاص وصف رہا۔وہ زیریک انسان تھے اور صلاحیتوں کا ادراک کرنے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ایک مرتبہ سرگودھا کے اسسٹنٹ کمشنر راجہ گل نواز ‘ملک خالدجباراور راقم الحروف ٹیلی ویژن سنٹر پہنچے۔راقم الحروف نے دلدار پرویز بھٹی کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو بھٹی صاحب نے ایک ہی سانس میں یہ جملے ارشاد کئے۔”آﺅ پروفیسر صاحب ‘ سرگودھے کا کیا حال ہے ‘ انعام خان کل آپ کا ذکر کر رہے تھے ‘ دوپہر کا وقت ہے ‘ کھانے کا وقت ہے ‘ ہماری کینٹین پر مرغ چھولے ملتے ہیں ‘ لیکن مرغ مجھے پسند نہیں ‘ شاید چھولے آپ کو پسند نہ ہوں ‘ لہٰذا مہمانوںکے حسب حال دال روٹی پسند کیجئے ‘ اچار مفت میں میسر ہے اور ۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔ یہ میری کتاب ”آمنا سامنا “ ہے۔ دو چار لفظ لکھ دینا ‘اگر پسند نہ آئے تو ۔۔۔۔۔تین حرف بھیج دینا ۔۔۔“ کتاب مجھے تھمائی اور آئندہ پروگرام میں شرکت کی پرچی مجھے تھما کر سٹوڈیو تک ساتھ لے گئے ۔مجھے مہمانوں کو نیوز روم سے لے کر ریکارڈنگ سٹوڈیوز کی سیر کروائی اور پھر اللہ حافظ کہا۔
لفظوں کی تراش خراش نے انھیں باقاعدہ شاعر بھی بنا دیا تھا ۔ وہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے ۔ پنجابی تو ان کی نوکرانی زبان تھی۔ جب چاہتے اور جیسے چاہتے استعمال کرتے۔ وسعت مطالعہ اور تجربات زندگی نے انھیں تجربہ کار قلمکار بنایا ۔ دلدار کو خود بھی یاد نہ ہو گا کہ انھوں نے کتنے پروگراموںکی کمپیئرنگ کی اور ان کی کمپیئرنگ سے تمام پروگرام سپرہٹ ہوتے تھے۔ ان کے جانے کے بعد جو خلاءپیدا ہوا وہ کبھی پر نہ ہو سکے گا ۔ اپنے دور میں دلدار کسی بھی پروگرام کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے ۔ ٹیلیویژن کے اردو ا ور پنجابی کے سینکڑوں پروگرام ان کی وجہ سے عوام میں مقبول تھے۔
گفتگو کی سبک رفتاری کی طرح ان کا قلم بھی سبک خرام غزالہ کی طرح تھا ۔ وہ سپر ایکسپریس کی طرح لکھتے تھے ان کے کالم ”آمنا سامنا “ کتابی صورت میں پاکستان بکس اینڈ لٹریری ساﺅنڈز لاہور کے تعاون سے منظر عام پر آ چکا ہے۔ طاہر اسلم گورا نے دلدار بھٹی کے کالم چھاپ کر نسلی امتیاز ختم کر دیا۔(اسلم گورے نے کالے بھٹی کی کتاب چھاپ دی)
دلدار بھٹی دل کے بڑے شفاف تھے ۔ان کے الفاظ دل سے اٹھتے‘ اور ایوان سے جھونپڑی تک یکساں محسوس کئے جاتے ۔ جو نہی ہوا کی طر ح حالات کے تھپڑے ان کے ذہن کے دروازے پر دستک دیتے تو لفظ شعور کی پہنائیوں سے آزاد ہو کر لبوں کی دہلیز سے گزرتے ہوئے صفحہ ءقرطاس پر دلدار بھٹی کی طبیعت کی طرح مچلنے لگتے ۔”آمناسامنا“ میں شامل تمام کالم معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف احتجاج کی ایک آواز ہیں۔پاکستان اور اہل پاکستان کی محبت کے عکاس ہیں ۔ یہ کالم حالات کا ایک آئینہ ہیں ۔ ایک ایسا آئینہ جو دلدار بھٹی قوم کو دکھانا چاہتے تھے لیکن وہ اس کی ابتداءاپنی ذات سے کرنا چاہتے تھے ۔ آئینے اور قلم کی حرمت کی ابتداءاپنی ذات سے کرنا بہت بڑا جہاد ہے ۔ انھوں نے صدارت ‘ وزارت ‘ عدالت ‘ سیاست سبھی کو کسی نہ کسی طور جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔ ان کے تمام کالم سادگی ‘ روانی ‘ سلاست اور حقیقت کے انمول شہ پارے ہیں ۔ان کی تحریر قاری کی اپنی تحریر اور اس کے دل کی آواز ہے ‘ کالم پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ دلدار بھٹی ٹیلیویژن پر کمپیئرنگ کرتے ہوئے بزلہ سنجی سے کام لے رہے ہیں‘ اور طنز کے نشتر سے ناظرین کو گدگدی کرتے ہوئے معاشرتی ناسوروں کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہیں۔ وہ قلم کی نوک سے پوسٹ مارٹم ہی نہیں بل کہ سود وزیاں کا علاج بھی تجویز کرتے تھے ۔ بات سے بات نکالنے کا فن بھٹی صاحب کو خوب آتا تھا ۔ ان کے مشہور کالموں میں ”کافر کون ‘ حلال حرام ‘ دوسری شادی ‘ سیڑھی اور سانپ‘ جذبہ تعمیر ‘ بیٹی کا بوجھ ‘ قید حیات ‘ مسئلہ کشمیرمنرو نیلو ریما‘ عمران خان ‘پانی رے پانی‘ بیچارہ نجومی‘ خوشبو کا راستہ ‘ عید غریبوں کی ‘ نسان پجاور‘ اور بہت سے دوسرے کالم شامل ہیں۔ کئی کالم پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے ” خون دل میںانگلیاں ڈبو کر معاشرتی برائیوںکے خلاف جہاد کیا ہے ۔ کئی کالم دھماکے دار ہیں اور کئی کا انداز جارحانہ ہے۔ اور بہت سے کالموں میں دلدار بھٹی ایک جنگجو کی حیثیت سے نمودار ہوئے۔
مجھے دلدار بھٹی کے مختلف پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا ‘ ۔پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام ’جواں فکر ‘میں3 دسمبر 1982ءکو انٹرویو دینے کا موقع ملا۔شہنشاہ نواب اس پروگرام کے پروڈیوسر تھے ۔پاکستان ٹیلی ویژن پر 21مئی 1980ء’فیروزاں‘ کے بعد یہ میری دوسری شرکت تھی۔بھٹی صاحب نے میری بہت پذیرائی کی۔بعد ازاں ان کے پنجابی پروگرام’ پنجند‘ میںدلدار بھٹی نے مجھے دو بار ٹیلی پروگرام میںمدعو کیا۔30جون 1990ءپروگرام کے پروڈیوسر عبدالعزیز تھے۔دلدار پرویز بھٹی کے انتقال سے پہلے 8اگست 1994ءکو ’پنجند‘ پروگرام میں مجھے دوسری بار شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ چھوٹے شہر کے تبسم کو بھٹی نے بڑے شہروں میں متعارف کروایا۔اس آخر پروگرام میں دلدار بھٹی نے جس خوبصورت انداز میں دلداری کا مظاہرہ کیا اسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔معروف کامیڈین عابد خان بھی میرے ساتھ پروگرام میں شریک تھے۔میرے بہترین تعارف اور حوصلہ افزائی کے بعد بھٹی صاحب بڑی سنجیدگی کے ساتھ میرے پاس بیٹھ گئے۔فوٹو گرافر کو آواز دی اور یہ جملے کہے ۔”تبسم یاد رکھنا کہ تم کس کس کے پاس بیٹھے تھے اور یہ تصویر میری یاد دلاتی رہے گی۔“30اکتوبر 1994ءکو جب ان کے انتقال کی خبر مجھے ملی تو بھٹی صاحب کے یہ جملے بازگشت بن کر میرے ذہن سے ٹکراتے رہے۔
دلدار بھٹی اولاد سے محروم تھے ۔اس لیے وہ ہر طالب علم کو اپنی اولاد سمجھتے تھے۔دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنے والے دلدار بھٹی کی پلکوں پہ اداسی کے دیئے جلتے تھے۔ وہ ٹوٹے ہوئے جذبات کی کرچیاں اپنی ذات میں محسوس کرتے تھے۔دکھی انسانیت کی خدمت وہ کسی تشہیر کے بغیر کیا کرتے تھے۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ ان کا انتقال عمران خان کے کینسر ہسپتال کے لیے چندہ مہم کے دوران ہوا۔لوگوں کو کینسر سے بچانے والے دلدار بھٹی خلوص کی دہلیز پر قربان ہو گئے۔
میری یہ چند سطور دلدار بھٹی کا احسان اتارنے کے لیے نہیں بل کہ ان کی عقیدت اور تعلق خاطر کا اظہار ہیں۔ ہماری بے حسی کے رویوں نے بھٹی کو بھلا دیا ہے ۔ لیکن قدر دانوں کی بھی کمی نہیں ہے دلدار بھٹی کی یاد ان کے سینوں میںمحفوظ ہے۔
انھوں نے اپنی بات قاری تک پہنچانے کے لیے انگریزی اردو ‘ پنجابی ‘ لاہوری اور عوامی لہجہ اختیار کیا ۔ اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے ادبیانہ رنگ کہیں بھی پھیکا نہ پڑنے دیتے تھے۔ قوس و قزح کے رنگوں کی طرح ان کاہر رنگ منفرد ہے۔لیکن اجتماعی طور پر ان رنگوں سے صاف شفاف سفید رنگ ہی امن و سلامتی‘ اور خیر و آشتی کا علمبردار تھے۔ انھوں نے مجید لاہوری ‘ نظیر اکبر آبادی ‘ اکبر آلہ آبادی‘ کی شاعری کا انداز اپنا کر کالم کو نثر لطیف میں ڈھال دیا ۔ اسی نثر کو پڑھتے پڑھتے کئی مقامات پر آزادشاعری کا گمان ہونے لگتا ہے ۔ انھوں نے سچی اور شبھ روایات کو صحافت کی دہلیز پر قربان نہیں کیا ۔ قلم کو حق و صداقت کی پٹڑی پر تیز رفتاری کے ساتھ گامزن کر کے راہ حق کے مجاہد کا حق ادا کر دیا۔
بقول امجد اسلام امجد ”دلدار کے ان کالموں اور نثر پاروں کی فضاءایسی سچی اور کھری ہے کہ اس کی جگ بیتی قاری کو آپ بیتی سی محسوس ہوتی ہے وہ مقامی الفاظ محاورے اور عوامی لہجے کو اس سہولت اور بے ساختگی کے ساتھ استعمال کرتا ہے کہ آپ کو کسی لفظ کا مطلب جاننے کے لیے رکنا یا سوچنا نہیں پڑتا۔“

دلدار بھٹی کا تخلیقی مواد اس کے مسلسل تجربے اوراچھے دوستوں کی صحبت کا اثر ہے ۔ ایوب خاور ‘ عباس نجمی‘ شوکت زین العابدین‘ آغا ذوالفقار خان ‘ حفیظ طاہر ‘ امجد اسلام امجد ‘ عطا الحق قاسمی‘ عبدالعزیز‘ اور دیگر اہل علم و ادب کی محبت سے انھوں نے ادبی رویے اور عوامی رجحانات کشیدکئے ۔ دلدار بھٹی خوش قسمت تھے جو بڑے بڑے کالم نویسوں کے شانہ بشانہ لکھ رہے تھے۔اورخوش قسمتی سے یہ تمام احباب ان کی کالم نگاری کے معترف تھے ۔ انھیں شاید اپنی گوں ناگوں صلاحیتوں کاادراک نہیں تھا ۔وہ محب وطن انسان تھے ۔ قومی درد ان کی گفتگو اور تحریروں سے جھلکتا تھا۔ ان کا پیغام محبت ‘بھائی چارہ امن و سلامتی اور خیر آشتی تھا ۔ وہ دوسروں کے دکھوں میں شریک ہو کر انھیںمسکرانا سکھاتے تھے ۔ خود سنجیدہ رہ کر اپنی ذات کے حوالے سے دوسروں کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھنے کے متمنی رہتے تھے ۔


drharoonsgd@gmail.com


Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے