اردوتنقید کا ادراکی دبستان از فرحت عباس شاہ۔ ایک تعارف

اردوتنقید کا ادراکی دبستان از فرحت عباس شاہ۔ ایک تعارف
تحریر : نظیر ساگر


ارسطو سے لے کر عہد جدید تک بے شمار نظریات ہیں جن میں کسی نے تخلیق کو نت نئی شاہراہوں سے آشنا کیا تو کسی نے گمراہیاں اور الجھنیں کھڑی کرکے تخلیق کو راستے سے بھٹکانے کی کوشش کی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ کہ جب اتنے نظریات موجود ہیں تو ادراکی تنقید کیوں،اور آخر یہ ادراکی تنقید ہے کیا؟.
ادراکی تنقید اس لحاظ سے کوٸی نامانوس یا مخصوص نتاٸج حاصل کرنے کے لیے ڈیزاٸن کی گٸی تھویری نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد اپنی علمیت کے رعب سے پیچیدہ مباحث اٹھاکر ذوقِ سلیم رکھنے والوں کے ذوق کا امتحان لینا مقصود ہے بلکہ یہ ایک سیدھا سادہ تخلیقی نظریہء تنقید ہے جس کی بنیاد انسان کے فطری ادراک پر استوار ہے۔ ہر انسان میں ادراک کی فطری صلاحیت موجود ہے۔ اپنے اسی ادراک کو بروئے کار لاکر اور خاص مقاصد کے تحت لائے گئے مصنوعی نظریات کو رد کرکے جب کسی تخلیق کی تہہ میں پوشیدہ کیفیات اور داخلی جذبات و احساسات کے ساتھ خارجی اثرات و پس منظر کی روشنی میں صرف ادبِ عالیہ کے نظریے کے تحت کسی تخلیق کا مطالعہ کیا جائے تو یہ ادراکی تنقید کہلائے گی۔ اس حساب سے ادراکی تنقید در حقیقت وسیع النظری کا نظریہ ہے جس کے نزدیک حقیقی اہمیت تخلیقیت اور داخلی کیفیات کی ہے۔ اس دبستان میں کئی دبستانوں کا امتزاج بھی موجود ہے لیکن اپنا ایک خاص نقطہ نظر رکھنے کے سبب یہ ایک الگ اور منفرد دبستان ہے۔ داخلی جذبات و احساسات اور شعریت وتخلیقیت کے سلسلے میں یہ دبستان عسکری سکول آف تھاٹ سے روشنی لیتا ہے اور خارجی اثرات میں اس نے کئی نظریات سے استفادہ کرکے اپنا ایک نقطہ نظر مرتب کیا ہے جس کا تعلق فرد کے جذبات تو احساسات کے ساتھ ہے۔ مجموعی تاثر اس دبستان کا سارے مکاتب فکر سے الگ ہے۔
ادراکی تنقید کسی بھی اچھی تخلیق کو یہ کہہ کر رد،نہیں کرتی کہ یہ رومانی ہے یا ترقی پسند ہے۔ یہ نظریہ ہر شاعراور ادیب اس کی فکری اکائی کو سامنے رکھ کر اس کے فن سے بحث کرتا ہے۔ کسی تخلیق کار پر اس کی فکری اکائی کو نظر انداز کر کے اپنا نظریہ مسلط کرنا اس تنقید کا منصب نہیں۔
میں اس تنقید کو جدید تنقیدی نظریات کے خلاف ایک شدید اور طاقتور ردعمل سمجھتا ہوں۔ جدید تنقید نے جس طرح پیچیدہ اور لایعنی مباحث اٹھاکر تخلیق کاروں اور قارئین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے اس کے خلاف ایک ردعمل تو بہر حال آنا تھا ، یہ کام ادراکی تنقید کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہے۔ جدید تنقید کی گمراہیوں کا سن کر شائد پہلا سوال قارئین کے دل میں یہ آئے کہ آخر جدید تنقید نے کونسی گمراہیاں پھیلائیں جن کے ردعمل میں ادراکی تنقید سامنے آئی، تو اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ جدید نظریات میں ساختیات،پس ساختیات یا مابعد جدیدیت کا کوئی بھی نظریہ ادب کا نظریہ نہیں۔ تخلیق انسان کے داخل سے پھوٹتی ہے۔ اس میں انسانی جذبات و احساسات ،داخلی کیفیات ،آمد ،تخلیقی عمل اور مابعدالطبیاتی عوامل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جدید نظریات میں کوئی نظریہ ان سے بحث نہیں کرتا۔ اپنے مقاصد کے تحت کچھ مصنوعی نظریات تراش کر انھیں ادب کے رہنما اصول بنانے کی ناکام کوشش ایک عرصے سے جاری ہے جن کا اطلاق بالعموم دنیا کے ادب پر اور بالخصوص اردو ادب پر آج تک نہیں ہوسکا۔ اس کا واضح ثبوت دیکھنا ہو تو صرف یہی دیکھنا ہوگا کہ نئی تنقید میں نظریات کی تبلیغ اور گمراہ کن،پیچیدہ مباحث سے سینکڑوں کتب بھری پڑی ہیں لیکن اطلاقی جہات پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوسکا۔ اگر اپنی شرمندگی چھپانے کےلیے کچھ اطلاق ہوا بھی ہے تو ایسے سطحی ادیبوں اور شاعروں تک محدود رہا ہے جن کوشائد ہی کوئی جانتا ہو۔ کلاسیکی ادب پر نہ ان کا اطلاق ہوا ہے نہ ہوسکتاہے۔ درحقیقت یہ نظریات ادب کو پرکھنے کی کسوٹی فراہم نہیں کرتے بلکہ اپنا مقصد ادب میں ڈھونڈنے لگتے ہیں جو ان کو کسی سطحی افسانے یا نظم میں مل جاتا ہے تو اسی کوموضوع بنالیتے ہیں اور یہ کام ادبی تنقید کا ہرگزنہیں۔
اپنے دفاع میں پھر ان نظریات کے مبلغ کچھ اس طرح کی من کھڑت باتیں گھڑ لیتے ہیں کہ یہ نظریات مذہب،تہذیب اور علاقائیت کی طرف رجوع کرتے ہیں اور استعماری رویوں کورد کرتے ہیں لیکن یہ مبلغ شائد یہ بات بھول جاتے ہیں،جس کی طرف حسن عسکری نے بھی اشارہ کیا ہے کہ انھوں نے خدا کے نام پر اپنا ایک خدا تخلیق کیا ہے اور مذہب کے نام پر اپنامذہب بنایا ہے۔ حسن عسکری کے اس قول پرکافی غور و فکر کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس قول میں پوری صداقت نظر آتی ہے کہ مہا بیانیے کو مسترد کرکے ان نظریات نے مذہب پر ضرب لگائی ہے اور تخلیق کے خالق کی موت کے اعلان سے ذہن نطشے کے اس قول کی طرف منتقل ہوجاتا ہے کہ”خدامرچکاہے”. یہاں ہمارا موضوع نہ تو خدا ہے نہ مذہب،صرف یہی مقصود ہے کہ آفاقیت کو رد کرکے علاقائیت کی طرف رجوع دراصل عام انسانی جذبات و احساسات کا انکار ہے جو عالمگیر ہوتے ہیں۔ تنقید کا کام یہ نہیں ہوتا کہ ادب میں ایک خاص مقصد کےلیے چیزیں تلاش کی جائیں،تنقید بذات خود ادب کی تفہیم اور ادب عالیہ کے نظریے کے تحت ادب کی رہنمائی کا نام ہے جو بڑے ادب کو سطحی ادب سے الگ کرکے فن پاروں کی درجہ بندی کرتی ہے۔ جدید تنقید شعر میں شعریت،کیفیات اور جذبات و احساسات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی،مثلاً فیض کی نظم”مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ” پر تنقید کرتے ہوئے تانیثی تنقید صرف یہ دیکھتی ہے کہ یہاں شاعر محبوب کو چھوڑ رہا ہے لیکن اس کی مرضی نہیں پوچھ رہا لہذا یہ مرد بالادست نظام میں تخلیق کی گئی ایک سطحی نظم ہے۔ اس نظریے کے تحت ادب تو خاطر خواہ تخلیق نہ ہوسکا،تاہم معاشرے پر اس کا اتنا اثر ضرور ہوا کہ "میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگنے لگے۔ اسی طرح ساختیات آپ کو لفظوں کے تہہ میں چھپے معنی کا بتاکر تہذیب تک لے جائے گی لیکن شاعر،شاعری ،شاعر اور غیر شاعر میں فرق،داخلی کیفیات اور شعریت کا ذکر وہاں بھی نہیں ملے گا،لہذا یہ نظریہ لسانیات کی حد تک تو درست ہوسکتا ہے ادب پر اس کا اطلاق جائزنہیں۔
رد تشکیل کا نظریہ شاعر کی فکری اکائی کو نظر انداز کے کے ایک ایسا مضخکہ خیر انداز اپناتا ہے کہ جیسے کوئی ابتدائی طالب علم کسی فن پارے کی غلط تشریح کررہا ہو۔ اسی طرح پس ساختیات اور مابعد جدیدیت کے تمام نظریات کا یہی حال ہے۔ جب جدید نظریات نے تنقید کے مقصد سے ہی انکار کردیا اور ادب میں ادب تلاش کرنے کی بجائے خاص مقاصد تلاش کرنا شروع کیے تو فرحت عباس شاہ نے نقاد کی موت کا اعلان کیا۔ گزشتہ تین سال سے نقاد کی موت کا اعلان ہوتا رہا تاہم صرف موت کا اعلان کرکے خاموشی اختیار کرنا بذاتِ خود ایک جرم تھا کیونکہ موت کے بعد جدید نقاد کی موت کے اسباب بھی دلائل کے ساتھ پیش کرنا ضروری تھے جو آج ادراکی تنقیدکی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔
جدید تنقید سے آگے بڑھ کر ادراکی تنقید کا دوسرا کام ان ناقدین پر گرفت کرنا ہے جنہوں نے تخلیقیت اور شعریت کے ساتھ ساتھ بڑی فکر رکھنے والے شعرا کو نظرانداز کرکے چند ایسے شعرا کو بڑا مقام و مرتبہ عطا کیا جو اس کے اہل نہیں تھے. ان کی شاعری کو مبالغے کی حد تک بڑھاچڑھا کر پیش کیا گیا اور حقیقی شعرا پس منظر میں چلے گئے۔ ادراکی تنقید کی نظر میں چونکہ ادب نہ صرف چند نفسیاتی بیماریوں کو شعر میں ڈھالنا ہے نہ خواہ مخواہ کے فلسفیانہ مباحث کا نام ہے۔ اگر فلسفہ اور نفسیات یا دیگر علوم و فنون ادب کا حصہ بنیں گے بھی تو اس کی بنیادی اساس داخلی کیفیات اور جذبات و احساسات اور خارجی پس منظر ہوگی۔ ان ناقدین نے جتنے شعرا پر لکھا ان کا بھی وہی شیوہ رہا جو جدید تنقید کا ہے۔ کسی بھی شاعر پر بات کرتے ہوئے انتخاب میں مجبوراً انھیں شاعر کا سطحی کلام لانا پڑا اور اصل شاعری شاعر کے مجموعوں میں ہی پڑی رہی ۔ اس کے برعکس ادراکی تنقید پہلے شاعری کا انتخاب کرکے اعلٰی نمونوں کو سامنے رکھتی ہے پھر ، تخلیقار کے تہذیبی ، سماجی ، نفیسیاتی معاشی اور سیاسی عصری پس منظر کا مطالعہ کرتی ہے اور اس کی بنیاد پر سوالات اٹھاتی ہے۔ میراجی پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور آج تک لکھاجارہا ہے لیکن آج تک مجھے ان کی ایک نظم بھی متاثر نہ کرسکی۔ چند نفسیاتی بیماریوں کے سوا ان کی شاعری میں شعریت، داخلی کیفیات اور جذبات و احساسات کا نشان تک نہیں ملتا۔ مجھے انسانی نفسیات کے بیان سے ہرگزاختلاف نہیں یہ بھی ایک داخلی کیفیت ہے لیکن ادب کے تقاضے پورے کیے بغیر نفسیات کا بیان سب سے بہتر ہمیں فرائڈ، ژونگ اور اڈلر کے ہاں ملتا ہے اس بیان کو شاعری کے نام پر دہرانے کی ہرگز ضرورت نہیں جب تک اس میں کوٸی نیا پہلو تلاش نہ کیا جائے یا پھر اسے تخلیق کا رنگ نہ دیا جائے۔ میراجی کے ہاں نہ نفسیات کے حوالے سے کوئی نئی چیز نظر آتی ہے نہ ہی شعریت کے تقاضے پورے ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگر ہندی تہذیب کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی یہی حال ہے۔ جدید شاعری کے نام پر جو کچھ اس دور میں لکھا گیا اس میں صرف انہی چیزوں کو ادراکی تنقید موضوعِ بحث بناتی ہے جو تخلیق کے عمدہ نمونے کہلانے کے لائق ہیں، باقی ساری چیزوں کو مع تنقید دلائل کے ساتھ مسترد کرنا ادراکی تنقید کا منصب ہے۔ یہی کام ادراکی تنقید ابتدا سے لے کر حال تک تمام ادب کا جائزہ لیتے ہوئے کرے گی جس میں بہت سارے شعرا و ادبا کی ازسرِ نو درجہ بندی ہوگی۔ مثلا میر و غالب کا موازنہ کرتے ہوئے ادراکی تنقید کا بنیادی کام یہ دیکھنا ہوگا کہ کس شاعر نے داخلی کیفیات،جذبات و حساسات اور اپنے عہد کے رویوں کو کس انداز سے شعر کیا ہے۔ یہاں یقیناً ادراکی تنقید کی کسوٹی پر میر کا پلڑا بھاری نظر آئے گا۔ غالب کے خیال کا پرندہ چاہے آگہی کے دام شنیدن میں نہ آسکے لیکن یہ سچ ہے کہ یہ عنقا لاکھ کوشش کے باوجود اس داخلی کیفیت کو چھو بھی نہیں سکتا جو میر کے کلام کی جان ہے۔ یہاں ہمارا مقصد غالب کے مقام و مرتبے کو گھٹانا یا انھیں سطحی شاعر ثابت کرنا ہرگز نہیں،وہ عظیم شاعر ہیں لیکن اس کسوٹی پر میر عظیم تر شاعر ثابت ہوتے ہیں۔ اپنے عہد کے خارجی حالات کے بیان کو تخلیق کا رنگ دینے میں بھی اور داخلی کیفیات میں بھی غالب میر تک نہیں پہنچ سکتے۔
اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ادراکی تنقید میں بڑی فکر کی اہمیت نہیں بڑی فکری کے ساتھ ساتھ اس کی تخلیقی پیش کش کو دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہےاور بطور خاص یہ فکر اور پیش کش ایک ذوق سلیم رکھنے والے قاری کو کس قدر اہنی گرفت میں لیتے ہیں اس پر بھی ادراکی تنقید خاص توجہ دیتی ہے۔ گویا ادراکی تنقید نے خالق اور تخلیق کے ساتھ ساتھ قاری کو بھی اہمیت دی ہے اور قاری کے توسط سے بھی ادب کو دیکھنے،پرکھنے اور مسرت حاصل کرنے کے زاویے کو اہم گردانا ہے،لیکن یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ یہ قاری ہر عام قاری نہیں ذوقِ سلیم رکھنے والا قاری ہے۔
ادراکی تنقید اس بحث میں نہیں پڑتی کہ کس شاعر کے ہاں فکر بڑی ہے اور کس کے ہاں اسلوب اچھا ہے۔ اس کے مطابق ہر بڑی فکر جو تخلیقی صلاحیت رکھتی ہو بڑا اسلوب ساتھ لاتی ہے۔ کوئی تخلیقی شاعر شعوری طور پر محاسن کلام نہیں لاتا بلکہ یہ چیزیں فکر کے ساتھ ساتھ خود شعر و ادب کا حصہ بنتی ہیں۔ ادراکی تنقید اس استعاراتی اور جمالیاتی نظام کے ساتھ ساتھ لسانی ادراک کی بھی کوشش کرتی ہے اور زبان و اسلوب پر اسی داخلی اور بے ساختہ نقطہ نظر سے بحث کرتی ہے۔
ادراک تنقید کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کا اطلاق بالعموم فنون لطیفہ کے تمام فنون اور بالخصوص،ادب کی ساری اصناف پر ہوتا ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پہلی ہی کتاب میں نظری مباحث مختصر مگر جامع اور اطلاقی جہات زیادہ ہیں۔ ناول ،افسانہ ،شاعری اور دیگر اصناف کو موضوع بناکر تفصیل سے ادب پر اس نظریے کا اطلاق کیا ہے جس میں روایتی رویوں کو دہرانے کی بجائے نئے انکشافات موجود ہیں۔
مختصر یہ کہ ادراکی تنقید فن پارے کو سمجھنے کا ایک آسان سادہ ،فطری مگر منظم عمل ہے جو غیر فطری نظریات کے ردعمل میں سامنے آئی ہے۔ جدید نظریات کو ادراکی تنقید باقاعدہ نظریے کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتی،تاہم ضمنی طور پر خارجی اثرات کے تحت ان کا ذکر کرنا بھی اپنا منصب سمجھتی ہے۔ اس نظریے کا تعلق تخلیق ،تخلیق کار اور قاری تینوں کے ساتھ ہے۔ اس تنقید کی اساس داخلی ہے کیونکہ تخلیق داخل سے ہی پھوٹتی ہے لیکن داخل سے ہوتے ہوئے خارج تک کا سفر اور پھر اس کے اثر و تاثیر،مسرت، تخلیقیت، شعریت وغیرہ کی پرکھ سے مقام و مرتبے کا تعین اپنا منصب سمجھتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں آج ادراکی تنقید کی ضرورت و اہمیت جتنی ہے اور تخلیق کےلیے جنتا موزوں نظریہ ادراکی تنقید عطا کرتی ہے شائد ہی کوئی اور نظریہ ایسا ہو۔

Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے