طویل نظم "روگ” ایک مطالعہ

قاری جائے بھاڑ میں۔ میں نےجتنے ٹوٹے پھوٹے تنقیدی مضامین لکھے ہیں ان میں قاری کو کوئی جگہ نہیں دی نہ ہی قاری کا اس چیز سے تعلق بنتا ہے۔ قاری پر اگر فیصلہ چھوڑا جائے تو علی زریون کا قاری اسے میر و غالب سے بڑا شاعر تسلیم کرلے گا۔ یہ منطق میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ تخلیق اور تخلیق کار دونوں فن پارے میں اہم ہیں۔

تخلیق ہوا میں وجود میں نہیں آتی تخلیق کار کو اپنا خون خشک کرنا پڑتا ہے اسے منہا کرنا اندھے لوگوں کاکام ہے۔میں نے تنقید میں اپنا ایک نظریہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس کی جھلک ادراکی تنقیدی دبستان کے مقدمے میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اسی نظریے کے تحت جتنے عملی تنقید کے نمونے پیش کیے ان میں ایک نمونہ آج پہلی بار شئیر کررہا ہوں۔

نذیر ساگر


طویل نظم "روگ” ایک مطالعہ

"روگ” فرحت عباس شاہ کی آزاد نظم ہے جسے نہ صرف فرحت عباس شاہ کی شاعری بلکہ اردو کی طویل نظموں میں اپنے موضوع و پیش کش کے حوالے سے جو حیثیت حاصل ہے اس کی مثال اقبال کے بعد کی طویل نظموں میں بہت کم ملتی ہے۔ یہ نظم 61 حصوں پر مشتمل ہے۔ اور ہر حصے کو ایک الگ عنوان کے تحت رکھا گیا ہے۔ نظم کا ہر حصہ ایک اکائی بھی ہے اور کل کا حصہ بھی۔ موضوع کے حوالے سے اس نظم میں ذات سے لے کر کائنات تک کا پھیلاؤ اور ان مسائل کا فلسفیانہ بیان ملتا ہے۔ بصیر رضا کے بقول:
"فرحت عباس شاہ نے متعدد طویل نظمیں لکھیں اور اپنی ذات کے حوالے سے کائنات کو دیکھا۔ بعض اوقات تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اس کے احساس اور ادراک کی مختکف پرتوں کا نام ہے۔ یہ کیفیت اس کی طویل نظم "روگ” میں سب سے نمایاں ہے”
فرحت نے”روگ” میں کائنات سے بڑھ کر ایک کائنات انسانی ذات میں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ نظم کا نام سن کر ایک سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ آخر اس نظم میں روگ کس بات کا ہے؟ عام لوگ شاعری کے حوالے سے شائد یہ سمجھتے ہوں کہ یہ محبت کا روگ ہوسکتا ہے۔نظم پڑھ کر یہ ساری غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اور وہ روگ وسیع تر معنوں میں سامنے آجاتا ہے۔ یہ روگ وقت کی باگ پر انسان کی بے اختیاری کا روگ ہے۔ یہ روگ دنیا کی بے ثباتی کا روگ ہے۔ یہ روگ ادھورے خوابوں کا روگ ہے۔ یہ روگ داخلی گھٹن اور خارجی جبر کا روگ ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ روگ زندگی اور کائنات کی حقیقت پر جو سوالات اس نظم میں اٹھائے گئے ہیں ان سوالات کے جواب ڈھونڈنے کا روگ ہے۔ اس نظم میں شاعر شاعر بھی نظر آتے ہیں اور ایک فلسفی بھی ۔ فلسفی ان معنوں میں نہیں کہ کسی بھی فلسفی کا نظریہ اٹھاکر شاعری کے سانچے میں ڈھالا گیا ہے بلکہ اس نظم میں بڑے فلسفیوں کے نظریات سے اختلاف کرکے انسانی فطرت، لاشعور اور کائناتی حقائق پر اپنا ایک نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے ۔
فرائد کے مقبول عام نظریات جنہوں نے دنیا میں انقلاب برپا کیا ان سے اختلاف کی جرات فرحت عباس شاہ نے ہی کی ہے۔ انسان اور انسانی فطرت کے حوالے سے فرائد نے کہا تھا:
"انسانی فطرت پیدائش کے ساتھ ہی انسان کے ساتھ آتی ہے اور ابتدائی پانچ سال اس سلسلے میں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ انسان اپنی باقی زندگی اسی فطرت کی غلامی میں گزار لیتا ہے۔ لہذا انسان اپنے اعمال و افعال کا خود ذمہ دار نہیں”
فرائڈ کے اس نظریے نے دنیا بھرکو متاثر کیا تھا لیکن فرحت عباس شاہ نے "روگ” میں اس نظریے کو مسترد کردیا ہے۔ انسان کی بے اختیاری پر اگر چہ فرحت نے بھی سوالات اٹھائے ہیں لیکن اس بے اختیاری کی باگ فطرت کے ہاتھ میں نہیں بلکہ وقت کے ہاتھ میں ہونے پر استدلال کیا ہے۔ یہاں فرحت کا تصور ِ وقت بھی سامنے آتا ہے لیکن پہلے وقت کے آگے انسان کی بے اختیاری کے نظریے کی وضاحت ضروری ہے۔ فرحت کے نزدیک انسان وقت کے جبر کا غلام ہے۔ وقت انسان کے ساتھ اچھا برا جو سلوک چاہے کرسکتا ہے۔ وقت کے جبر کے آگے نہ انسانی فطرت کی چلتی ہے نہ شعور و لاشعور کی۔ وقت ہی انسان کا نصیب لکھتا ہے اور حالات طے کرتا ہے۔ مجموعی طور پر وقت کے مزاج میں جبر کا عنصر زیادہ ہے۔ نظم سے ایک مثال دیکھیں:
"یہ سمے ہمیشہ کا سامری
مرے گرد و پیش تمام خواب،خلا رہا
کہیں تو نہیں تھی تو اجنبی مجھے لے اڑے۔۔۔۔
تو پلٹ کے آٸی تو میرا سایا ملا تجھے
یہ سمے ہمیشہ سے کج مزاج سمے ہَوا اسےکیا کہے۔۔۔۔
میں ترےحصار میں اور تو مری قید میں
یہ سمے ہمیشہ کا سامری
ترے اسم سے بھی نکال لایا طلسم کو”
پھر اسی وقت کے جبر کے آگے انسان اس قدر بے اختیار ہوتا ہے کہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ فرد کے اعمال و افعال کا ذمہ دار یہاں بھی فرد خود نہیں لیکن وہ فطرت کی بجائے وقت کے جبر کا غلام ہے ۔
” مرا اختیار تو دیکھ وقت کی باگ پر
ترے سکھ کی خواہش و خواب میں تجھے دکھ دیا
اسی ایک پل کی خلش میں رات گزار دی
اسی ایک پل کی خلش میں یوم ِ حساب ہے”
یہاں انسان کو وقت کے رحم و کرم پر دکھانے کے بعد فرحت وقت کے تصور پر بحث کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک وقت ایسا جابر ہے کہ چیزوں کو ختم کرنا ،شکست دینا اور اپنی فتح پر رقص کرنا ہی اس کا محبوب مشغلہ ہے۔ وقت ایک ایسی حقیقت کا نام ہے کہ انسان انسانی زندگی اور کائنات اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ وقت کسی کے ساتھ بھی اچھائی کا رویہ اختیار نہیں کرتا۔ جبر وقت کا ایک دائمی اور اٹل رویہ ہے۔ مذکورہ نظم سے ایک مثال دیکھیں
”کبھی وقت بنتا ہے عکس
کرتا ہے رقص رُوئے مہیب پر
کبھی دُکھ کی لے پہ ٹھمک ٹھمک
کبھی مرگِ دل پہ تِھرک تِھرک
یوں ہی گرتا رہتا ہے تھک کے اپنی طبیب پر “
”مجھے دیکھنے دو جو وقت عمر سے جج رہا ہے
ہمار،دنیا کا ، کائنات کا، زندگی کا، پرے ہٹو
مجھے دیکھنے دو پرے ہٹو“۔۔۔
فرحت نے وقت کو جابرکہا اور سوال اٹھایا کہ وقت اگر اتنا طاقتور ہے تو کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور طاقت ہے جو اسے شکست دے سکے؟ اس کے جواب کی تلاش میں شاعر نظم روگ میں مختلف کیفیات سے گزرتے ہیں اور بالاخر موت کو سامنے لے آتے ہیں کہ موت وہ واحد شے ہے جس کے سامنے وقت بھی ہیچ ہے اور جس سے انسان زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوجاتا ہے جبکہ وقت زمان و مکان کی قید میں ایک محدود شے کا نام ہے۔ موت کا خوف یوں تو اس نظم پر اول تا آخر چھایا ہے لیکن یہاں وقت سے زیادہ طاقتور ہونے کی مثال دیکھیں:
” یہ اصول ہے“۔۔۔
”جہاں کائنات نے تھک کے گرنا ہے ایک دن
وہاں وقت پہلے سے ہانپ کانپ کے سوچکا
یہ جو موت ہے
یہ بھی اک طرح کا جہان ہے“
فرائد کے تصورِ فطرت کے مقابلے میں تصورِ وقت دینے کے بعد فرحت ژونگ کے اجتماعی لاشعور کے نظریے کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ ژونگ نے اجتماعی لاشعور کی صورت میں انسان کے شعور کا تعلق تسلسل کے ساتھ زمانہ قدیم کے انسان سے جوڑا ہے۔ مثلاً ابتدائی انسان نے جب پہلی بار رات دیکھی ہوگی تو وہ ڈرگیا ہوگا۔ اسی وجہ سے آج کا انسان بھی رات سے خوف محسوس کرتا ہے. فرحت عباس شاہ نے مدلل اندازمیں ژونگ کے اجتماعی لاشعور کو مسترد کیا ہے اور فرد کے بنیادی لاشعور کا تصور پیش کرتے ہوٸے اسے سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ فرحت کے نزدیک اگر اجتماعی لاشعور ہے تو اس کا اثر سب پر یکساں کیوں نہیں ہوتا۔ اگر سب پر مختلف اثرات ہیں تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اجتماعی لاشعور نہیں ہے۔ بلکہ ہرایک کا انفرادی لاشعور ہے۔ کسی پر کسی واقعے کا یا کسی کیفیت کا اثر ہوتا ہے کسی پر نہیں۔ کسی پر کم کسی پر زیادہ اور کہیں بالکل ہی متضاد ۔ اس سے ثابت ہے کہ اہم انفرادی لاشعور ہے۔ اس نظم میں جابجا اجتماعی لاشعور کا استرداد اور بنیادی لا شعور کی اہمیت کے دلائل ملتے ہیں۔ ایک مثال ملاحظہ کیجیے:
” تو نے چپ کا شور نہیں سنا
میں نے چپ کا شور سناہےاور
مرے کان پھٹتے ہیں،دل تڑپتا ہے
روح ٹوٹ تڑخ،چٹخ کے بکھرنے لگتی ہے
دشتِ خوف کی ریت پر
مرے خون، خون کی اون،اون کے کھیت پر“
یہاں اس بند میں دوافراد پر ایک ہی کیفیت کے مختلف اثرات دکھائے گئے ہیں۔ اسی طرح فرحت موجودہ کیفیات کو موجودہ حالات کے ہی تناظر میں دیکھنے کے قائل ہیں نہ کہ اجمتاعی لاشعور کی روشنی میں ۔ زیر نظر بند میں فرحت بدن پہ لکھے گٸی جنیٹکس کی تحریر کے انسانی رسوخ اور کردار پر اٹل حکمران ہونے کے تصور کی وضاحت کرتے ہیں ۔
” یہ نئے پرانے کا کھیل کتنا عجیب ہے
کسی تازہ درد کی واردات کی روشنی میں
بدن پہ لکھا ہوا اٹل ہے
تو پچھلے روگ کہاں سے آبِ شفا نچوڑ کے لائیں
دامنِ وقت سے“
دنیا کے عظیم نفسیات دانوں سے اختلاف اور ان کے جواب میں اپنا نقطہ نظر اور مدلل بحث درج بالا مثالوں سے واضح ہے۔ انسان کی بے اختیاری،وقت کے جبر اور اجتماعی لاشعور پر بنیادی لاشعور کی فوقیت پر یہ نظم رکتی نہیں بلکہ ان کو انسان کے سمجھنے کے کچھ مباحث سمجھ کر آگے بڑھتی ہے اور انسان،انسانی ذات، انسان کی عظمت، اور کائنات کے متعلق سوالات اٹھاتی ہے اور انہی سوالات کا جواب ہی روگ ہے۔ بقول بصیر رضا:
"فرحت نے اس جستجو کو جو وہ ان سوالات کو حل کرنے کےلیے کررہا ہے،روگ کا نام دیا ہے جو ایک پیاس کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ یہ روگ اب صرف باعثِ تکلیف ہی نہیں باعثِ تسکین بھی ہے۔
” مری پیاس ہی مرا روگ ہے”.
انسان کے سمجھنے کا جو سب سے پہلا مرحلہ شاعر کے سامنے آتا ہے وہ انسانی عظمت کا سوال ہے۔ کیا انسان عظیم ہے؟۔ اگر ہے تو اس دنیا میں اتنا بے وقعت کیوں ہے؟۔ اگر کسی زمانے میں عظیم تھا تو اب کیوں نہیں؟.اگر انسان ہی عظیم ہے تو وہ وقت کا غلام اور کائنات میں محصور کیوں ہے۔ وہ شب و روز کی قید سے باہر کیوں نہیں۔ جس کائنات پر اس کی حکمرانی ہونی چاہئےاسی کائنات میں انسان غلامی کی زندگی کیوں گزار رہا ہے۔ یہی سوالات جابجا اس نظم میں ملتے ہیں۔ گویا انسانی عظمت پر اہم سوالات اٹھاکر فرحت نے انسان کا نہ صرف مقدمہ لڑا ہے بلکہ انسانی عظمت کے سوال کا جواب بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ فرحت نے جو سوالات اٹھائے ہیں اس کی شاعرانہ مثالیں دہکھیں:
”کسی کائنات کا گیند ہے
مرے سر پہ گھوم رہا ہے خبطِِ خیال سے
ہے پڑی ہوئی
اسی کائنات کے دل میں وقت کی ہتھکڑی
مرے پاؤں میں کسی ان کہی
کسی ناگہانی کی بیڑیاں ہیں قدم قدم“
انسانی عظمت کا سوال اٹھانے کے بعد ایک بات یہ بھی طے کرنا تھی کہ آیا انسان کی عظمت کے حوالے سے انسانوں میں فرق ہونا چاہئے؟. اگر فرق ہونا چاہئے تو عظمت کا معیار کیا ہوگا؟. کیا سارے انسان عظیم ہونے چاہئیں؟. کیا چند ایک عظیم ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں کافی سوالات نظم میں موجود ہیں۔ شاعر نے عظمت کا اصل ممبع فکر و خیال بتایا ہے۔ گویا وقت کا جبر، فرد کی بے اختیاری کے باجود بھی عظمتِ خیال سے انسان عظمتِ انسانی کو پا سکتا ہے۔ عظیم خیالات جب عملی شکل میں سامنے آتے ہیں تو انسانی عظمت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔
” کبھی آ خیالوں کے سلسلے سے نکل کے
حسنِ وجود میں
کبھی خواب چھوڑ کے جسم و جاں کے چلن میں آ
میں ہر ایک نام کو زندگی کے ورق ورق پہ اتار دوں “
فرد کی ذات کے ساتھ ساتھ زندگی کی حقیقت اور کائنات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔زندگی سارے فلسفیوں کےلیے ایک نہ کھلنے والا معمہ رہی ہے اور اس کی حقیقت کا فلسفیانہ دوٹوک جواب ممکن بھی نہیں لیکن بڑی شاعری ہمیشہ اس حوالے سے سوالات اٹھاتی رہی ہے۔ نظم "روگ ” میں بھی انسانی ذات کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس حوالے سے اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ زندگی تضادات کا مجموعہ کیوں ہے؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟. کیا کوئی اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزار سکتا ہے؟. اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا کوئی انسان زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہے تو وہ اس میں کامیاب ہوسکتا ہے؟. یہ سوالات جابجا اس نظم میں ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ چند مصرعے دیکھیں:
” مجھے اپنے ہاتھ سے لکھ کے رکھنا ہے زندگی
ہاٰئے زندگی ہائے زندگی
مرے بس میں ہوتی تو لوٹ آتا میں فرش پر
یہ زمین کی کوئی خاص چیز ہے زندگی
مجھے اس کے بارے میں اس سے زیادہ پتا نہیں
میں خدا نہیں “
فرحت عباس شاہ کی مذکورہ نظم بنیادی طور پر داخل و خارج کی کشمکش سے ظہور پذیر ہونے والے مسائل اور واقعات کا اظہار کرتی ہے۔ ایک فرد اپنے داخل میں رونما ہونے والی کیفیات کو کیسے سمجھ سکتا ہے اور خارجی ہنگاموں کا اس کے داخل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ سب جزئیات سمیت اس نظم میں گہرا فکر و فلسفہ ملتا ہے ۔ یوں فرحت نے خارجی دنیا، کائنات، اور عالمگیر حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ کامیابی کے ساتھ فرد کی داخلی دنیا دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انسان زندگی بھر اس کشمکش سے جان نہیں چھڑا سکتا جو اس کے داخل میں یا خارجی حالات کے سبب اور یا ذاتی مسائل کے طفیل برپا ہوتی ہے۔ ایسی کشمکش جو کئی طرح کی ہوتی ہے ، لیکن اس کا نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے اور وہ ہے فرد کا انتشار۔ اس نظم میں قدم قدم پر اس کشمکش کی دریافت کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک مثال دیکھیں:
” کوئی التجا مرے دکھ کے حکم سے لڑ گئی
کوئی بددعا مری بدنصیبی کے سرد سینے میں گڑ گئی
مرے ساز ساز میں کشمکش
مرے راز راز میں کشمکش
مرے عقل و فکر کے اختیار میں کشمکش
مری چشم اور لبِ نیم باز میں کشمکش
مری زندگی کے ہراک حصار میں کشمکش “
بصیر رضا نے اس کشمکش کو کائناتی سچائیوں کا روگ بتایا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
"شاعر کے اندر کائناتی سچائیوں کی تلاش کی خواہش نے کہرام برپا کیا ہےجبکہ اس کے ارد گرد کے ماحول پر بے حسی کی حکمرانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عجیب کشمکش شاعر کے داخل میں برپا ہے”.
بصیر رضا کا خیال بھی درست ہے، لیکن یہاں کشمکش لامحدود مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسے کسی ایک کیفیت تک محدود کرنا مناسب نہیں۔ سب سے پہلے تو انسانی ذات کی وہ الجھنیں جنہیں سلجھانے کی کوشش آج تک کی جارہی ہے لیکن ان کا حل کوئی دریافت نہیں کرسکا،اس کشمکش کا سبب ہیں ۔ آج تک فلسفی سوالات اٹھاتے رہے ہیں کہ انسان کی حقیقت، انسان کا خیال،شعور اور لاشعور وغیرہ کی کیا حقیقت ہے۔ فرحت عباس شاہ چونکہ کیفیات کے شاعر ہیں اس لیے انھوں نے مذکورہ سوالات کے ساتھ ساتھ داخلی کیفیات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ اس ضمن میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ انسان کی خواہشات، تمنائیں اور آرزوئیں کہاں سے آتی ہیں۔ ان خواہشات کی حقیقت کیا ہے۔ ان کو ہم کیا نام دے سکتے ہیں؟. کیا ان کا کوئی نفسیاتی، روجانی یا مادی پہلو ہے۔ آخر ان سب کے پیچھے کونسی چیزیں کارفرما ہیں۔ نظم”روگ” سے اس کی ایک مثال ملاخظہ کیجیے:
” مری بے زبان ہتھیلیوں میں بھی چھید ہیں
یہ جو آرزوئیں مَری ہوئی ہیں یہ بھید ہیں
کوئی ایک بھید تو کھول کوئی پیام دے
مجھے گم نہ کر
مجھے گم نہ کر
کوئی نام دے
کوئی پرسکون سی شام دے “
گویا تمنا کی وسعت نے فرد کو انتشار کا شکار کردیا ہے۔ اگر یہ خواہشیں انسان کی جان چھوڑدیں تو انسان پرسکون ہوسکتا ہے۔ لیکن انسان کے انتشار کا سب سے بڑا المیہ اس کے خوابوں کا پورا نہ ہونا ہے۔ انسان کی ایک کمزوری ہے کہ وہ خواب دیکھتا ہے۔ ایک عام انسان بھی شاہانہ خواب دیکھتا ہے کیونکہ خواب دیکھنا اس کے اختیار میں ہے لیکن ان خوابوں کا پورا ہونا یا کرنا اس کے اختیار میں نہیں۔ یوں انسان کے یہ خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔ آرزوئیں دل میں پیدا تو ہوتی ہیں لیکن جلد ہی مرجاتی ہیں۔ ایک عام انسان کو خود اپنی خواہشیں دفن کرنا پڑتی ہیں کیونکہ وہ انہیں پورا کر نہیں سکتا۔
کئی آرزوئیں مَری ہوئیں
مرے آس پاس اگی ہوئی ہیں
مری خموشی کے کھیت پر
کئی خواب دفن ہیں ریت پر “
یہ خواب خواب ہی ہوتے ہیں۔ انسان جب کچھ نہیں کرسکتا تو خواب دیکھ کر اپنی خواہشات کو پوری ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔ بھوکا انسان روٹی کے خواب دیکھتا ہے ، غریب انسان دولت کے خواب دیکھتا ہے ، ہجر کا مارا ہوا وصل کے خواب دیکھتا ہے۔ جنگ کے زمانے میں امن کے خواب دیکھے جاتے ہیں ۔ کسی انسان نے اپنے لیے کبھی برا نہیں سوچا۔ نفسیات کا بھی ایک اہم پہلو ہے کہ جو شخص خواب تو دیکھے اور ان خوابوِں کو عملی جامہ نہ پہنائے تو ذہنی انتشار کا شکار ہوتا ہے۔ فرحت کا فرد اول تا آخر اسی انتشار اور اسی کشمکش میں نظر آتا ہے۔ ان خوابوِں کا بھی جابجا ذکر ملتا ہے جو اس کیفیت میں ایک فرد دیکھتا ہے۔ ایک مثال دیکھیں:
” میں ہوں بادشاہ بنا ہوا
میرا تخت ہے
مرے اونچے اونچے محل ہیں،قرب وجوار میں
مرے سامنے کئی سر جھکے ہیں قطار میں
مرا بخت ہے
مجھے عاقبت بھی سنوارنی ہے جہان کی
مجھے ہیں بدلنی روایتیں
یہاں پہنچ کر ایک فرد کی کیاکیفیت ہوتی ہے۔ ادھورے خواب، ناتمام آرزوئیں اور داخلی الجھنیں ، فرد کی کیفیت ایسی ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے محبوب کو بھی دور رہنے کی تلقین کرتا ہے۔یہاں محبوب کا ایک منفرد تصور ابھرتا ہے۔ اردو شاعری میں کلاسیکی محبوب تو ظالم و جابر تھا لیکن حسرت تک آتے آتے محبوب کا تصور بدل گیا۔ ایک گوشت پوست کا انسان نظر آنے لگا جو وفادار بھی تھا۔ لیکن فرحت کی اس نظم میں پہلی بار نفسیاتی اور داخلی الجھنوں کے سبب عاشق کو محبوب کو دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ جو فضا اس نظم میں بنی ہے ان حالات میں انسانی فطرت ایسی ہی ہو جاتی ہے کہ وہ محبوب کو بھی دور رہنے کی تلقین کرے۔
” مرے خشک ہونٹوں کو دور سے بھی نہ چومنا
کہ جو زہر ہے نا یہ پیاس کا
بڑا جان لیوا ہے مار دیتا ہے نسل بھی
وہ درخت دیکھا جلا ہوا
وہ بھی میں ہی ہوں
اسے میں نے چوما تھا ایک بار تو پھر آج تک نہ ہرا ہوا

فرحت کا فرد داخلی دنیا کی دریافت کی کوشش کے بعد خارج کی طرف پلٹتا ہے اور دنیا بھر کے حالات کا تجزیہ کرنے لگتا ہے۔ دنیا میں انسانوں پر کیا گزر رہی ہے اور کس وجہ سے گزر رہی ہے، یہ سب ایک آپ بیتی کی صورت میں محبوب کو مخاطب کرتے ہوئے تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ دنیا میں ایک خاص طبقے نے عام انسانی زندگی کو کس مصیبت میں ڈالا ہے،اس کے خلاف ایک ردعمل شاعر نے پیش کیا ہے۔ یہاں شاعر کے لہجے میں بھی ایک تلخی آجاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نظم کے کردار نے دنیا بھر کی سیر کی اور ساری دنیا کے حالات کو باریک بینی کے ساتھ دیکھنے کے بعد،اب آنکھوں دیکھا حال اپنے محبوب کو سنا رہا ہے۔

” وہاں مندروں میں وصال و ہجر کی میتوں
پہ نہ رونے والا تھا کوئی بالوں کو کھول کر۔۔۔۔
وہاں دوسرے کے نہ سر تھا ساتھ بدن کے
اور نہ لباس تھا
وہاں بھوک تھی، وہاں جنس تھی
وہاں خوف تھا
وہاں لب دھرے تھے کسی بھکاری کی زنگ خوردہ پلیٹ پر

دنیا بھر کے ان حالات کے ذمہ داروں کو بھی فرحت نے طشت ازبام کیا ہے۔ ایک طبقہ جو اپنے مفاد کےلیے دنیا بھر کے لوگوں کو قربان کررہا ہے وہ کوئی اور نہیں استعمار ہی ہے۔ لوگوں کی بھوک سے جو اپنا پیٹ بھرتا ہے اور لوگوں کی موت سے اپنے لیے عیش وراحت کا سامان کرلیتا ہے۔ اسی طبقے نے دنیا بھر کے تمام ممالک میں اپنے آلہ کار بٹھا رکھے ہیں۔ دنیا کے غریب ممالک کے عہدے دار دراصل اپنے عوام نہیں بلکہ اسی طبقے کے کارندے ہیں۔ یہاں فرحت کے سیاسی شعور کا بھی پتا چلتا ہے کہ کیفیتوں کا ایک شاعر صرف داخلی جذبات کا اسیر نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے سیاسی و سماجی حالات پر بھی نظر رکھتا ہے ۔
ایک مثال دیکھیں:
” وہ ہماری بھوک پہ پاؤں رکھتا ہے رزق کے
وہ ہماری سوچ پہ تان دیتا ہے
بدنصیبی کی چادریں
اسے کیا غرض کسی دین سے
اسے لمحہ لمحہ دکھائی دیتے ہیں اپنے گھر کے مخاطرے

داخلی کشمکش اور خارجی جبر کے نتیجے میں اس نظم میں ایک بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ قدم قدم پر اس نظم کو پڑھتے ہوئے جو احساس شدت کے ساتھ ہوتا ہے وہ بے یقینی کا ہے۔ بصیر رضا کے مطابق اس نظم میں شدید بے یقینی کی کیفیت نے ایک عجیب طرح کی پتھیٹک فورس پیدا کی ہے۔ جس کا اندازہ نظم میں سے ان مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے:
” جہاں ماتھا رکھنا تھا عجز کا وہاں خون تھا
کسی بھوکے شخص کا خون
جس کی دعا کے پیٹ میں بھی خلا ہو نصیب کا۔۔۔۔۔
کوئی شخص تھا جو اداس رات کی چارپائی سے ٹوٹ کر
کئی چھوٹی چھوٹی مسافتوں میں اترگیا
اس بے یقینی نے انسان کے اندر خوف، تنہائی اور موت کا احساس شدت سے پیدا کردیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظم میں شروع سے آخر تک خوف اور موت کی فضا چھائی ہے۔ یہاں موت کے تصور کو بھی انسان کے داخلی کرب سے جوڑا گیا ہے۔ موت کیا ہے اور کیوں ہے یہ سوالات الگ ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ موت کے خوف سے انسان کو کبھی چھٹکارا ملے گا بھی۔ شاعر کہنا چاہتے ہیں کہ جب تک انسان اس دنیا میں ہے،موت کا خوف سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتا ہے اور انسان کو اس خوف سے چھٹکارا کبھی نہیں ملتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اچھے حالات میں انسان کسی حد تک اس خوف کو کم کرسکتا ہے لیکن جب حالات ہی ایسے ہوں کہ فرد انتشار کا شکار ہو۔ ہر طرف بے یقینی کی کیفیت ہو۔ داخلی الجھنوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں انتشار کی کیفیت ہو تو ایسے حالات میں موت کا خوف شدت کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے اور فرد کو مزید انتشار کا شکار کردیتا ہے۔ یہ کیفیت اس نظم میں ہر صفحے پر موجود ہے۔ ایک مثال دیکھیں:
” سرِ اضطراب کفِ ضعیف لرز گیا
یہ جو ناتوانی کا خوف ہے
یہ جو رائیگانی ہے عمر کی
یہ جو اختتام سے قبل
صورتِ اختتام کا اہتمام ہے کائنات
کی روح میں
کسی طور کرب وبلا کے دیو سے کم نہیں
موت کے علاوہ یہ خوف تنہائی اور سناٹے کا بھی ہے۔ ایسا سناٹا جو فرد کو ایک شور کی طرح سنائی دیتا ہے۔ بظاہر خاموشی لیکن فرد کے داخل میں ایک ہنگامہ پرپا کردیتا ہے۔ انسان خود سے اور رات کے اندھیرے سے ڈرنے لگتا ہے۔ یہ خالص نفسیاتی مسئلہ بھی ہے اور خارجی انتشار کے سبب فرد کی داخلی کیفیت بھی۔
تو نے چپ کا شور سنا نہیں؟
مرا انتشار بھی بے خبر
کہیں رات کھانسی ہے زور سے
مرا کمرہ وہم سے بھرگیاہے
مرا بدن مرے اپنے آپ سے ڈر گیا “
اس تمام صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے شاعر ایک نیتجے پر پہنچ جاتا ہے کہ یہ دنیا لایعنی ہے۔ دنیا کی لایعنیت کی بات اگرچہ وجودیت نے بھی کی تھی۔ سارتر کے مطابق بھی دنیا لایعنی شے ہے اوراسی لایعنیت نے وجود کو کرب کی کیفیت بخشی ہے۔ لیکن فرحت عباس شاہ کوئی دوٹوک فیصلہ نہیں سناتے بلکہ ذات سے لے کر کائنات تک کا فلسفیانہ تجزیہ کرنے کے بعد ہی اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہوسکتا ہے یہاں جو کچھ بھی ہے اس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ جو ہم دیکھتے ہیں، کرتے ہیں اور سہتے ہیں یہ سب حقیقت میں کچھ بھی نہ ہو۔ یہ سب ہمارا داخل ہمیں دکھا رہا ہو۔ یہ محض آنکھوں کا دھوکا ہو ۔ کون کہہ سکتا ہے کہ جو ہم دیکھتے ہیں وہ حقیقت میں وہی ہے۔ ہم تو خشک صحراؤں میں بھی پانی دیکھتے ہیں جبکہ وہاں سراب کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ انسان کی عقل،نظر اور شعور محدود چیزیں ہیں ان کو حتمی سمجھنا نادانی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نہ صرف یہ دنیا اور ارد گرد کا ماحول بلکہ ہماری کیفیتیں بھی ہوسکتا ہے حقیقی نہ ہوں. مذکورہ نظم سے اس رویے کی مثالیں دیکھیں:
” کئی بے قرار سی دھڑکنیں کٸی مضطرب
کئی پھول،پتے، پرندے گھونسلے،راستے
کئی کھٹے میٹھے ہیں سلسلے
کئی تند خو مرے چار سو
مرے چار سو یہ سراب پھیلے ہیں چارسو
اس نظم میں انسان اور کائنات کو سمجھنے کی ایک اور کوشش یہ ہے کہ دونوں کا موازنہ کرکے اس کے ذریعے شاعر نے دونوں کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں انسان کا موازنہ فطرت کے ساتھ کرکے شاعر نے واضح کیا ہے کہ قانون فطرت یہ ہے کہ کوئی شے اس کے راستے میں آئے تو وہ اسے ختم کردیتا ہے،جبکہ انسان اس معاملے میں بھی بے بس اور بے یار ومددگار ہے۔ انسان کو قدم قدم پر ایسی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے جو اسے اپنی منزل سے اور بھی دور لےجاتی ہیں۔ بصیر رضا نے بھی اسی خیال کا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
"شاعر نے انسان اور فطرت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فطرت کے کاموں میں کوئی شے مزاحم ہو تو وہ اسے آسانی کے ساتھ اکھاڑ پھینکتی ہے جبکہ انسان کے ارادوں میں جو چیز بھی رکاوٹ ڈالتی ہےان سے نجات حاصل کرنا اکثر انسان کے بس میں نہیں رہتا۔ اور جب یہ رکاوٹیں ہٹتی ہیں تو انسان دیکھتا ہے کہ اس کی منزل اور بھی دور ہوچکی ہے.
اب شاعر کا طرزِ اسلوب ملاحظہ ہوں :
مری خواہشوں پہ یہ جال کیسے ہیں تیرے میرے نصیب کے
تری ایک پل کی خلش
جو سانس کی نالیوں میں اٹک گئی
مری سانس سانس کے ساتھ چلتی ہے آگ کی کوئی دھار سی
میں تجھے پکاروں یا اپنے آپ کو روتا چھوڑ کے چل پڑوں
مجھے کشمکش سے بندھا ہوا کوئی دیکھ لے
یہ لہو نسوں میں رواں جو ہے
مری روح میں مجھے دیکھ لے تو چھلک پڑے
ترے سکھ کی خواہش وخواب میں تجھے دکھ دیا
مرا اختیار تو دیکھ وقت کی باگ پر
اسی ایک پل کی خلش میں رات گزار دی
اسی ایک پل کی خلش میں یوم حساب ہے
گویا انسان فطرت کی طرح بااختیار نہیں۔ انسان اپنی تقدیر خود نہیں لکھتا۔ اپنے راستے میں مزاحم اشیا سے خود نہیں نمٹ سکتا جبکہ فطرت کےلیے یہ ممکن ہے۔ انسان کو تو اپنی تمناؤں پر بھی اختیار نہیں جو اس کے دل میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں فرحت کا فطرت اور انسان کا گہرا مطالعہ سامنے آتا ہے۔ یہ موازنہ تسلیم شدہ اور ٹھوس دلائل پر مبنی ہے جسے شاعری میں فرحت نے ممکن بنایا۔
اس نظم میں خوابوں کا ذکر ہر ہر صفحے پر موجود ہے۔ ایک وہ خواب جو انسان نے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رکھے ہوتے ہیں اس حوالے سے تو کافی بحث ہوچکی ہے جس میں انسانی ذات فطرت اور دنیا میں انسان کی حیثیت کو موضوع بناکر تفصیل سے ذکر کیا جاچکا ہے۔ دوسرے وہ خواب جو انسان دیکھتا ہے۔ موخرالذکر خوابوں کا شاعر نے ایک نفسیاتی اور فلسفیانہ جواز ڈھونڈا ہے کہ ان خوابوِں کا تعلق بھی خیالات کے سلسلے سے ہے۔ انسان نے جو ایک بار دیکھا یا سوچا وہ اس کے لاشعور میں پڑا رہتا ہے اور انسان وقتی طور پر بھول بھی جائے لیکن یہ چیز لاشعور سے کبھی جاتی نہیں۔ انسان انہی چیزوں کو خوابوں میں بھی دیکھتا ہے۔ گویا خوابوں کا تعلق بھی لاشعور کے اسی سلسلے سے ہے۔ انسان کو جب بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ چیزیں خیال سے نکل کر حقیقت کا روپ دھاریں تو انسان انہیں خوابوں میں دیکھتا ہے۔ اس کی ایک مثال ان چند مصرعوں میں دیکھیں:
” کبھی آ خیال کے سلسوں سے نکل کے
حسنِ وجود میں
کبھی خواب چھوڑ کے
جسم وجاں کے چلن میں آ
مرے من میں آ
انسان کو سمجھنے اور کائنات میں انسان کا مقام و مرتبہ متعین کرنے کےلیے جن جن مراحل سے شاعر کو گزرنا پڑا ہے وہ مراحل مایوس کن ہیں لہذا جو ایک اس نظم میں شدت کے ساتھ نمایاں ہے وہ دکھ اور درد و غم کی فضا ہے۔ یہ دکھ کی فضا اول تا آخر ساری نظم پر چھائی رہتی ہے۔ فرحت بنیادی طور پر چونکہ دکھوں کے شاعر ہیں اسی لیے دکھ کو ہی سیڑھی بناکر ذات سے کائنات تک تمام اشیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرحت کا دکھ قنوطی نہیں بلکہ وہ اس میں سے رجائیت کا پہلو نکال لیتے ہیں. وہ دکھ کو ہی انسانی کامیابیوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن لاشعوری طور پر ایک داخلی دکھ ان کی شاعری پر چھایا رہتا ہے۔ یہی دکھ کی کیفیت "روگ” پر بھی چھائی ہوئی ہے۔ یہ نظم داخلی کرب اور دکھوں سے پھوٹی ہے۔ اس میں ذات کا دکھ بھی نمایاں ہے اور کائنات کو بھی داخل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدا سے ہی قاری کو دکھ کی ایک کیفیت اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ اسی دکھ کی کیفیت میں ہی شاعر کے ساتھ ساتھ قاری بھی داخل کی آنکھ سے زندگی کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس نظم کی تاثیر کا راز بھی یہی ہے۔ دکھ کی اس کیفیت کو سمجھنے کےلیے مثال ملاحظہ کیجیے:
” کئی بیگ پکڑے ہوئے ہیں ہاتھوں میں درد کے
کسی موڑ پر
کئی زرد رنگ مسافروں کی قطار میں
کسی راہ میں کوئی تھک کے بیٹھ گیا ہے
سوچ و بچار میں
کسی جلتی بجھتی مچلتی آنکھ کا دشت ہے
جہاں ہر قدم پہ مزار ہے
مجموعی طور پر فرحت عباس شاہ کی نظم "روگ” ایک ایسی نظم ہے جس میں نہ صرف شاعرانہ حسن ہے بلکہ موضوعات کا ایسا تنوع ہے جس کی مثال طویل نظم کی روایت میں بہت کم ملتی ہے۔ یہ نظم فرد کے داخلی کرب،خوف اور تنہائی سے شروع ہوتی ہے اور پہلے انسان اور انسانی داخلی کائنات کی دریافت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ذات سے کائنات تک کا سفر طے کرتی ہے۔ اس نظم میں فلسفے اور نفسیات کے متعلق کچھ اہم اور نئے سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں اور کچھ بڑے نفسیات دانوں کے رد ِعمل میں ان کے نظریات کی رد میں جوابات بھی دیے گئے ہیں۔ انسان کی عظمت کا مقدمہ بھی لڑا گیا ہے اور کائنات میں اس کے مقام و مرتبے کے تعین پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ کسی شاعر کےلیے ایسے مباحث کو شعری جامہ پہنانا یقیناً مشکل کام ہے لیکن فرحت کی قادرالکلامی کا یہ منہ بولتا ثبوت ہے کہ انھوں نے بڑی سہولت کے ساتھ ان پیچیدہ مباحث کو نظم کا حصہ بنایا ہے۔ یہ نظم اردو طویل نظم کی روایت میں ایک ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے جسے نظرانداز کرنا مشکل ہے

 

Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے