ادبی بدیانتی کے بند ہونے کا وقت آ پہنچا ہے

ادبی بدیانتی کے بند ہونے کا وقت آ پہنچا ہے

پچھلے پینتیس سالوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک خاص گروہ جس کے ارکان پہلے اخبارات کے ادبی صفحات کے انچارج بنے پھر کالم نگار بنے پھر ٹی وی چینلوں سے وابستہ ہوۓ پھر سرکاری رسالوں کے مدیر بنے اور ادبی اداروں کی سربراہیوں پر فاٸز ہوے اور سیاسی وابستگی خوشامد اور چاپلوسی جو کسی جینوٸن شاعر ادیب کے لیے گندی گالی کے برابر ہوتی ہے کے زریعے با اثر ہوتے ہوگٸے اور ان میں سے ایک ایک نے اتنے ایوارڈز لیے کہ شاید کچھ باقی ہی نہیں بچا ہوگا ۔ المیہ دیکھیں کہ یہ بدبخت لوگ اوسط درجے کے بھی ادیب نہیں تھے لیکن انہوں نے مخصوص سرکاری حلقوں میں خود کو میر اور غالب بنا کے پیش کیا ۔ ابھی اس سال تو دیدہ دلیری کی انتہا ہوگٸی جب انتہاٸی سستے افراد کے ایک پورے جتھے کو قومی اعزاز سے نوازنے کے بعد اکادمی ادبیات کے ایوارڈ کی بھی لوٹ سیل لگا دی گٸی ۔ ایسا لگتا ہے کہ کوٸی ملک دشمن ماسٹر ماٸینڈ ہے جو پاکستان کی فکری قوت یعنی حقیقی شاعر اور ادیب کو مصنوعی اور فراڈ شاعروں اور نثرنگاروں کے زریعے پورے سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ نشانہ بنا رہا ہے تاکہ اس ملک میں مضبوط سوچ اور اعلیٰ ثقافت پروان ہی نہ چڑھ سکے ۔
نان جینوٸن لوگوں کو پوری بے رحمی سے قومی و ادبی اعزازات سے نوازنے کا اور کوٸی مطلب نہیں کہ حقیقی ادیب اور ادب کی حوصلہ شکنی کی جاۓ ۔ میں 16 کتابوں کے مصنف ، ناول نگار اور پاکستان راٸیٹرز یونین کے مرکزی سینٸر ناٸب صدر کی حیثیت سے جناب وزیر اعظم پاکستان ، کیبنٹ ڈویژن اور وزارت اطلاعات وثقافت کے کارپردازوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اعزازات کی اس بے حرمتی کی انکواٸری کرواٸی جاے کہ ایسے لوگوں کو جن کا حق نہیں بنتا ان کو بار بار کون اور کیوں ایوارڈز دے رہا ہے اور جن کا حق بنتا ہے ان کو پیچھے کیوں دھکیلا جا رہا ہے ۔ اسلام آباد میں بیٹھے افتخار عارف ، کشور ناہید اور رانا شکیل جیسے لوگوں کی لاٸف ٹاٸم انکواٸری کراٸی جاۓ کہ یہ کس طرح بیوروکریسی پر اثر انداز ہو کر اپنے اور اپنے منظور ِ نظر جتھوں یا افراد کے لیے لابنگ کرکے حقیقی ادب اور ادیب کو نقصان پہنچاتے آۓ ہیں ۔ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی چٸیرپرسن محترمہ نجیبہ عارف سے بھی گزارش ہے کہ ان کے بناۓ ہوے مصنوعی تاثر اور اثر و رسوخ سے خود کو بچا کے رکھیں ۔
علی نواز شاہ
ناول نگار و مرکزی سینٸر ناٸب صدر پاکستان راٸیٹرز یونین ۔
Print Friendly, PDF & Email
Author: ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے